Connect with us
Monday,29-June-2026
تازہ خبریں

سیاست

یوپی سرمایہ کاروں کی پہلی پسند : یوگی

Published

on

yogi

اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعہ کو دعوی کیا، کہ گذشتہ چار سالوں کے میعاد کار کے دوران ان کی حکومت نے نظم ونسق، انفراسٹرکچر اور صنعتی فروغ میں قابل ذکر کام کیا ہے۔ نتیجتا ملک کی کثیر آبادی والا یہ صوبہ سرمایہ کاروں کی پہلی پسند بن چکا ہے۔

اپنی حکومت کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر یوگی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ان کی حکومت نے سابقہ نظام میں ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے 24 کروڑ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کا کام کیا ہے۔ سال 2015۔16 میں ریاست کی معشیت ملک میں 5ویں 6ویں مقام پر تھی، جبکہ آج اترپردیش ملک کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی خستہ حال معیشت میں بہتری کے لئے سرمایہ کاری کو مائل کرنے کی سمت میں ان کی حکومت نے ضروری اقدام کئے۔ اس ضمن میں زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے منظم جرائم کا صفایا کیا گیا۔ وہیں بجلی، سڑک اور ہوائی نیٹ ورک میں بہتری کے اقدامات کئے گئے۔ نئی صنعت لگانے کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا گیا۔

مسٹر یوگی نے کہا کہ اترپردیش کاروبار اورصنعت کے لہذا سے سب سے پسندیدہ مقام بن گیا ہے۔ ایز آف ڈوئنگ بزنس ریکنگ میں یوپی 14ویں مقام سے دوسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ پرائیویٹ شعبے میں تقریبا تین لاکھ کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی تجویز زمین پر اتر چکی ہے، جس سے انڈسٹریلائزیشن کو رفتار ملی، اور ریاست کے نوجوانوں کے لئے 35 لاکھ سے زیادہ نوکریاں پیدا ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ تقرری کے عمل کو شفاف بنایا گیا اور چار لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری نوکری دستیاب کرائی گئی ہیں۔ سال 2017 سے پہلے حکومت کی پالیسیوں کے چلتے ریاست کی عوام کو مرکز کی اسکیمات کا فائدہ نہیں مل پاتا تھا۔ جبکہ آج اترپردیش مختلف مرکزی اسکیمات پر عملدر آمد میں پہلے مقام پر ہے۔ وزیر اعظم آواس اسکیم، اجولا اسکیم، وزیر اعظم جن دھن اسکیم، وزیر اعظم سوندھی اسکیم، وزیر اعظم کسان سمان ندھی اور سوبھاگیہ اسکیم کا سو فیصدی فائدہ ریاستی عوام کو مل رہا ہے۔

مسٹر یوگی نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ترقیاتی اور روزگار پیدا کرنے والی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج فی کس آمدنی میں دو گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ 2015،16 میں ریاست میں فی کس آمدنی تقریبا 45 ہزار روپئے تھا، جو اب 95 ہزار فی کس ہوچکی ہے۔

جرم

ممبئی : خودساختہ پولس افسر ٹھگی کرنے کے الزام میں گرفتار, کرائم برانچ کی کارروائی

Published

on

Arrest

ممبئی : خودساختہ فرضی پولس افسر سمیت دو افراد کو ممبئی کرائم برانچ نے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو فرضی پولس شناختی کارڈ اور متعدد سرکاری اسٹیکر کار پر چسپاں کر کے دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔ یہ پولس کا اسٹیکر چسپاں والی کار کا استعمال کر کے لوگوں کو بینک سے قرض دلانے کے نام پر لوگوں کا اعتماد حاصل کرتے اور ان سے پیسہ وصول کر کے دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔ اس جرائم میں ملوث ۵۴ سالہ فرد کو گرفتار کیا گیا ہے, جو سنئیر پولس افسر ہونے کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔ اس کے فرضی دستاویزات کے ساتھ پولس نے اسے گرفتار کیا ہے۔ اس کے خلاف ممبئی کے کستوربا مارگ، ساکی ناکہ، کھیرواڑی پولس میں معاملات درج ہیں۔ یہ اطلاع ایک پریس کانفرنس میں ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے, اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے دی۔ لیلا اندھیری ہوٹل میں ایک پارٹی میں شرکت کے دوران خودساختہ پولیس افسر اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان کی کار سے پولس کی تختی بھی برآمد ہوئی ہے, جسے ضبط کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری فرضی کارڈ بھی ملا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : یوم عاشورہ پر عزاداروں کو نشانہ بنانے کی سازش ناکام، ممبئی پولس کی مستعدی سے ملزم فیاض پریم جی گرفتار، تفتیش میں مزید خلاصہ کی امید

Published

on

mumbai police

ممبئی پولس نے یوم عاشورہ اور شام غریباں جلوس کو نشانے بنانے کی سازش کو ناکام کرتے ہوئے ایک فیاض نامی نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے زہریلی کیپسول گولی تقسیم کرکے محرم کے جلوس میں تباہی و کہرام برپا کرنے کی سازش کی بھی۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی جینت مینا نے بتایا کہ ملزم نے زہریلی گولی تقسیم کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ گولی درد سے راحت دیتی ہے ایسے میں اس کے قبضے سے ۱۴ ہزار سے زائد گولیاں ضبط کی گئی ہیں۔ ممبئی پولیس نے ایک بڑی سازش کو محرم کے دوران بے نقاب کرتے ہوئے بیک وقت 30,000 افراد کو قتل کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہے۔

جینت مینا نے بتایا کہ گزشتہ شب محرم کے جلوس کے دوران ایک شخص ایسی چیز فروخت کر رہا تھا جو گولی جیسی ساخت کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس گولی سے درد کا خاتمہ ہو گا۔ اس گولی سے ایک سلمان سید نامی بیمار ہو گیا۔ اسی معاملہ میں پولس نے گزشتہ رات حراست فیاض نامی ایک شخص کو حراست میں لیا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ محرم کے دوران سوگوران حسین کو نشانہ بنانے اور انہیں نقصان پہنچانے کے لیے زنک فاسفائیڈ کی گولیاں تقسیم کر رہا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ جلوس میں شریک جانثاران حسین کو نشانہ بنایا جائے۔

ممبئی پولیس کے محتاط کے سبب ایک بڑا سانحہ ٹل گیا اور سازش ناکام ہو گئی۔ ملزم کا مقصد واضح نہیں ہے۔ زہریلا مادہ زنک فاسفائیڈ زہر سے بھرا ہوا تقسیم مادہ شرکا جلوس کو نقصان پہنچانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ فیاض پریم جی کا تعلق ویمن نگر، پونے سے ہے۔ اس کے پاس بی بی اے کی ڈگری ہے۔ ملزم پینٹ کا کاروبار کرتا ہے۔ 50 کلو زنک فاسفائیڈ کا آرڈر چند روز قبل اس نے کیا تھا اس کا منصوبہ تھا کہ وہ کیپسول میں اس زہریلی مادہ کی آمیزش کر کے گولیاں تقسیم کرے اس لئے وہ بھنڈی بازار علاقہ ممبئی میں ہی وہ مقیم تھا۔ وہ 2025 میں ایران اور عراق گیا تھا۔ اس کے سفری وجوہات معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ اس نے 15 دن پہلے ڈونگری میں مکان کرائے پر لیا تھا اس کے قبضے سے 14,900 کیپسول ضبط کرلئے گئے ہیں۔ اس کا منصوبہ 30,000 افراد کو نشانہ تھا۔ لیکن پولس کی مستعدی کے سبب وہ زہریلی کیپسول تقسیم کرنے سے قاصر رہا۔ پولس اس معاملہ پر ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔ اس معاملہ میں اس کے دورہ کی تفصیلات سمیت دیگر افراد سے بھی بازپرس کی جارہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیٹے کا سیاسی کیریئر بچانے کی دوڑ شروع، ادھو ٹھاکرے کو ‘معافی دورہ’ شروع کرنا چاہئے، شیو سینا کے سکریٹری کرن پاوسکر کا ادھو پر حملہ

Published

on

Kiran-Pawaskar

ممبئی : شیوسینا کے سکریٹری اور ترجمان کرن پاوسکر نے ادھو ٹھاکرے کے ودربھ اور مراٹھواڑہ کے دورے پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیوسینا میں شامل ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کے لوک سبھا حلقوں کا دورہ رائے دہندگان سے معافی مانگنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ آدتیہ ٹھاکرے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ہے۔ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں پاوسکر نے کہا کہ اگر ادھو ٹھاکرے کو واقعی عوام اور کارکنوں کی فکر ہوتی تو وہ بلدیاتی انتخابات بھی لڑتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران کارکنوں اور امیدواروں کو اپنی جان بچانے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، جب کہ اب اراکین اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کے بعد ان کے حلقوں کا دورہ کیا جا رہا ہے۔ پاوسکر نے کہا کہ یہ عوام سے معافی نہیں ہے، بلکہ ان کے بیٹے کی سیاسی بنیاد کو بچانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے کام سے عدم اطمینان کی وجہ سے بہت سے ممبران پارلیمان شیوسینا میں شامل ہو گئے۔ پاوسکر نے کہا کہ جب ادھو ٹھاکرے اور آدتیہ ٹھاکرے فی الحال ودربھ کا دورہ کر رہے ہیں، میونسپل، ٹاؤن کونسل، اور ضلع کونسل کے انتخابات کے دوران، ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کی قیادت نے باندرہ سے باہر جانے کا منصوبہ بھی نہیں بنایا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں اور امیدواروں کو اپنی حفاظت آپ کے لیے چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے گروپ کے کام سے عدم اطمینان کی وجہ سے کئی اراکین شیوسینا میں شامل ہو گئے۔ اب انہی ممبران پارلیمنٹ کے لوک سبھا حلقوں کا دورہ کر کے ووٹروں سے معافی مانگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عوام اور کارکنوں کی اتنی فکر تھی تو یہ دورہ پہلے کیوں نہیں کیا گیا؟ پواسکر نے کہا کہ کارکنان، عہدیداران، تعلقہ سربراہان، اور ودربھ اور مراٹھواڑہ کے ضلعی سربراہ ادھو ٹھاکرے گروپ سے یہی سوال کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دورہ رائے دہندگان سے معافی مانگنے کے لیے نہیں بلکہ آدتیہ ٹھاکرے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پواسکر نے مزید کہا کہ ورلی جیسے ریزرو حلقے میں ان کے بیٹے کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے ادھو ٹھاکرے کے گروپ کو دو ایم ایل اے کے ٹکٹ منسوخ کرنے پڑے۔ ایم ایل اے سنیل شندے اور ایم ایل اے سچن اہیر کو قانون ساز کونسل کا امیدوار بنا کر دوبارہ بحال کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آج بھی ادھو ٹھاکرے کا گروپ صرف اور صرف اپنے بیٹے کے سیاسی کیریئر کو بچانے کے لیے ودربھ کا دورہ کر رہا ہے۔

پاوسکر نے کہا کہ شیوسینا کے بنیادی لیڈر ایکناتھ شندے کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 65 کارپوریٹر شیو سینا میں شامل ہوئے ہیں۔ اسی طرح ادھو ٹھاکرے کے دھڑے کے 40 ایم ایل ایز نے شیو سینا میں شمولیت اختیار کی، جس سے پارٹی کے ایم ایل ایز کی تعداد 60 ہوگئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج چھ ممبران اسمبلی شیوسینا میں شامل ہوئے ہیں، اور مستقبل میں یہ تعداد بڑھ کر 12 ہوجائے گی۔

پواسکر نے کہا کہ ایم ایل اے، ایم پی اور کارپوریٹروں کو توڑنے کے الزامات کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کے گروپ کو خود کا جائزہ لینا چاہئے کہ یہ تمام عوامی نمائندے شیو سینا میں کیوں شامل ہو رہے ہیں تاکہ شیوسینا کے مرکزی رہنما اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت میں کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ریاست کے کونے کونے سے ایم ایل اے، ایم پی اور دیگر عوامی نمائندے شیوسینا میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایکناتھ شندے کی قیادت گھر سے نہیں نچلی سطح پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر ادھو ٹھاکرے کے گروپ پر بھی تنقید کی۔پاوسکر نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں پارٹی میں نئی ​​شمولیت کے حوالے سے اہم خبریں جلد ہی جاری کی جائیں گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان