Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کے بلڈوزر ایکشن پر تنقید کی، آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی قرار دیا، مکانات دوبارہ بنائے جائیں اور اخراجات برداشت کرے سرکار۔

Published

on

bulldozer-&-court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے پریاگ راج میں ایک وکیل، ایک پروفیسر اور تین دیگر کے گھروں کو بلڈوز کرنے پر اتر پردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو چونکانے والا اور غلط پیغام دینے والا قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اب ہم ریاستی حکومت کو تعمیر نو کا حکم دیں گے اور اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے بلڈوزر جسٹس کے بارے میں اپنے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں انہدام سے پہلے اپنانے کے طریقہ کار کو واضح کیا گیا ہے۔ بدھ کو کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایس اوکا کی سربراہی میں بنچ نے واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 21 (زندگی اور آزادی کا حق) کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزاروں میں وکیل ذوالفقار حیدر، پروفیسر علی احمد، دو خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔

اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا، متنازعہ زمین ایک نزول پلاٹ (سرکاری لیز پر دی گئی زمین) تھی، جس کی لیز 1996 میں ختم ہو چکی تھی۔ فری ہولڈ کی درخواستیں 2015 اور 2019 میں مسترد کر دی گئیں۔ ریاستی حکومت نے اسے عوامی استعمال کے لیے نشان زد کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزاروں کو کوئی قانونی حق نہیں ہے کیونکہ ان کے لین دین کو ضلع کلکٹر کی منظوری حاصل نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے حکومت کی کارروائی پر شدید اعتراض ظاہر کیا اور معاملے کو 21 مارچ 2025 کو مزید سماعت کے لیے درج کر دیا۔

درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ حکومت نے ہفتے کی رات دیر گئے انہدام کے نوٹس جاری کیے اور اگلے دن ان کے مکانات کو مسمار کر دیا، جس سے انہیں قانون کو چیلنج کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان کی جائیدادوں کو گینگسٹر سیاستدان عتیق احمد کے ساتھ غلط طریقے سے جوڑ دیا۔ عتیق کو 2023 میں قتل کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ وہ تجاوزات نہیں بلکہ قانونی کرایہ دار ہیں اور انہوں نے اپنی لیز پر دی گئی زمین کو فری ہولڈ میں تبدیل کرنے کی درخواست دی تھی۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل آر. وینکٹرامانی نے حکومت کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عرضی گزاروں کو جواب دینے کے لیے کافی وقت دیا گیا ہے۔ لیکن جسٹس اوکا نے حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ نوٹس کیسے دیا گیا اور درخواست گزاروں کو اپیل کا مناسب موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے معاملہ ہائی کورٹ کو واپس بھیجنے کا مشورہ دیا، لیکن سپریم کورٹ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف غیر ضروری تاخیر ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان