Connect with us
Sunday,26-July-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماجوادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ کی مشکلیں بڑھیں

Published

on

بھیونڈی (فہیم انصاری) مشرقی اسمبلی حلقہ انتخاب میں سبھی لوگوں کی نگاہیں مسلم ووٹروں پر ہے۔ انتخاب کے شروعاتی دور میں جس قسم کے حالات دکھائی دے رہے تھے، وہ دھیرے دھیرے تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ووٹوں کی خرید وفروخت کے لئے 2009 سے ہی بد نام اس علاقے میں پچھلے انتخابات میں پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والی کہاوت ہی چلتی رہی۔ فی الحال دو بار رکن اسمبلی رہ چکے روپیش مہاترے تیسری مرتبہ شیوسینا کے امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں ہیں۔ لیکن عین وقت پران کے سامنے سنتوش شیٹی کو کانگریس نے انتخابی میدان میں اتار کران کی مشکلیں بڑھادی ہے۔ اسی طرح یہاں کے مسلم ووٹوں کے سہارے سماجوادی پارٹی نے بھی ممبئی سے اپنے کارپوریٹر رئیس شیخ کو بھیونڈی میں انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ ویسے تو سماجوادی پارٹی کے پاس کام کے نام پر تو بھیونڈی میں گنوانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے لیکن پچھلے دنوں اسدالدین اویسی کے بھیونڈی آمد پر اور اپنے اسٹیج سے رئیس شیخ کے حمایت میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرنے سے سماج وادی پارٹی کے مردہ نسوں میں ایک بار پھر خون دوڑنے لگا ہے۔ واضح ہوکہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار رئیس شیخ کے آمد پر بھیونڈی مشرقی اسمبلی حلقہ کے عوام میں بھی تشویش پیدا ہوئی تھی۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ کیا پورے مشرقی حلقے میں سماجوادی پارٹی کے پاس بھیونڈی شہر میں ایک بھی قابل امیدوار نہیں تھا؟ کہ انہیں ممبئی سے امیدوار امپورٹ کرنے کی ضرورت پڑی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بھیونڈی کے شہریوں کی توہین مانی جارہی ہے۔ کیونکہ سماجوادی پارٹی نے بھیونڈی شہر میں کسی کو بھی اس لائق نہیں سمجھا۔ وہیں رئیس شیخ وہی اپنے انتخابی جلسوں میں ممبئی میں کیے گئے ترقیاتی کاموں کی تعریف کے پل باندھنے کا سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ جہاں ایک طرف وہ اپنے کاموں کی سراہنا خوداپنے آپ کررہے ہیں وہیں ذرائع سے موصول معلومات کے مطابق ممبئی کے گوونڈی علاقے سے کامیاب ہونے کے بعد اگر وہ وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دیے تھے تو کیا وجہ تھی کہ پانچ سال کا عرصہ پورا ہونے کے بعد دوبارہ اس علاقے سے الیکشن نہیں لڑے۔ انہیں دوسری مرتبہ مدنپورہ سے الیکشن لڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ واضح ہوکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا کے یشونت جادھو سے ان کے گھریلو مراسم تھے۔ وہیں دوسری جانب پچھلے دنوں سماجوادی پارٹی کے مرکزی آفس غیبی نگر واقع وفا کمپلیکس میں پچھلے دنوں ہوئی مارپیٹ کی وجہ سے بھی سماجوادی پارٹی کے آپسی اختلافات اجاگر ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے سماجوادی پارٹی بھیونڈی اور ممبئی دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت : ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورما لاونگیرے

Published

on

Prajakta-Verma

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورمالاونگیرے نے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے زون 5 کے تحت آنے والے علاقوں جیسے مانخورد، شیواجی نگر، کرلا اور چیمور میں پیدائشی سرٹیفکیٹ کی درخواستوں کی فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی افرادی قوت کی تعیناتی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان درخواستوں کی منظوری کے لیے سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹرز کے اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ آج (25 جولائی 2026)، لاونگرے نے چیمبور میں بی ایم سی کے ایم ویسٹ وارڈ آفس میں زون 5 کے انتظامی وارڈوں میں محکمہ صحت کی کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ میٹنگ میں موجود ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون 5) سندھیا شامل تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ایسٹ) اجول انگولے، اسسٹنٹ کمشنر (ایم-ویسٹ) شنکر بھوسلے، اور ایگزیکٹیو ہیلتھ آفیسر (محکمہ صحت عامہ) ڈاکٹر دکشا شاہ۔ای

ایم ایل وراڈ ایسٹ ویسٹ وارڈز میں پیدائشی سرٹیفکیٹ سے متعلق درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے زیادہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ورمالاونگیرے نے ہدایت دی کہ شہریوں کو راحت فراہم کرنے کے لیے صبح 9:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک شہری سہولت مراکز پر درخواستیں قبول کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوام کی سہولت کے لیے یہ مراکز اتوار کو بھی کھلے رہیں۔ انتظامی وارڈ کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کو شہریوں کی درخواستوں کو نمٹانے کے لیے اضافی افرادی قوت کا تقرر کرنا چاہیے، اس طرح درخواستوں کی ایک بڑی تعداد کو نمٹانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ ورمالاونگرے نے ہدایت کی کہ درخواستوں کو جمع کرنے کے بعد کم سے کم وقت کے اندر اندر کارروائی اور حل کیا جائے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی طرف سے نئے برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے درخواستوں کو سنبھالنے اور موجودہ میں تصحیح کے لیے سافٹ ویئر تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سافٹ ویئر درخواست کی تفصیلات جمع کرانے اور متعلقہ دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے میں سہولت فراہم کرے گا، جبکہ اس میں ڈیش بورڈ بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی درخواست کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سافٹ ویئر اور ڈیش بورڈ کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ تعلیمی معاملات سے متعلق درخواستوں کو ترجیح دی جائے۔ بیرون ملک تعلیم اور ویزا پروسیسنگ کے لیے درکار کیو آر کوڈ پر مبنی برتھ سرٹیفکیٹس کے لیے بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

آج کی میٹنگ کے دوران، ایڈیشنل میونسپل کمشنر پراجکتا ورمالاونگرے نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پروجیکٹوں، مانسون سے متعلق بیماریوں کے واقعات، اور میٹرنٹی ہومز اور مضافاتی اسپتالوں میں صلاحیت میں توسیع اور مرمت کے کاموں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال (سائن)، گوونڈی شتابدی اسپتال، اور ما اسپتال (چیمبور) کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔پراجکتا ورما-لاونگیرے نے محکمہ کے سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ صحت کے انتظامیہ کے کاموں میں شفافیت اور شہری مسائل کے جلد حل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ لیں۔ انہوں نے زون کے اندر اسسٹنٹ کمشنرز کو بھی ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ سائٹ کا دورہ کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں طلبا کی فتح پر ‘جشن فتح’… طلبا پر تشدد برپا کرنے والے پولس والوں پر کارروائی کا مطالبہ ابھی نامکمل : ادھو ٹھاکرے

Published

on

Raj-&-Uddhav

ممبئی میں طلبا کی تاریخی فتح پر ‘جشن فتح’ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دلی جنتر منتر پر دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد بھی احتجاج جاری رہے گا۔ یہ موقف کاکروچ جنتا پارٹی لیڈر ابھجیت دیپکے نے جاری کیا ہے۔ ممبئی میں ترنگا مارچ کے ساتھ اب ‘جشن فتح’ منایا جائے گا یہ اعلان یہاں پریس کانفرنس میں ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب شیواجی پارک کے پاس ہی اسٹیج تیار کیا جائے گا اور وہاں پر ہی مجمع جمع ہو گا۔ سدھی ونائک تک مارچ نہیں ہو گا۔ راج ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ طلبا کے لئے بڑی کامیابی ہے, اس کا جشن منانے کے لیے یہ مارچ منعقد کیا گیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیا گیا ہے۔ ان کا استعفی لینے کے بعد ان کا محکمہ تو تبدیل نہیں کیا گیا یہ اب تک واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استعفیٰ پر ہی طلبا مطمئن نہیں ہے۔ جن پولس اہلکاروں و افسران نے طلبا پر تشدد کیا ان پر مقدمہ درج کر کے کارروائی کا مطالبہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے, جس طرح سے طلبا پر بربریت کی گئی وہ سراسر غلط ہے, لیکن طلبا ثابت قدم تھے اتنا ہی نہیں انہوں نے احتجاج کے دوران تکالیف برداشت کی اور یہی وجہ کہ سرکار کو ان طلبا کے سامنے جھکنا پڑا۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح سے سرکار نے یہ سمجھا تھا کہ وہ کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گی, لیکن طلبا نے اسے مجبور کر دیا۔ ممبئی میں طلبا کے ساتھ اظہار ہمددردی کے لیے ‘جشن فتح’ منایا جائے گا اور روایتی طریقے سے ترنگا ریلی منعقد ہو گی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ابھیجیت دپیکے سے بات کر کے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک ترنگا مارچ : اعلی افسران کی پولیس کمشنر کے ہمراہ اہم میٹنگ، پولیس کا حفاظتی انتظامات سخت، ضروری ہدایات جاری

Published

on

police-chased-people

ممبئی : ممبئی کے شیواجی پارک میں ترنگا ریلی کو لے کر پولیس بھی مستعد ہے دلی جنتر منتر میں طلباء کے احتجاج سے اظہار ہمدردی کے لئے ٹھاکرے برادر نے ترنگا مارچ کا انعقاد کیا ہے۔ جس میں لاکھوں مظاہرین کے شریک ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں پولیس نے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقععہ پیش نہ آئے اس لئے پولیس محتاط ہے اور حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ترنگا مارچ کیلئے روٹ پر نگرانی کے ساتھ آج ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ایڈیشنل پولیس کمشنر سمیت اعلی افسران کی میٹنگ بھی منعقد کی گئی تھی۔ جس میں نظم و نسق اور احتجاجی مظاہرہ سے متعلق حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ممبئی شہر میں شیواجی پارک میں احتجاجات کا سلسلہ دراز ہے۔

ممبئی شہر و مضافات میں ترنگا مارچ کے دوران کہاں کہاں سے مظاہرین شیواجی پارک میں جمع ہوسکتے ہیں, اسکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں احتجاجات شروع ہے۔ نیٹ امتحانی پرچہ لیک کے معاملہ میں طلباء نے وزیر تعلیم دھریندر پردھان کا استعفی طلب کیا ہے اور طلباء اپنے موقف پر قائم ہے۔ ممبئی شہر و مضافاتی علاقوں میں ترنگا مارچ کے سبب پولیس بھی الرٹ ہے۔ شیواجی پارک میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران ٹریفک روٹ پر بھی پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضروری احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ممبئی اور ریاست میں طلباء کے احتجاجات کے سبب پولیس نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے اعلی افسران کو اس متعلق ضروری ہدایت بھی جاری کی گئی ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقے کرلا, چمبور, بائیکلہ, اندھیری, ملاڈ مالونی, جوگیشوری سمیت دیگر علاقوں سے بھی احتجاج میں طلباء کے شریک ہونے کا اندازہ ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران گڑ بڑی کی کوشش یا بدامنی قابل برداشت ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایم این ایس سر براہ راج ٹھاکرے نے دیا ہے اور کہا ہے کہ دلی کے طرز پر اگر ممبئی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اسی قطعی برداشت نہیں کیا جائے۔ ممبئی میں احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں پولیس بھی مستعد ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان