Connect with us
Friday,10-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

آگرہ میں 22 افراد کی اموات کے لئے حکومت ذمہ دار : پرینکا

Published

on

priyanka and yogi

کانگریس جنرل سکریٹری و اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی واڈرہ نے آگرہ کے ایک پرائیویٹ استپال میں مبینہ طور سے کورونا متاثرین 22 افراد کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لئے ریاست کی یوگی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

محترمہ واڈرا نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت لگاتار یہی کہتی رہی ہے کہ اترپردیش میں آکسیجن کی کمی نہیں ہے۔ پھر آگرہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کے بعد ماک ڈرل کی صورت کیوں اور کیسے آئی، جس سے 22 افراد کی بے وقت موت ہوگئی۔ انہوں نے حکومت پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ گاتار جھوٹ کو سچ بتانے و کورونا کی دوسری لہر کی سنگینی کے بحرانی وقت میں پختہ پالیسی کے بغیر کھوکھلی دعؤں کی وجہ سے سنگین بحران پیدا ہوا ہے جس کے لئے پوری طرح سے یوگی حکومت خاطی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26 اپریل کو آگرہ کے پرائیویٹ اسپتال میں جس طرح سے آکسیجن کی کمی کے بعد مالکین کے ذریعہ ماکڈرل کئے گئے، اور اس کی وجہ سے اموات ہوئیں، اس کے لئے پوری طرح سے لچر حکمت عملی اور لاپرواہی ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلی آکسیجن کی کمی قبول کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوئے۔ بغیر آکسیجن کے نظم کے پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا متاثرہ مریض علاج کے لئے داخل کرائے گئے۔ آخر بے حص حکومت حادثے کو دبائے رکھتی، لیکن یہ واقعہ جس طرح سے روشنی میں آیا ہے، اس سے حکومت کی لاپرواہی کا زندہ ثبوت ہے۔ حکومت کو انسانی زندگی کی ذرا سی بھی فکر نہیں ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری ے آگرہ میں آکسیجن کے کمی سے ہوئی اموات کے لئے وزیر اعظم و اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو سیدھے طور سے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ آکسیجن کی کمی نہیں تھی، تو آگرہ میں آکسجین کی کمی کی وجہ سے بے وقت اموات کیسے ہوئیں۔ انہوں نے وزیر اعلی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بتائے کہ ان کی ریاست میں کورونا انفکشن کی وجہ سے بد انتظامیوں کو بول بالا کیوں ہے۔

محترمہ واڈرا نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں آکسیجن، انسانیت و حساسیت نہیں ہے۔ اس نے لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ کر کے آئینی فرض و اخلاقی فرض کی پوری طرح سے پہلو تہی کی ہے۔ انہوں نے حادثے کی اعلی سطحی جانچ کے ساتھ متاثرہ کنبوں کے ساتھ معاشی تعاون دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آگرہ کے حادثے کے لئے مرکزی و ریاستی حکومت پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی کی سازش ناکام, مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آپریشن شروع, ۱۱۲ مشتبہ نوجوانوں سے پوچھ گچھ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی پاکستانی ڈان اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ایجنٹ شہزاد بھٹی کی سازش کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور اس گینگ سے آن لائن رابطہ کاروں سے تفتیش شروع کر دی ہے, جس سے ملک میں شہزاد بھٹی کی سازش کو اے ٹی ایس نے بے اثر کرکے بے نقاب کیا ہے۔

مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی سے وابستہ ۱۱۲ نوجوانوں سے باز پرس کی ہے مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں اے ٹی ایس نے اس سے قبل بھی کریک ڈاؤن کیا تھا اور ۵۷ نوجوان سے باز پرس کی تھی آج صبح ۷ بجے اے ٹی ایس کی ۱۴ یونٹ نے شہزاد بھٹی گینگ کے آنلائن رابطہ کاروں سے باز پرس کی ہے ۱۱۲ نوجوانوں کو اے ٹی ایس نے اس وقت زیر حراست لے کر باز پرس کی جب اے ٹی ایس کو ان سے متعلق یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ آن لائن طریقے سے شہزاد بھٹی گینگ کے رابطہ میں ہے اور ان نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے ان نوجوانوں کو ملک مخالف سرگرمیوں اور بغاوت کےلیے آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا تھا اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کو ملک میں بدامنی اور تشدد کےلیے ورغلایا جارہا تھا اس سازش کو اے ٹی ایس نے ناکام بنا دیا ہے اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان نوجوانوں کو آن لائن رابطہ میں رکھ کر بیرون ملک کے ہینڈلر انہیں ورغلایا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی یہ ہینڈلر کے بھی رابطے میں آجاتے ہیں ایسے میں اے ٹی ایس مہاراشٹرمیں آپریشن شہزاد بھٹی میں شدت پیدا کردی ہے ۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے اس کی تصدیق کی ہے ۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی کمی، ایم آر آئی مشین بھی بند، حالات تشویشناک، ابوعاصم کا اسپتالوں میں ضروری سہولیات فراہمی کا مطالبہ

Published

on

hospital

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں طبی سہولت کا فقدان اور اسپتالوں میں ناقص انتظامات و ابتر حالات پر ابوعاصم اعظمی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکار کی توجہ اس اہم مسائل پر مبذول کروائی انہوں ایوان کو بتایا کہ سرکاری اور میونسپل اسپتالوں میں مریضوں کی حالت قابل رحم ہے یہاں مریضوں کے علاج کے ساتھ ادویات کی فراہمی نہیں ہوتی جس کے سبب مریضوں کو باہر سے ادویات کا انتظام کرنا ہوتا ہے, ایسے میں سرکاری اسپتالوں کے ناقص انتظامات کے سبب حالات ابتر ہے ممبئی کے جے جے اسپتال ۵ سے ۶ ہزار روپے کی یومیہ ایک مریض کو دی جاتی تھی اور یہ ادویات اسپتال میں میسر نہیں ہوتی اسے پرائیوٹ کلینک سے خریدنا ہوتا ہے جب میں نے اس کی شکایت ڈین سے کی تو انہیں اس بات کا علم تک نہیں تھا, اس پر ڈین نے کہا کہ مریض کو تمام ادویات یہاں سے ہی فراہم ہوگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ مریض نے اس کی شکایت مجھ سے کیوں نہیں کی؟ جس پر اعظمی نے کہا کہ ڈاکٹر دورہ کے دوران مریضوں کو کسی بھی ڈاکٹر سے بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ اسپتال میں ایم آر آئی مشین نہ ہونے کے سبب کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جے جے اسپتال میں یومیہ تین ہزار مریض علاج کے لیے آتے ہیں, اس میں صرف چالیس مریضوں کا ہی ایم آئی آر مشین سے جانچ کی جاسکتی ہے, بقیہ مریضوں کی تشخیص ایسے میں کب ہو گی؟ یہ طے کیا جائے کہ دور دراز دیہی علاقوں سے ممبئی آنے والے مریضوں کے لیے ایم آر آئی، سونو گرافی سمیت دیگر جانچ کتنے دنوں میں طے ہو گی؟ اعظمی نے ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ بغرض علاج یہاں ممبئی میں واڈیا اسپتال میں لایا گیا تھا, میں نے فون کیا اسے فارم کی قیمت تین سو رویپہ وصول کیا اور پھر اسے داخلہ نہیں دیا گیا اور اسپتال سے نکل کر اس بچہ کی موت ہو جاتی ہے, ایسی حالت اسپتالوں کی ہے ناقص انتظامات سمیت دیگر سہولیات کا اسپتالوں میں فقدان ہے۔ اعظمی نے بتایا کہ نائر سمیت دیگر اسپتالوں میں ایم آر آئی سمیت دیگر ٹیسٹ کی مشین بند پڑی ہے۔ جن اسپتالوں میں مشین بند ہے۔ جن اسپتالوں میں میڈیکل کالج ہیں وہاں بھی مشین بند ہے تو ایسے میں میڈیکل طلبا کیسے ان مشینوں کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اس پر وزیر مملکت میگھا سکوریکر بوردیکر نے کہا کہ اسپتالوں میں ضروری اقدامات کئے جائیں گے اس پر اعظمی نے کہا کہ کیا نئے اسپتال شروع کئے گئے ہیں۔ اب تک اسپتالوں میں انتظامات کیوں نہیں کئے گئے۔ اعظمی کے مطالبہ پر موصوفہ نے کہا کہ وہ ایک روز اعظمی کے ہمراہ اچانک اسپتال کا دورہ کرے گی۔ وزیر موصوفہ نے کہا کہ جون تک چار اسپتال کے ایم، سائن، کوپر نائر میں ایم آر آئی مشین شروع ہوگی, اس کے سسٹم کے لیے دو ماہ کا وقت درکار ہے۔ چار اسپتال میں اکتوبرمیں ایم آر آئی دستیاب ہوگی, دیگر مقامات پر سرکاری فیس میں ایم آر آئی جاری ہے۔ ۱۶ اسپتالوں میں پی پی ماڈل میں ایم آر آئی کی مشین اور دیگر مشین کی تنصیب کے بعد سرکاری فیس پر جانچ ہو گی۔ اسپتالوں میں ضروری اقدامات کی بھی وزیر نے یقین دہانی کروائی۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر : سنجے راوت نے اسکول کٹ کی خریداری میں کروڑوں کے گھپلے کا کیا دعویٰ، تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو خط لکھا

Published

on

ممبئی : شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے جمعہ کو پمپری-چنچواڑ میونسپل کارپوریشن (پی سی ایم سی) میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے سنگین الزامات لگائے۔ 9 جولائی 2026 کو مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کو لکھے ایک سرکاری خط میں، راؤت نے الزام لگایا کہ ای ٹینڈرنگ کے لازمی عمل کی پیروی نہیں کی گئی اور سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے اس معاملے میں کابینہ کے ایک سینئر وزیر اور میونسپل افسران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خط کے مطابق، پمپری-چنچواڑ کے کئی مقامی کونسلروں نے راؤت سے ملاقات کی اور انہیں پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے طلباء کے لیے یونیفارم، سویٹر، موزے، رین کوٹ اور اسکول بیگ کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ریاستی قوانین کے مطابق 3 لاکھ روپے سے زیادہ کی کوئی بھی سرکاری خریداری ای ٹینڈرنگ کے عمل کے ذریعے کی جانی چاہیے۔ تاہم، راؤت نے الزام لگایا کہ سولاپور کی جگدمبا ریڈی میڈ ڈریسس کوآپریٹیو سوسائٹی کو بغیر کسی مسابقتی بولی کے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دیا گیا۔

راؤت نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا، جس نے اسکول کٹس کی خریداری کے لیے 239 روپے فی یونٹ کی شرح مقرر کی تھی۔ تاہم، راؤت نے الزام لگایا کہ پی سی ایم سی انتظامیہ نے 814 روپے فی یونٹ کی زیادہ شرح پر ٹھیکہ دیا۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کے فنڈز سے 575 فی کٹ کی اضافی ادائیگی ہوئی۔ راوت نے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ گھوٹالے کی کل رقم تقریباً 400 کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے ریاستی کابینہ کے ایک سینئر وزیر پر اس سودے کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالنے کا براہ راست الزام لگایا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے انسداد بدعنوانی کے نعرے “میں نہیں کھاؤں گا، دوسروں کو کھانے نہیں دوں گا” کا حوالہ دیتے ہوئے راوت نے لکھا، “آپ کی کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے میونسپل کمشنر پر دباؤ ڈالا کہ وہ بغیر کسی ٹینڈر کے عمل کے اس فرم کو غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دے دیں۔”

راوت نے الزام لگایا کہ یہ دباؤ مفاد عامہ کے لیے نہیں بلکہ مالی فائدے کے لیے تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 50 سے 55 کروڑ روپے کی بڑی رقم متعلقہ وزراء تک پہنچی۔ انہوں نے بچوں کے لیے اسکول کے سامان کی خریداری میں مبینہ بدعنوانی کو ’انتہائی شرمناک‘ قرار دیا۔ خط کو ختم کرتے ہوئے، راؤت نے چیف منسٹر فڑنویس پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کریں اور مبینہ طور پر ملوث وزیر اور پی سی ایم سی کے عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے متعلق تمام دستاویزی ثبوت تحقیقات کے لیے وزیر اعلیٰ آفس میں جمع کرادیئے گئے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان