Connect with us
Sunday,02-August-2026

قومی خبریں

آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر یہ لڑائی صبر و استقلال کے ساتھ لڑنی ہوگی : انوراگ کشیپ

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مشہور فلم ہدایت کار انوراگ کشیپ نے کہا کہ یہ لڑائی بہت لمبی ہے اور آپ مظاہرین کو اشتعال میں آئے بغیر صبر واستقلال کے ساتھ یہ لڑائی لڑنی ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی منشا ہے کہ اس لمبی لڑائی سے آپ تھک جائیں اور تھک کر دھرنا مظاہرہ کر نا چھوڑ دیں اور شاہین باغ کے اس دھرنے کو ختم کردیں لیکن آپ کو صبر واستقلال کے ساتھ اس لڑائی کو لڑنی ہے اور کسی بھی لمحے اسے کمزور نہیں ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ مظاہرین اپنے حق کے لئے سڑکوں پر ہیں اور اس لڑائی میں سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے حق کی لڑائی سچائی کے ساتھ لڑنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو آپ مظاہرین کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے اور جب تک بات چیت نہیں ہوگی اس مسئلہ کا حل کیسے نگلے گا۔
قبل ازیں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین سے خطاب کرتے مسٹر کشیپ نے کہاکہ ہمیں اس وقت مظاہرہ جاری رکھنا ہے جب تک حکومت اس سیاہ قانون واپس نہیں لیتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی آپ کو کسی اشتعال کے بغیر لڑنی ہے کیوں کہ بار بار آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے اور کوشش کی جائے گی لیکن آپ کو مشتعل نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے سے دیگر مظاہرین کو طاقت ملتی ہے اور پورے ملک میں شاہین باغ اور جامعہ کے طرز پر مظاہرے ہورہے ہیں اس لئے کو صبر استقلال کے ساتھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے حکومت کی منشا اور رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں یہ نہیں دیکھنا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں پورے ملک کے لوگ اکٹھا ہوکر مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہاں پورا ملک نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے کہ اس سیاہ قانون کے تئیں لوگ بیدار ہیں۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کے باوجود اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے اور وہ مظاہرین سے کوئی بات چیت نہیں کر رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، جے این یو کے طلبہ اور عام شہریوں نے شرجیل امام، ڈاکٹر کفیل احمد خاں اور اس قانون کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے والے دیگر گرفتار کی حمایت میں جامعہ ملیہ اسلامیلہ سے شاہین باغ تک مارچ نکالا۔ ان کے ہاتھوں مختلف طرح کے پوسٹر تھے جن پر لکھا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کو رہا کرو، شرجیل امام کو رہا کرو اور دیگر گرفتار شدگان کو رہا کرو۔ واضح رہے کہ شرجیل امام اور ڈاکٹر کفیل احمد خاں علی گڑھ میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں جیل میں بند ہیں اور ڈاکٹر کفیل احمد کو ضمانت مل گئی تھی لیکن اترپردیش حکومت نے ان پر قومی سلامتی ایکٹ لگا کر پھر جیل میں ڈال دیا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اورعام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش وخروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کااہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے پلوامہ حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر پلوامہ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسٹیج پر اس کے پران شہیدوں کے پوسٹر لگائے گئے۔ اس طرح خوریجی بھی شاہین باغ کی طرز پر کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک کے مرنے کی خبر ہے۔ اس کے خلاف آج چننئی میں مظاہرہ ہور ہا ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20 سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی، آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ، دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر، پٹنہ’ شانتی باغی گیا بہار، مظفرپور بہار، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار، سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔ گوپال گنج بہار، کلکٹریٹ بتیا‘ ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر، پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اپدے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور، سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

سیاست

وزیر اعظم مودی یکم اگست کو آندھرا پردیش اور کرناٹک کا دورہ کریں گے، کئی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔

Published

on

modi

source: ians

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی 1 اگست کو آندھرا پردیش اور کرناٹک کا دورہ کریں گے۔ تقریباً 11 بجے، وزیر اعظم آندھرا پردیش کے وجیا نگرم ضلع کے بھوگاپورم میں الوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مسافر ٹرمینل عمارت کا دورہ کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے ہوائی اڈے کا افتتاح کریں گے اور بھوگا پورم میں 17,900 کروڑ (تقریباً 17.9 بلین ڈالر) کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور انہیں قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس موقع پر وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے بعد، تقریباً 3:30 بجے، وزیر اعظم میسور کے سری رام کرشنا آشرم میں سوامی وویکانند کلچرل یوتھ سنٹر ‘وویک اسمارک’ کا افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔

وزیر اعظم نریندر مودی آندھرا پردیش کے بھوگا پورم میں الوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کریں گے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پیپلز پارٹی) ماڈل کے تحت 5,640 کروڑ (تقریباً 56.4 بلین ڈالر) کی لاگت سے بنایا گیا، یہ گرین فیلڈ ہوائی اڈہ سالانہ 60 لاکھ مسافروں کو ہینڈل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مسافر ٹرمینل کی عمارت کو مسافروں کو جدید، آسان اور بہتر سفری تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور مستقبل کی ہوابازی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، نئی ٹیکنالوجیز اور پائیدار خصوصیات کو شامل کرتا ہے۔

ہوائی اڈے نے جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (بی آئی ایم)، ایئر سائیڈ 4.0 ٹیکنالوجی، ہوائی اڈے پیشن گوئی آپریشن سینٹر (اے پی او سی)، بائیو میٹرک مسافر پروسیسنگ، ایک خودکار سامان ہینڈلنگ سسٹم، اور ذہین آپریشنل نگرانی کے حل شامل کیے ہیں۔ ان نظاموں سے آپریشنل کارکردگی میں اضافہ، مسافروں کے آرام اور حفاظت میں اضافہ اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانے کی توقع ہے۔

پراجیکٹ میں پائیداری کی کئی خصوصیات شامل ہیں، جیسے کہ توانائی کے قابل حرارتی نظام، وینٹیلیشن، اور ایئر کنڈیشنگ (ایچ وی اے سی) سسٹم؛ توانائی کی بچت والی روشنی؛ ایک 5 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ؛ بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی؛ ایک سمارٹ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم؛ فضلہ کے انتظام کے اقدامات؛ الیکٹرک گاڑی چارجنگ انفراسٹرکچر؛ اور ماحولیاتی نگرانی کے اقدامات۔ ٹرمینل کو گرین بلڈنگ کے معیارات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ یو ایس گرین بلڈنگ کونسل (یو ایس جی بی سی) کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔

ہوائی اڈے کا آرکیٹیکچرل ڈیزائن آندھرا پردیش کے ثقافتی ورثے سے متاثر ہے۔ ٹرمینل کی چھت روایتی ‘چٹینو’ کاٹیجز اور وادی اراکو کو ابھارتی ہے، جبکہ اس کی بہتی ہوئی شکل اڑتی ہوئی مچھلی کی خوبصورت حرکت کی عکاسی کرتی ہے، جو علاقائی تعمیراتی عناصر کو جدید ہوائی اڈے کے ڈیزائن کے ساتھ ملاتی ہے۔ توقع ہے کہ اس ہوائی اڈے سے آندھرا پردیش میں سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کو نمایاں طور پر فروغ ملے گا، جبکہ خطے میں ہوائی رابطہ مضبوط ہوگا۔

وزیر اعظم وشاکھاپٹنم میں اے ایس آئی پی سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے، جسے 460 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سہولت اے ایس آئی پی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ نے جمہوریہ کوریا کے اے پی اے سی ٹی کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ یہ آندھرا پردیش میں پہلی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سہولت ہے جسے ‘انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن’ کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ یہ سہولت سالانہ تقریباً 96 ملین سیمی کنڈکٹر چپس تیار کرے گی اور اعلیٰ ہنر مند روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک مضبوط معاون ماحولیاتی نظام کو بھی فروغ دے گی۔

وزیر اعظم کرنول-4 قابل تجدید توانائی زون (آر ای زیڈ) – فیز-1 (4.5 جی ڈبلیو) کے انضمام کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جو تقریباً 5,550 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) کے ذریعے پاور گرڈ کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کرنول ونڈ انرجی زون اور سولر انرجی زون (آندھرا پردیش) – پارٹ اے اور پارٹ بی کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم کا بھی افتتاح کریں گے، جو تقریباً 3,550 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کیا گیا ہے۔ پی ایم مودی اننت پور (2,500 میگاواٹ) اور کرنول (1,000 میگاواٹ) میں سولر انرجی زونز کے لیے ٹرانسمیشن اسکیم کا بھی افتتاح کریں گے، جسے پاور گرڈ نے 820 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے نافذ کیا ہے۔

یہ ٹرانسمیشن پروجیکٹ کرنول اور اننت پور میں قابل تجدید توانائی کے علاقوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل میں مدد کریں گے اور اسے قومی گرڈ کے ذریعے ملک بھر کے مستحقین تک پہنچانے میں مدد کریں گے۔ وہ قابل تجدید توانائی کی بڑی مقدار کو گرڈ میں شامل کرنے میں سہولت فراہم کریں گے، طلب مراکز کے لیے صاف توانائی کی دستیابی کو بہتر بنائیں گے، اور فوسل فیول پر مبنی بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کرکے ہندوستان کی توانائی کی منتقلی اور ڈیکاربونائزیشن کی کوششوں میں تعاون کریں گے۔

وزیر اعظم 1,880 کروڑ روپے سے زیادہ کے قومی شاہراہ کے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ جن پروجیکٹوں کو وقف کیا جائے گا ان میں ریچرلا سے این ایچ-365بی جی کے گرووے گوڈیم سیکشن تک چار لین تک رسائی پر قابو پانے والی گرین فیلڈ ہائی وے، گرووے گوڈیم سے این ایچ-365بی جی کے دیوراپلے سیکشن تک چار لین تک رسائی کنٹرول والی گرین فیلڈ ہائی وے اور این ایچ-67 پر چار لین تادی پتری بائی پاس شامل ہیں۔ وزیر اعظم این ایچ 565 کے پینچلاکونا-یرپیڈو سیکشن پر لنگاسامدرم میں ایک اعلیٰ سطحی پل کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ پروجیکٹ ٹریفک کی بھیڑ کو کم کریں گے اور وجئے واڑہ اور کئی دوسرے شہروں میں سڑک کی حفاظت کو بہتر بنائیں گے۔

Continue Reading

سیاست

جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں پاکستانی غبارہ برآمد، تحقیقات جاری

Published

on

kashmir

جموں : جموں و کشمیر کے راجوری ضلع کی پولیس نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ضلع کے تھانہ منڈی علاقے کے اجمت آباد گاؤں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا نام اور لوگو والا ایک غبارہ برآمد ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ سفید اور سرخ غبارے پر “پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز” (پی آئی اے) لکھا ہوا تھا۔ مقامی لوگوں نے غبارے کو تلاش کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے کہا کہ غبارہ برآمد کر لیا گیا ہے اور اس بات کا تعین کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے کہ آیا یہ ایک الگ تھلگ واقعہ تھا یا اس کا کوئی اور مقصد ہو سکتا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے اب تک جموں و کشمیر کے سرحدی اضلاع میں پاکستان سے متعلق کئی پروموشنل اور کھلونا غبارے برآمد کیے ہیں۔

اگرچہ ان میں سے زیادہ تر غبارے ہوا میں تیرنے والی عام چیزیں ہیں، تاہم علاقے میں ڈرون کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے حکام ہر معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ حال ہی میں اپریل میں جموں ضلع کے ارنیا سیکٹر میں ایک پاکستانی غبارہ برآمد ہوا تھا۔ مارچ میں، ایک ہوائی جہاز کی شکل کا غبارہ جس پر اردو میں “پی آئی اے” کے الفاظ لکھے ہوئے تھے، راجوری ضلع کے سرہوتی گاؤں سے ملا تھا۔

فروری میں، جموں ضلع کے اکھنور سیکٹر میں دو غبارے ملے تھے، جن پر پاکستانی 5000 روپے کا نوٹ، ایک امریکی ڈالر اور ایک پاکستانی موبائل فون نمبر تھا۔ فروری میں بھی ایک سبز اور سفید ہوائی جہاز کی شکل کا غبارہ جموں کے آر ایس پورہ سیکٹر سے ملا تھا جس پر “پی آئی اے” کے الفاظ لکھے تھے۔ ایک پیلے دل کی شکل کا غبارہ بھی ملا۔ جنوری میں، ایک بار پھر اکھنور سیکٹر میں، مقامی لوگوں کو لائن آف کنٹرول کے قریب ایک پروموشنل کھلونا ہوائی جہاز کی شکل کا غبارہ ملا جس پر انگریزی اور اردو میں “پی آئی اے” کے الفاظ تحریر تھے۔

ان میں سے زیادہ تر اشیاء پاکستان سے عام تجارتی یا جشن منانے والی اشیاء ہیں جو ہوا کے ساتھ ساتھ بہتی ہیں، لیکن سیکورٹی فورسز اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ جاسوسی ہو سکتی ہیں یا کسی اور خطرناک مقصد یا سرگرمی کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈرون کا استعمال اکثر سرحد پار سے منشیات یا گولہ بارود جیسی اشیاء کی سمگلنگ کے لیے کیا جاتا ہے۔ سیکورٹی فورسز اور جموں و کشمیر پولیس کسی بھی اڑتی چیز کو دیکھتے ہی فوری طور پر علاقے کے تسلط کا پروٹوکول شروع کرتے ہیں۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان