Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

سیاست

درگا ماں کی بھگتی کی شکتی ہے کہ میں دہلی میں رہ کر خود کو کلکتہ میں محسوس کررہاں ہوں۔ وزیر اعظم

Published

on

درگا پوجا کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگا ل کے عوام سے خطاب کے دوران اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کو امپاور منٹ کےلئے کئی اقدامات کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی اپنی تقریر میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل آخری درگا پوجا کے موقع پر ووٹروں کو لبھانے کی بھی کوشش کی ۔
بنگال بی جے پی کی دعوت پر ریاست کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہیشاسور کو مارنے کے لئے ماں درگا کا ایک ہی عضو ہی کافی تھا ، لیکن اس کام کے لئے تمام آسمانی طاقتیں متحد ہوگئیں۔ اسی طرح خواتین میں ہمیشہ تمام چیلنجوں پر قابو پانے کی طاقت ہوتی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ منظم انداز میں خواتین کے امپاورمنٹ اور انہیں طاقت بخشنے کیلئے کھڑے ہوں ۔
اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکرکرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عصمت دری کی سزا سے متعلق قوانین سخت کئے گئے ہیں۔ عصمت دری کے ارتکاب کرنے والوں کےلئے سزائے موت مقررکیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے آتم نربھرکا جو عہد اور سنکلپ لیا ہے اس میں ناری شکتی کا بہت ہی اہم رول ہے ۔
ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ درگا پوجا کا تہوار ہندوستان کے اہم تہواروں میں سے ایک ہے ۔ بنگال کی پوجا ہندوستان کو ایک ہی رنگ میں رنگ دیتی ہے اور یہ ہندوستان پر بنگال کے اثرات کے تاریخی شواہد ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پوجا کے اس موقع پر میں بنگال کی مقدس سرزمین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھکتی کی طاقت ایسی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ میں آپ سب کے درمیان حاضر ہوں ، دہلی میں نہیں بلکہ بنگال میں ہوں ۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہم سب کورونا بحران سے واقف ہیں اوراس سایہ اس سال درگا پوجا کا تہوار منایاجارہا ہے اس لئے ہم سب کو احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم نے ریاست کے عوام اور درگا پوجا کمیٹیوں کے تحمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی نزاکت سمجھتے ہوئے ہم سب نے اپنے جذبات پر قابوپاتے ہوئے تحمل سے کام لیا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا بحران کی وجہ سے درگا پوجا کا اہتمام محدود پیمانے پر کیا ہے لیکن ہم سب کی شکتی اور عظمت و احترام میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ہماری سرگرمیاں محدود ضرور ہیں مگر خوشیاں لامحدود ہے ۔ یہ بنگال کی شناخت ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ دو گز کا فاصلہ بناکر دیوی درگا کی پوجا کریں ، ماسک پہنیں اور تمام اصولوں پر عمل کریں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال کے عظیم سپوتوں نے بھارت ماتا کی خدمت کی ہے۔ بنگال میں پیدا ہوے والی شخصیات نے پوری انسانیت کو راہیں دکھائی ہیں ۔عظیم شخصیات رام کرشن پرم ہنس ، سوامی ویویکانند ، چیتنیا مہاپربھو ، ارووبندو گھوش ، بابا لوک ناتھ ، سری سری ٹھاکر سکھ چندر ، ماں آنندی، رابند ناتھ ٹیگور ، بنکم چندر چٹوپادھیائے ، شرد چندر چٹوپادھیائے کو سلام پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے معاشرے کو ایک نئی راہ دکھائی۔
اس کے علاوہ ، وزیر اعظم نے کہا کہ ایشور چندر ودیاساگر ، راجہ رام موہن رائے ، گروچند ٹھاکر ، ہری چند ٹھاکر ، پنچان برما کا نام لینے سے شعور و آگہی آتی ہے۔ مودی نے کہا کہ یہ موقع ان کے سامنے جھکنے کا ہے ،انہوں نے ہندوستان کی تحریک آزادی کو ایک نیا رخ دیا۔میں نیتاجی سبھاش چندر بوس ، شیاما پرساد مکھرجی ، شہید خودی رام بوس ، شہید پرفل چاکی ، ماسٹر دا سوریہ سین ، باگا جتن کو سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ماں کا صرف ایک حصہ مہیشورا کو مارنے کے لئے کافی تھا ، لیکن اس کام کے لئے تمام خدائی طاقتوں کو منظم کیا گیا تھا۔ اسی طرح خواتین میں ہمیشہ تمام چیلنجوں پر قابو پانے کی طاقت ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میںہم سب کی ذمہ داری ہے کہ منظم انداز میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ مودی نے کہا کہ ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم تیز رفتار سے جاری ہے۔ عصمت دری سے متعلق قوانین کو سخت کئے گئے ہیں۔یہاں تک کہ سزائے موت کا بھی انتظام کیا گیاہے۔
وزیر اعظم نے 22 کروڑ خواتین کے بینک کھاتہ کھولنے یا مدرا اسکیم کے تحت کروڑوں خواتین کو آسان قرض دینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ’’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھائو‘‘ مہم ہو یا طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے مسلسل کام جاری ہے۔ بھارت نے جو نیا عہد لیا ہے اور جس مہم کا ہم نے آغاز کیا ہے اس میں خواتین کی طاقت کا بہت بڑا کردار ہے۔
وزیر اعظم نے 2021 میں ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر رائے دہندگان کو راغب کرنے کی بھی کوشش کی۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم مودی نے مرکزی حکومت کی کامیابیوں کو بھی گنایا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نےشمال مشرقی ہندوستان کی ترقی کے لئے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ بنگال کے بنیادی ڈھانچے کے لئے ، رابطے کو بہتر بنانے کے لئے بھی مسلسل کام کیا جارہا ہے۔ کلکتہ میں ایسٹ ویسٹ میٹرو راہداری منصوبے کے لئےساڑھے 8ہزار کروڑ روپئے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کل ٹویٹ کرکے اطلاع دی تھی کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کلکتہ میں ہونے والے درگا پوجا کی تقریبات میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ براہ راست پروگراموں میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔وزیر اعظم کے اس خطاب کو بی جے پی کے تمام دفاتر ، ریاست کے ہر ضلع کے 10 درگا پوجا پنڈال اور پولنگ بوتھ علاقےمیں بڑے بڑے اسکرین لگائے گئے تھے ۔بی جے پی بنگال میں پہلی بار درگا پوجا کا اہتمام کررہی ہے۔ کلکتہ کے سالٹ لیک میں ایسٹرن زونل کلچرل سنٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواتین مورچہ کے ذریعہ درگا پوجا کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بنگال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سیاسی جماعت نے براہ راست درگا پوجا کا انعقاد کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

پی ایم مودی اور نیتن یاہو نے اسرائیل کی پہل پر ٹیلی فون پر بات چیت کی، مغربی ایشیا پر تبادلہ خیال کیا : ایم ای اے

Published

on

Netanyahu-Modi

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی بات چیت کی تفصیلات دیتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ فون کال اسرائیل سے آئی تھی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کی۔ ملاقات میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ فون کال اسرائیل سے کی گئی تھی جسے وزیر اعظم نے قبول کر لیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان بات چیت کے دوران مختلف شعبوں میں اس شراکت داری اور دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور وہاں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو وزیر اعظم مودی سے فون پر بات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستان-اسرائیل خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے باہمی فائدے کے لیے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

وزارت کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر اعظم مودی نے بھی مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، ہندوستان اور اسرائیل نے بنیادی طور پر اسٹریٹجک اعتماد پر مبنی تعلقات استوار کیے ہیں۔ دفاعی تعاون، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور زرعی اختراع تیزی سے پختہ شراکت داری کے ستون بن گئے ہیں۔ اس کے باوجود، جب کہ سیاسی اور سیکورٹی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اقتصادی تعلقات اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں رہے ہیں۔ انڈیا اسرائیل فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کے لیے جاری مذاکرات اس کو تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان