Connect with us
Monday,03-August-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

10 سالوں میں ملاڈ میں کام نہیں ہوئے، اسلم شیخ نے قبول کیا

Published

on

ممبئی: ہندوستان کے آئین کے مطابق سیاسی عہدیداران عوام کے خادم ہوتے ہیں، ان پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے حلقہ کی عوام کا خیال رکھا جائے، ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ لیکن ہمارے ملک میں خادم اپنے آپ کو حاکم سمجھنے لگتا ہے۔ کام نہ کرنے کی صورت میں انتخابات سے چند ماہ قبل لجاجت کے ساتھ ووٹوں کی بھیک مانگنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اگر عوام کا کام مطمئن بخش طریقے سے کیا جائے تو ووٹ کے لیے گھروں گھر گھومنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی میں انتخاب سے قبل سیاسی اتھل پتھل کی گئی جس میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار اسماعیل شیخ نے بغاوت کر کے کانگریس کے امیدوار شیخ اسلم کی حمایت کردی، اس کے باوجود اسلم شیخ کی ساکھ بچانا مشکل ترین امر ہے۔ عوام نے اسلم شیخ کو 10 سال کا موقع دیا تھا، 10 سال میں انہوں نے عوام کو ناراض کردیا۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی کی عوام کی ناراضگی کا خود اسلم شیخ کی تقریر سے چلتا ہے، اسلم شیخ نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے 10 سالوں میں اپنے حلقہ اسمبلی ملاڈ میں کام نہیں کئے ہیں۔ حلقہ کی عوام کو جذباتی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ میں نے عوام کا کام نہیں کیا، لیکن میں آپ کے گھر کا فرد ہوں۔ گھر کا کوئی فرد غلطی کرتا ہے تو اسے غلطی سدھارنے کا موقع دیا جاتا ہے، گھر سے گھر بدر نہیں کردیا جاتا ہے۔ اگر اسلم شیخ 5 سال تک کام نہیں کرتے تو ان کا جادو کچھ درجہ تک چل سکتا تھا، لیکن عوام نے انہیں سدھرنے کا 10 سال کا موقع دیا۔ بچہ بالغ ہوکر 10 سال تک نااہل رہتا ہے تو والدین اسے خود گھر سے الگ کر دیتے ہیں تاکہ ذمہ داری کا احساس ہوسکے۔ اسی طرح عوام انہیں 5 سال تک کم ازکم الیکشن کے میدان سے باہر رکھ سکتی ہیں تاکہ اپنی غیر ذمہ داری کا احساس جاگ جائے، 10 سال تک وقت ضائع کرنے اور عوام کی امانت میں خیانت کرنے کے لیے چن کر نہیں دیا جاتا ہے۔ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے بی جے پی کے امیدوار سے عوام کو ڈرایا جارہا ہے، اولڈ کلکٹر کمپاؤنڈ اور نیو کلکٹر کمپاؤنڈ کے جلسہ میں کہاکہ ملاڈ حلقہ میں اگر بی جے پی کا امیدوار جیت جائے گا تو ایس آر اے اسکیم کو نافض کردیا جائے گا، پھر دو منزلہ عمارت اور تین منزلہ عمارت کو مسمار کردیا جائے گا۔ اسلم شیخ کی جانب سے ڈر کا ماحول پیدا کرنے پر بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں ممبئی سے باہر کا نہیں ہوں میں بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں کسی کا گھر توڑوانے کے لیے نہیں آیا ہوں، میں عوام کا کام کرنا چاہتا ہوں اس حلقہ کے غریب طبقہ کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں، میں ان کا کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں مالوانی کی ترقی کرنے آیا ہوں، گزشتہ پانچ سال سے بی جے پی کے ممبر آف پارلیمنٹ گوپال شیٹی نے مالوانی میں ترقیاتی کام کریں ہیں۔ فی الحال بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں جیت کر آؤں گا تو ان لوگوں کا کام کروں گا جو میرا کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کا بھی کام کروں گا جو مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔ واضح ہوکہ 2014 میں بی جے پی کے امیدوار کو صرف 2300 ووٹوں سے شکست ملی تھی۔ اس وقت شیوسینا الگ انتخاب لڑرہی تھی اس لیے شیوسینا کے امیدوار نے 18000 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ منسے کے امیدوار نے 12000 ووٹ حاصل کئے تھے۔اس مرتبہ بی جے پی شیوسینا کا اتحاد ہوچکا ہے اسلم شیخ کی نااہلی بھی حلقہ کی عوام کے سامنے ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین ملاڈ کے صدر عرفان خلیفہ نے کہا کہ مجلس کا باغی امیدوار اسماعیل شیخ نے اسلم شیخ کو حمایت دے دی ہے لیکن مجلس نے نہیں دی ہے۔ ہم مجلس کے نشان پر زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس طرح اپنی ہار کے متعلق شیخ اسلم میں بھی ناامیدیں پیدا ہوئی ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کوہ نور عمارت سانحہ متاثرین کی فوری مالی امداد، بحالی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور شہری ترقی کے وزیر ایکناتھ شندے، اور ریلیف اور بحالی کے وزیرمکرند جی جادھو کو ایک خط ارسال کرانہوں نے بھیونڈی شہر کے بالاجی نگر علاقے میں چار منزلہ کوہ نور عمارت کے گرنے کے المناک اور سنگین واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی اپیل کی ہے۔خط کے ذریعے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے اہم مطالبات اور مسائل پیش کئے ہیں جس میں انتظامی لاپرواہی پر سوال بھی اٹھایا ہے

بھیونڈی نظام پور سٹی میونسپل کارپوریشن نے پہلے اس عمارت کو ‘انتہائی خطرناک’ قرار دیا تھا اور نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ مکینوں کی محفوظ بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ انتظامی تاخیر اور لاپرواہی کے باعث جانیں ضائع ہوئیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی فوری امداد کے ساتھ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت حادثے میں جان گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کو فوری طور پر مالی امداد فراہم کرے اور تمام زخمیوں کو سرکاری خرچ پر بہترین طبی علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انتہائی خطرناک عمارتوں کا سٹرکچرل آڈٹ کیوں سے متعلق اعظمی نے کہا کہ بھیونڈی شہر میں تمام خستہ حال اور انتہائی خطرناک عمارتوں کا ‘سٹرکچرل آڈٹ’ فوری طور پر کیا جانا چاہیے، اور ان کے رہائشیوں کی عارضی اور مستقل بحالی کے انتظامات بلا تاخیر کیے جانے چاہئیں۔قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بڑے حادثے اور اس سے منسلک غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جلد از جلد بھیونڈی میں متاثرہ خاندانوں تک انصاف اور راحت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان