Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں اسلام پورہ کے عثمان غنی عبداللہ کو گھریلو بجلی بل 7,لاکھ,36,ہزار,480 روپیہ, دیا گیا

Published

on

light-bill

مالیگاؤں(پریس ریلیز )
مالیگاؤں میں کولکاتہ بجلی کمپنی بنام مالیگاوں پاور سپلائی لمیٹیڈ نے گذشتہ تقریباً سال بھر سے بجلی کے نظام کو سنبھالا ہے۔ حالاں کہ مقامی سطح پر پرائیویٹ بجلی کمپنی کیخلاف جس ڈھنگ کا احتجاج ہونا چاہیئے تھا وہ نہیں ہوا اس لئے حکومت نے اہلیان شہر پر اس عذاب کو تھوپا ہے۔ جبکہ شہر کے بنکروں کو کارنر میٹنگوں کے ذریعہ بھیونڈی کی ٹورینٹ پاور کی مثالیں دیکر سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن نہ بنکروں میں اتحاد پیدا ہوا اور نہ ہی سیاسی لیڈران نے شہر کے بنکروں کی بھلائی کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ صرف برسراقتدار کانگریس کے ایم۔ایل۔اے۔ نے ایوانِ اسمبلی سے لیکر پاور ہاؤس تک پرائیویٹ کمپنی کیخلاف مظاہرہ کیا اور اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب رہے کہ جب تک وہ ایم ایل۔اے رہے کولکاتہ کمپنی کو مالیگاؤں کا نظام سنبھالنے نہیں دیا گیا۔
واضح رہے کہ جاری مہینے میں ماہ جنوری کی بلوں کی تقسیم جاری ہے۔ اسلام پورہ گلی نمبر 12, عثمان غنی عبداللہ کے نام پر جو میٹر ہے اس کا گھریلو بجلی بل کولکاتہ کمپنی بنام مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹیڈ نے 7,لاکھ، 36,ہزار، 480,روپئے ریکارڈ کیا ہے اس میں کوئی تھک باقی نہیں ہے کیونکہ اسی بجلی بل کی پپشت پر 19,دسمبر 2020 کو 560,روپیہ، 17نومبر 2020 کو 1160,روپیہ، 18,ستمبر 2020 کو 660,روپیہ، 25,اگست 2020 کو 570,روپیہ، 28,جولائی 2020 کو 2270,روپیہ اور 21,مارچ 2020 کو 530,روپیہ ادا کیا گیا ہے ایسا درج ہے۔ بل کی ٹیرف میں صاف طور پر واضح ہیکہ اپریل مئی اور جون میں بل نہیں بھرا گیا ہے تو جولائی میں زیادہ رقم بھری گئی ہے اور اکتوبر کا تھک بقایا نومبر میں ادا کیا گیا ہے پھر صرف جنوری 2021 کا بل لاکھوں میں درج ہونا پرائیویٹ بجلی کمپنی کا عتاب نہیں تو کیا ہے؟ جس وقت یہ گھریلو بجلی بل لاکھوں میں آیا انہوں نے فوراً قدوائی روڈ ہاکرس یونین کے شیخ سلمان کو بتلایا شیخ سلمان نے فوری طور پر مالیگاؤں پاورسپلائی لمیٹیڈ کے ذمہ داران سے بھری ہوئی بلوں کی کاپیوں کو بتلاکر اس ظلم اور زیادتی پر اپنے غصہ کا اظہار کیا ذمہ داران نے شیخ سلمان کی باتوں میں سچائی جان کر اپنے معاؤنین کی کوتاہی اور غلطی کا اعتراف کیا اور بل درست کرکے دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ شیخ سلمان کا کہنا ہیکہ یہ صرف ایک بل کا مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اس طرح کی اکثر غلطیوں سے شہریان پریشان ہیں اسلئے یرائیویٹ بجلی کمپنی کے عذاب سے بچنے کیلئے شہر کے سیاسی لیڈران، بنکروں اور پاور کنزومروں کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ اور جتنی جلد ممکن ہوسکے اس پرائیویٹ کمپنی کو شہر بدر کرنا چاہیئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان