Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

ٌٌٌٌٌلاک ڈاؤن کے دوران گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے ضیا الرحمان مسکان اور مومن عمران سے “مالیگاؤں پیٹرن “پر خیال اثر کی گفتگو

Published

on

دل والوں کی بستی اور زندہ دلوں کے شہر مالیگاؤں نے بہت کم وقت میں کورونا پر فتح حاصل کرکے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے . انسان اگر اپنے من میں ارادہ کر لے تو فتح اس کے قدم ضرور چومتی ہے. جس طرح پوری دنیا کو کورونا نے بے بس کردیا ہے. اسی جان لیوا وائرس کو بہت ہی کم وقت میں مالیگاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا جو ایک تاریخی قابل تحسین اقدام ہے. اس وقت پورے ملک میں “مالیگاؤں پیٹرن” کی گونج سنائی دے رہی ہے. ممبئی پریس کے نمائندے نے جب مختلف شہروں کے ذمہ داران سے مالیگاؤں پیٹرن کی گونج سنی تو گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء مسکان اور مومن عمران سے تفصیلی بات چیت کی تاکہ کورونا سے متاثر شہر اس مالیگاؤں پیٹرن سے استفادہ حاصل کر سیکیں. مالیگاؤں پیٹرن کے متعلق ضیاء الرحمن مسکان اور مومن عمران نے کورونا کو شکست دینے کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا تاکہ کورونا متاثر شہر اسے اپنا کر کورونا کو مہاراشٹر سے کیا ہندوستان کی سرحد چھوڑنے پر مجبور کردیں گے.
لاک ڈاؤن کے دوران مریضوں کو گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے بچوں کی تلاش گروپ کے روح رواں ضیاء الرحمان مسکان اور مومن عمران اپنی طویل گفتگو میں کہا کہ جہاں نماز روزوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اسباب کے درجوں میں درج بالا باتوں پر عمل پیرا ہونگے تو انشاءاللہ کرونا سے جیت جاوگے.انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ شوگر پریشر کڈنی لیور دمہ کینسر اور دماغی مریضوں کی کسی بھی حال میڈیسن کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے. اگر مریض کا سرچیولیشن 90 کے نیچے ہے تو اسے فوراً آکسیجن مشین فراہم کریں تاکہ سرچیولیشن کنٹرول ہو سکے . اگر مریض کا سرچیولیشن کم ہے اس کی حالت نازک ہے تو پہلے بیماری سمجھیں. مثلا”شوگر پریشر کڈنی دمہ کینسر اور دماغی امراض کے مریض ہو تو سب سے پہلے اس بیماری کا علاج کریں کیونکہ سرکاری ہاپسلٹوں میں صرف کورونا کا علاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مریض کی جو اصل بیماری ہے اس کا علاج نہ ہونے سے مریض کی موت ہو جاتی ہے. بند پڑے پرائیوٹ آئی سی یو وارڈ والے (ونیٹی لیٹر مشین اور آکسیجن سیلنڈر سے لیس) ہاسپٹل کو جاری کرنے کی پوری پوری کوشش کرنا چاہئے. سب سے پہلے میّت کے پکارے بند کروائے جائیں، شہر کی تمام میڈیکل اسٹورز دیر رات تک کھلی رکھی جائیں، محلّہ کلینک کھولے جائیں جس میں کم از کم پانچ ڈاکٹرز ہوں، ایک ایسی پوسٹ بنائی جائے جس میں لکھا ہو کہ شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات کو لے کر ایک ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ بنایا جائے جس میں صرف یہی حضرات ہوں ، یاد رہے اِس پوسٹ میں کم از کم پانچ لوگوں کا نمبر ہو جو کہ ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ کے ایڈمنز ہوں، اب ایک ایسا واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس میں کم از کم بیس جیالے نوجوان سوشل ورکرز ہوں اور صرف شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور کچھ ڈاکٹرز ہوں، اب ایک پوسٹ ایسی چلائی جائے جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ تمام حضرات جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی مطلوبہ دوائیں نہیں مل رہی ہے وہ واٹس اپ کے ذریعے نیچے دئے گئے ہمارے رضا کاروں کے واٹس اپ نمبروں پر پرچی کی فوٹو یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں ہمارے رضاکار آپ کو وہ دوا اُسی قیمت میں آپ کے گھر تک پہنچا کر دینگے، اب آپ کے رضا کاروں کے پرسنل نمبر پر لوگ پرچی یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں گے رضا کاروں کو اُس فوٹو کو فوراً ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ گروپ میں ڈالنا ہے اور پوچھنا ہے کہ یہ کس میڈیکل پر دستیاب ہے؟ گروپ میں موجود میڈیکل اسٹورز مالکان کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہر فوٹو کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر علم ہو کہ ان کی میڈیکل پر دستیاب ہے تو فوٹو کو ٹیگ کر کے اپنی میڈیکل کا نام لکھ دیں یا رہنمائی فرما دیں، رضا کار کو یہ معلوم ہونے پر کہ میری پرچی والی دوا فلاں میڈیکل پر دستیاب ہے تو رضا کار فوراً جائے اور دوا خرید کر اُسکی بِل لے لے اور اُس بندے کے گھر پر دوا پہونچا کر بِل کے مطابق رقم لے لے، یاد رہے اِس کام کا معاوضہ نہیں لینا ہے، کچھ دوائیں ایسی بھی ہونگی جو کہیں نہیں ملے گی ایسے میں گروپ میں موجود ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات اُس کا اچھا سا بدل (سبٹیٹیوٹ) بتا دیں، رضا کار سامنے والے کو آگاہ کریں کہ آپ کی مطلوبہ دوا نہیں مل رہی ہے مگر اُس کے بدل میں آپ فلاں دوا لے سکتے ہیں۔ اگر سامنے والا راضی ہوا تو اُسے اُس کی دوا کا بدل دے دیں، رضاکاروں میں سے کچھ لوگ روزانہ پوری احتیاط کے ساتھ اُن دواخانوں میں جائیں جہاں کرونا مریضوں کو ایڈمٹ کِیا جا رہا ہے اور وہاں بِنا مذہب و مسلک تمام مریضوں کے آکسیجن سلنڈر جانچ کریں اور آکسیجن سلنڈر تبدیل کریں، مریضوں کے حالات جانچیں اُن سے بات چیت کریں، اُنہیں پہلے کیا بیماری تھی یہ پوچھیں اور دھیان دیں کہ اُن کا ٹریٹمنٹ کِس قسم کا چل رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اُنہیں بیماری کچھ اور ہے اور علاج صرف کرونا کا کِیا جا رہا ہے؟ اُن کو تسلی اور حوصلہ مند کلمات کہیں، اُنہیں کیا تکلیف ہیں یہ پوچھیں اور اُن کی تکالیف دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں، ڈاکٹرز حضرات کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اُن سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی پوری ایمانداری سے مریضوں کا علاج کرنے پر آمادہ ہوں، شہر کے بند پڑے ہاسپٹلز سے کسی بھی طرح کچھ آکسیجن سلنڈر لے لیں اور اُنہیں کرونا کے علاوہ دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کو اُنکے ہی گھروں میں لگائے جائیں، دوسرے شہروں سے جن لوگوں کا علاج چل رہا ہے ایسے مریضوں کی دوائیں لانے کے لئے کچھ بندوں کو قانونی طور سے ڈپارٹمنٹ کے اجازت نامہ کے ساتھ دوسرے شہروں میں احتیاط کے ساتھ بھیجیں اور دوائیں منگوا کر مریضوں کے گھر پہونچائیں، ایمرجنسی معاملات والے مریضوں کو کسی بھی صورت میں فوری طبّی امداد پہونچانے کی کوشش کریں۔ شہر میں موجود پولیس اہلکاروں کو کِس چیز کی تکلیف ہے اِس پر بھی خاص نظر رکھیں، اُنھیں دھوپ سے بچنے کے لئے شامیانے لگوا دیں (اگر نا لگے ہوں تو) اُن کو صاف شفاف پانی کا انتظام کر دیں، اُن کو اگر کولر یا پنکھے کی ضرورت ہو تو اُس کا انتظام کریں، اُن کے ذریعے دی گئی ہدایات پر عمل کریں. یہی وہ سارے کام ہیں جنہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں والوں نے کِیا تھا۔ آپ ایسا ضرور کریں انشاء اللہ کچھ ہی دِنوں میں آپ کا شہر کرونا مکت ہو جائے گا۔

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان