Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

حب الوطنی کا ثبوت آپ کودینا ہوگا، کہ ہماری قربانیاں توتاریخ کے اوراق میں سنہرے حرفوں میں قید ہیں

Published

on

وفا ناہید
آج شہر میں جامعہ کے بے گناہ اور نہتے طلباء پر پولس کی جانب سے ظلم وبربریت کا جو ننگا ناچ کل سے جاری ہیں. کس طرح پولس نے کیمپس میں گھس کر طالبات پر بھی لاٹھی چارج کیا پوری یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی. ساتھ ہی آنسو گیس کے گولے داغے. پولس کی اس جارحانہ کاروائی میں کتنے طلباء زخمی ہوئے، کچھ اساتذہ کے مطابق کتنے طلباء اب بھی لاپتہ ہے. ان معصوم بے گناہوں کا قصور کیا تھا کہ پولس نے ظلم وبربریت کا دہانہ ان معصوموں پر کھول دیا. اتنا ہی بسوں میں آگ لگا کرانہیں جلایا گیا اوراس کا الزام بھی ان بے گناہوں کے سر منڈھ دیا گیا. جامعہ کے ان طلباء کا قصور یہ تھا کہ وہ ہٹلر شاہی مودی سرکار کے راج میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف اپنا خاموش اور پرامن احتجاج درج کرا رہے تھے. جس کی وجہ سے مودی سرکار کے چاروں پائے ہل گئے تھے. ان طلباء کے خاموش احتجاج میں مودی حکومت کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی. تب پھر کی تھا. ان کی آواز کو دبانے کے لئے پولس کا سہارا لیا گیا مگر کیا یہ تانا شاہی سرکار بھول گئی کہ اسپرنگ کو جتنی شدت سے دبایا جاتا ہے وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آتی ہے. مودی حکومت بھول گئی کہ وقت نے بڑے بڑے جابر اور ظالم ہٹلر کو نہیں بخشا تو یہ کس کھیت کی مولی ہے. کل جامعہ میں جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے. جمہوری ملک میں یہ جمہوریت کا سرعام قتل ہے. جو مسلسل مودی سرکار کررہی ہیں. ارے مسلمانوں سے ان کی حب الوطنی کا ثبوت مانگنے والے تم کون ہو ؟ مسلمانوں نے اس دیش کے لئے کو کچھ کیا ہے. وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں قید ہے. تم تو اس ملک کے وہ سیاہ داغ ہو جسے بتاتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوگی. اس ملک کو ہمارے اجدادحب برٹش گورنمنٹ سے آزاد کراسکتے ہیں تو ہم میں اتنی طاقت ہے کہ تم جیسے وقت کے فرعونوں سے ہم اس ملک کو بچا لیں گے. مسلسل مسلمانوں کے صبر وضبط کا امتحان لیا گیا. کبھی گئو رکھشا کے نام پر، کبھی لو جہاد، گھر واپسی تو کبھی طلاق ثلاثہ بل کے نام پر شریعت میں مداخلت کر کے اس کے بعد بھی تمہارا خون ٹھنڈا نہیں ہوا تو مسلمانوں کی مآب لنچنگ نہیں پولیٹیکل مرڈر کرکے انہیں اپنے ہی گھر میں خوفزدہ کیا گیا. جب بات یہاں بھی نہیں بنی تو این آر سی کے نام سے ڈرایا گیا. اب این آر سی کو چھوڑ کر تم شہریت تعلیمی بل اٹھا لائے. جس میں واضح طور پر مسلمانوں کا نام چھوڑ کر تمام مذاہب کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا. ارے تم کیا ہم سے دستاویز مانگو گے؟ یہ ملک ہمارا ہے. اس کی مٹی ہمارے اجداد کے خون سے لالہ زار ہیں. تم قربانی کی بات کرتے ہو. قربانی کا مطلب پتہ ہے. اس ملک کی ایک ایک اینٹ پر ہمارے اجداد کا نام لکھا ہے. یہ ہمارا اپنا گھر ہے. ہمارا اپنا ہندوستان. جس وقت دیش پر انگریز حکمرانی کررہے تھے. اس ملک کو اپنا غلام بنالیا تھا. اس وقت تم نے اس ملک کے لئے کیا کیا تھا. اب تم ہمیں ثبوت دونگے. اپنی حب الوطنی ثابت کروں گے. ورنہ اس ملک کے غداروں میں تمہارا نام تو پہلے سے شامل ہے. اب ہم کوئی ثبوت نہیں دیں گے. نا بار بار اپنی قربانیوں کو دہرائیں گے کیونکہ ہماری قربانیوں کی گواہ اس دیش کی مٹی ہے. جس میں ہمیں مرنے کے بعد مل جانا ہے. ہماری حب الوطنی کا ثبوت تاریخ کے اوراق ہیں. جسے کوئی بدل نہیں سکتا. مسلمانوں کو مت للکارو. کیونکہ اگر مسلمان اپنے پر آگئے تو تمہاری حکومت کا تختہ پلٹ کر تمہیں جہنم رسید کر دیں گے. ہمارے اجداد سے روم اور فارس کی بڑی بڑی طاقتیں کانپتی تھیں. اس لئے سنبھل جاؤ اگر 5 سال پورے کرنے ہیں تو شہریت تعلیمی بل واپس لے لو. ورنہ 1947 کی جنگ آزادی کے بعد اس ملک کو فرقہ پرست زعفرانی طاقتوں سے آزاد کرانے کے لئے ایک اور جنگ انتظار کر رہی ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان