Connect with us
Saturday,02-May-2026

جرم

آج مالیگاؤں بڑا قبرستان بم بلاسٹ کو 14سال مکمل!

Published

on

(خیال اثر مالیگانوی )
اور پھر یوں ہوا کہ8 ستمبر 2006 شب برات کے موقع پر عین نماز جمعہ کے وقت جب فرزندان اسلام نماز جمعہ سے فارغ ہوکر امت مسلمہ اور امن عالم کی خیرخواہی کے لئے مصروف دعا تھے کہ اچانک شہر کے بڑا قبرستان میں واقع مسجد حمیدیہ کے صحن اور وضو خانہ کے باہر مسلسل طاقتور بم دھماکوں سے شہر خموشاں گونج اٹھا. مسجد کے صحن اور وضو خانہ کے باہر امت مسلمہ کے معصوم بچے, نوجوان اور ضعیف العمر افراد اپنے ہی خون میں نہائے ہوئے تھے یا شدید طور پر مجروح ہو گئے تھے یا پھر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. عین اسی وقت اس مقام سے تھوڑی دوری پر واقع مشاورت چوک پر بھی ایسا ہی خوفناک بم بلاسٹ ہوا تھا. پورا شہر بم دھماکوں کی اطلاع ملتے ہی چپ کے سناٹوں میں گونج رہا تھا. چہار جانب خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا. جوں جوں بم دھماکوں کی خبر شہر میں پھیلتی گئی عوام و خواص پا برہنہ دونوں مقامات کی جانب دوڑ پڑے. یہاں آنے والا ہر فرد اپنے عزیز و اقارب, اپنے معصوم بچوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتا تھا. ایسے سنگین حالات میں کسی معصوم بچے کا سر بدن سے جدا ہوگیا تھا تو کسی کا ہاتھ پیر بم دھماکوں نے نوچ کھایا تھا. ہر سماجی خادم مجروحین کو طبی امداد مہیا کرنے کے لئے مختلف اسپتالوں میں لے جاکر اس کی جان بچانے میں لگے تھے. شہر کے تمام ہی بڑے اسپتال زخمیوں اور مرحومین کی نعشوں سے بھرے پڑے تھے. ہندوستان کا شاید مالیگاؤں شہر ہی وہ واحد شہر تھا جہاں کے بم دھماکوں کی خبریں اس وقت بی بی سی لندن کی اردو نشریات سے بھی پوری دنیا میں پہنچ گئی تھی. بم دھماکوں کی خبریں پھیلتے ہی ریاستی وزراء اور آل انڈیا کانگریس پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی وغیرہ نے بھی مالیگاؤں کا دورہ کرتے ہوئے شہیدان بم بلاسٹ اور مجروحین کی داد رسی کی ناکام کوشش کی تھی. اس وقت کے ریاستی اے ٹی ایس چیف پی کے رگھوونشی بھی اپنی تفتشی ٹیم کے ہمراہ مالیگاؤں تشریف لائے تھے.
مالیگاؤں کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی کہ اے ٹی ایس چیف اور ان کی ٹیم نے شہر کے ہی 9 اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانون کو ملزم بناکر اپنی مجرمانہ ذہنیت کو اجاگر کردیا تھا. یہ 9 مسلم نوجوان برسوں تک پابند سلاسل رہے اور مقدمہ کے دوران کوئی ثبوت اور ٹھوس گواہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے 11سال بعد باعزت رہا کئے گئے. مزید بدنصیبی یہ رہی کہ زخمیوں اور شہید ہونے والے افراد کو اسپتالوں تک لے جانے والوں کو ایک ایسی لاش بھی دستیاب ہوئی جس کے چہرے پر نقلی داڑی منڈھی ہوئی تھی .نقلی داڑھی والی یہ لاش کہاں غائب ہوئی یا کردی گئی آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے. آج مالیگاؤں بلاسٹ کو 14سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد اصل مجرمین قانون و عدلیہ کے ہاتھوں میں نہیں آ پائے ہیں. حالانکہ اس دوران
“سڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
اے رہبر ملک و قوم ذرا آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بتا ”
شہر مالیگاؤں کی یہ صدائیں قانون و عدلیہ اور ارباب اقتدار کی پتھریلی سماعتوں سے ٹکرا کر باز گشت کی صورت ہر سال بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر گونجتی رہتی ہیں مگر وائے ناکامی کے ایسی ہر صدا “صدا بصحرا “ثابت ہوتی رہتی ہے. ان بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد اور مجروحین کے عزیز و اقرباء آج بھی قانون و عدلیہ کی جانب متلاشی نگاہوں سے محو انتظار ہیں کہ شاید انھیں جیتے جی انصاف میسر ہو جائے. آج بھی مالیگاؤں کے دونوں بم دھماکوں کے مقامات سے گزرنے والے افراد کی نگاہوں میں وہ خونیں مناظر گردش میں آ جاتے ہیں. سارے زخم تازہ ہو جاتے ہیں اور ان کے دل کے نہاں خانوں سے یہی آواز ابھرتی ہے کہ کیا ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کبھی عدلیہ کے کٹہروں میں کھڑے کئے جائیں گے اور انھیں ان کے کئے کی سزا مل پائے گی لیکن شہر کے حساس اور ذی شعور افراد کا یہی کہنا ہے کہ
یہاں قانون نے آنکھوں پہ پٹی باندھ رکھی ہے
شرافت جیل میں سڑتی غندہ چھوٹ جاتا ہے
ایسا کہنے والوں کو یقین ہے کہ قانون کی نگاہوں میں ان بم دھماکوں کے اصل مجرمین کے روپ بدلتے سارے چہرے عیاں ہیں لیکن انھیں باعزت طریقے سے محفوظ رکھنے کی منظم سازش رچتے ہوئے انھیں مجرمین کی صف سے نکال کر عزت مابی کاتمغہ اور سند عطا کردی گئی ہے. المیہ یہ ہے کہ بم دھماکوں کی مذمت اور بےگناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی کے لئے ریاستی و مرکزی حکومتوں تک گہار لگانے والی ملی تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں بھی امسال ان بم دھماکوں کی برسی کے موقع پر خاموش تماشائی بنی رہیں. کہیں سے کوئی آواز تو کیا سرگوشی بھی سنائی نہیں دی. سبھی آہستہ آہستہ بے حسی کے دلدل میں لمحہ بہ لمحہ دھنستے ہوئے سب کچھ بھول بیٹھے ہیں یا پھر
زباں تو چھین لی ہے مصلحت آموز دانش نے
میری خاموشیوں کو بولتے کنکر پہ لکھ دینا
آج بم دھماکوں کے دونوں مقامات کا ذرہ ذرہ, کنکر کنکر اور خون آلود مٹی انصاف کے منتظر ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ دونوں بم دھماکوں کے مجرمین کب تک قانون و عدلیہ کی گرفت سے دور رہتے ہیں. ہندوستان کا قانون یہ بھول بیٹھا ہے کہ ایک نا ایک دن حشر بپا ہوگا اور میدان حشر میں آخری عدالت کا انعقاد کرتے ہوئے خالق ارض و سما انصاف کے سارے حقیقی تقاضوں کو روبہ عمل لاتے ہوئے حق و انصاف کا ترازو لے کر طلبگاران انصاف کو انصاف عطا کرتے ہوئے مجرمین کو جنہم کے دہکتے الاؤ کا ایندھن بنا دے گا.

جرم

ممبئی: نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں اے سی پی گرفتار، ورلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج

Published

on

Arrest

ممبئی کے ورلی علاقے کے ایک پبلک پارک میں ایک اے سی پی سطح کے افسر کو مبینہ طور پر فحش اشارے کرنے اور 9 سالہ لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ورلی پولیس نے ملزمین کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات کر رہی ہے۔ ورلی پولیس اسٹیشن سے ملی اطلاع کے مطابق متاثرہ لڑکی کل ورلی کے سنگھ گارڈن میں کھیلنے گئی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم افسر متاثرہ کے پاس گیا اور گھر واپس آنے پر اس کی طرف نازیبا پیش قدمی کی اور اسے اپنے پرائیویٹ پارٹس کو چھونے کو کہا۔ لڑکی اس واقعہ سے گھبرا گئی اور گھر واپس آکر اپنی ماں کو بتایا کہ کیا ہوا ہے۔ لڑکی کی ماں جو کہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے، نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت ملنے پر ورلی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی جانچ شروع کردی۔ ابتدائی پوچھ گچھ اور دستیاب حقائق کی بنیاد پر ملزم پولیس افسر کی شناخت کر کے اسے گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب ایک اور نابالغ لڑکے نے بھی الزام لگایا کہ ملزم نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس کے خلاف ایسی ہی حرکت کی تھی۔ پولیس نے اس دعوے کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے الگ سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ورلی پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 74 اور 79 کے ساتھ ساتھ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ الزامات انتہائی سنگین ہیں، اس لیے فوری طور پر گرفتاری عمل میں لائی گئی، اور تفتیش مکمل قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم پولیس کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ سنگھ گارڈن کے علاقے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ ملزم افسر اصل میں ناگپور کا رہنے والا ہے اور اسے نومبر 2025 میں ممبئی میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں تعینات کیا گیا تھا۔ وہ پولیس کمیونیکیشن اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے منسلک تھا اور ورلی پولیس کیمپ میں اکیلا رہتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر : دو الگ الگ حادثات میں ایک پولیس کانسٹیبل سمیت چار افراد کی موت ہو گئی۔

Published

on

ممبئی/جلگاؤں : مہاراشٹر میں بدھ کو دو الگ الگ حادثات میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ ان واقعات میں چھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پہلا واقعہ مہاراشٹر کے جلگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک کار میں سفر کرنے والے تین افراد کی موت ہو گئی جن میں ایک نوبیاہتا دلہن بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ جلگاؤں کے دھرنگاؤں تعلقہ کے ورد خورد گاؤں کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ گجرات سے شادی کی بارات لے کر آکولہ جانے والی کروزر کا ٹائر پھٹ گیا جس کے باعث کروزر ہائی وے پر کھڑے گیس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہن شادی سے واپس آرہی تھی۔ اس واقعہ سے بڑے پیمانے پر کہرام مچ گیا۔ مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو گاڑی سے نکالا گیا۔ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے جن میں ایک کمسن بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم دلہن سمیت تین افراد پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مرنے والوں کی شناخت دلہن، پوجا روی واگھلکر، دتو بھاگوت اور جگدیش واگھلکر کے طور پر ہوئی ہے۔ دوسرا واقعہ ممبئی میں پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ مانکھرد علاقے میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) کے فلائی اوور کی تعمیر کے دوران کرین کا ایک حصہ پولیس کانسٹیبل سنتوش چوان پر گرا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سنتوش چوان نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ گھر جا رہے تھے۔ ممبئی پولیس کے مطابق ڈرلنگ مشین ناہموار زمین پر تھی، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کرین اس پر گری۔ ٹھیکیدار کے خلاف ممبئی کے مانکھرد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

جرم

اندھیری میں سنسنی خیز واردات… رشتہ کا تقدس پامال، بہن کے قتل میں بھائی بھابھی گرفتار, لاوارث لاش کی شناخت

Published

on

ممبئی : ممبئی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں خونی رشتہ ہی ایک بہن کی جان لے لی۔ ممبئی پولس نے اپنی کی بھابھی کو موت کے گھاٹ اتارنے والے بھائی بھابھی کو گرفتارکرنے کا دعوی کیا ہے ممبئی اندھیری مرول کے گٹر سے پولس نے ایک نامعلوم لاوارث برآمد کی تھی جو پوری طرح سے مسخ ہو چکی تھی اس کی شناخت کےلیے پولس نے محنت کی اور پھر زیورات اور گمشدہ رپورٹ کی بنیاد پر متوفی کی شناخت کر لی پولس کو اندھیری مرول ناکہ کی گٹر کے ڈھکن نکالنے کے بعد لاش برآمد ہوئی۲۲ اپریل کو لاش کی برآمد گی کے بعد پولس نے کیس درج کر لیا اور پھر متوفی کی شناخت بیلنس سیکورہ ۸۰ سالہ کے طور پر ہوئی ۱۰ جنوری کو ۲۰۲۶ میں مقتولہ کی گمشدہ کی شکایت سہار پولس اسٹیشن میں درج کی گئی یہ شکایت اس کے بھائی جوزف تھامس کوئلہ نے درج کروائی تھی۔ مقتولہ اپنی بھائی بھابھی کے ساتھ مقیم تھی اور قتل سے ایک روز اس کا ۹ جنوری کو بھائی جوزف اور بھابھی ماریا کے زور دار تنازع اور جھگڑا ہوا تھا پولس نے پڑوسیوں سے باز پرس کی تو معلوم ہوا کہ اکثر بھائی بھابھی اور مقتولہ کا جھگڑا اور تنازع ہوا کرتا تھا اس دوران پولا نے جوزف ، ماریا اور اس کا فرزند کولٹن کو زیر حراست لیا۔ تفتیش میں ملزمین نے اعتراف کیا کہ وہ روز روز کی حجت اور تنازع سے تنگ اور عاجز آچکے تھے جس کے بعد ماریا نے قتل کی سازش رچی اور پھر مقتولہ کو قتل کر کے اس کی لاش مین ہول میں ڈال دیا اندھیری پولس نے جوزف تھامس کویلو ۶۵ سالہ ، ماریا جوزف ۶۳ سالہ مرول پائپ لائن کے ساکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اندھیری پولس نے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے کی سربراہی تفتیش کے بعد اس سنسنی خیز قتل کا خلاصہ کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان