Connect with us
Thursday,21-May-2026
تازہ خبریں

جرم

یوپی:کووڈ۔19 کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 657 ہوئی، 8افراد کی موت

Published

on

virus

اترپردیش میں گذشتہ 24گھنٹوں میں تقریبا 100 نئے مریضوں کی شناخت کے بعد ریاست میں کووڈ۔19 متاثرہ مصدقہ مریضوں کی مجموعی تعداد تقریبا 657 ہوگئی۔جبکہ منگل کو تین اموات کے ساتھ ریاست میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 8ہوگئی ۔
وہیں مجموعی متاثرین میں سے ابھی تک 49 افراد مکمل شفایا ب ہوکر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں جبکہ پیلی بھیت میں دو کیسز کی تصدیق کے بعد اب دونوں مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور پیلی بھیت میں کسی بھی نئے کیسیز کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔اس طرح ریاست میں ایک ضلع متاثرہ ہونے کے بعد اب دوبارہ متاثرہ اضلاع کی فہرست سے نکل کر غیر متاثرہ اضلاع کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

ریاست کے پرنسپل سکریٹری( صحت) امت موہن پرساد نے منگل کو بتایا کہ ریاست میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اچانک اضافہ ٹیسٹ سہولیت میں توسیع اور پہلے سے التوار میں پڑے جانچ نمونوں کی رپورٹ آنے ککی سبب ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کو ریاست میں ہمارے لیبوں نے تقریا 2643 نمونوں کی جانچ کی جو کو ابھی تک سب سے زیادہ ہے۔اس وقت تک ریاست میں تقریبا 16000 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے جن میں سے 657افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔
مسٹر پرساد نے دعوی کیا کہ لاک ڈاؤن اترپردیش جیسے کثیر آبادی والے صوبہ کے لئے مکمل طور سے معاون رہا ہے۔22کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والی ریاست میں مذکورہ مثبت کیسز کوئی خاص زیادہ نہیں ہیں۔ہم متاثرہ علاقوں کی تعداد کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں اور وائرس کو روکنے کے لئے ہر اقدام کررہے ہیں۔ انتظامیہ کے اہلکارزیادہ سے زیادہ سینیٹائزیشن کا کام کررہے ہیں ۔مثبت کیس کی تصدیق کے بعد تین کلو میٹر کے دائر ے کے رقبے میں گھر گھر جاکر چیکنگ کی جارہی ہے اور “بفر زون” کے طور پر نشان زد کئے گئے علاقوں کے دو کلو میٹر کے آس پاس کے علاقوں میں جانچ کی جارہی ہے۔
طبی افسران نے بتایا کہ حکومت نے شیلٹر ہومس میں 14 دنوں کی قرنطینہ کی مدت پوری کر چکے افراد کو گھر بھیجنےکا فیصلہ کیا ہے ۔لیکن گھر پہنچ کر انہیں گھروں کے اندر 14مزید دنوں کے لئے قرنطینہ میں رہنا ہوگا اور حکومت ان پر نظر رکھے گی تاکہ وہ ہدایات کی خلاف ورزی نہ کریں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں تقریبا 1.20 لاکھ افراد مختلف شلٹر ہومس میں قیام پذیر ہیں۔ان میں سے جن لوگوں نے 14دنوں کا قرنطینہ پورا کرلیا ہے اور اگر وہ ریاست ہی کے رہنے والے ہیں تو انہیں ان کے گھر بھیج دیا جائے لیکن اگر وہ بیرون ریاست کے ہیں تو اپنے وطن جانے کے لئے انہیں لاک ڈاؤن کے ختم ہوجانے تک انتظار کرنا ہوگا ۔
بیرون ممالک سے آنے والے تقریبا 71917 افراد جو کہ حکومت کی نگرانی میں تھے انہوں نے اپنا 28 دنوں کا قرنطینہ پورا کرلیا۔مسٹر پرساد نے کہا کہ 9274 افراد جن میں کورونا وائرس کے علامات ہیں یا جو کسی کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کے رابطے میں آئے ہیں انہیں ادارہ جاتی قرنطینہمیں رکھا گیا ہےاور ان کی جانچ کی جائےگی۔

جرم

مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھلے عام فائرنگ, یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا اور کہرام مچ گیا۔

Published

on

Firing

ناگپور : مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائک سوار نوجوانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر کی طرف کھلے عام فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے حساس زون میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس واقعہ نے سیکورٹی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، جب کہ ناگپور میں محل کے کوٹھی روڈ علاقے میں فائرنگ کے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ یہ علاقہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب ہے۔ سنگھ کا ہیڈکوارٹر ریشم باغ میں واقع ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، 17 مئی کو تقریباً 11:30 بجے پیش آیا، جب چھ نامعلوم افراد تین موٹرسائیکلوں پر آئے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر سے 1.5 کلومیٹر (کلومیٹر) دور ایک علاقے میں فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روی موہتو اور گنگا کاکڑے نے شکایت کنندہ سوربھ کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے علاقے میں تسلط قائم کرنے اور دہشت پھیلانے کی نیت سے فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کو ملزمان کے درمیان جھگڑے کا شبہ ہے۔ ریشم باغ میں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ناگپور کے محل علاقے کے کوٹھی روڈ علاقے میں دو راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ روی موہتو، گنگا کاکڑے، اور دیگر ملزمان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سامان رکھنے کا سابقہ ​​مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر کے پیش نظر پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد کوتوال تھانے کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعہ سے محل کے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پاکستانی شہزاد بھٹی لنک کیس : اے ٹی ایس نے ممبئی کے میرا روڈ، پونے، ناگپور اور مہاراشٹر میں چھاپے مارے۔ 57 نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی۔

Published

on

ATS

ممبئی : مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بدھ کو پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی اور ڈوگرہ گینگ کے نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد ان افراد کو نشانہ بنانا ہے جو پاکستان میں موجود گینگسٹر نیٹ ورکس بشمول شہزاد بھٹی گینگ اور ڈوگرہ گینگ سے وابستہ ہیں یا ان سے روابط رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق، مربوط چھاپے بدھ کی صبح آٹھ بجے مہاراشٹر کے کئی مقامات پر شروع ہوئے اور رات گئے تک جاری رہے۔ چھاپے کے دوران اے ٹی ایس نے 57 لوگوں سے پوچھ گچھ کی، جن میں ممبئی کے 17، چھترپتی سمبھاجی نگر کے 14 اور پونے اور ناسک سے آٹھ-آٹھ افراد شامل ہیں۔ اے ٹی ایس نے نالاسوپارہ، میرا روڈ، ناگپور، پونے، ممبئی، اکولا، ناندیڑ، ناسک اور جلگاؤں میں چھاپے مارے۔ یہ آپریشن ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کے اندر کام کرنے والے مبینہ گینگسٹر سے متعلق نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے اور ایسے افراد کی شناخت کرنا ہے جن کے ان گینگز کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہونے کا شبہ ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ اے ٹی ایس ان لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو مبینہ طور پر ان بدمعاشوں سے جڑے ہوئے ہیں، بشمول وہ لوگ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں یا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان نیٹ ورکس کے پیروکار یا حامی ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، وقتاً فوقتاً موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سرحد پار سے سرگرم گینگسٹر مبینہ طور پر مہاراشٹر کے نوجوانوں کو متاثر کرنے اور اپنے مجرمانہ نیٹ ورکس میں بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ ان گروہوں نے مبینہ طور پر مقامی نوجوانوں کو پرتعیش طرز زندگی اور مالی فوائد کے وعدے کے ساتھ لالچ دیا۔ ایسا کرکے وہ ریاست کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔ حکام نے کہا کہ اے ٹی ایس کا آپریشن بنیادی طور پر ‘سلیپر سیلز’، مقامی آپریٹو، اور ان گینگز سے وابستہ ممکنہ سپورٹ سسٹم کی شناخت پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسلحے کی اسمگلنگ یا کسی بڑی سازش کو شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روکا جائے۔ اے ٹی ایس کی کئی ٹیمیں فی الحال اس بڑے پیمانے پر تلاشی اور تصدیقی آپریشن میں مصروف ہیں، جو کہ ایک ساتھ مختلف شہروں اور اضلاع میں چلائی جا رہی ہے۔

چھاپوں کے دوران، اے ٹی ایس کے اہلکاروں نے جاری تفتیش کے حصے کے طور پر مشتبہ افراد سے منسلک مقامات سے لیپ ٹاپ، موبائل فون، پین ڈرائیوز اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔ تفتیش کار مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالیاتی لین دین کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا کوئی فنڈز مبینہ طور پر پاکستان یا دیگر غیر ملکی مقامات سے غیر قانونی ‘حوالہ’ چینلز کے ذریعے بھیجے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مبینہ نیٹ ورک کی حد کا تعین کرنا اور اضافی افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو ان گینگسٹرز یا ان سے منسلک دیگر ماڈیولز کے ساتھ رابطے میں ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading

جرم

پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی کنکشن : ممبئی اے ٹی ایس کی ۹ اضلاع میں سمیت مہاراشٹر بھر میں تلاشی مہم۵۷ مشتبہ افراد زیر حراست

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی اے ٹی ایس نے ریاست بھر میں ٩ اضلاع میں چھاپہ مار کاروائی کے دوران ۵۷ افراد کو زیرحراست لیا ہے, ان پر پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی سے تعلقات کا الزام ہے۔ ان افراد سے اے ٹی ایس کی مسلسل پوچھ گچھ جاری ہے اے ٹی ایس آج صبح ۸ بجے سے چھاپہ مار کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران اے ٹی ایس نے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے ساتھ ان کے الیکٹرک گزٹ سمیت دیگر دستاویزات بھی ضبط کئے ہیں۔ اے ٹی ایس ذرائع نے بتایا کہ ان افراد کے شہزاد بھٹی سے تعلقات کے دوران کیا خفیہ اطلاع مشتبہ افراد نے فراہم کی۔ اس کے ساتھ ہی مزید کتنے افراد پاکستانی گینگسٹر کے رابطے ہیں اس کی تفتیش جاری ہے نالا سوپارہ، ناسک، بیڑ، میرا روڈ سمیت تقریبا ۹ اضلاع میں کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اے ٹی ایس ذرائع نے بتایاکہ آن لائن بھی یہ مشتبہ افراد شہزاد بھٹی کے رابطے میں تھے اس کے ساتھ ہی شہزاد بھٹی کو یہ کیا اطلاعات فراہم کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے, البتہ اے ٹی ایس کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران بیڑ میں بھی دو مشتبہ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے۔ اس چھاپہ مار کارروائی سے سنسنی پھیل گئی۔ علی الصبح تفتیشی اداروں نے پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے کے شبہ میں کئی مقامات پر چھاپے مارے اور رابطہ کاروں کو زبردست لیا۔ بیڑ ضلع میں ددو مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے ان کی شناخت بالو رنگناتھ پاتھاڈے، تعلقہ اشٹی، ضلع بیڑ کے ساکن اور کرن جگن ناتھ بھور، آسٹا، تعلقہ اشٹی، ضلع بیڑ ساکن کے طور پر ہوئی ہے ان دونوں سے تلاشی مہم کے دوران کوئی بھی قابل اعتراض مشمولات برآمد نہیں ہوا ہے, جبکہ اے ٹی ایس نے ان مشتبہ افراد کے قبضے سے موبائل بھی برآمد کئے ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ موبائل پر رابطہ کاروں کے کنکشن کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اے ٹی ایس کی کارروائی کے بعد ریاست بھر میں گینگسٹر بھٹی کے نیٹ ورک کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان