Connect with us
Thursday,07-May-2026

(جنرل (عام

کورونا کے زیرعلاج مریضوں میں مسلسل کمی ،گھٹ کر 7.15 لاکھ ہوئے

Published

on

ملک میں کورونا وائرس (کووڈ199) کے زیر علاج مریضوں کی تعداد میں مستقل کمی واقع ہوئی ہے اور اب ان کی تعداد 7.15 لاکھ ہوگئی ہے اور متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوکر 77 لاکھ کو عبور کر گئی ہے ملک میں صحت مند کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔
جمعرات کو مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 55،839 نئے کیس رپورٹ ہوئے اور متاثرہ افراد کی کل تعداد 77 لاکھ سے تجاوز کر کے 77،06،946 ہوگئی۔ اسی عرصے میں ، 79،415 افراد نے کورونا کو شکست دی ہے اور اب تک ملک میں 68،74،518 مریضوں نے کورونا سے صحت مند ہوئے ہیں ۔ زیر علاج مریض 24،278 سے کم ہو کر 7،15،812 ہوچکے ہیں کیونکہ صحت مند افراد کی تعداد نئے کیسوں سے زیادہ ہے۔ اس عرصے کے دوران ، 702 کورونا سے متاثرہ فوت ہوگئے اور اب تک 1،16،616 افراد اس کورونا کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
ملک میں بازیابی کی شرح 89.20 فیصد ہوگئی ہے اور زیر علاج مریضوں کی شرح 9.29 فیصد پر آگئی ہے جبکہ اموات کی شرح اب بھی 1.51 فیصد ہے۔
کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثرمہاراشٹرا میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران زیر علاج مریضوں کی تعداد 15،409 کم ہو کرکے 1،59،346 لاکھ ہوگئی ہے ، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 180 اموات سے 42،633 ہوگئی ہے۔ اس عرصے کے دوران ، 23،371 افراد انفیکشن سے ٹھیک ہوگئے ، جس سے صحت مند افراد کی تعداد 14.15 لاکھ سے زیادہ ہوگئی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گرمی سے بچنے کے لیے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر اور پینے کے پانی کا انتظام کیا جائے، میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

ممبئی : ملازمین کو ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن اور گرمی سے پیدا ہونے والے دیگر صحت کے مسائل سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایات دی ہیں کہ فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے پوسٹوں پر اورل ری ہائیڈریشن پاؤڈر (او آر ایس) اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔تاہم فیلڈ میں کام کرنے والے مختلف محکموں کے ملازمین گرمی سے خود کو بچانے کے لیے ضروری احتیاط کریں۔ ایسے میں بھیڈے نے بھی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے فرائض انجام دینے کی اپیل کی ہے۔
ممبئی میں بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ نیز شہریوں میں ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جارہی ہے۔ اس تناظر میں اشونی بھیڈے نے انتظامیہ کو فیلڈ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں کے لیے مختلف اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین مختلف نامساعد حالات میں بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ممبئی میں صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 40 ہزار صفائی کارکن دن رات کام کر رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں فیلڈ پر کام کرنے والے سینی ٹیشن ورکرز کے لیے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تمام پوسٹوں پر فوری طور پر او آر ایس پاؤڈر اور پینے کے پانی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے۔ نیز بھیڈے نے ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں باقاعدہ نگرانی رکھی جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی موسم گرما میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ، شہریوں کو گرمی میں کوڑا کرکٹ اور دیگر فضلات عوامی مقامات پر نہ جلانے کی اپیل

Published

on

ممبئی : موسم گرما کے دنوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے شارٹ سرکٹ، اوور لوڈنگ اور گھروں، دفاتر اور تجارتی اداروں میں بجلی کے نظام پر دباؤ جیسی دیگر وجوہات کی وجہ سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ لہذا ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اہلیان ممبئی سے اپیل کی ہے کہ وہ قوانین پر عمل کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اشونی بھیڈے، ایڈیشنل میونسپل کارپوریشن کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ کو آگ سے بچاؤ کے اقدامات کے لیے چوکس اور لیس رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ممبئی شہر میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گرمی شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ گھروں، دفاتر اور کمرشل کمپلیکس میں پنکھے، ایئر کولر، ایئر کنڈیشنر، فریج اور دیگر برقی آلات بڑی مقدار میں استعمال ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آتشزدگی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ گرم اور خشک ماحول، آتش گیر مواد کا غلط ذخیرہ، کوڑا کرکٹ کو جلانا اور گیس کا اخراج جیسے عوامل کی وجہ سے بھی آگ لگنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ شہری گھر اور عمارت میں بجلی کی تاروں، سوئچ بورڈز اور پلگ پوائنٹس کو باقاعدگی سے چیک کریں اور ان کے کنکشن کو یقینی بنائیں۔ متعدد آلات کو ایک پلگ پوائنٹ سے جوڑ کر اوور لوڈنگ سے بچنا بھی ضروری ہےایئر کنڈیشنر، کولر وغیرہ جیسے آلات استعمال کرتے وقت محفوظ اور معیاری برقی کنکشن استعمال کیے جائیں۔ گھر یا گرد ونواح میں کچرا، درختوں کے سوکھے پتوں، بیلوں یا دیگر آتش گیر اشیاء کو نہ جلائیں۔ ایل پی جی گیس سلنڈر اور گیس پائپ کا متعلقہ ماہرین سے باقاعدگی سے معائنہ کرایا جائے۔ ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ نے اس بات کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ ہر عمارت، مکان اور رہائشی/غیر رہائشی احاطے میں آگ بجھانے کے نظام اچھی حالت میں ہوں۔عمارتوں اور کمرشل کمپلیکس کی سیڑھیاں اور ہنگامی راستوں کو صاف رکھا جائے۔ تاکہ کسی واقعہ کی صورت میں شہری محفوظ طریقے سے باہر نکل سکیں۔ اس کے ساتھ ان کی گاڑیاں مقررہ جگہوں پر کھڑی کی جائیں۔ آگ لگنے کے ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی آزادانہ اور ہموار نقل و حرکت کے لیے کافی جگہ خالی رکھی جائے۔ کسی بھی قسم کی آگ لگنے کی صورت میں، گھبرائیں نہیں اور فوری طور پر ممبئی فائر ڈپارٹمنٹ سے 101 یا 022-23001390، 022-23001393 پر رابطہ کریں، چیف فائر آفیسر شری ۔ رویندر امبولگیکر نے اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : تربوز کھانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے چار افراد کے علاج میں تاخیر سے موت، تربوز میں زہر خورانی سے متعلق ایف ڈی اے کی رپورٹ

Published

on

ممبئی : ممبئی پائیدھونی میں تربوز تناول فرمانے کے سبب ایک ہی کنبہ کے میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی پر اسرار موت کے بعد ایک سنسنی خیز خلاصہ ہوا ہے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد جے جے اسپتال میں ان کے علاج میں تاخیر و تامل برتا گیا, جس کے سبب ان کی حالت مزید خراب ہوگئی, بروقت معالج نہ میسر ہونے کے سبب چار افراد کی موت واقع ہوگئی۔ تربوز تناول فرمانے کے سبب موت کے بعد اب ممبئی میں تربوز کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی دعوت میں تو تربوز پوری طرح سے غائب ہوگیا ہے۔ جے جے اسپتال میں اس معاملہ میں ڈیٹ ایڈٹ بھی شروع کی تھی۔ چاروں کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا, ان چاروں کو الٹی اور دست کی شکایت تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد تاخیر سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ فارنسک تفتیش میں زہر خورانی سے متعلق بھی شبہ ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے باقاعدہ طورپر حادثاتی موت کا معاملہ درج کیا ہے۔ 25 اپریل کو کنبہ نے بریانی تناول فرمایا اس کے بعد تربوز کھانے کے سبب ان کی موت واقع ہوئی, لیکن ابتدائی تفتیش میں یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے۔ ایف ڈی اے کی تحقیق میں یہ واضح ہوا ہے کہ تربوز میں کوئی بھی زہریلی شئے کی آمیزش نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اب ایف ڈی اے اور دیگر ایجنسی غذائی سمیت کے زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان