Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی

Published

on

maulanna

دھولیہ :(خیال اثر)
اسلام میں نشہ آور چیز حرام ہے۔ اسلام جس کام سے منع کرتا ہے اس میں دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نشہ اور نشہ آور ادویات کی وجہ سے تباہی کے اندھے کنویں کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔دنیا پریشانیوں اور مصیبتوں کا دوسرا نام ہے،اگر کوئی حالات کا شکار ہوتا ہے تو اس کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہارمفتی محمدہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں و ڈائریکٹر وائرل نیوز لائیو جلگاؤں،مہاراشٹر نے جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم سے خطاب کے دوران کیا۔
تنظیم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں مرد و خواتین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے. مفتی محمدہارون ندوی نے فرمایا کہ نشہ کی عادت معاشرہ کے لئے ایک خطرناک ناسور ہے،جس نشہ کی زیادہ مقدار حرام ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔نشہ آور غذا اور دوا یا انجیکشن وغیرہ کا استعمال طرح طرح کے مہلک مرض کا سبب بھی بنتے ہیں۔اس لئے ہمیں ان نشہ آور اشیاء کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
مفتی محمدہارون ندوی نے منشیات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔انتظامیہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظریں رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں۔
مفتی موصوف نے نشہ مخالف مہم کو مؤثر بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ خاص طور پرمیڈیا اور سوشل میڈیاکے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا،اس کے علاوہ نوجوان نسل کی صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
موصوف نے سرپرستوں اور ذمہ داروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کوکبھی شوق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کریں۔کیونکہ جب کوئی ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کا عادی بن جاتا ہے تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔
مذکورہ پرگروام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک کی آیتوں سے مولوی اصغر جمیل نے کیا بعدہ مولوی شعیب حنیف نے بارگاہ رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہ نعت پیش فرمایا۔
نشہ مخالف مہم کا یہ پہلا عظیم الشان اجلاس حضرت مولانا قاری مشتاق احمد اشاعتی
امام وخطیب مسجد ہدایت، ہڈکو و استاد مدرسہ فلاح دارین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ کے نہایت فعال رکن مولانا محمد عابد صاحب نے مختصراً لیکن جامع انداز میں پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔ اسی طرح خطیب و امام رحمانی مسجد اہل حدیث حضرت مولانا عبدالواحد رحمانی صاحب نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نشے کی قباحت بیان فرمائی اور اس عوام الناس اس مہم میں مکمل تعاون کی درخواست کی۔
حاجی شوال امین
( نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ) نے نشہ مخالف مہم کی منصوبہ بندیاں نیز نوجوانوں کو نشے کی عادت سے بچانے کے لیے ان کے علاج و معالجے کی معلومات بیان کی ، موصوف نے بتایا کہ الحمدللہ جمعیۃ کی جانب سے کلیان کے نشہ مکت اسپتال میں کچھ بچوں کا علاج کروایا گیا ہے اور مزید علاج شروع بھی ہے، اس سلسلے میں خطیر رقم کی ضرورت بھی ہے، موصوف نے ہر طرح کے فلاحی کاموں کی امداد کے ساتھ اس اہم کام میں اپنا دست تعاون دراز کرنے کی عوام الناس سے اپیل کی ۔
اس عظیم الشان اجلاس میں بطورِ مہمان خاص
حضرت مفتی قاسم جیلانی
( مہتمم مدرسہ فلاح دارین و صدر جمعیۃ علماء دھولیہ)
حضرت مفتی مسعود قاسمی
( استاد مدرسہ ریاض الجنہ، دھولیہ)
حضرت مولانا مشتاق احمد
( استاد مدرسہ قمرالزماں، دھولیہ)
حافظ حفظ الرحمن صاحب
( صدر جمعیۃ علماء ، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا شکیل قاسمی
مفتی شفیق قاسمی
مولانا ہلال قاسمی
جمعیۃ کے دیگر تمام عہدے داران و ذمے داران کے ساتھ جمعیۃ کی ماتحتی میں قائم تنظیم اصلاح معاشرہ کے تمام معزز علماء و مفتیان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ
یہ عظیم الشان اجلاس ہر اعتبار سے کامیاب رہا، تمام ہی خادمین جمعیۃ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی کوشش و محنت کی ۔
عین اجلاس سے کچھ دیر قبل ایک خبر ملی جسے سن کر تمام ذمے داران کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ جمعیۃ کے ایک انتہائی مخلص خادم، بے لوث خدمت گزار
نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا
کے مصداق
سلیم پینٹر المعروف سلیم ملا اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم اس پروگرام کی تیاری میں شروع دن سے ہی نہایت متحرک تھے ۔ مہمان مقرر مفتی ہارون ندوی اور ان کے ساتھ تمام مقامی و بیرونی مہمانان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔
مدرسہ سراج العلوم کے مہمان خانے کی صفائی سے لے کر تمام تر انتظامات مرحوم نے اپنے ہاتھوں کیے ۔ لیکن مرضی مولا کے آگے سب بے بس ہیں. اچانک سینے میں تکلیف اٹھی. گھر گئے، دواخانے کے لیے لے جایا گیا لیکن راستے ہی میں راہی عدم ہوگئے ۔
دورانِ پروگرام ہی کچھ ساتھی مرحوم کے گھر پہنچ کر انتظامات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوگئے، اختتام کے بعد جمعیۃ کا پورا وفد ساتھ ہی مفتی ہارون ندوی بھی مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کے اعزہ کے ساتھ تسلی آمیز جملے بیان کرکے ان کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ۔
صبح دس بجے مرحوم کی تدفین نئے مسلم قبرستان دھولیہ میں کی گئی ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.

(جنرل (عام

وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

Published

on

MLA-Amanatullah-Khan

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔

اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

قومی

کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

Published

on

Waqf-Bill-2024

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔

تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔

پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:

  • ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
  • وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
  • وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
  • متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :

  • ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
  • مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
  • غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
  • انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
  • شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔

فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |

نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com