Connect with us
Tuesday,03-November-2026

قومی خبریں

آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر یہ لڑائی صبر و استقلال کے ساتھ لڑنی ہوگی : انوراگ کشیپ

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار انوراگ کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر صبر واستقلال کے ساتھ یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا ہے کہ اس لمبی لڑائی سے آپ تھک جائیں اور تھک کر دھرنا مظاہرہ کر نا چھوڑ دیں اور شاہین باغ کے اس دھرنے کو ختم کردیں لیکن آپ کو صبر واستقلال کے ساتھ اس لڑائی کو لڑنی ہے اور کسی بھی لمحے اسے کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مظاہرین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور اس لڑائی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے حق کی لڑائی سچائی کے ساتھ لڑنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آپ مظاہرین کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور جب تک بات چیت نہیں ہوگی اس مسئلہ کا حل کیسے نگلے گا۔
قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے مسٹر کشیپ نے کہاکہ ہمیں اس وقت مظاہرہ جاری رکھنا ہے جب تک حکومت اس سیاہ قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی آپ کو کسی اشتعال کے بغیر لڑنی ہے کیوں کہ بار بار آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن آپ کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے سے دیگر مظاہرین کو طاقت ملتی ہے اور پورے ملک میں شاہین باغ اور جامعہ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے کو صبر استقلال کے ساتھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت کی منشا اور رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پورے ملک کے لوگ اکٹھا ہوکر مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں پورا ملک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اس سیاہ قانون کے تئیں لوگ بیدار ہیں۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کر رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو کے طلبہ اور عام شہریوں نے شرجیل امام، ڈاکٹر کفیل احمد خاں اور اس قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے دیگر گرفتار کی حمایت میں جامعہ ملیہ اسلامیلہ سے شاہین باغ تک مارچ نکالا۔ ان کے ہاتھوں مختلف طرح کے پوسٹر تھے جن پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کرو، شرجیل امام کو رہا کرو اور دیگر گرفتار شدگان کو رہا کرو۔ واضح رہے کہ شرجیل امام اور ڈاکٹر کفیل احمد خاں علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جیل میں بند ہیں اور ڈاکٹر کفیل احمد کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اترپردیش حکومت نے ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر پھر جیل میں ڈال دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اورعام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کااہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے پلوامہ حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر پلوامہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسٹیج پر اس کے پران شہیدوں کے پوسٹر لگائے گئے۔ اس طرح خوریجی بھی شاہین باغ کی طرز پر کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے خلاف آج چننئی میں مظاہرہ ہور ہا ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20 سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی، آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر، پٹنہ’ شانتی باغی گیا بہار، مظفرپور بہار، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار، سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔ گوپال گنج بہار، کلکٹریٹ بتیا‘ ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر، پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اپدے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور، سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

انڈیگو کی دہلی-پونے پرواز میں مسافر کی ایمرجنسی ایگزٹ لیور کا کور کھولنے کی کوشش، مقدمہ درج

Published

on

پونے : دہلی سے پونے جانے والی انڈیگو کی پرواز میں سفر کرنے والے ایک مسافر نے مبینہ طور پر ٹیک آف کے فوراً بعد ایمرجنسی ڈور لیور کا احاطہ کھولنے کی کوشش کی، جس سے طیارے میں الارم بج گیا، پولیس نے منگل کو بتایا۔ اس واقعہ کے بعد انڈیگو کے عملے کے ایک رکن نے مسافر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ملزم کی شناخت 33 سالہ گورو ستیندر روتیلا کے طور پر کی گئی ہے جو پونے ضلع کے ساسواد کا رہنے والا ہے۔ وہ انڈیگو کی فلائٹ نمبر 6 ای6884 پر سفر کر رہا تھا اور ایمرجنسی ایگزٹ کے ساتھ والی سیٹ 19ڈی پر بیٹھا تھا۔

ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر گووند پوار نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران، مسافر نے دعویٰ کیا کہ اس نے تجسس کے باعث لیور کور کو کھولنے کی کوشش کی تھی اور وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ ایمرجنسی دروازے سے جڑا ہوا تھا۔ جیسے ہی اس نے کور کو چھوا، طیارے کے اندر سے ایک الارم بجنے لگا، جس سے عملے کو چوکنا ہو گیا۔ پوار نے کہا کہ ہنگامی دروازے کے طریقہ کار کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے جہاز میں موجود دیگر مسافروں کی جان اور حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الارم سسٹم ہوائی جہاز کے حفاظتی پروٹوکول کا حصہ ہے اور اسے ایسے حالات میں عملے کو خبردار کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ پیر کو تقریباً 12.45 بجے دہلی سے پرواز کے اڑان بھرنے کے فوراً بعد پیش آیا۔ طیارہ پونے میں تقریباً 2 بجے اترا اس واقعہ کے بعد انڈیگو کے عملے کے رکن اومکار ونود کلکرنی نے مسافر کے خلاف شکایت درج کرائی۔ پوار نے یہ بھی بتایا کہ 2024 میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس نے روتیلا کو بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 125 اور ایئر کرافٹ ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

سیاست

بی جے پی کا اے آئی ایس اے کی نیہا بورا پر ہندوؤں سے نفرت کا الزام، دعویٰ کہ وہ راہل گاندھی سے متاثر ہیں

Published

on

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی صدر نیہا بورا پر “برہمنی نظام” اور مذہبی اداروں کے بارے میں ان کے ریمارکس پر سخت حملہ کیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ وہ “ہندو نفرت” کا مظاہرہ کر رہی ہے اور ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس میں اس نے الزام لگایا ہے کہ پجاری مندروں کے اندر عصمت دری کرتے ہیں۔ بی جے پی کے قومی ترجمان پردیپ بھنڈاری نے تبصروں پر بورا کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ ان کے خیالات لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف (ایل او پی) اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی سے متاثر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کانگریس ہندوؤں کے خلاف دشمنی کو پناہ دے رہی ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ پارٹی کے طرز عمل سے ملک کے اتحاد کو خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاتے ہوئے، بھنڈاری نے بورا کے ریمارکس کا اشتراک کیا اور مندروں میں خواتین کی حفاظت سے متعلق راہول گاندھی سے منسوب پہلے بیان سے موازنہ کیا۔

“نیہا بورا، راہول گاندھی کی پوسٹر گرل، اپنی ہندو نفرت کا مظاہرہ کرتی ہے! کہتی ہے – ‘مندر میں پجاریوں کی عصمت دری’۔ وہ راہول گاندھی سے متاثر ہیں، جنہوں نے پہلے کہا تھا ‘مندیرو میں لڑکوں کے ساتھ چھڈ چھڈ ہوتی ہے’۔ کانگریس ہندوؤں سے نفرت کرتی ہے، ووٹ بینک سے پیار کرتی ہے! کانگریس سوچ ہندوستان کے اتحاد کے لیے خطرہ ہے!” بھنڈاری نے اپنی پوسٹ میں الزام لگایا۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب بورا نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ قرار داد اور الیکشن کمیشن کے گرد تنقید انتخابی فہرستوں کی نظرثانی پر جاری سیاسی بحث کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں 13 کروڑ ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کردیا گیا ہے۔

بورا نے اس سے قبل حکام پر ووٹرز کے ناموں کو جان بوجھ کر حذف کرنے اور انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کی مشق کے دوران طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا تھا۔ ان الزامات کے بعد، بورا نے اپنی توجہ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز اور مذہبی اداروں کے کردار کی طرف مبذول کرائی، یہ دلیل دی کہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو اس سے تحفظ کی ضرورت ہے جسے انہوں نے “برہمنی نظام” کے طور پر بیان کیا۔ “تحفظ بالکل ضروری ہے – اور یہ بالکل برہمنی نظام سے ہے کہ اس طرح کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو یہ بتاتا ہے کہ غریب، مظلوم، جانور اور عورتیں سب محکومی اور زیادتی کے مستحق ہیں، یہ وہی نظام ہے جس کے تحت برہمن عورتیں بھی غیر محفوظ ہیں اور عصمت دری کا شکار ہوتی ہیں۔ ہم نے کہا کہ مندروں کے اندر پجاری اس طرح کی عصمت دری کرتے ہیں۔”

Continue Reading

سیاست

بی جے پی کی ہمایوں کبیر کو وارننگ، بابری مسجد کی تعمیر پر قومی شاہراہ نمبر 12 بند نہ کریں

Published

on

کولکتہ : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے منگل کو عام جنتا اُنان پارٹی (اے جے یو پی) کے چیئرمین اور نوڈا کے ایم ایل اے ہمایوں کبیر کو مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں مجوزہ بابری مسجد کی تعمیر کے آغاز کے موقع پر 6 دسمبر کو قومی شاہراہ 12 کو بلاک کرنے کی دھمکی پر تنقید کی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانتا مجمدار نے کبیر کو قومی شاہراہ پر ٹریفک میں خلل ڈالنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکت قانونی کارروائی کی دعوت دے سکتی ہے۔ “بھارتیہ نیا سنہتا کے تحت، قومی شاہراہ کو بلاک کرنا ایک غیر ضمانتی دفعہ کے تحت جرم ہے۔ میں ایم ایل اے سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔ یہ بھی بہتر ہوگا کہ بابر کا نام استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اسے بابر کے ساتھ جوڑنے کے بجائے مسجد کا نام کسی اور کے نام پر رکھنا چاہیے،” مجومدار نے خبردار کیا۔

ریاستی وزیر سیاحت شنکر گھوش نے بھی کبیر کی مجوزہ ناکہ بندی پر تنقید کی، یہ دعویٰ کیا کہ اے جے یو پی چیئرمین سیاسی طور پر غیر متعلقہ ہو گئے ہیں۔ گھوش نے کہا، “وہ (ہمایوں کبیر) سیاست میں غیر متعلقہ ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے۔” بی جے پی لیڈروں کا یہ تبصرہ ایک دن بعد آیا جب کبیر نے 6 دسمبر کو این ایچ-12 کو بلاک کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا، جب مرشد آباد ضلع کے بیلڈنگا میں مجوزہ مسجد کی تعمیر شروع ہونے والی ہے۔

انتباہ جاری کرتے ہوئے، سابق ترنمول کانگریس لیڈر نے کہا کہ ریجی نگر اور برہام پور کے درمیان تقریباً 30 کلومیٹر کا علاقہ ان کے کنٹرول میں رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے حامی کرشن نگر، ڈومکل، جلنگی، سینتھیا، کنڈی، بردوان اور نبڈویپ سمیت کئی علاقوں میں سڑکوں پر اتریں گے۔ کبیر نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر انتظامیہ یا پولیس ناکہ بندی کو روکنا چاہتی ہے تو انہیں ایسا کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ گزشتہ سال ترنمول کانگریس سے نکالے جانے کے بعد، کبیر بابری مسجد کا مسئلہ اٹھا کر سیاسی روشنی میں واپس آئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی تنظیم، عام جنتا اُنان پارٹی شروع کی۔ 6 دسمبر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، کبیر نے 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی برسی پر بیلڈنگا کے اپنے آبائی حلقے میں ایک مسجد قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان