Connect with us
Wednesday,22-July-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی جے پی کوعین الیکشن کے وقت ہی کیوں اہم شخصیات یاد آئیں ؟

Published

on

ممبئی :این سی پی کے ترجمان ورکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے آج یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے مہاراشٹر میں شیوسینا بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت برسر اقتدار ہے۔ نیزان پانچ سالوں میں انہوں نے ویرساورکر، مہاتما پھولے اور ساوتری بائی پھولے کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کی سفارش کیوں نہیں کی ؟اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مجید میمن نے کہا کہ عین انتخابات کے وقت ان رہنماؤں کو بھارت رتن دینے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو کیسے خیال آیا اس کا جواب مہاراشٹر کی عوام 21 اکتوبر کو دیں گے۔ ایڈوکیٹ مجید میمن نے یہ بھی کہا کہ انتخابی منشور میں ریاست کے ایک کروڑ بے روزگار نوجوانوں کو بی جے پی نے روزگار دستیاب کرانے کا وعدہ کیا ہے، یہ بھی صرف ایک انتخابی ڈھکوسلا ہے۔ کیونکہ 2014 میں جب بی جے پی برسر اقتدار آئی تھی، تب وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ہر سال ایک کروڑ افراد کو روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن روزگار دینا تو دور کی بات لاکھوں افراد کو حکومت کی غلط پالیسیوں کے سبب اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مجید میمن نے کہا کہ پورے ملک کو سنگین معاشی حالت سے گزر نا پڑ رہا ہے۔ خود وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کے شوہر نے حکومت کی غلط پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور ابھیجیت بینرجی (نوبل انعام یافتہ) نے بھی نوٹ بندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی حکومت تمام محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کالا دھن روکنے کے نام پر محض دو گھنٹہ کے اندر ایک ہزار کی نوٹ پر پابندی لگا دی، اور پھر اس کے بعد پورے ملک نے جو تکلیف اٹھائی ہے وہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ جس وقت وزیراعظم کا یہ فیصلہ آیا اس کے بعد سے ملک بھر میں لوگ کھانے کو ترس گئے، نیز علاج کیلئے گئے لوگوں کو بھی بہت تکلیف آئی لیکن اس کا کیا ہوا کچھ بھی کالا دھن سامنے نہیں آیا۔ مجید میمن نے مزید کہا کہ پورے ملک کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کی حالت بھی ان کی پالیسیوں کی وجہ سے خراب ہوگئی ہے۔ پونا میں ماروتی کمپنی بند ہوگئی، جس میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے اور یہ حالات پورے ملک کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر ہم کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم روزآنہ نئے نعروں کے ساتھ عوام سے وعدہ کرتے ہیں، لیکن ان کے وعدے میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی تانسا جھیل لبریز

Published

on

Tansa-Deam

ممبئی تانسا جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (22 جولائی 2026) کو لبریز ہو گئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئر ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ جھیل آج صبح 8:51 پر بہنے لگی۔ بی ایم سی علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے، وہار جھیل 7 جولائی 2026 کو رات 9:00 بجے بہنے لگی۔ اس کے فوراً بعد، اسی دن 7 جولائی 2026 تلسی جھیل بھی رات 11:43 پر بہنے لگی۔ اب تونسا جھیل بھی آج صبح سے اوور فلو لبریز ہونے لگی ہے۔ نتیجتاً، 22 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے تین بہہ رہی ہیں۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ گزشتہ چند دنوں سے کیچمنٹ کے علاقوں میں مسلسل، شدید بارش ہوئی ہے۔ آج صبح 6:00 بجے کی گئی پیمائش کے مطابق، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ ان کی کل صلاحیت کا 61.90 فیصد ہے تانسا ڈیم تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں واقع ہے اور ملک کے چند ڈیموں میں سے ایک ہے جو پتھر کی چنائی سے بنائے گئے ہیں۔ تانسا جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش، جو آج سے بہہ رہی ہے، 14,508 کروڑ لیٹر (145,080 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سال، تانسا جھیل 23 جولائی کو شام 5:40 پر بہنے لگی۔ اس سے پہلے، یہ 24 جولائی 2024 کو صبح 4:16 پر بہنے لگی۔ 26 جولائی 2023 کو صبح 4:35 بجے؛ 14 جولائی 2022 کو شام 8:50 بجے؛ اور 22 جولائی 2021 کو صبح 5:48 پر۔ اس سے پہلے خاص طور پر 20 اگست 2020 کو یہ شام 7:05 پر بہنا شروع ہوا۔

اضافی معلومات :
تانسا ڈیم دنیا کے طویل ترین ڈیموں میں سے ایک ہے جس کی لمبائی 2,743.20 میٹر ہے۔
قیام کا سال : 1892
یومیہ سپلائی : 455 ایم ایل ڈی (ملین لیٹر فی دن)
پانی کی کل فراہمی میں شراکت : 11.00%
مقام : ممبئی سے 106 کلومیٹر

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھوکہ دہی کی ایف آئی آر کے بعد مھاڈا اور بی ایم سی کا بڑا ایکشن : ‘مدیار مینشن’ کی این او سی منسوخ، ‘سٹاپ ورک’ نوٹس جاری

Published

on

Madyar Mansion

ممبئی : دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے سنگین الزامات میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مئی بائی یعنی مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مھاڈا) اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے مانڈوی ڈویژن میں واقع ‘مدیار مینشن’ عمارت کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ مھاڈا نے اس پروجیکٹ کے لیے جاری کردہ عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کر دیا ہے، جبکہ بی ایم سی کے بلڈنگ پروپوزل ڈیپارٹمنٹ نے تعمیراتی کام کو روکتے ہوئے ‘سٹاپ ورک نوٹس’ (کام روکنے کا نوٹس) جاری کر دیا ہے۔

مھاڈا کی جانب سے سخت ہدایات
مھاڈا کے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ :
اس پروجیکٹ کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی انتظامی اجازت، ترمیم یا منظوری نہیں دی جائے گی۔
کسی بھی قانونی یا انتظامی پیچیدگی سے بچنے کے لیے جائے وقوعہ پر جاری تمام تعمیراتی کام فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی گئی ہے.
قابلِ غور بات : معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود، جائے وقوعہ پر ساتویں منزل (گراؤنڈ + 7) تک کی تعمیر کا کام جاری رکھا گیا تھا۔

جعلی دستاویزات پر مبنی 8 رجسٹریشنز منسوخی کے دائرے میں
معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سب رجسٹرار آف اشورینس (سب رجسٹرار آف ایشورنس) کی جانب سے 8 دستاویزات رجسٹر کی گئی تھیں۔ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے سب رجسٹرار کے دفتر نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو خط لکھا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان 8 دستاویزات کی بنیاد جعلی کاغذات پر ہے، لہٰذا ان کا استعمال کہیں بھی نہ کیا جائے۔
معاملہ کیا ہے؟

اس جائیداد سے متعلق دھوکہ دہی کا انکشاف رواں سال 2 فروری کو اس وقت ہوا جب شکایت کنندہ محمد رفیق عثمان پودینہ والا نے دھوکہ دہی اور جعل سازی کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
شکایت کی بنیاد پر پائے دھونی پولیس اسٹیشن میں درج ذیل ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا گیا تھا :

مریم محبوب کوڈیا
حسین کوڈیا
یوسف ابراہیم سپاری والا (بلڈر)
مھاڈا کے اس سخت موقف کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس پروجیکٹ سے جڑے دیگر انتظامی پہلوؤں اور افسران کے کردار کی تحقیقات میں بھی تیزی آئے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دادر چیتنہ بھومی پر احتجاج کے دوران اورنگ زیب کی تصویر لہرانے پر ہنگامہ، پولس کو تفتیش کا حکم، اب تک ۸ ایف آئی آر درج

Published

on

FIR

ممبئی میں دادر چیتنہ بھومی پر سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ میں اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر للہرانے پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور اس سے حالات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ اورنگ زیب کی آڑ میں اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے, جبکہ پولس اس معاملہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ دلی کے جنتر منتر احتجاج کی حمایت میں مہاراشٹر اور ممبئی میں حمایت اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ممبئی پولس نے کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے, اب تک مظاہرین کے خلاف تقریبا ۸ ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں چیتنہ بھومی شیواجی پارک میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرین ڈرائیو میں ۲ آزاد میدان میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ممبئی میں اب احتجاج کے دوران اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کا پوسٹر لہرانے پر سیاست شروع ہو گئی۔ اس معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اورنگ زیب کی تصویر یہاں دادر چیتنہ بھومی میں احتجاج کے دوران لہرائی گئی جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا, لیکن اس معاملہ میں پولس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر کس نے احتجاج میں شامل کی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا ممبئی میں اورنگ زیب کی تصویر لہرانے کے معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے اور اس معاملہ میں باقاعدہ طور پر یہ معلوم کر رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے یہ تصویر لہرائی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ڈی سی پی مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس معاملہ میں سوشل میڈیا کے معرفت ملزم کی شناخت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے سڑک جام کرنے اور بلا پیشگی اجازت احتجاج کرنے پر کیس درج کیا گیا۔ اسی معاملہ میں اب یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ اورنگ زیب کی تصویر کیوں لائی گئی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا, جبکہ اس واقعہ کے بعد سیاست شروع ہو گئی ہے اور پیپر لیک کا معاملہ اورنگ زیب کے نذر ہو گیا ہے۔ ممبئی پولس کو وزارت داخلہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے اور پولس اس معاملہ میں انکوائری کر رہی ہے۔ پولس نے اب تک جو ایف آئی آر درج کی ہے, اس میں ۶۰۰ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان