Connect with us
Tuesday,29-September-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : عوامی گنیش منڈلوں کے منڈپ بنانے کی اجازت کے لیے آن لائن سنگل ونڈو سسٹم شروع، ایک سال یا پانچ سالہ اجازت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں

Published

on

Mandap

ممبئی منڈپ شامیانے بنانے کے لیے ضروری اجازت حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ایک بار پھر ممبئی میں عوامی گنیشوتسو منڈلوں کے لیے آن لائن سنگل ونڈو سسٹم دستیاب کرایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ پر عوامی گنیشوتسو تہوار کے دوران عارضی منڈپ کی تعمیر کی اجازت دینے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نظام کو فعال کردیا گیا ہے۔ یہ سسٹم جمعہ 14 اگست 2026 سے آن لائن استعمال کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، چونکہ اس وقت عوامی گنیش اتسو کے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔ منڈل عدالت کے ذریعے دیے گئے احکامات کے پابند ہیں اجازت ان ہدایات کی تعمیل کے تحت دی جا رہی ہے۔

عوامی گنیش اتسو منڈلوں کو منڈپ کی اجازت کے لیے اپنی درخواستیں بی ایم سی کی ویب سائٹ (https://portal.mcgm.gov.in) کے ذریعے جمع کرانی ہوں گی جس کا لیبل لگا ہوا ‘شہریوں کے لیے منڈپ (عوامی گنیش اتسو /دیگر تہوار)’ کا لیبل لگا ہوا ہے۔ موصول ہونے پر متعلقہ وارڈ آفس کے ذریعے درخواستوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے بعد متعلقہ مقامی پولیس اور ٹریفک پولیس سے ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس’ (این او سی) حاصل کرنے کا عمل کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کو ڈویژنل اسسٹنٹ کمشنر اور زونل ڈپٹی کمشنر کی رہنمائی میں نافذ کیا جائے گا۔

نئے منڈلوں کا طریقہ کار :
سرکاری یا نجی زمین پر عوامی گنیشوتسو منڈپ* (مارکی) بنانے کے لیے پہلی بار درخواست دینے والے منڈلوں کو میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرنی ہوگی۔ ڈویژنل آفس کے ذریعے درخواست کی جانچ پڑتال اور مقامی اور ٹریفک پولیس سے این او سی حاصل کرنے کے بعد، درخواست زونل ڈپٹی کمشنر کو منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ ایک بار جب ڈپٹی کمشنر کی منظوری مل جاتی ہے اور منڈل 100 فیس ادا کرتا ہے، تو منڈپ کی اجازت ڈویژنل سطح پر دی جائے گی۔

پانچ سالہ اجازت کے ساتھ منڈلوں کے لیے تجدید کی سہولت جن منڈلوں نے پہلے پانچ سال (سرکاری یا نجی زمین پر) اجازت حاصل کی تھی ان کے لیے اجازتوں کی تجدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ جن گنیشوتسو منڈلوں نے گزشتہ سال پانچ سال کی اجازت حاصل کی تھی، انہیں سال 2026 کے لیے اپنی اجازت کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست جمع کرنی ہوگی۔ ڈویژنل دفتر ذاتی طور پر اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سائٹ کا مقام اور علاقہ پہلے سے منظور شدہ اجازت سے مماثل ہے۔ اس کے بعد مقامی اور ٹریفک پولیس سے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے این او سی حاصل کیے جائیں گے۔ منڈل کی جانب سے 100 فیس ادا کرنے کے بعد 2026 کے لیے اجازت کی تجدید کی جائے گی۔

منڈلوں کے لیے دو اختیارات 2025 میں ایک سال کی اجازت دی گئی۔ اس سال گنیشوتسو منڈلوں کے لیے ایک اہم سہولت دستیاب کرائی گئی ہے جنہیں 2025 میں صرف ایک سال کے لیے (سرکاری یا نجی زمین پر) منڈپ بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسے منڈل صرف سال 2026 کے لیے، یا 2026 سے 2030 کے لیے پانچ سال کی مدت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ان درخواستوں کی جانچ ڈویژنل دفتر کرے گا، اور کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے مقامی اور ٹریفک پولیس سے این او سی حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے بعد، 100 روپے کی فیس کی ادائیگی پر، درخواست کی بنیاد پر وارڈ کی سطح پر اجازت دی جائے گی۔

منڈپ کی اجازت کے لیے درخواست کی مدت :
عوامی تہوار کے لیے منڈپ* (مارکیز) بنانے کی اجازت کے لیے درخواستیں کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے 14 اگست 2026 سے 13 ستمبر 2026 کے درمیان جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ گنیشوتسو منڈپ کی اجازت کی میعاد 26 ستمبر 2026 تک ہے۔ 10 اکتوبر 2026; نوراتری کے لیے منڈپ کی اجازت کی میعاد 21 اکتوبر 2026 تک بڑھ گئی ہے۔

دو رضاکاروں کے لیے لازمی تربیت :
گنیش اتسو منڈپ سائٹس پر نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے، وارڈ آفس کی سطح پر بھیڑ مینجمنٹ، فائر سیفٹی، اور ابتدائی طبی امداد جیسے موضوعات کا احاطہ کرنے والی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ٹریننگ میں ہر عوامی گنیشوتسو منڈل (آرگنائزنگ کمیٹی) سے دو رضاکاروں کا شرکت کرنا لازمی ہے۔

گڑھے سے پاک منڈپ کی تعمیر پر زور :
منڈپ بنانے کے لیے سڑکوں یا فٹ پاتھوں میں گڑھے نہیں کھودنے چاہئیں۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ موثر تکنیک استعمال کریں جن کے لیے گڑھے کھودنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر منڈپ کی تعمیر کے لیے سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر گڑھے کھودے جائیں تو متعلقہ سرکلر کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، عوامی گنیشوتسو منڈلوںکو لائسنس ڈپارٹمنٹ کے سرکلر میں بیان کردہ شرائط اور اشتہارات سے متعلق ضوابط پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ منڈپ کی تعمیر کے لیے آگ سے حفاظت کے ضروری اقدامات کی تعمیل بھی لازمی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان