سیاست
مالیگاؤں : مجلس اور کانگریس کے اراکین کا قانون سے کھلواڑ
نعمانی پل کی سچائی کیلئے جنتادل کی پنچایت، کانگریس اور جنتادل نے ایک دوسرے کے خلاف جم کر نعرے بازی کی، سیاسی لیڈران کی وجہ سے شہر کے امن کو خطرہ
مالیگاؤں(نامہ نگار ) ۲۱؍؍اکتوبر ہونے والے اسمبلی الیکشن سے قبل ہی شہر میں حالات اس قدر سنگین ہوگئے کہ شہر کا امن اومان خطرے میں پڑگیا ، یہ کام کو جان بوجھ کر عوام کو الّو بنانے کی غرض سے کیا گیا ،دونوں پارٹی کے لوگوں نے قانون کی خلاف ورزی کرکے عوام کے جذبات سے کھیلنے کا کام کیا۔پانچ سال سے خوابِ خرگوش کا مزہ لینے والے لیڈران عین اسمبلی انتخابات کے وقت شہر کا ماحول خراب کرکے اہلیان شہر کے جذبات سے کھلواڑ کرکے انتخاب جیتنے کی منصوبہ بندی پر عمل کرتے ہوئےگھٹیا بات کو لے کر شہر کے امن کو غارت کرنے کی کوشش میں ناکام ہوگئے۔
شہر کے خیابان نشاط چوک پر جنتا دل اور کانگریس کے اراکین آمنے سامنے آگئے،اس ضمن میں ملی اطلاعات کے مطابق کانگریس کی طرف سے عبدالحمید نعمانی پل میں ہوئی بدعنوانی اور کارپوریشن کا روپیہ نہ لگنے کا بیان سن کر جنتا دل کے مستقیم ڈگنیٹی نے رکن اسمبلی آصف شیخ کو کھلا چلینج کیا تھاکہ کل دوپہر 3 بجے مولانا عبدالحمید نعمانی پل کی ساری سچائی علاقے کے پنچ حضرات کے درمیان رکھی جائے گی ۔اس چلینج کو قبول کرتے ہوئے کل دوپہر دو بجے کانگریس کے اسلم انصاری،ریاض علی اور کارپوریٹر فاروق قریشی بھی فائل لے کر خیابان نشاط چوک پہنچ گئے ۔اس موقع پر دونوں سیاسی پارٹیوں کے سینکڑوں کارکنان بھی حاضر تھے ۔دونوں سیاسی پارٹیوں کا سامنا ہوا نیز دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جم کر نعرے لگائے گئے ۔اس دوران پولس نے کہا کہ آپ کے پاس اس پنچائت کا اجازت نامہ نہیں ہے اس لئے ہم یہ پروگرام نہیں کرنے دیں گے ۔پولس کے بے حد اصرار پر جنتادل نے اس پنچائت کو ملتوی کر دیا ۔جنتا دل کے مستقیم ڈگنیٹی نے اس تعلق سے پولیس پر جانب داری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس عبدالحمید نعمانی پل کی ساری سچائی کاغذی شکل میں موجود ہے لیکن کانگریس پارٹی اپنی بدعنوانی کی پردہ پوشی کے لیے پنچائت میں بدنظمی پیدا کردی۔
جب مستقیم ڈگنیٹی کے پاس ثبوت تھے تو چھپا کر کیوں رکھے گئے؟ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد لوگوں کا ہجوم اکھٹا کرنے کا مقصد کیا تھا؟ کانگریس کے ریاض علی نے کہا کہ عبدالحمید نعمانی پُل کی تعمیر پر عائد جھوٹے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے جنتادل اور متحدہ محاذی ٹولے کی جانب سے خیابان نشاط چوک پر دوپہر 3 بجے علاقے کے سرداروں کی موجودگی میں پنچایت بُلائی گئی تھی ۔جس میں کانگریس پارٹی کی جانب سے پارٹی کے ذمہ داران اور انجمن محبانِ شیخ آصف کے اراکین بے گناہی کے سارے ثبوت لے کر دوپہر 2 بجے ہی پنچایت میں شرکت کے لئے پہنچ گئے تھے لیکن اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں ناکامی ہاتھ آنے کے ڈر سے متحدہ محاذی ٹولے کے خبری سالار نے پولس حکام کو پنچایت کی جگہ پر طلب کرکے پنچایت شروع ہونے سے پہلے ہی پنچایت برخاست کر دی اور اپنے فدائین دستے کی نظر میں پارسا بننے کے لئے ہلڑ بازی اور نوٹنکی کرکے ملا ڈیری کی پتلی گلی سے بھاگ کھڑے ہوئے، جب کہ کانگریس پارٹی کے ذمہ داران اور انجمن محبانِ شیخ آصف کے اراکین آخر تک پنچایت بیٹھا کر سارے ثبوت پیش کرکے متحدہ محاذی ٹولے کے جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کے لئے بضد تھے ۔ اس وقت جب کہ شہر میں ضابطہ اخلاق نافذ ہے ، جنتادل اور کانگریس کی یہ پنچایت سے ان دونوں پارٹیوں کے اراکین میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔جس سے شہر کے جلنے کا خطرہ تھا،اصل میں شہر کی سیاسی پارٹیوں نے اپنے اپنے طور پر اس الیکشن کو اپنی جاگیر سمجھ لیا ہے۔
یہ الیکشن نہ ہو کر جنگ کا میدان بن گیا ہے۔بیوقوفوں کی لگائی ہوئی ایک چنگاری ہی شہر کو جلانے میں کافی ہے ، الیکشن کمشنر کو ایسے تمام امیدواروں کو ڈسکوالیفائیڈ کردینا چاہیے۔اس ضمن میں الیکشن کمشنر بھی ذمہ دار ہیں ڈوثرنل الیکشن افسران تک شکایت پہنچانا نہایت ضروری ہے۔مالیگاؤں پولس محکمہ کی لاپرواہی بھی ثابت ہوتی ہے کہ ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے باوجود پارٹی کے ذمہ داران و اراکین کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پانچ سالوں تک بدعنوانی کا مزہ مل کر لینے والے لیڈران عین الیکشن کے وقت ہنگامہ کرکے عوام کو گمراہ کرکے جذباتی بنانے کا کام کرتے ہیں ۔عوام کو خود چاہیے کہ سیاستدانوں کی نوٹنکی کے خلاف آواز بلند کرکے اپنے آپ کو بیدار مغز ثابت کریں۔
سیاست
امریکہ میں عبدال السید کی کامیابی پر اسد الدین اویسی کا بیان! کہا، ’’اب اتر پردیش میں بھی ایک عبدال لیڈر بنے گا‘‘

حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید کی جیت کی دعوت دیتے ہوئے، اتر پردیش میں مسلم سیاسی شناخت بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ ایک عبد اب ریاست میں لیڈر بن جائے گا۔ “ایک ‘عبد’ مشی گن میں جیت گیا ہے؛ اب، اتر پردیش کے ‘عبد’ کو اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کرنا چاہیے،” اویسی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ وہ ریاستہائے متحدہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دے رہے تھے جہاں عبد السید نے مشی گن سینیٹ کی دوڑ جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’سنگھیوں‘ نے ’عبد‘ نام کا مذاق اڑانے کی کئی کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ‘عبد اللہ’ کے سوا کسی کی بندگی میں نہیں جھکتا، اب ہم دوسروں کے لیے قالین بچھانے والے نہیں رہیں گے۔ اویسی نے یہاں اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بھی اس مسئلہ پر بات کی۔ “بی جے پی کہتی تھی ‘عبد پنکچر بناتا ہے’۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عبدل اب لیڈر بنے گا۔ نہ قالین بچھائے گا، نہ آر ایس ایس سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکے گا۔ عبدل اپنا کام کرے گا اور لیڈر بنے گا۔” اویسی نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کمپاؤنڈ کے اندر واقع صدیوں پرانی قدیمی مسجد کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت کامن سینٹرل سیکریٹریٹ (سی سی ایس) کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہٹایا جانا چاہیے۔ حاصل کیا
“یہ مسجد ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کرشی بھون سے پہلے بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رجسٹرڈ وقف ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر کرن رجیجو کو ان لوگوں کو بتانا چاہئے کہ حکومت مالک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے قومی راجدھانی بننے اور ہندوستان کا آئین بننے سے پہلے بھی مسجد موجود تھی۔ ’’اگر آپ یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سرکاری جائیداد ہے تو وقف ٹربیونل میں جائیں اور وہاں بحث کریں۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وقف رجسٹرڈ ہے، وہاں گزٹ ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کرشی بھون کی ملکیت ہے۔ یہ کرشی بھون کی جائیداد نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے مرکز کی اس دلیل پر تنقید کی کہ مسجد “جائز اور سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی”۔
’’کیا یہ آپ کا سیکولرازم ہے کہ آپ ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو منہدم کرنا چاہتے ہیں جسے قانونی تحفظ حاصل ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اویسی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے بھومی پوجا کے ساتھ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بظاہر، سیکولرازم کسی عوامی منصوبے کے لیے ایک عقیدے کی رسومات کے استعمال سے ناراض نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مسجد سے الرجک ہے جو 1912 سے پہلے، کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے تک وہاں کھڑی تھی۔‘‘ حیدرآباد کے ضلع الیکشن آفیسر آر وی کے بارے میں جب اویسی سے ردعمل طلب کیا گیا تو اویسی نے پوچھا، ’’امیت شاہ اب کیا کہیں گے؟‘‘ کرنان کا بیان کہ حیدرآباد کی انتخابی فہرستوں میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے بیانات کو یاد کیا کہ حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کی وجہ سے غریبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران تمام اہل ووٹروں کی مدد کی، ان کے مذہب سے قطع نظر۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔
گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
