ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر وقف بورڈ تاریخ میں توسیع کو لے کر ٹربیونل سے رجوع، فکر نہ کریں، صد فیصد رجسٹریشن یقینی ہے : چیئرمین سمیر قاضی
اورنگ آباد : مہاراشٹر کی تمام رجسٹرڈ وقف تنظیموں بشمول مساجد، درگاہوں اور قبرستانوں کے لیے امید پورٹل پر رجسٹریشن کی آخری تاریخ آج، 5 دسمبر 2025 تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔ اگرچہ مہاراشٹر کی بیشتر وقف تنظیموں کا رجسٹریشن پورٹل پر ہو چکا ہے، لیکن ریکارڈ کی عدم دستیابی یا دیگر کاغذی خامیوں کی وجہ سے کچھ تنظیمیں اب بھی اندراج سے محروم ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر مہاراشٹر ریاستی وقف بورڈ کے صدر سمیر قاضی نے متعلقہ متولیوں، ٹرسٹیز اور مسلم سماج سے گھبرانے یا کسی بھی افواہ پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے پُر اعتماد انداز میں کہا ہے کہ وقف بورڈ ہر ادارے کا رجسٹریشن مکمل کرائے گا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے تاریخ میں توسیع دینے سے انکار کر دیا ہے، لیکن اس نے وقف ٹربیونل (وقف عدالت) سے رجوع کرنے کی اجازت دی ہے۔ ریاستی وقف بورڈ نے ٹربیونل سے رجوع کر لیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہاں انصاف ملے گا اور امید پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے مہلت میں ضرور توسیع ہوگی۔ چیئرمین قاضی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریاست میں ہر وقف ادارے کا اندراج مکمل ہوئے بغیر بورڈ چین سے نہیں بیٹھے گا۔
ملک بھر میں مہاراشٹر دوسرے مقام پر 80 فیصد رجسٹریشن مکمل :
وقف بورڈ سے متعلقہ تمام تنظیموں کے رجسٹریشن کا کام امید پورٹل پر تیز رفتاری سے مکمل ہوا ہے۔ وقف اداروں کے رجسٹریشن کے معاملے میں مہاراشٹر ریاست ملک بھر میں دوسرے مقام پر فائز ہے۔ مہاراشٹر میں وقف کی کل 36 ہزار رجسٹرڈ پراپرٹیز ہیں، جن میں سے تقریباً 30 ہزار (80 فیصد) تنظیموں کی جائیدادوں کو امید پورٹل پر کامیابی کے ساتھ درج کر لیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے تمام افسران اور عملے نے اضافی انتظامات کرکے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرایا۔ نہ صرف یہ، بلکہ چھترپتی سمبھاجی نگر کے حج ہاؤس میں 300 نوجوان ٹیکنیشنز کی خدمات حاصل کی گئیں تاکہ امید پورٹل پر اندراج کو مزید تیزی سے کیا جا سکے، جو بورڈ کی جانب سے ایک قابلِ ستائش کوشش ہے۔
وقف ٹربیونل کا مرکزی حکومت کو فوری نوٹس، 10 دسمبر تک جواب طلب :
سپریم کورٹ کی ہدایت کے فوراً بعد مہاراشٹر وقف بورڈ نے وقف ٹربیونل سے رجوع کیا۔ ٹربیونل نے اس معاملے پر فوری سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دی ہے۔ نوٹس میں مرکز سے سوال کیا گیا ہے کہ’’مہلت میں توسیع کیوں نہیں دی جانی چاہیے؟‘‘ اور اس کا جواب 10 دسمبر تک داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ٹربیونل کی اس فوری کارروائی اور نوٹس کی وجہ سے مہلت میں توسیع ملنے کا قوی امکان ہے، جس سے وقف اداروں کو ایک بڑا ریلیف حاصل ہوا ہے۔
افواہوں پر دھیان نہ دیں، وقت میں توسیع نہیں ہوئی ہے :
آج دن بھر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن ریجیجو کا ایک بیان زیرِ گردش رہا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ متولیوں کو سرسری ریلیف نہیں ملا ہے، لیکن ٹربیونل سے وقت میں توسیع ملنے کی امید ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو ادارے ٹربیونل سے رجوع کریں گے ان پر کوئی جرمانہ (پینلیتی) نہیں لگایا جائے گا۔ صدر سمیر قاضی نے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا وزیر موصوف نے پورٹل پر اپ لوڈنگ کے لیے وقت میں توسیع نہیں دی ہے، بلکہ صرف ان اداروں کے لیے چیکر اور اپروول کے لیے اگلے تین ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جن کا اندراج پہلے ہی ہو چکا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سوشل میڈیا پر وقت میں توسیع کی غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کے تذبذب کا شکار نہ ہوں اور جب تک باضابطہ توسیع نہیں ہو جاتی، ادارے اپ لوڈنگ کے عمل کو لازمی طور پر مکمل کریں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔
منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
