Connect with us
Sunday,28-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

سرمائی اجلاس پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ہونے کا قوی امکان : اوم برلا

Published

on

Om-Birla

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سرمائی اجلا س پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منعقد کرائے جانے کا قوی امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر زیرتعمیر عمارت کو 30 اکتوبر 2022 تک ہمیں سونپ دیا جاتا ہے تو ہم ضروری آزمائشوں کے بعد اس سال موسم سرما کا اجلاس نئی عمارت میں کرنے کی حالت میں ہوں گے انہوں نے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کی تعمیر کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا مسٹر برلا نے اسپیکر کے طور پر اپنی تین برس کی میعادکار کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کی تشکیل 25 مئی 2019 کو ہوئی تھی اور اس کا پہلا اجلا س 17 جولائی 2019 کو ہوا تھا۔تب سے لیکر آج تک لوک سبھا کا تین برسوں کا سفر یادگار رہا۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے گزشتہ روز یو این آئی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے آٹھویں اجلاس تک ایوان میں 995 اعشاریہ 45 گھنٹے کام ہوا، جوکہ پچھلے تین لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس تک کے کام کی مدت کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔14 ویں، 15 ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے میں 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس میں زیادہ بل پیش اورمنظور کئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران ضابطہ 377 کے تحت اراکین پارلیمان نے 3039 معاملے ایوان کے سامنے پیش کئے ۔ ضابطہ 377 کے تحت ایوان کے سامنے پیش کئے گئے معاملات پرمسلسل فالواپ کئے جانے کی وجہ سے اب تقریباً 98 فیصد معاملوں میں متعلقہ وزارتوں سے جواب موصول ہو رہے ہیں ۔17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران ضابطہ 193 کے تحت اراکین پارلیمان نے 9 معاملے ایوان کے سامنے رکھے ۔14 ویں، 15، ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے مقابلے 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران مختصر مدتی بحث کے تحت ہر معاملے میں اراکین کو بحث کا اوسطاً زیادہ وقت دیا گیا۔
مسٹر اوم برلا نے بتایا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس تک وقفہ صفر کے تحت معزز اراکین کے ذریعے 4648 معاملے یا اوسطاً 31 اعشاریہ 4 معاملے یومیہ اٹھائے گئے۔ یہ 14 ویں، 15ویں اور 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی بار منتخب ہوکر آئے ممبران کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینے میں ترجیح دی گئی اور پہلے ہی اجلا میں 208 ممبران نے وقفہ صفر کے دوران معاملات اٹھائے۔ نئی پہل کے تحت وقفہ صفر میں اٹھائے گئے معاملوں پر بھی وزارتوں کی طرف سے اب جواب مانگے جارہے ہیں۔
اسپیکر نے کہا کہ 17 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے دوران وقفہ سوال میں زبانی جوابات کی اوسط تعداد 14 ویں سے 16 ویں لوک سبھا کے پہلے آٹھ اجلاس کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
انہوں نے کہا کہ 1972 میں وقفہ سوال کا ضابطہ شروع ہونے کے بعد 17 ویں لوک سبھا کے دوران ہی تین بار ایسا ہوا کہ سبھی 20 نشان زد سوالات کے جواب دیئے گئے۔ ایسا 27 نومبر 2019، 20 دسمبر 2021 اور 10 فروری2022 کو ہوا۔
مسٹر اوم برلا نے بتایا کہ 17 ویں لوک سبھا میں اختراع اور ڈیجیٹل تکنیک کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی وجہ سے مالی وسائل میں کل 668.86 کروڑ روپے کی نمایاں بچت درج کی گئی۔سکریٹریٹ میں سبھی طرح کی خریداری میں جیم پورٹل کا ہی استعمال کیا جارہا ہے۔
مسٹر برلا نے بتایا کہ اراکین پارلیمان کی صلاحیت سازی کے لئے پارلیمانی تحقیق اور اطلاعاتی تعاون کا نظام(پرزم) قائم کیا گیا ہے۔ اس کے توسط سے اراکین پارلیمان کو 24 گھنٹے معلومات فراہم کرائی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اراکین کو مختلف موضوعات پر حوالہ جاتی اور قانون سازی سے متعلق نوٹس بھی فراہم کرائے جاتے ہیں۔ایوان میں بل پیش کئے جانے سے قبل متعلقہ موضوعات پر ماہرین کے توسط سے بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔قومی راجدھانی خطہ میں ممبران کی رہائش گاہوں پر ان کی خواہش کے مطابق کتابیں دستیاب کرانے کی سہولت فراہم کرائی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کی لائبریری میں ممبران کے تبادلہ خیال کے لئے ہال کی تعمیر کا انتظام کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معزز ممبران پارلیمنٹ کے ریڈنگ روم میں ڈاکٹرامبیڈکر سے متعلق کتابوں کی دستیابی،خصوصی ایپ کے ذریعے تمام ممبران پارلیمنٹ کو 40 زبانوں میں پانچ ہزار سے زیادہ جرائد اور اخبارات تک رسائی بہم پہنچائی گئی ہے۔ موجودہ اور سابق ممبران پارلیمنٹ کے لئے مفت ٹائپنگ اور فوٹو کاپی کرانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کی لائبریری سے آن لائن استفادہ کرنے کی سہولت سبھی کو فراہم کرائی جارہی ہے۔آن لائن پورٹل جولائی 2022 میں لانچ کیاجائے گا۔ پارلیمنٹ کی لائبریری میں بذات خود آنے کے لئے پورٹل پر سلاٹ بک کئے جائیں گے ۔لائبریری میں ایک کولاژکے ذریعے پارلیمنٹ کی لائبریری کے 100 سالہ سفر کو پیش کیا گیا ہے۔
نیتی آیوگ کے تعاون سے ملک کی سبھی بڑی لائبریریوں کے ساتھ پارلیمنٹ کی لائبریری کو مربوط کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ ہندوستان کی قانون سازی سے متعلق لائبریری کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی لائبریری اور 12 مجالس قانون ساز کی لائبریریوں کو مربوط کرنے کا عمل جاری ہے۔
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ میٹا ڈیٹا طریقے سے کی ورڈ سرچ کے ذریعے لوک سبھا سے متعلق معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جون 2022 کے آخر تک پہلی سے 14 ویں لوک سبھا کی بحث کے ہندی ایڈیشن کو ڈیجیٹائز کردیا جائے گا۔ 15 ویں سے 17 ویں لوک سبھا کی بحث کے ہندی ایڈیشن کو سال کے آخر تک ڈیجیٹائز کئے جانے کا امکان ہے۔
پورٹل پرتقریباً 46 لاکھ ڈیجیٹل پیج ای پی اے آر ایل آئی بی ڈاٹ این آئی سی ڈاٹ ان پر اپ لوڈ کئے گئے ہیں۔
جولائی 2022 کے آخر تک لوک سبھا کی سبھی بحث کے انگریزی ایڈیشن کو ڈیجیٹائز کردیا جائےگا۔
پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے کام اور رفتار کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطمینان بخش طریقے پر کام آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ نئی عمارت گرین بلڈنگ ہوگی، جہاں ماحولیات اور توانائی کے تحفظ کے سبھی انتظامات کئے جائیں گے۔ یہ عمارت جدیدترین سہولیات سے آراستہ ہوگی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمارت کی تعمیر اپنے مقررہ وقت سے ایک ہفتہ پیچھے چل رہی ہے، جسے آنے والے وقت میں میک اپ کرلیا جائے گا۔
مسٹر برلانے 17ویں لوک سبھا کے دوران بطور اسپیکر متعدد ملکوں کے دورے کئے، جن میں چوتھی جنوب ایشیائی اسپیکرس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے 2019 میں مالدیپ، کے شہر مالے کا دورہ ، 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے لئے یوگانڈاکے کمپالا کا دورہ ، 141 ویں آئی پی یو اسمبلی میں شرکت کے لئے سربیا کے بلغراد کا دورہ ، چھٹی جی۔20 پارلیمانی اسپیکرس کی چوٹی کانفرنس شرکت کے لئے جاپان کی راجدھانی ٹوکیو کا دورہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2020 سے 2022 تک کناڈا ، آسٹریا، اٹلی، متحدہ عرب امارات، ویتنام، کمبوڈیا اورسنگاپور کا بھی دورہ کیا۔ اسی طرح سے 2019 سے 2022 تک بہت سے ملکوں کے پارلیمانی وفود نے بھی ہندوستان کا دورہ کیا، جن میں مالدیپ، کناڈا، منگولیا، ویتنام، آسٹریا وغیرہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ طلبا اور نوجوانوں کےدرمیان اپنے آئین کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لئے ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے۔ پرائڈ کے ذریعے وزارت تعلیم اور کھیل ونوجوانوں کے امور کی وزارت کے تعاون سے ‘‘ اپنے آئین کو جانیں ’’ پہل کے تحت شہریوں پر مرکوز مختف طرح کے پروگرام کی شروعات کی جارہی ہے۔اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلہ جاتی کوئز کا انعقاد کیا جائے گا اور اس میں جیتنے والوں کو 25 جنوری 2023 کو پارلیمنٹ ہاؤس کے دورے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور 26 جنوری 2023 کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں انہیں شرکت کا بھی موقع حاصل ہوگا۔
مسٹر برلا نے بتایا کہ ہندوستان میں غیرملکی سفیروں کو ہندوستانی جمہوریت سے روشناس کرانے کے لئے ‘ ہندوستان میں جمہوری طرز عمل اور روایت’ کے موضوع پر ایک مختصر دستاویزی فلم بنائی جارہی ہے۔یہ فلم ہندوستان میں تعینات غیرملکی سفیروں کو مختلف بیچ میں دکھائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل سکریٹریٹ کے تمام شعبوں کے سربراہان (ایڈیشنل سکریٹریز/ جوائنٹ سکریٹریز) کے ساتھ مستقل طور سے ہفتہ وار جائزہ میٹگ کریں گے۔سکریٹریٹ کے مختلف شعبوں اور اکائیوں کے کام کے درمیان ربط پیدا کرنے کی خاطر اور ان کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کے لئے ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔سبھی شعبوں کے سربراہ سکریٹریٹ کی کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ سکریٹریٹ کے اخراجات کی بچت کی سمت میں ضروری اقدامات کریں گے۔کام کو جلد نپٹانے کے لئے فائلوں کی موومنٹ کواب محدود کیاجائے گا۔

جرم

ممبئی : خودساختہ پولس افسر ٹھگی کرنے کے الزام میں گرفتار, کرائم برانچ کی کارروائی

Published

on

Arrest

ممبئی : خودساختہ فرضی پولس افسر سمیت دو افراد کو ممبئی کرائم برانچ نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو فرضی پولس شناختی کارڈ اور متعدد سرکاری اسٹیکر کار پر چسپاں کر کے دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔ یہ پولس کا اسٹیکر چسپاں والی کار کا استعمال کر کے لوگوں کو بینک سے قرض دلانے کے نام پر لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے اور ان سے پیسہ وصول کر کے دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔ اس جرائم میں ملوث ۵۴ سالہ فرد کو گرفتار کیا گیا ہے, جو سنئیر پولس افسر ہونے کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ اس کے فرضی دستاویزات کے ساتھ پولس نے اسے گرفتار کیا ہے۔ اس کے خلاف ممبئی کے کستوربا مارگ، ساکی ناکہ، کھیرواڑی پولس میں معاملات درج ہیں۔ یہ اطلاع ایک پریس کانفرنس میں ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے, اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے دی۔ لیلا اندھیری ہوٹل میں ایک پارٹی میں شرکت کے دوران خودساختہ پولیس افسر اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کی کار سے پولس کی تختی بھی برآمد ہوئی ہے, جسے ضبط کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری فرضی کارڈ بھی ملا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : یوم عاشورہ پر عزاداروں کو نشانہ بنانے کی سازش ناکام، ممبئی پولس کی مستعدی سے ملزم فیاض پریم جی گرفتار، تفتیش میں مزید خلاصہ کی امید

Published

on

mumbai police

ممبئی پولس نے یوم عاشورہ اور شام غریباں جلوس کو نشانے بنانے کی سازش کو ناکام کرتے ہوئے ایک فیاض نامی نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے زہریلی کیپسول گولی تقسیم کرکے محرم کے جلوس میں تباہی و کہرام برپا کرنے کی سازش کی بھی۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی جینت مینا نے بتایا کہ ملزم نے زہریلی گولی تقسیم کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ گولی درد سے راحت دیتی ہے ایسے میں اس کے قبضے سے ۱۴ ہزار سے زائد گولیاں ضبط کی گئی ہیں۔ ممبئی پولیس نے ایک بڑی سازش کو محرم کے دوران بے نقاب کرتے ہوئے بیک وقت 30,000 افراد کو قتل کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔

جینت مینا نے بتایا کہ گزشتہ شب محرم کے جلوس کے دوران ایک شخص ایسی چیز فروخت کر رہا تھا جو گولی جیسی ساخت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس گولی سے درد کا خاتمہ ہو گا۔ اس گولی سے ایک سلمان سید نامی بیمار ہو گیا۔ اسی معاملہ میں پولس نے گزشتہ رات حراست فیاض نامی ایک شخص کو حراست میں لیا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ محرم کے دوران سوگوران حسین کو نشانہ بنانے اور انہیں نقصان پہنچانے کے لیے زنک فاسفائیڈ کی گولیاں تقسیم کر رہا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ جلوس میں شریک جانثاران حسین کو نشانہ بنایا جائے۔

ممبئی پولیس کے محتاط کے سبب ایک بڑا سانحہ ٹل گیا اور سازش ناکام ہو گئی۔ ملزم کا مقصد واضح نہیں ہے۔ زہریلا مادہ زنک فاسفائیڈ زہر سے بھرا ہوا تقسیم مادہ شرکا جلوس کو نقصان پہنچانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ فیاض پریم جی کا تعلق ویمن نگر، پونے سے ہے۔ اس کے پاس بی بی اے کی ڈگری ہے۔ ملزم پینٹ کا کاروبار کرتا ہے۔ 50 کلو زنک فاسفائیڈ کا آرڈر چند روز قبل اس نے کیا تھا اس کا منصوبہ تھا کہ وہ کیپسول میں اس زہریلی مادہ کی آمیزش کر کے گولیاں تقسیم کرے اس لئے وہ بھنڈی بازار علاقہ ممبئی میں ہی وہ مقیم تھا۔ وہ 2025 میں ایران اور عراق گیا تھا۔ اس کے سفری وجوہات معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ اس نے 15 دن پہلے ڈونگری میں مکان کرائے پر لیا تھا اس کے قبضے سے 14,900 کیپسول ضبط کرلئے گئے ہیں۔ اس کا منصوبہ 30,000 افراد کو نشانہ تھا۔ لیکن پولس کی مستعدی کے سبب وہ زہریلی کیپسول تقسیم کرنے سے قاصر رہا۔ پولس اس معاملہ پر ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔ اس معاملہ میں اس کے دورہ کی تفصیلات سمیت دیگر افراد سے بھی بازپرس کی جارہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیٹے کا سیاسی کیریئر بچانے کی دوڑ شروع، ادھو ٹھاکرے کو ‘معافی دورہ’ شروع کرنا چاہئے، شیو سینا کے سکریٹری کرن پاوسکر کا ادھو پر حملہ

Published

on

Kiran-Pawaskar

ممبئی : شیوسینا کے سکریٹری اور ترجمان کرن پاوسکر نے ادھو ٹھاکرے کے ودربھ اور مراٹھواڑہ کے دورے پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیوسینا میں شامل ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے لوک سبھا حلقوں کا دورہ رائے دہندگان سے معافی مانگنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ آدتیہ ٹھاکرے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ہے۔ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں پاوسکر نے کہا کہ اگر ادھو ٹھاکرے کو واقعی عوام اور کارکنوں کی فکر ہوتی تو وہ بلدیاتی انتخابات بھی لڑتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران کارکنوں اور امیدواروں کو اپنی جان بچانے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، جب کہ اب اراکین اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کے بعد ان کے حلقوں کا دورہ کیا جا رہا ہے۔ پاوسکر نے کہا کہ یہ عوام سے معافی نہیں ہے، بلکہ ان کے بیٹے کی سیاسی بنیاد کو بچانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے کام سے عدم اطمینان کی وجہ سے بہت سے ممبران پارلیمان شیوسینا میں شامل ہو گئے۔ پاوسکر نے کہا کہ جب ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے فی الحال ودربھ کا دورہ کر رہے ہیں، میونسپل، ٹاؤن کونسل، اور ضلع کونسل کے انتخابات کے دوران، ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی قیادت نے باندرہ سے باہر جانے کا منصوبہ بھی نہیں بنایا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں اور امیدواروں کو اپنی حفاظت آپ کے لیے چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے کام سے عدم اطمینان کی وجہ سے کئی اراکین شیوسینا میں شامل ہو گئے۔ اب انہی ممبران پارلیمنٹ کے لوک سبھا حلقوں کا دورہ کر کے ووٹروں سے معافی مانگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عوام اور کارکنوں کی اتنی فکر تھی تو یہ دورہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ پواسکر نے کہا کہ کارکنان، عہدیداران، تعلقہ سربراہان، اور ودربھ اور مراٹھواڑہ کے ضلعی سربراہ ادھو ٹھاکرے گروپ سے یہی سوال کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دورہ رائے دہندگان سے معافی مانگنے کے لیے نہیں بلکہ آدتیہ ٹھاکرے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پواسکر نے مزید کہا کہ ورلی جیسے ریزرو حلقے میں ان کے بیٹے کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ادھو ٹھاکرے کے گروپ کو دو ایم ایل اے کے ٹکٹ منسوخ کرنے پڑے۔ ایم ایل اے سنیل شندے اور ایم ایل اے سچن اہیر کو قانون ساز کونسل کا امیدوار بنا کر دوبارہ بحال کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آج بھی ادھو ٹھاکرے کا گروپ صرف اور صرف اپنے بیٹے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ودربھ کا دورہ کر رہا ہے۔

پاوسکر نے کہا کہ شیوسینا کے بنیادی لیڈر ایکناتھ شندے کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 65 کارپوریٹر شیو سینا میں شامل ہوئے ہیں۔ اسی طرح ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کے 40 ایم ایل ایز نے شیو سینا میں شمولیت اختیار کی، جس سے پارٹی کے ایم ایل ایز کی تعداد 60 ہوگئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج چھ ممبران اسمبلی شیوسینا میں شامل ہوئے ہیں، اور مستقبل میں یہ تعداد بڑھ کر 12 ہوجائے گی۔

پواسکر نے کہا کہ ایم ایل اے، ایم پی اور کارپوریٹروں کو توڑنے کے الزامات کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کے گروپ کو خود کا جائزہ لینا چاہئے کہ یہ تمام عوامی نمائندے شیو سینا میں کیوں شامل ہو رہے ہیں تاکہ شیوسینا کے مرکزی رہنما اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ریاست کے کونے کونے سے ایم ایل اے، ایم پی اور دیگر عوامی نمائندے شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایکناتھ شندے کی قیادت گھر سے نہیں نچلی سطح پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر ادھو ٹھاکرے کے گروپ پر بھی تنقید کی۔پاوسکر نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں پارٹی میں نئی ​​شمولیت کے حوالے سے اہم خبریں جلد ہی جاری کی جائیں گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان