Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

ملک میں کہاں جاکر تھمے گا عصمت دری کا طوفان؟ کب تک مردوں کی گندی ہوس کی قربان گاہ پر بیٹیوں کی قربانی دی جائیں گی؟ آخر کب تک؟

Published

on

اسپیشل اسٹوری:وفا ناپید
دیوی دیوتاؤں کی مقدس سرزمین ہند اس وقت غلیظ ناپاک اور ہوس کے پجاری وحشی درندوں کی حیوانیت سے شرمسار ہیں. یکے بعد دیگرے معصوم لڑکیوں اور نابالغ بچیوں کو یہ جھنڈ کی شکل میں اپنی ہوس کا شکار بناکر کونسی مردانگی دکھا رہے ہیں. ارے یہ مرد نہیں نامرد ہے جو اس طرح معصوم کلیوں کو مسل کر اپنی مردانگی جانچ کررہے ہیں. نربھیا سے لے کر ہاتھرس متاثرہ تک, ابھی حالیہ ہی میں جلگاؤں کی ایک معصوم 14 سالہ کی اجتماعی عصمت دری کرکے اس کے تین معصوم بہن بھائیوں کے ساتھ متاثرہ کا بھی بے رحمانہ قتل کردیا گیا. جس وقت یہ خبر ہمارے پاس آئی. للہ ہمارے ہوش اڑ گئے. یہ وارات اس وقت انجام دی گئی جب بچوں کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے اور یہ خاندان مدھیہ پردیش سے جلگاؤں تلاش معاش کے لئے آیا تھا۔ مہتاب اور اس کی اہلیہ کا تعلق مدھیہ پردیش کے علاقے گڑھی سے ہے۔
مہتاب اور اس کی اہلیہ روملی بائی بھیلالا بورکھیڑا گاؤں کے مصطفی نامی شخص کے یہاں کاشتکاری کرتے ہیں۔ جس سے ان کی گزر اوقات ہوتی تھی. کسی کام کی وجہ سے، میاں بیوی, بچوں کو جلگاؤں میں گھر پر چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں مدھیہ پردیش گئے تھے۔ اس دوران بچے گھر میں تنہا تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 14 سالہ بچی سئیتا، 11 سالہ راول، 8 سالہ انیل اور 3 سالہ سمن شامل ہیں۔ ان چاروں بچوں کی نعش مالک مصطفیٰ کے کھیت سے ملی ہے۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا تھا کہ چاروں بچوں کا قتل کلہاڑی سے کیا گیا ہے۔ پولیس کو شبہ تھا کہ چاروں قتل میں ایک ہی کلہاڑی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس نے اسی وقت پورے علاقے کو سیل کردیا تھا اور نہایت باریک بینی سے تحقیقات کا عمل جاری تھا۔ یہ قتل عام شہر سے صرف ایک کلو میٹر کے فاصلے پر انجام دیا گیا تھا۔ تمام تفصیلات جان کر ذہن میں پہلا سوال یہی تھا کہ یہ قتل نہیں بلکہ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ ہے کیونکہ 14, 11, 8 اور 3 سال کے ان معصوم بچوں کی بھلا کسی سے کیا دشمنی ہوسکتی ہے. اور آج جب پولس نے قتل کی اس واردات میں 3 ملزمان کو گرفتار کیا تو اس بےرحمانہ قتل کے پیچھے چھپی ہوس اور درندگی کی ساری کہانی طشت از بام ہوئی. ان وحشی درندوں نے پولس کے سامنے اعترافِ جرم کیا ہے۔ پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران ملزمین نے حیران کن انکشافات کرکے بتایا کہ انہوں نے پہلے عصمت دری کی کوشش کی تھی۔ مخالفت کرنے پر، تینوں بھائی بہنوں کو کلہاڑی سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد، باری باری ان کی بہن کی عصمت دری کی اور پھر اس کا بھی قتل کردیا۔
ریاستی حکومت بھی اس دل دہلانے والی واردت سے متحرک ہوگئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس قتل کا سراغ لگانے میں ڈاگ اسکواڈ کا اہم کردار رہا۔ جب خون سے سنی ہوئی کلہاڑی کتوں کو سنگھائی گئی تو کھوجی کتے پولیس کو تحصیل راویر کے ایک لاج میں لے گئے۔ پولیس کو وہاں ایک مشتبہ ملزم ملا۔ اس کے بعد پولیس نے 5 افراد کو اپنی تحویل میں لیا۔ ان 5 افراد میں سے 3 افراد نے اپنا جرم تسلیم کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، واردات کی پوری تفصیل یہ ہے کہ جب بچے رات کو سو رہے تھے تو ملزمین کھڑکی توڑ کر ان کے گھر میں داخل ہوئے اور 14 سالہ لڑکی کے ساتھ عصمت دری کی کوشش کی۔ اسی دوران باقی بہن بھائی نیند سے بیدار ہوگئے اور انہوں نے مداخلت شروع کردی۔ ملزمان نے تینوں بہن بھائیوں کو ایک ایک کرکے ہلاک کیا اور پھر اس کے بعد 14 سالہ لڑکی کو باری باری اپنی ہوس کا شکار بنایا۔ اجتماعی عصمت دری کے بعد ملزمین نے اس کا بھی قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار تمام ملزمان کا تعلق قبائلی سماج سے ہے اور سب کی عمر 21 سے 23 سال کے درمیان ہے۔ جلگاؤں شہر کے سرپرست وزیر گلاب راؤ پاٹل نے بتایا کہ اس معاملے میں تین ملزمان کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں نے مبینہ طور پر کلہاڑی کی مدد سے قتل کی واردات کو انجام دیا تھا۔ انہوں نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو دو لاکھ روپے کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں ہوگی۔ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ اس معاملے میں اُجول نکم کو سرکاری وکیل کے طور پر مقرر کیا جائے۔
اب جناب کیس عدالت میں جائے گا. تاریخ پر تاریخ ملے گی. نربھیا کو فاسٹ ٹریک کورٹ سے انصاف ملنے میں 7 سال کا طویل عرصہ لگا تھا. یہ کورونا کا دور ہے. اب تو اور 10 سال لگیں گے. اس کے بعد کیا ؟ لڑکی کی عصمت تو ایک بار تاتار ہوتی ہے مگر کورٹ میں تو ہر تاریخ پر اس کی عصمت دری کی جاتی ہے. جب کہ سارے گواہ اور ثبوت موجود ہیں ملزمین نے اِقبال جرم کرلیا ہے تب سیدھا دو پیشی میں پھانسی کی سزا دے کر متاثرہ کو انصاف دیا جانا چاہئے. تب انصاف ہوگا. ورنہ فاسٹ ٹریک عدالتیں انصاف دینے میں 7 سال لگائے گی تو پھر عصمت دری کا یہ طوفان کبھی نہیں تھمے گا. اگر حکومت واقعی بیٹیوں کا تحفظ چاہتی ہیں تو اب سے پہلے فحش ویب سائٹس کو بینڈ کریں. اب تو دیا ٹک اور وہاٹس اپ پر بھی فحاشیت نے اپنے قدم جما دیئے ہیں. ساتھ ہر ملک کی ہر ریاست میں ایک ایسا دستہ بنایا جائے تو پبلک پیلس, پارک اور دیگر تفریح کی جگہوں پر آوارہ سانڈ کی طرح گھومتے ان انسان نما درندوں سے پاک کریں اور رات کا گشت بڑھا دیں. کیونکہ رات کے اوقات میں ہی ان درندوں میں ہوس کی آگ بھڑکتی ہیں. رات کے وقت مٹرگشت کرنے والے کسی بھی نوجوان کو سیدھا حوالات کی ہوا کھلائے. ساتھ ہی جس طرح ہماری انٹیلی جنس شوشل میڈیا پر نظر رکھتی ہیں. ویسے ہی تمام شوشل سائٹس پر پولس کی کڑی نگرانی ہو. تب شاید ملک کی بیٹیاں کو تحفظ ملے گا اور والدین اپنے آوارہ بیٹوں پر قابو پاسکیں گے. ایک بات اور انصاف میں تاخیر خود انصاف کا خون ہیں. لہذا ملک کی جتنی بھی متاثرہ ہیں سب کے مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے تو انکی روح کو چین ملے گا.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان