Connect with us
Saturday,03-October-2026

سیاست

فرقہ پرست طاقتوں کو کچلنے کیلئے مولانا ابو الکلام آزاد کا کردار مشعل راہ :شیخ آصف

Published

on

ASIF SHAIKH

(خیال اثر)
آج مولانا ابو الکلام آزاد کا یوم پیدائش ہے ۔ پورے ملک میں آج ہی کے دن قومی یوم تعلیم منایا جاتا ہے ۔مولانا آزاد کی بصیرت انگریزی اور مذہبی و سماجی فکری صلاحیتوں کا ہم اعتراف کرتے ہیں اور انہیں بہترین خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور تمام ہندوستانیوں کو یوم تعلیم کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اسطرح کے جملوں کا اظہار کرتے ہوئے ممبئی سے آصف شیخ نے کہا کہ آج مولانا ابوالکلام کے تاریخی جملوں کو یاد کیا جائے تو یہی بات صادق نظر آتی ہے کہ آج بھارت میں ہمیں مسلم قیادت* کا نعرہ چھوڑ کر سیکولر مزاج غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ فرقہ پرستی اور نفرت کی سیاست کے خلاف متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔ جب تک ہندوستانی مسلمان مسلم قیادت کی رٹ لگاتے رہیں گے تب تک بی جی پی کامیاب ہوتی رہے گی ۔جس کی حالیہ مثال ہم سب نے اپنی کھلی آنکھوں سے بہار اسمبلی انتخابات میں دیکھا ۔اس سے قبل بھی لوک سبھا اور ودھان سبھا میں دیکھا گیا ہے کہ کس طرح مسلم قیادت کے نام پر سیکولر ووٹوں کا بٹوارہ کیا گیا ہے۔ شیخ آصف نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مزید بتایا کہ جب تک ہم مولانا ابوالکلام آزاد کی فکر کو قبول نہیں کرینگے اور انکے قول پر عمل نہیں کریں گے تب تک مسلمان اس ملک میں تنہا رہ جائیں گے، ہمیں مولانا کی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے سیکولر پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس ہندوستانی جمہوریہ میں اپنا وقار قائم کرنا ہوگا ۔آج اس ملک میں مذہبی قیادت کو ہندوستانی عوام قبول نہیں کریگی ۔مسلمان خود اپنی سیاسی جماعت کے نام پر سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔آج ہمیں پورے ملک میں سیکولر ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر فرقہ پرستی کو ختم کرتے ہوئے سیکولر سیاسی جماعتوں کو کامیاب کرنا ہوگا ۔کیونکہ یہ ملک سیکولر ہے ۔آج مسلمانوں کی سیاسی وقعت ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔اویسی صاحب کے آنے سے مسلمانوں کو پتہ چل گیا ہے کہ ملک بھر میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے اور کتنی ہے؟ اس سے قبل بھی ملک بھر میں مسلمانوں کو ہر سیاسی جماعت نے نمائندگی دی ہے اور مسلمانوں پر پوری سیاست کا دارومدار رہا ہے لیکن اویسی صاحب نے اس اہمیت کو ختم کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مضبوط کیا ہے اور مسلمانوں کی حیثیت کو ختم کردیا ہے ۔اس ملک میں اب مسلمانوں کو اپنی الگ سیاسی جماعت کا نعرہ چھوڑ دینا چاہئے ورنہ اس طرح مرکز اور ریاستوں میں بی جے پی کامیاب ہوتی رہے گی ۔آج بہار میں مسلم قیادت کے نام پر سیکولر جماعتوں کو اور مسلمانوں کو کتنا نقصان ہوا یہ ہم سب نے دیکھا ۔پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بھی مسلم قیادت کے نام پر نقصان صرف مسلمانوں کو ہی ہوا ہے ۔شیخ آصف نے کہا کہ مولانا ابو الکلام آزاد نے ہمیشہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ لڑی ہے ۔اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مولانا کی تعلیمات کو پڑھیں اور اس کو دوسروں تک پہنچائیں اور اس پر عمل کریں تب ہی ہم اس ملک میں وقار کے ساتھ اپنا سیاسی اثر و رسوخ قائم رکھ سکتے ہیں ۔اس لئے آج ہمیں مولانا آزاد کے ہندو مسلم اتحاد خیال کو اپنانا چاہیے، مولانا نے کبھی بھی ذات پات زبان، مذہب اور علاقائی بنیاد پر ملک کی تقسیم کی ہمشہ مخالفت کی ہے تو آج ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرقہ پرستی کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی، آر ایس ایس اور ایم آئی ایم جیسی تمام فرقہ پرست پارٹیوں کو شکست دینے کیلئے مسلمانوں اور سیکولر ہندو بھائیوں کو متحد ہونا ہوگا ۔یہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔اسطرح ہم سب مل کر فرقہ پرست پارٹیوں کو شکست دینگے تب یہ مولانا آزاد کو حقیقی خراج عقیدت ثابت ہوگا .

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کستوربا مارگ پولس ۱۰۰چوری شدہ موبائل برآمد، اصل مالکان کے سپرد

Published

on

Mobile-Recovery

ممبئی کستوربا مارگ پولیس تھانہ کی حد سے چوری شدہ اور گمشدہ موبائل فون کے بارے میں موصول شکایتوں کے سلسلے میں سی ای آئی آر پورٹل کے ذریعے دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے اور موبائل فون کی تکنیکی تفتیش کی گئی۔مذکورہ تکنیکی تفتیش کے دوران موبائل فون کی معلومات، آئی ایم ای آئی نمبر اور اس کا استعمال کرنے والے شخص کی معلومات کی تصدیق کرکے کستوربا مارگ پولیس تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں نے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر ریاستوں میں تلاش کرکے کل 100 موبائل فون برآمد کیے ہیں۔ برآمد کیے گئے 100 موبائل فون کی اندازاً کل قیمت 22,70,658/- روپے اتنی ہے۔ مذکورہ برآمد 100 موبائل میں سے 18 موبائل شکایت کنندہ / مالکان کو ان کے فون واپس کیے گئے ہیں جن میں 1) راجندر پوری 2) خوش ساو 3) کرپا لودھیا 4) شریا ساٹم 5) اتل ساٹھے 6) پریانکا مستری 7) بنو ترنگ 8) پریم گپتا 9) آدیا شیخ 10) شویتا شاہ 11) سندھیا پنڈت 12) دیپک ساوڈیکر 13) سوربھ جھانگڑ 14) کیتن شیٹے 15) اونکار راؤت 16) جیالال یادو 17) لکشمی اپا کرپا گری 18) پروین دوبے اور باقی شہریوں کو ان کے موبائل فون واپس کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ مذکورہ کارکردگی ڈی سی پی شمالی پری منڈل 3، ممبئی-راجانے کستوربا مارگ پولیس تھانہ، بالاصاحب بنکرانجام دی ہے۔

Continue Reading

سیاست

مدھیہ پردیش : انوپ پور میں ایک شخص نے لاٹھی سے خاندان کے چار افراد کو قتل کر دیا اور چار دیگر کو زخمی کر دیا۔

Published

on

death

انوپ پور : مدھیہ پردیش کے انوپ پور ضلع کے ایک گاؤں میں ہفتہ کے روز ایک 32 سالہ شخص نے مبینہ طور پر اپنے کنبہ کے چار افراد کو ہلاک اور چار دیگر کو زخمی کر دیا، پولیس نے بتایا۔ یہ واقعہ مقامی تھانے کی حدود میں واقع آمودا گاؤں میں پیش آیا، جہاں ملزم کی شناخت پریم سنگھ گونڈ کے طور پر ہوئی تھی، اپنی ماں کے ساتھ اپنے نانا نانی کے گھر میں رہ رہا تھا۔ گنگارام نے جمعہ کی رات، جس کے بعد گاؤں والوں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے روک لیا۔ ہفتہ کی صبح 4 بجے سے 5 بجے کے درمیان اس کی ماں، انوپیا بائی نے اسے کھول دیا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر قریب پڑی ایک لاٹھی اٹھائی اور کنبہ کے افراد پر حملہ کیا، پولیس نے بتایا۔ اس کی نانی، بھنی بائی اور گوند سنگھ (7)، دادی، گوند، 7 اور گوندل (7)۔ اس حملے میں ماں، انوپیا بائی (50) کی موت ہوگئی۔ پریم سنگھ نے اپنے ماموں چین سنگھ اور اس کی دو بیٹیوں چنچل (6) اور بھارتی (3) پر بھی حملہ کیا۔

اس کے ماموں کی دوسری بیٹی مونیکا بھی شدید زخمی تھی اور بعد میں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی، جس سے مرنے والوں کی تعداد چار ہوگئی۔ چین سنگھ، چنچل اور بھارتی شاہڈول اسپتال میں زیر علاج ہیں، جب کہ پجاری گنگارام بھی پہلے حملے میں زخمی ہونے والے زخمیوں کی طبی دیکھ بھال کر رہے ہیں، پولیس نے بتایا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم علاقے میں پہنچ گئی اور سنگھ کو علاقے میں گھیرے میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیا گیا ہے، اور ایک فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں،” ایک پولیس اہلکار نے بتایا۔ حملے کے پیچھے محرکات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

Continue Reading

سیاست

مغربی بنگال کے اشوک نگر میں ٹی ایم سی رہنما اور ان کے والد پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔

Published

on

Death

کولکتہ : ترنمول کانگریس کے ایک مقامی رہنما اور اس کے والد ہفتہ کو مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے اشوک نگر میں ان کی رہائش گاہ پر پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے، پولیس نے بتایا۔ مرنے والے ترنمول لیڈر کی شناخت سنجے راوت کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے والد، کمل راؤت، جو ایک بزرگ شہری تھے، کی لاش بھی اسی کمرے کے ایک بستر سے برآمد ہوئی تھی، ایک ضلعی پولیس افسر نے بتایا۔ “جس وقت والد کی لاش برآمد ہوئی، وہ زندہ تھے، انہیں اسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ جلد ہی دم توڑ گئے،” ایک ضلعی پولیس افسر نے تصدیق کی۔ اشوک نگر اسمبلی حلقہ، نارائن گوسوامی۔

سنجے (49) اور اس کے والد (72) اشوک نگر کلیان گڑھ میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 13 کے رہائشی تھے۔ مقامی لوگوں نے میڈیا والوں کو بتایا کہ سنیچر کی دوپہر سنجے کی لاش گھر کی بالکونی سے لٹکی ہوئی ملی تھی، “کمل راؤت کو گھر سے بے ہوشی کی حالت میں برآمد کیا گیا، اسے اشوک نگر اسٹیٹ جنرل اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا، ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کمل نے نیند کی گولیاں کھائی تھیں، جب کہ سنجے نے بتایا کہ ایک مقامی باشندے نے خود کو نیند کی گولیاں کھائیں”۔

پولیس نے باپ بیٹے کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے بھجوا دیں۔ “ان کی موت کے پیچھے اصل وجوہات کا پتہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا،” ایک ضلع پولیس افسر نے کہا۔ مقامی سطح پر ترنمول کانگریس کے ایک سرگرم رہنما ہونے کے علاوہ، سنجے راوت برآمدی درآمد کے کاروبار میں بھی شامل تھے۔ کچھ مقامی باشندوں نے بتایا کہ ماضی قریب میں وہ کاروبار سے متعلق کچھ نقصانات کی وجہ سے پریشان تھا۔ سنجے غیر شادی شدہ تھا۔ اس کے والد اس کے ساتھ رہتے تھے۔ ابتدائی طور پر، پولیس کو شبہ ہے کہ سنجے نے اپنے والد کو نیند کی گولیاں کھلانے کے بعد خودکشی کی ہو گی۔ تاہم اشوک نگر پولیس نے باپ بیٹے کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات شروع کردی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان