Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

ہندوستانی صنعت پر بیرونی قبضے کا خوف، اداروں کو بیچنے کی مودی حکومت کی ضد خطرناک

Published

on

ممبئی :ریلوے کے پرائیویٹائزیشن یعنی نجکاری کے ساتھ ہی مودی حکومت اب ائیر انڈیا کو فروخت کرنے کے بھی پیچھے پڑی ہے۔ حکومت ائیر انڈیا کو پوری طرح سے بیچنا چاہتی ہے۔ حالانکہ حکومت ہوائی سروس کی نجکاری بہت پہلے کر چکی ہے، لیکن لوگ اب بھی ائیر انڈیا میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے نجی کمپنیوں کی من مانی۔ حکومت کے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نجی ائیر لائنس سے پریشان مسافروں کی شکایتوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ اس میں جیٹ ائیرویز کے ساتھ ساتھ اسپائس جیٹ، انڈیگو اور وستارا ائیر لائنس بھی شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں مئی تک جہاں ائیر انڈیا سے شکایت کرنے والے مسافروں کی تعداد 37079 رہی، جب کہ اسپائس جیٹ سے ناراض مسافروں کی تعداد 70060، انڈیگو سے 62958 اور جیٹ ائیرویز سے ناراض مسافروں کی تعداد 50920 ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ ائیر انڈیا کے ’ڈِس انویسٹمنٹ‘ کے بعد نجی کمپنیوں کی من مانی اور بڑھ جائے گی۔ اس سے جہاں ہوائی سفر مہنگا ہو جائے گا، وہیں مسافروں کی پریشانی بھی بڑھ جائے گی۔یہی حالت ملک میں ٹیلی مواصلات سروس کی ہے۔ حکومت نے منصوبہ بند طریقے سے بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو اس حد تک حاشیے پر پہنچا دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے کنکشن مجبوراً بند کرنے پڑ رہے ہیں اور دونوں کمپنیوں کی معاشی حالت بے حد خراب ہے۔ یہ حال اس وقت ہے جب کہ بی ایس این ایل کا نیٹورک پورے ملک میں پھیلا ہے۔ موبائل ٹاور بھی ملک کے تقریباً ہر گوشے میں لگے ہیں، بلکہ کئی جگہ تو نجی کمپنیاں بی ایس این ایل کے ٹاور کے ذریعہ اپنی خدمات پہنچاتی ہیں، لیکن اب اس کمپنی کے فروخت ہونے کے آثار بن گئے ہیں۔ اسے خریدنے کی قطار میں وہی کمپنی سب سے آگے ہے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو ہی نہیں بلکہ دوسری نجی کمپنیوں کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔حالانکہ ٹیلی کام سیکٹر کو نجی کمپنیوں کےلیے کھولنے کا فائدہ گاہکوں کو ملا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے کمپنیوں کے درمیان مقابلہ آرائی بڑھی ہے اور خدمات سستی ہوئی ہیں۔ مقابلہ آرائی کی اس دوڑ میں بی ایس این ایل بھی شامل تھا، لیکن نریندر مودی حکومت کے دور اقتدار میں صرف ایک ہی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی لگاتار کوششوں کے سبب اس کی بالادستی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اس کمپنی نے دوسرے نیٹورک پر بات کرنے پر ٹیکس وصولنے کا فیصلہ اس لیے لیا تاکہ وہ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) پر انٹرکنیکٹ یوزیز چارج (آئی یو سی) واپس لینے کے لیے دباؤ بنا سکیں۔ اسے صحت مند مقابلے کے ختم ہونے اور کمپنیوں کی منمانی کی شروعات مانا جا رہا ہے۔بلاسبب سرکاری بوجھ برداشت کرنے والی ایک اور کمپنی ہے بھارت پٹرولیم جو سیدھے سیدھے صارفین سے جڑی ہے۔نریندر مودی حکومت اس کمپنی کو بھی فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسے خریدنے کی دوڑ میں ریلائنس سب سے آگے ہے۔ جس طرح سے ریلائنس نے پچھلے کچھ سالوں کے دوران پٹرولیم بزنس میں تیاری کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سیکٹر پر بھی اس کی اجارہ داری ہو سکتی ہے۔ ریلائنس نے انگلینڈ کی کمپنی بی پی اور سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کے ساتھ شراکت داری شروع کی ہے۔ایمپلائی لیڈر اشوک راؤ کہتے ہیں کہ سرکار پی ایس یو فروخت تو کر رہی ہے، لیکن ہندوستانی کمپنیاں اپنے دم پر انھیں خرید نہیں سکتیں۔ اس لیے وہ بیرون ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر پی ایس یو میں حصہ داری بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں ڈر اس بات کا ہے کہ ایک دن ہندوستانی کمپنیاں اپنا حصہ بھی بیرون ملکی کمپنیوں کو نہ فروخت کر دیں اور دھیرے دھیرے ہندوستانی بازار اور صنعت پر بیرون ملکی کمپنیوں کا قبضہ نہ ہو جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان