Connect with us
Saturday,19-September-2026
تازہ خبریں

جرم

آج مالیگاؤں بڑا قبرستان بم بلاسٹ کو 14سال مکمل!

Published

on

(خیال اثر مالیگانوی )
اور پھر یوں ہوا کہ8 ستمبر 2006 شب برات کے موقع پر عین نماز جمعہ کے وقت جب فرزندان اسلام نماز جمعہ سے فارغ ہوکر امت مسلمہ اور امن عالم کی خیرخواہی کے لئے مصروف دعا تھے کہ اچانک شہر کے بڑا قبرستان میں واقع مسجد حمیدیہ کے صحن اور وضو خانہ کے باہر مسلسل طاقتور بم دھماکوں سے شہر خموشاں گونج اٹھا. مسجد کے صحن اور وضو خانہ کے باہر امت مسلمہ کے معصوم بچے, نوجوان اور ضعیف العمر افراد اپنے ہی خون میں نہائے ہوئے تھے یا شدید طور پر مجروح ہو گئے تھے یا پھر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. عین اسی وقت اس مقام سے تھوڑی دوری پر واقع مشاورت چوک پر بھی ایسا ہی خوفناک بم بلاسٹ ہوا تھا. پورا شہر بم دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی چپ کے سناٹوں میں گونج رہا تھا. چہار جانب خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا. جوں جوں بم دھماکوں کی خبر شہر میں پھیلتی گئی عوام و خواص پا برہنہ دونوں مقامات کی جانب دوڑ پڑے. یہاں آنے والا ہر فرد اپنے عزیز و اقارب, اپنے معصوم بچوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتا تھا. ایسے سنگین حالات میں کسی معصوم بچے کا سر بدن سے جدا ہوگیا تھا تو کسی کا ہاتھ پیر بم دھماکوں نے نوچ کھایا تھا. ہر سماجی خادم مجروحین کو طبی امداد مہیا کرنے کے لئے مختلف اسپتالوں میں لے جاکر اس کی جان بچانے میں لگے تھے. شہر کے تمام ہی بڑے اسپتال زخمیوں اور مرحومین کی نعشوں سے بھرے پڑے تھے. ہندوستان کا شاید مالیگاؤں شہر ہی وہ واحد شہر تھا جہاں کے بم دھماکوں کی خبریں اس وقت بی بی سی لندن کی اردو نشریات سے بھی پوری دنیا میں پہنچ گئی تھی. بم دھماکوں کی خبریں پھیلتے ہی ریاستی وزراء اور آل انڈیا کانگریس پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی وغیرہ نے بھی مالیگاؤں کا دورہ کرتے ہوئے شہیدان بم بلاسٹ اور مجروحین کی داد رسی کی ناکام کوشش کی تھی. اس وقت کے ریاستی اے ٹی ایس چیف پی کے رگھوونشی بھی اپنی تفتشی ٹیم کے ہمراہ مالیگاؤں تشریف لائے تھے.
مالیگاؤں کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی کہ اے ٹی ایس چیف اور ان کی ٹیم نے شہر کے ہی 9 اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانون کو ملزم بناکر اپنی مجرمانہ ذہنیت کو اجاگر کردیا تھا. یہ 9 مسلم نوجوان برسوں تک پابند سلاسل رہے اور مقدمہ کے دوران کوئی ثبوت اور ٹھوس گواہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے 11سال بعد باعزت رہا کئے گئے. مزید بدنصیبی یہ رہی کہ زخمیوں اور شہید ہونے والے افراد کو اسپتالوں تک لے جانے والوں کو ایک ایسی لاش بھی دستیاب ہوئی جس کے چہرے پر نقلی داڑی منڈھی ہوئی تھی .نقلی داڑھی والی یہ لاش کہاں غائب ہوئی یا کردی گئی آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے. آج مالیگاؤں بلاسٹ کو 14سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد اصل مجرمین قانون و عدلیہ کے ہاتھوں میں نہیں آ پائے ہیں. حالانکہ اس دوران
“سڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
اے رہبر ملک و قوم ذرا آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بتا ”
شہر مالیگاؤں کی یہ صدائیں قانون و عدلیہ اور ارباب اقتدار کی پتھریلی سماعتوں سے ٹکرا کر باز گشت کی صورت ہر سال بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر گونجتی رہتی ہیں مگر وائے ناکامی کے ایسی ہر صدا “صدا بصحرا “ثابت ہوتی رہتی ہے. ان بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد اور مجروحین کے عزیز و اقرباء آج بھی قانون و عدلیہ کی جانب متلاشی نگاہوں سے محو انتظار ہیں کہ شاید انھیں جیتے جی انصاف میسر ہو جائے. آج بھی مالیگاؤں کے دونوں بم دھماکوں کے مقامات سے گزرنے والے افراد کی نگاہوں میں وہ خونیں مناظر گردش میں آ جاتے ہیں. سارے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور ان کے دل کے نہاں خانوں سے یہی آواز ابھرتی ہے کہ کیا ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کبھی عدلیہ کے کٹہروں میں کھڑے کئے جائیں گے اور انھیں ان کے کئے کی سزا مل پائے گی لیکن شہر کے حساس اور ذی شعور افراد کا یہی کہنا ہے کہ
یہاں قانون نے آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے
شرافت جیل میں سڑتی غندہ چھوٹ جاتا ہے
ایسا کہنے والوں کو یقین ہے کہ قانون کی نگاہوں میں ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کے روپ بدلتے سارے چہرے عیاں ہیں لیکن انھیں باعزت طریقے سے محفوظ رکھنے کی منظم سازش رچتے ہوئے انھیں مجرمین کی صف سے نکال کر عزت مابی کاتمغہ اور سند عطا کردی گئی ہے. المیہ یہ ہے کہ بم دھماکوں کی مذمت اور بےگناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے ریاستی و مرکزی حکومتوں تک گہار لگانے والی ملی تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں بھی امسال ان بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر خاموش تماشائی بنی رہیں. کہیں سے کوئی آواز تو کیا سرگوشی بھی سنائی نہیں دی. سبھی آہستہ آہستہ بے حسی کے دلدل میں لمحہ بہ لمحہ دھنستے ہوئے سب کچھ بھول بیٹھے ہیں یا پھر
زباں تو چھین لی ہے مصلحت آموز دانش نے
میری خاموشیوں کو بولتے کنکر پہ لکھ دینا
آج بم دھماکوں کے دونوں مقامات کا ذرہ ذرہ, کنکر کنکر اور خون آلود مٹی انصاف کے منتظر ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ دونوں بم دھماکوں کے مجرمین کب تک قانون و عدلیہ کی گرفت سے دور رہتے ہیں. ہندوستان کا قانون یہ بھول بیٹھا ہے کہ ایک نا ایک دن حشر بپا ہوگا اور میدان حشر میں آخری عدالت کا انعقاد کرتے ہوئے خالق ارض و سما انصاف کے سارے حقیقی تقاضوں کو روبہ عمل لاتے ہوئے حق و انصاف کا ترازو لے کر طلبگاران انصاف کو انصاف عطا کرتے ہوئے مجرمین کو جنہم کے دہکتے الاؤ کا ایندھن بنا دے گا.

بین الاقوامی خبریں

پاکستان : خیبر پختونخواہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور کا مسجد پر حملہ، 15 ہلاک اور 50 زخمی

Published

on

blast

اسلام آباد : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جمعے کو ایک زبردست بم دھماکے سے لرز اٹھا۔ ضلع کوہاٹ کے علاقے پولیس لائنز میں ایک مسجد کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ نماز جمعہ کے دوران اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ کیا۔ مسجد کے اندر اور باہر زیادہ ہجوم کی وجہ سے دھماکے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال کے ایم ایس طاہر علی شاہ نے جیو نیوز کو بتایا کہ دھماکے کے بعد 15 لاشیں اور 50 زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا۔ حملہ آوروں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس لائنز میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ دھماکے سے مسجد کے بیرونی حصے کو شدید نقصان پہنچا اور ایک دیوار گر گئی۔ کوہاٹ میں ڈی ایچ کیو انتظامیہ نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد حکام نے کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ پولیس اور متعلقہ ادارے حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور فائرنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت میں ایک اور خودکش دھماکہ ہوا۔ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) نے بتایا کہ آئی جی پی نے کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

پاکستان کا صوبہ کے پی ایک طویل عرصے سے تشدد اور بدامنی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ صوبے میں کئی مسلح گروہوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ان گروہوں نے مسلسل پاکستانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ کے پی نے حالیہ مہینوں میں کئی بڑے حملوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے سخت کارروائی کرنے کا عزم کیا ہے لیکن اب تک وہ ان گروہوں کے خلاف بے بس دکھائی دے رہی ہے۔

Continue Reading

جرم

کٹکا: بہار کے شخص نے بیوی کو قتل کر دیا، گلا گھونٹ کر گرم تیل ڈالا۔

Published

on

death

بنگلورو، ایک چونکا دینے والے واقعے میں، ایک شخص نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کے جسم پر گرم تیل ڈالا اور اس کی کھال چھیلنے کی کوشش کی اور بنگلورو کے مائیکو لے آؤٹ پولیس اسٹیشن حدود کے تحت بلیکاہلی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جھگڑے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ بہار سے تعلق رکھنے والا یہ جوڑا اپنے دو بچوں کے ساتھ بنگلورو میں رہتا تھا اور مبینہ طور پر ان کا اکثر جھگڑا رہتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب جوڑے کے بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے۔ گپتا اور گنجا میں مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد گپتا نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم نے بعد میں جسم پر گرم تیل ڈالا اور مبینہ طور پر جلد کو چھیلنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاش برآمد کی تو وہ بری طرح زخمی حالت میں پائی گئی۔

مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد گپتا گھر سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کے بعد اس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور اس کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔ پوچھ گچھ کے دوران گپتا نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کر لیا، پولیس نے یہ بھی بتایا کہ گپتا نے واقعے کے بعد خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اس کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حالات اور طریقے کے بارے میں تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس جھگڑے اور اس کے بعد قتل کی وجہ بننے والے حالات کی تفتیش کر رہی ہے۔ گپتا کی مبینہ کارروائیوں کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قتل کے بعد ہونے والے واقعات اور مبینہ طور پر جسم پر گرم تیل ڈالنے کی وجہ جاننے کے لیے پولیس ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔مقدمہ اور ملزم کی مبینہ خودکشی کی کوشش کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

جرم

کار موٹر سائیکل کو 500 میٹر تک گھسیٹنے کے بعد دہلی کا 73 سالہ شخص گرفتار

Published

on

نئی دہلی، ایک 73 سالہ شخص کو اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب اس کی کار ایک موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اسے جنوب مغربی دہلی کے آر کے میں ایک سڑک پر تقریباً 500 میٹر تک گھسیٹ گئی۔ پورم کا علاقہ۔ جمعرات کی رات دیر گئے پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ فوٹیج میں ایک کار درختوں سے جڑی سڑک پر چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے جس کے نیچے موٹرسائیکل پھنسی ہوئی ہے۔ گاڑی سے چنگاریاں اڑتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں جب کار چلتی رہتی ہے، جب کہ اسکوٹر پر سوار ایک شخص قریب سے پیچھے پیچھے آتا ہے اور بار بار ڈرائیور سے کہتا ہے کہ وہ رکنے کا کہہ رہا ہے۔ بوڑھا ڈرائیور کار کے نیچے موٹرسائیکل کے ساتھ گاڑی چلا رہا ہے۔

کار آخر کار رک جاتی ہے۔ سکوٹر پر سوار ایک خاتون نے واقعہ ریکارڈ کیا اور گاڑی کے قریب پہنچی۔ وہ کار کا دروازہ کھولتی ہے اور ڈرائیور سے باہر نکلنے کو کہتی ہے۔ “باہر آؤ۔ ہاتھ مت جوڑو، پہلے باہر آؤ،” وہ اس سے کہتی ہے۔ مجمع میں موجود ایک اور شخص کو ڈرائیور کو “بے شرم” کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ڈرائیور جس کی شناخت وینو گوپال کے نام سے ہوئی ہے، جو وسنت کنج کا رہنے والا ہے، معافی کے اشارے میں ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ پھر ایک آدمی نے اسے کالر سے پکڑ کر باہر نکالنے کی کوشش کی۔ گاڑی گوپال جیسے ہی باہر نکلا، ہجوم کے ارکان نے اس کا سامنا کیا۔

موٹرسائیکل کا سوار جس کی شناخت تاپس کے نام سے ہوئی ہے، بزرگ ڈرائیور سے اس واقعے پر پوچھ گچھ کرتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ “اگر یہ غلطی ہوتی تو آپ روک سکتے تھے، میں مر سکتا تھا،” وہ اس سے کہتا ہے۔ ہجوم میں شامل ایک اور شخص نے ڈرائیور سے سوال کیا کہ اگر کوئی موٹرسائیکل کے نیچے پھنس جاتا تو وہ کیا کرتا۔ دہلی پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث کار ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید تفتیش کے لیے۔پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ تاپس سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل کو بزرگ شخص کی طرف سے چلائی گئی نیلی کار نے ٹکر مار دی۔ کار پھر چلتی رہی، بائیک کو تقریباً 500 میٹر تک اپنے نیچے گھسیٹتی رہی۔

واقعہ کی اطلاع آر کے سے ملی۔ پورم علاقہ، اور تفتیش کار ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن کی وجہ سے تصادم جاری تحقیقات کے حصے کے طور پر ہوا۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ واقعہ کے بعد کار کے ڈرائیور کا طبی معائنہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ جانچ میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ وہ اس وقت شراب کے نشے میں تھا، حکام نے بتایا کہ واقعات کی صحیح ترتیب کو قائم کرنے اور تصادم اور اس کے بعد موٹرسائیکل کو گھسیٹنے کے حالات کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ واقعہ گروگرام میں ایک حالیہ کیس کے حوالے سے سامنے آیا ہے جہاں ایک کار ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو گرفتار کرنے کے لیے جان بوجھ کر ایک خاتون کو زخمی کر دیا تھا، جس نے کلب کی رہنمائی کرنے والے شخص کو زخمی کر دیا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان