(جنرل (عام
حالات کے شکار لوگوں کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے:مفتی محمدہارون ندوی
دھولیہ :(خیال اثر)
اسلام میں نشہ آور چیز حرام ہے۔ اسلام جس کام سے منع کرتا ہے اس میں دنیا و آخرت دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ نشہ اور نشہ آور ادویات کی وجہ سے تباہی کے اندھے کنویں کی طرف بہت تیزی سے جارہا ہے۔دنیا پریشانیوں اور مصیبتوں کا دوسرا نام ہے،اگر کوئی حالات کا شکار ہوتا ہے تو اس کو حوصلہ چھوڑ کر منشیات کا سہارا نہیں لینا چاہئے۔ان خیالات کا اظہارمفتی محمدہارون ندوی صدر جمعیۃعلماء ضلع جلگاؤں و ڈائریکٹر وائرل نیوز لائیو جلگاؤں،مہاراشٹر نے جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام جلسہ عام بعنوان نشہ مخالف مہم سے خطاب کے دوران کیا۔
تنظیم اصلاح معاشرہ جمعیۃعلماء دھولیہ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ عام میں ہزاروں مرد و خواتین کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے. مفتی محمدہارون ندوی نے فرمایا کہ نشہ کی عادت معاشرہ کے لئے ایک خطرناک ناسور ہے،جس نشہ کی زیادہ مقدار حرام ہے اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔نشہ آور غذا اور دوا یا انجیکشن وغیرہ کا استعمال طرح طرح کے مہلک مرض کا سبب بھی بنتے ہیں۔اس لئے ہمیں ان نشہ آور اشیاء کا انفرادی اور اجتماعی طور پر بائیکاٹ کرنا چاہئے۔
مفتی محمدہارون ندوی نے منشیات کی روک تھام کے لئے انتظامیہ اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔انتظامیہ کے ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظریں رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ان کے مشاغل کیا ہیں۔
مفتی موصوف نے نشہ مخالف مہم کو مؤثر بنانے کے لئے ذرائع ابلاغ خاص طور پرمیڈیا اور سوشل میڈیاکے وسائل کو نشہ مخالف ذہن سازی کے لئے استعمال کرنے پر زور دیا،اس کے علاوہ نوجوان نسل کی صحت مند سرگرمیوں کی ضرورت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔
موصوف نے سرپرستوں اور ذمہ داروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل میں شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ نشے کوکبھی شوق میں بھی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشہ کرنے والے یا بیچنے والے شخص کے ساتھ دوستی کریں۔کیونکہ جب کوئی ایک مرتبہ کسی منشیات فروش یا استعمال کرنے والے شخص کے چکر میں پھنس کر نشے کا عادی بن جاتا ہے تو پھر ساری زندگی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے،جس کا نتیجہ تباہی و بربادی ہے۔
مذکورہ پرگروام کا آغاز تلاوتِ کلام پاک کی آیتوں سے مولوی اصغر جمیل نے کیا بعدہ مولوی شعیب حنیف نے بارگاہ رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہ نعت پیش فرمایا۔
نشہ مخالف مہم کا یہ پہلا عظیم الشان اجلاس حضرت مولانا قاری مشتاق احمد اشاعتی
امام وخطیب مسجد ہدایت، ہڈکو و استاد مدرسہ فلاح دارین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جمعیۃ کے نہایت فعال رکن مولانا محمد عابد صاحب نے مختصراً لیکن جامع انداز میں پروگرام کی غرض و غایت بیان کی۔ اسی طرح خطیب و امام رحمانی مسجد اہل حدیث حضرت مولانا عبدالواحد رحمانی صاحب نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نشے کی قباحت بیان فرمائی اور اس عوام الناس اس مہم میں مکمل تعاون کی درخواست کی۔
حاجی شوال امین
( نائب صدر جمعیۃ علماء دھولیہ) نے نشہ مخالف مہم کی منصوبہ بندیاں نیز نوجوانوں کو نشے کی عادت سے بچانے کے لیے ان کے علاج و معالجے کی معلومات بیان کی ، موصوف نے بتایا کہ الحمدللہ جمعیۃ کی جانب سے کلیان کے نشہ مکت اسپتال میں کچھ بچوں کا علاج کروایا گیا ہے اور مزید علاج شروع بھی ہے، اس سلسلے میں خطیر رقم کی ضرورت بھی ہے، موصوف نے ہر طرح کے فلاحی کاموں کی امداد کے ساتھ اس اہم کام میں اپنا دست تعاون دراز کرنے کی عوام الناس سے اپیل کی ۔
اس عظیم الشان اجلاس میں بطورِ مہمان خاص
حضرت مفتی قاسم جیلانی
( مہتمم مدرسہ فلاح دارین و صدر جمعیۃ علماء دھولیہ)
حضرت مفتی مسعود قاسمی
( استاد مدرسہ ریاض الجنہ، دھولیہ)
حضرت مولانا مشتاق احمد
( استاد مدرسہ قمرالزماں، دھولیہ)
حافظ حفظ الرحمن صاحب
( صدر جمعیۃ علماء ، ضلع دھولیہ)
مولانا ضیاء الرحمن
( صدر جمعیۃ علماء، شہر دھولیہ)
مولانا شکیل قاسمی
مفتی شفیق قاسمی
مولانا ہلال قاسمی
جمعیۃ کے دیگر تمام عہدے داران و ذمے داران کے ساتھ جمعیۃ کی ماتحتی میں قائم تنظیم اصلاح معاشرہ کے تمام معزز علماء و مفتیان کثیر تعداد میں موجود تھے ۔
الحمدللہ ثم الحمدللہ
یہ عظیم الشان اجلاس ہر اعتبار سے کامیاب رہا، تمام ہی خادمین جمعیۃ نے پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی کوشش و محنت کی ۔
عین اجلاس سے کچھ دیر قبل ایک خبر ملی جسے سن کر تمام ذمے داران کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔ جمعیۃ کے ایک انتہائی مخلص خادم، بے لوث خدمت گزار
نہ ستائش کی تمنا، نہ صلے کی پروا
کے مصداق
سلیم پینٹر المعروف سلیم ملا اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم اس پروگرام کی تیاری میں شروع دن سے ہی نہایت متحرک تھے ۔ مہمان مقرر مفتی ہارون ندوی اور ان کے ساتھ تمام مقامی و بیرونی مہمانان کی خدمت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔
مدرسہ سراج العلوم کے مہمان خانے کی صفائی سے لے کر تمام تر انتظامات مرحوم نے اپنے ہاتھوں کیے ۔ لیکن مرضی مولا کے آگے سب بے بس ہیں. اچانک سینے میں تکلیف اٹھی. گھر گئے، دواخانے کے لیے لے جایا گیا لیکن راستے ہی میں راہی عدم ہوگئے ۔
دورانِ پروگرام ہی کچھ ساتھی مرحوم کے گھر پہنچ کر انتظامات کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوگئے، اختتام کے بعد جمعیۃ کا پورا وفد ساتھ ہی مفتی ہارون ندوی بھی مرحوم کے مکان پہنچ کر ان کے اعزہ کے ساتھ تسلی آمیز جملے بیان کرکے ان کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ۔
صبح دس بجے مرحوم کی تدفین نئے مسلم قبرستان دھولیہ میں کی گئی ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔
اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
