Connect with us
Sunday,21-June-2026

جرم

ملک میں کہاں جاکر تھمے گا عصمت دری کا طوفان؟ کب تک مردوں کی گندی ہوس کی قربان گاہ پر بیٹیوں کی قربانی دی جائیں گی؟ آخر کب تک؟

Published

on

اسپیشل اسٹوری:وفا ناپید
دیوی دیوتاؤں کی مقدس سرزمین ہند اس وقت غلیظ ناپاک اور ہوس کے پجاری وحشی درندوں کی حیوانیت سے شرمسار ہیں. یکے بعد دیگرے معصوم لڑکیوں اور نابالغ بچیوں کو یہ جھنڈ کی شکل میں اپنی ہوس کا شکار بناکر کونسی مردانگی دکھا رہے ہیں. ارے یہ مرد نہیں نامرد ہے جو اس طرح معصوم کلیوں کو مسل کر اپنی مردانگی جانچ کررہے ہیں. نربھیا سے لے کر ہاتھرس متاثرہ تک, ابھی حالیہ ہی میں جلگاؤں کی ایک معصوم 14 سالہ کی اجتماعی عصمت دری کرکے اس کے تین معصوم بہن بھائیوں کے ساتھ متاثرہ کا بھی بے رحمانہ قتل کردیا گیا. جس وقت یہ خبر ہمارے پاس آئی. للہ ہمارے ہوش اڑ گئے. یہ وارات اس وقت انجام دی گئی جب بچوں کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ خاندان مدھیہ پردیش سے جلگاؤں تلاش معاش کے لئے آیا تھا۔ مہتاب اور اس کی اہلیہ کا تعلق مدھیہ پردیش کے علاقے گڑھی سے ہے۔
مہتاب اور اس کی اہلیہ روملی بائی بھیلالا بورکھیڑا گاؤں کے مصطفی نامی شخص کے یہاں کاشتکاری کرتے ہیں۔ جس سے ان کی گزر اوقات ہوتی تھی. کسی کام کی وجہ سے، میاں بیوی, بچوں کو جلگاؤں میں گھر پر چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں مدھیہ پردیش گئے تھے۔ اس دوران بچے گھر میں تنہا تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 14 سالہ بچی سئیتا، 11 سالہ راول، 8 سالہ انیل اور 3 سالہ سمن شامل ہیں۔ ان چاروں بچوں کی نعش مالک مصطفیٰ کے کھیت سے ملی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ چاروں بچوں کا قتل کلہاڑی سے کیا گیا ہے۔ پولیس کو شبہ تھا کہ چاروں قتل میں ایک ہی کلہاڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس نے اسی وقت پورے علاقے کو سیل کردیا تھا اور نہایت باریک بینی سے تحقیقات کا عمل جاری تھا۔ یہ قتل عام شہر سے صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر انجام دیا گیا تھا۔ تمام تفصیلات جان کر ذہن میں پہلا سوال یہی تھا کہ یہ قتل نہیں بلکہ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ ہے کیونکہ 14, 11, 8 اور 3 سال کے ان معصوم بچوں کی بھلا کسی سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے. اور آج جب پولس نے قتل کی اس واردات میں 3 ملزمان کو گرفتار کیا تو اس بےرحمانہ قتل کے پیچھے چھپی ہوس اور درندگی کی ساری کہانی طشت از بام ہوئی. ان وحشی درندوں نے پولس کے سامنے اعترافِ جرم کیا ہے۔ پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران ملزمین نے حیران کن انکشافات کرکے بتایا کہ انہوں نے پہلے عصمت دری کی کوشش کی تھی۔ مخالفت کرنے پر، تینوں بھائی بہنوں کو کلہاڑی سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد، باری باری ان کی بہن کی عصمت دری کی اور پھر اس کا بھی قتل کردیا۔
ریاستی حکومت بھی اس دل دہلانے والی واردت سے متحرک ہوگئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس قتل کا سراغ لگانے میں ڈاگ اسکواڈ کا اہم کردار رہا۔ جب خون سے سنی ہوئی کلہاڑی کتوں کو سنگھائی گئی تو کھوجی کتے پولیس کو تحصیل راویر کے ایک لاج میں لے گئے۔ پولیس کو وہاں ایک مشتبہ ملزم ملا۔ اس کے بعد پولیس نے 5 افراد کو اپنی تحویل میں لیا۔ ان 5 افراد میں سے 3 افراد نے اپنا جرم تسلیم کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، واردات کی پوری تفصیل یہ ہے کہ جب بچے رات کو سو رہے تھے تو ملزمین کھڑکی توڑ کر ان کے گھر میں داخل ہوئے اور 14 سالہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی کوشش کی۔ اسی دوران باقی بہن بھائی نیند سے بیدار ہوگئے اور انہوں نے مداخلت شروع کردی۔ ملزمان نے تینوں بہن بھائیوں کو ایک ایک کرکے ہلاک کیا اور پھر اس کے بعد 14 سالہ لڑکی کو باری باری اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ اجتماعی عصمت دری کے بعد ملزمین نے اس کا بھی قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار تمام ملزمان کا تعلق قبائلی سماج سے ہے اور سب کی عمر 21 سے 23 سال کے درمیان ہے۔ جلگاؤں شہر کے سرپرست وزیر گلاب راؤ پاٹل نے بتایا کہ اس معاملے میں تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں نے مبینہ طور پر کلہاڑی کی مدد سے قتل کی واردات کو انجام دیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں ہوگی۔ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ اس معاملے میں اُجول نکم کو سرکاری وکیل کے طور پر مقرر کیا جائے۔
اب جناب کیس عدالت میں جائے گا. تاریخ پر تاریخ ملے گی. نربھیا کو فاسٹ ٹریک کورٹ سے انصاف ملنے میں 7 سال کا طویل عرصہ لگا تھا. یہ کورونا کا دور ہے. اب تو اور 10 سال لگیں گے. اس کے بعد کیا ؟ لڑکی کی عصمت تو ایک بار تاتار ہوتی ہے مگر کورٹ میں تو ہر تاریخ پر اس کی عصمت دری کی جاتی ہے. جب کہ سارے گواہ اور ثبوت موجود ہیں ملزمین نے اِقبال جرم کرلیا ہے تب سیدھا دو پیشی میں پھانسی کی سزا دے کر متاثرہ کو انصاف دیا جانا چاہئے. تب انصاف ہوگا. ورنہ فاسٹ ٹریک عدالتیں انصاف دینے میں 7 سال لگائے گی تو پھر عصمت دری کا یہ طوفان کبھی نہیں تھمے گا. اگر حکومت واقعی بیٹیوں کا تحفظ چاہتی ہیں تو اب سے پہلے فحش ویب سائٹس کو بینڈ کریں. اب تو دیا ٹک اور وہاٹس اپ پر بھی فحاشیت نے اپنے قدم جما دیئے ہیں. ساتھ ہر ملک کی ہر ریاست میں ایک ایسا دستہ بنایا جائے تو پبلک پیلس, پارک اور دیگر تفریح کی جگہوں پر آوارہ سانڈ کی طرح گھومتے ان انسان نما درندوں سے پاک کریں اور رات کا گشت بڑھا دیں. کیونکہ رات کے اوقات میں ہی ان درندوں میں ہوس کی آگ بھڑکتی ہیں. رات کے وقت مٹرگشت کرنے والے کسی بھی نوجوان کو سیدھا حوالات کی ہوا کھلائے. ساتھ ہی جس طرح ہماری انٹیلی جنس شوشل میڈیا پر نظر رکھتی ہیں. ویسے ہی تمام شوشل سائٹس پر پولس کی کڑی نگرانی ہو. تب شاید ملک کی بیٹیاں کو تحفظ ملے گا اور والدین اپنے آوارہ بیٹوں پر قابو پاسکیں گے. ایک بات اور انصاف میں تاخیر خود انصاف کا خون ہیں. لہذا ملک کی جتنی بھی متاثرہ ہیں سب کے مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے تو انکی روح کو چین ملے گا.

تفریح

فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

Published

on

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔

ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔

Continue Reading

تفریح

سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

Published

on

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔

اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔

4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔

تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔

Continue Reading

تفریح

دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔

فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔

اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔

’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان