Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

قومی خبریں

آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر یہ لڑائی صبر و استقلال کے ساتھ لڑنی ہوگی : انوراگ کشیپ

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار انوراگ کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر صبر واستقلال کے ساتھ یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا ہے کہ اس لمبی لڑائی سے آپ تھک جائیں اور تھک کر دھرنا مظاہرہ کر نا چھوڑ دیں اور شاہین باغ کے اس دھرنے کو ختم کردیں لیکن آپ کو صبر واستقلال کے ساتھ اس لڑائی کو لڑنی ہے اور کسی بھی لمحے اسے کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مظاہرین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور اس لڑائی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے حق کی لڑائی سچائی کے ساتھ لڑنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آپ مظاہرین کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور جب تک بات چیت نہیں ہوگی اس مسئلہ کا حل کیسے نگلے گا۔
قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے مسٹر کشیپ نے کہاکہ ہمیں اس وقت مظاہرہ جاری رکھنا ہے جب تک حکومت اس سیاہ قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی آپ کو کسی اشتعال کے بغیر لڑنی ہے کیوں کہ بار بار آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن آپ کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے سے دیگر مظاہرین کو طاقت ملتی ہے اور پورے ملک میں شاہین باغ اور جامعہ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے کو صبر استقلال کے ساتھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت کی منشا اور رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پورے ملک کے لوگ اکٹھا ہوکر مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں پورا ملک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اس سیاہ قانون کے تئیں لوگ بیدار ہیں۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کر رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو کے طلبہ اور عام شہریوں نے شرجیل امام، ڈاکٹر کفیل احمد خاں اور اس قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے دیگر گرفتار کی حمایت میں جامعہ ملیہ اسلامیلہ سے شاہین باغ تک مارچ نکالا۔ ان کے ہاتھوں مختلف طرح کے پوسٹر تھے جن پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کرو، شرجیل امام کو رہا کرو اور دیگر گرفتار شدگان کو رہا کرو۔ واضح رہے کہ شرجیل امام اور ڈاکٹر کفیل احمد خاں علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جیل میں بند ہیں اور ڈاکٹر کفیل احمد کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اترپردیش حکومت نے ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر پھر جیل میں ڈال دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اورعام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کااہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے پلوامہ حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر پلوامہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسٹیج پر اس کے پران شہیدوں کے پوسٹر لگائے گئے۔ اس طرح خوریجی بھی شاہین باغ کی طرز پر کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے خلاف آج چننئی میں مظاہرہ ہور ہا ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20 سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی، آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر، پٹنہ’ شانتی باغی گیا بہار، مظفرپور بہار، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار، سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔ گوپال گنج بہار، کلکٹریٹ بتیا‘ ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر، پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اپدے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور، سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل 2024 سمیت 16 بل منظور ہوئے، اکیلے 24 گھنٹے بحث، کل 26 اجلاس ہوئے، 173 ممبران نے شرکت کی۔

Published

on

Parliament

نئی دہلی : 31 جنوری کو شروع ہونے والا بجٹ اجلاس جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2024 کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف (ترمیمی) بل سمیت کل 16 بل منظور کئے گئے۔ اپوزیشن ارکان کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان، برلا نے کہا کہ سیشن میں 26 نشستیں ہوئیں اور مجموعی پیداوار 118 فیصد رہی۔ صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں 173 ارکان نے حصہ لیا۔ برلا نے کہا کہ ایوان میں مرکزی بجٹ پر بحث میں 169 ارکان نے حصہ لیا، جب کہ 10 سرکاری بلوں کو دوبارہ پیش کیا گیا اور وقف (ترمیمی) بل 2024 سمیت کل 16 بل منظور کیے گئے۔ قبل ازیں، جمعہ کو جب لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو بی جے پی کے ارکان نے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی سے اپنے ایک تبصرہ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے ارکان نے امریکہ کے باہمی ٹیرف پر ایوان میں ہنگامہ کیا۔

تاہم ایوان میں ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کیا۔ بی جے پی کے ارکان کا ہنگامہ اس وقت بھی جاری رہا جب خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اناپورنا دیوی اپنی وزارت سے متعلق ایک ضمنی سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سونیا گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے۔ وہ جب چاہتی ہے، پارلیمنٹ پر حملہ کرتی ہے، صدر اور نائب صدر پر حملہ کرتی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر فی الحال راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی سربراہ سونیا گاندھی نے جمعرات کو حکومت پر وقف (ترمیمی) بل کو من مانی طور پر منظور کرنے کا الزام لگایا اور دعوی کیا کہ یہ بل آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔ نیز، یہ سماج کو مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھنے کے لیے بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

اس دوران اپوزیشن اراکین نے ‘وزیراعظم جواب دو’ اور ‘وزیراعظم ایوان میں آئیں’ کے نعرے لگائے۔ جب نعرے بازی نہیں رکی تو برلا نے تقریباً 11.05 بجے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ بجٹ اجلاس کے آخری دن جب ایک مختصر التوا کے بعد دوپہر 12 بجے لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان میں سونیا گاندھی کے تبصرہ کا حوالہ دیا۔ اس پر برلا نے کہا کہ کسی سینئر رکن کے لیے لوک سبھا کی کارروائی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ برلا نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایوان کی کارروائی پر ایک سینئر رکن نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمانی جمہوریت کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔ اس دوران کانگریس ارکان نے بھی اپنے خیالات پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کیا۔ چند منٹ بعد برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ حکومت نے بجٹ سیشن کے دوران مختلف وزارتوں کے لیے گرانٹ کے مطالبات کے ساتھ مالیاتی بل کو لوک سبھا کی منظوری کے ساتھ بجٹ کا عمل مکمل کیا۔ صدر راج کے تحت منی پور کے بجٹ کو بھی ایوان نے منظور کرلیا۔

Continue Reading

سیاست

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے ہزاروں مساجد کو منہدم کرکے مندروں کو واپس لینے کے خلاف احتجاج کیا، ہمیں ماضی میں نہیں پھنسنا چاہیے۔

Published

on

RSS-G.-S.-Dattatreya

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے مبینہ طور پر مندروں کو گرا کر تعمیر کی گئی ہزاروں مساجد کو واپس لینے کے بڑھتے ہوئے مطالبے کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے کہا کہ سنگھ اس خیال کے خلاف ہے۔ تاہم، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے سادھوؤں اور سنتوں کی تحریک کو آر ایس ایس کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ سنگھ اپنے اراکین کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی وارانسی میں کاشی وشواناتھ مندر اور متھرا میں کرشنا جنم بھومی کے مقامات حاصل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے سے نہیں روکے گا۔ ہوسابلے نے کہا کہ مبینہ طور پر مندروں کی جگہوں پر بنائی گئی مساجد کو منہدم کرنے کی کوششیں ایک مختلف زمرے میں آتی ہیں۔

لیکن اگر ہم باقی تمام مساجد اور تعمیرات کی بات کریں تو کیا ہمیں 30,000 مساجد کھود کر تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ ہوسابلے نے ایک انٹرویو میں کہا۔ کیا اس سے معاشرے میں مزید دشمنی اور ناراضگی پیدا نہیں ہوگی؟ کیا ہمیں ایک معاشرے کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے یا ماضی میں پھنسے رہنا چاہیے؟ سوال یہ ہے کہ ہم تاریخ میں کتنا پیچھے جائیں گے؟ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے، سنگھ کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ مبینہ طور پر متنازعہ مساجد کی جگہوں پر کنٹرول کا مطالبہ سماج کی دیگر ترجیحات جیسے کہ چھوت چھوت کا خاتمہ اور اس کے خاتمے کی بھاری قیمت پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہی کرتے رہے تو دیگر اہم سماجی تبدیلیوں پر کب توجہ دیں گے۔ اچھوت کو ختم کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نوجوانوں میں اقدار کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟

ہوسابلے نے یہ بھی کہا کہ ثقافت، زبانوں کا تحفظ، تبدیلی مذہب، گائے کا ذبیحہ اور محبت جہاد جیسے مسائل بھی اہم ہیں۔ لہذا، بحالی کے ایجنڈے پر یک طرفہ کوشش جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ نے کبھی نہیں کہا کہ ان مسائل کو نظر انداز کرنا چاہئے یا ان پر کام نہیں کرنا چاہئے۔ ہوسابلے نے کہا کہ متنازعہ مقامات پر تعمیر نو کی تحریک مندر کے تصور کے مطابق نہیں ہے۔ مندر کے تصور پر غور کریں۔ کیا ایک سابقہ ​​مندر جسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے اب بھی ایک الہی مقام ہے؟ کیا ہمیں پتھر کے ڈھانچے کی باقیات میں ہندو مذہب کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، یا ہمیں ان لوگوں کے اندر ہندومت کو بیدار کرنا چاہئے جنہوں نے خود کو اس سے دور کر لیا ہے؟ پتھروں کی عمارتوں میں ہندو وراثت کے آثار تلاش کرنے کے بجائے اگر ہم ان اور ان کی برادریوں کے اندر ہندو جڑوں کو زندہ کریں تو مسجد کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔

Continue Reading

سیاست

وقف بل پر امیت شاہ کا دو ٹوک بیان… سرکاری املاک کو عطیہ نہیں کیا جاسکتا، پارلیمنٹ کا قانون سب کو ماننا پڑے گا، کسی غیر مسلم شخص کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔

Published

on

Amit-Shah

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندہ اپنی جائیداد سے دیا جا سکتا ہے، سرکاری زمین کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف خیراتی وقف کی ایک قسم ہے۔ اس میں وہ شخص ایک مقدس عطیہ کرتا ہے۔ چندہ صرف اسی چیز کا دیا جا سکتا ہے جو ہماری ہے۔ میں سرکاری جائیداد یا کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا۔ یہ ساری بحث اسی پر ہے۔ یہی نہیں، اپنی بات پیش کرتے ہوئے شاہ نے واضح طور پر کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے اور سب کو اسے ماننا پڑے گا۔ امیت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ میں اپنے کابینہ کے ساتھی کے ذریعہ پیش کردہ بل کی حمایت میں کھڑا ہوں۔ میں دوپہر 12 بجے سے جاری بحث کو غور سے سن رہا ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ بہت سے اراکین کے ذہنوں میں بہت سی غلط فہمیاں موجود ہیں، یا تو معصومانہ طور پر یا سیاسی وجوہات کی بنا پر، اور ایوان کے ذریعے ملک بھر میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے کہ اس ایکٹ کا مقصد مسلمان بھائیوں کی مذہبی سرگرمیوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلا کر اور اقلیتوں کو ڈرا کر ووٹ بینک بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میں چند باتیں واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

مرکزی وزیر شاہ نے ایوان میں واضح طور پر کہا کہ سب سے پہلے وقف میں کسی غیر مسلم شخص کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے نہ تو مذہبی اداروں کے انتظام کے لیے غیر مسلموں کو مقرر کرنے کا کوئی بندوبست کیا ہے اور نہ ہی ہم ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وقف کونسل اور وقف بورڈ کا قیام 1995 میں ہوا تھا۔ ایک غلط فہمی ہے کہ یہ ایکٹ مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں اور عطیہ کردہ جائیدادوں میں مداخلت کرتا ہے۔ یہ غلط معلومات اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے اور مخصوص ووٹر ڈیموگرافکس کو خوش کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ شاہ نے کہا کہ وقف عربی کا لفظ ہے۔ وقف کی تاریخ کچھ احادیث سے منسلک ہے اور آج جس معنی میں وقف کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب ہے اللہ کے نام پر جائیداد کا عطیہ… مقدس مذہبی مقاصد کے لیے جائیداد کا عطیہ۔ وقف کا عصری مفہوم اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وجود میں آیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر آج کی زبان میں وضاحت کی جائے تو وقف خیراتی اندراج کی ایک قسم ہے۔ جہاں کوئی شخص جائیداد، زمین مذہبی اور سماجی بہبود کے لیے عطیہ کرتا ہے، اسے واپس لینے کی نیت کے بغیر۔ اس میں چندہ دینے والے کی بڑی اہمیت ہے۔ چندہ صرف اسی چیز کا دیا جا سکتا ہے جو ہماری ہے۔ میں سرکاری جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا، میں کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا۔ امت شاہ نے کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2013 میں وقف بل میں آئی ترمیم نہ کی گئی ہوتی تو آج اس ترمیم کو لانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس وقت کانگریس حکومت نے دہلی میں 125 لوٹین جائیدادیں وقف کو دی تھیں۔ ناردرن ریلوے کی زمین وقف کو دی گئی۔ ہماچل میں وقف زمین ہونے کا دعویٰ کر کے ایک مسجد بنائی گئی۔ انہوں نے تمل ناڈو سے کرناٹک تک کی مثالیں دیں جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کیا اور ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

امیت شاہ نے مزید کہا کہ میں پورے ملک کے مسلمان بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک بھی غیر مسلم آپ کے وقف میں نہیں آئے گا۔ وقف بورڈ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو جائیدادیں بیچتے ہیں اور انہیں سینکڑوں سالوں کے کرایہ پر مہنگے داموں دیتے ہیں۔ انہیں پکڑنے کا کام وقف بورڈ اور وقف کونسل کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو ملی بھگت ان کے دور حکومت میں ہوئی وہ جاری رہے، ایسا نہیں چلے گا۔ لوک سبھا میں امت شاہ نے کہا، ‘وقف قانون کسی کی طرف سے عطیہ کردہ جائیداد کے بارے میں ہے، آیا اس کا نظم و نسق ٹھیک سے چل رہا ہے یا نہیں، قانون کے مطابق چل رہا ہے یا نہیں۔ یا تو چندہ کسی وجہ سے دیا جا رہا ہے، یہ دین اسلام کے لیے دیا گیا ہے، یا تو غریبوں کی نجات کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ریگولیٹ کرنے کا کام ہے کہ آیا اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com