Connect with us
Tuesday,23-June-2026

(جنرل (عام

کرسچن مشیل جیمز کو اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کیس میں دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت، لیکن انہوں نے جیل میں ہی رہنے کا کیا فیصلہ۔

Published

on

نئی دہلی : اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کیس میں مبینہ درمیانی شخص کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد بھی، کرسچن مشیل جیمز جمعہ کو شہر کی عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کی درخواست کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی ان کے لیے محفوظ نہیں ہے اور وہ واپس حراست میں جانا چاہتے ہیں۔ جیمز کو 2018 میں یو اے ای سے 3,600 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں ای ڈی کے ذریعہ حوالگی کیا گیا تھا۔ جیمز نے عدالت کو بتایا کہ ‘سیکیورٹی رسک’ کی وجہ سے وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بجائے اپنی سزا مکمل کر کے ہندوستان چھوڑنے کو ترجیح دیں گے۔ اس نے اپنی عدالت میں خصوصی جج سنجیو اگروال سے کہا، “میں ضمانت قبول نہیں کر سکتا۔ یہ غیر محفوظ ہے۔ جب بھی میں تہاڑ سے باہر جاتا ہوں، کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ مجھے پولیس کے ساتھ مسئلہ ہے، میں آپ سے رازداری میں بات کرنا پسند کروں گا”۔

جب جج نے جمیل کی خیریت دریافت کی تو اس نے کہا کہ دہلی ان کے لیے بڑی جیل ہے۔ انہوں نے ایمس میں پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر کیا جس کے بارے میں وہ عدالت سے نجی طور پر بات کرنا چاہیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے ان کی رہائی کے لیے ضروری ضمانت کی شرائط عائد کر دیں۔ جیمز کی نجی بات کرنے کی درخواست پر جج نے میڈیا والوں اور پولیس کو کمرہ عدالت سے باہر بھیج دیا۔ اس ہفتے کے شروع میں جیمز کو ضمانت دیتے ہوئے، ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے جہاں ملزم 6.2 سال سے زیادہ عرصے سے حراست میں تھا لیکن نامکمل تفتیش کی وجہ سے ابھی تک مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی تھی۔ 18 فروری کو سپریم کورٹ نے انہیں سی بی آئی کے ایک متعلقہ کیس میں ضمانت دی تھی، جو نچلی عدالت کی طرف سے مقرر کی گئی شرائط کے ساتھ تھی۔ دونوں کیسز میں عدالت نے جیمز کو 5 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور ضمانت کی رقم جمع کرانے کی ہدایت کی جس پر جیمز نے کہا کہ جو شخص چھ سال سے جیل میں ہے وہ مقامی ضمانتی کیسے پیش کر سکتا ہے؟ جب جیمز نے کہا کہ وہ ضمانت پر رہا نہیں ہونا چاہتے تو جج نے کہا کیا آپ کو دہلی میں محفوظ گھر نہیں مل سکتا؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ضمانت قبول نہیں کر سکتا یہ غیر محفوظ ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ دسمبر 2018 میں جیمز کو دبئی سے حوالگی کیا گیا تھا اور بعد میں اسے سی بی آئی اور ای ڈی نے گرفتار کر لیا تھا۔ جیمز ان تین مبینہ درمیانی افراد میں سے ایک ہے جن سے اس معاملے میں تفتیش کی جا رہی ہے، باقی دو گائیڈو ہاسکے اور کارلو گیروسا ہیں۔ سی بی آئی نے اپنے چارج شیٹ پیپر میں دعویٰ کیا تھا کہ 8 فروری 2010 کو 556.262 ملین روپے کے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر کی فراہمی کے معاہدے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو 398.21 ملین یورو (تقریباً 2,666 کروڑ روپے) کا نقصان پہنچا ہے۔ جون 2016 میں جیمز کے خلاف دائر ای ڈی کی چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اگستا ویسٹ لینڈ سے 30 ملین یورو (تقریباً 225 کروڑ روپے) حاصل کیے تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

Published

on

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان