Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ٌٌٌٌٌلاک ڈاؤن کے دوران گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے ضیا الرحمان مسکان اور مومن عمران سے “مالیگاؤں پیٹرن “پر خیال اثر کی گفتگو

Published

on

دل والوں کی بستی اور زندہ دلوں کے شہر مالیگاؤں نے بہت کم وقت میں کورونا پر فتح حاصل کرکے دنیا کو ایک پیغام دیا کہ کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے . انسان اگر اپنے من میں ارادہ کر لے تو فتح اس کے قدم ضرور چومتی ہے. جس طرح پوری دنیا کو کورونا نے بے بس کردیا ہے. اسی جان لیوا وائرس کو بہت ہی کم وقت میں مالیگاؤں سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا جو ایک تاریخی قابل تحسین اقدام ہے. اس وقت پورے ملک میں “مالیگاؤں پیٹرن” کی گونج سنائی دے رہی ہے. ممبئی پریس کے نمائندے نے جب مختلف شہروں کے ذمہ داران سے مالیگاؤں پیٹرن کی گونج سنی تو گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء مسکان اور مومن عمران سے تفصیلی بات چیت کی تاکہ کورونا سے متاثر شہر اس مالیگاؤں پیٹرن سے استفادہ حاصل کر سیکیں. مالیگاؤں پیٹرن کے متعلق ضیاء الرحمن مسکان اور مومن عمران نے کورونا کو شکست دینے کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا تاکہ کورونا متاثر شہر اسے اپنا کر کورونا کو مہاراشٹر سے کیا ہندوستان کی سرحد چھوڑنے پر مجبور کردیں گے.
لاک ڈاؤن کے دوران مریضوں کو گھر گھر دوائیاں پہنچانے والے بچوں کی تلاش گروپ کے روح رواں ضیاء الرحمان مسکان اور مومن عمران اپنی طویل گفتگو میں کہا کہ جہاں نماز روزوں کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اسباب کے درجوں میں درج بالا باتوں پر عمل پیرا ہونگے تو انشاءاللہ کرونا سے جیت جاوگے.انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ شوگر پریشر کڈنی لیور دمہ کینسر اور دماغی مریضوں کی کسی بھی حال میڈیسن کا ناغہ نہیں ہونا چاہئے. اگر مریض کا سرچیولیشن 90 کے نیچے ہے تو اسے فوراً آکسیجن مشین فراہم کریں تاکہ سرچیولیشن کنٹرول ہو سکے . اگر مریض کا سرچیولیشن کم ہے اس کی حالت نازک ہے تو پہلے بیماری سمجھیں. مثلا”شوگر پریشر کڈنی دمہ کینسر اور دماغی امراض کے مریض ہو تو سب سے پہلے اس بیماری کا علاج کریں کیونکہ سرکاری ہاپسلٹوں میں صرف کورونا کا علاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مریض کی جو اصل بیماری ہے اس کا علاج نہ ہونے سے مریض کی موت ہو جاتی ہے. بند پڑے پرائیوٹ آئی سی یو وارڈ والے (ونیٹی لیٹر مشین اور آکسیجن سیلنڈر سے لیس) ہاسپٹل کو جاری کرنے کی پوری پوری کوشش کرنا چاہئے. سب سے پہلے میّت کے پکارے بند کروائے جائیں، شہر کی تمام میڈیکل اسٹورز دیر رات تک کھلی رکھی جائیں، محلّہ کلینک کھولے جائیں جس میں کم از کم پانچ ڈاکٹرز ہوں، ایک ایسی پوسٹ بنائی جائے جس میں لکھا ہو کہ شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات کو لے کر ایک ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ بنایا جائے جس میں صرف یہی حضرات ہوں ، یاد رہے اِس پوسٹ میں کم از کم پانچ لوگوں کا نمبر ہو جو کہ ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ نامی گروپ کے ایڈمنز ہوں، اب ایک ایسا واٹس اپ گروپ بنایا جائے جس میں کم از کم بیس جیالے نوجوان سوشل ورکرز ہوں اور صرف شہر کے میڈیکل اسٹورز مالکان، ایم آر حضرات اور کچھ ڈاکٹرز ہوں، اب ایک پوسٹ ایسی چلائی جائے جس میں یہ لکھا ہو کہ وہ تمام حضرات جنہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنی مطلوبہ دوائیں نہیں مل رہی ہے وہ واٹس اپ کے ذریعے نیچے دئے گئے ہمارے رضا کاروں کے واٹس اپ نمبروں پر پرچی کی فوٹو یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں ہمارے رضاکار آپ کو وہ دوا اُسی قیمت میں آپ کے گھر تک پہنچا کر دینگے، اب آپ کے رضا کاروں کے پرسنل نمبر پر لوگ پرچی یا اسٹرپ کی فوٹو بھیجیں گے رضا کاروں کو اُس فوٹو کو فوراً ایمرجنسی پیشنٹ ہیلپ گروپ میں ڈالنا ہے اور پوچھنا ہے کہ یہ کس میڈیکل پر دستیاب ہے؟ گروپ میں موجود میڈیکل اسٹورز مالکان کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہر فوٹو کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اگر علم ہو کہ ان کی میڈیکل پر دستیاب ہے تو فوٹو کو ٹیگ کر کے اپنی میڈیکل کا نام لکھ دیں یا رہنمائی فرما دیں، رضا کار کو یہ معلوم ہونے پر کہ میری پرچی والی دوا فلاں میڈیکل پر دستیاب ہے تو رضا کار فوراً جائے اور دوا خرید کر اُسکی بِل لے لے اور اُس بندے کے گھر پر دوا پہونچا کر بِل کے مطابق رقم لے لے، یاد رہے اِس کام کا معاوضہ نہیں لینا ہے، کچھ دوائیں ایسی بھی ہونگی جو کہیں نہیں ملے گی ایسے میں گروپ میں موجود ایم آر حضرات اور ڈاکٹرز حضرات اُس کا اچھا سا بدل (سبٹیٹیوٹ) بتا دیں، رضا کار سامنے والے کو آگاہ کریں کہ آپ کی مطلوبہ دوا نہیں مل رہی ہے مگر اُس کے بدل میں آپ فلاں دوا لے سکتے ہیں۔ اگر سامنے والا راضی ہوا تو اُسے اُس کی دوا کا بدل دے دیں، رضاکاروں میں سے کچھ لوگ روزانہ پوری احتیاط کے ساتھ اُن دواخانوں میں جائیں جہاں کرونا مریضوں کو ایڈمٹ کِیا جا رہا ہے اور وہاں بِنا مذہب و مسلک تمام مریضوں کے آکسیجن سلنڈر جانچ کریں اور آکسیجن سلنڈر تبدیل کریں، مریضوں کے حالات جانچیں اُن سے بات چیت کریں، اُنہیں پہلے کیا بیماری تھی یہ پوچھیں اور دھیان دیں کہ اُن کا ٹریٹمنٹ کِس قسم کا چل رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ اُنہیں بیماری کچھ اور ہے اور علاج صرف کرونا کا کِیا جا رہا ہے؟ اُن کو تسلی اور حوصلہ مند کلمات کہیں، اُنہیں کیا تکلیف ہیں یہ پوچھیں اور اُن کی تکالیف دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں، ڈاکٹرز حضرات کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اُن سے بھی درخواست کریں کہ وہ بھی پوری ایمانداری سے مریضوں کا علاج کرنے پر آمادہ ہوں، شہر کے بند پڑے ہاسپٹلز سے کسی بھی طرح کچھ آکسیجن سلنڈر لے لیں اور اُنہیں کرونا کے علاوہ دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کو اُنکے ہی گھروں میں لگائے جائیں، دوسرے شہروں سے جن لوگوں کا علاج چل رہا ہے ایسے مریضوں کی دوائیں لانے کے لئے کچھ بندوں کو قانونی طور سے ڈپارٹمنٹ کے اجازت نامہ کے ساتھ دوسرے شہروں میں احتیاط کے ساتھ بھیجیں اور دوائیں منگوا کر مریضوں کے گھر پہونچائیں، ایمرجنسی معاملات والے مریضوں کو کسی بھی صورت میں فوری طبّی امداد پہونچانے کی کوشش کریں۔ شہر میں موجود پولیس اہلکاروں کو کِس چیز کی تکلیف ہے اِس پر بھی خاص نظر رکھیں، اُنھیں دھوپ سے بچنے کے لئے شامیانے لگوا دیں (اگر نا لگے ہوں تو) اُن کو صاف شفاف پانی کا انتظام کر دیں، اُن کو اگر کولر یا پنکھے کی ضرورت ہو تو اُس کا انتظام کریں، اُن کے ذریعے دی گئی ہدایات پر عمل کریں. یہی وہ سارے کام ہیں جنہیں گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں والوں نے کِیا تھا۔ آپ ایسا ضرور کریں انشاء اللہ کچھ ہی دِنوں میں آپ کا شہر کرونا مکت ہو جائے گا۔

(جنرل (عام

وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

Published

on

MLA-Amanatullah-Khan

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔

اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

قومی

کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

Published

on

Waqf-Bill-2024

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔

تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔

پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:

  • ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
  • وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
  • وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
  • متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :

  • ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
  • مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
  • غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
  • انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
  • شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔

فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |

نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com