Connect with us
Tuesday,21-April-2026

سیاست

جموں و کشمیر میں تخریبی عناصر کو الگ تھلگ کرنے کی ضرورت: مختار عباس نقوی

Published

on

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو تخریبی عناصر کو الگ تھلگ کر کے ترقی کی راہ پر چل کر ایک خوشحال زندگی گزر بسر کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 کو پارلیمان نے ختم کیا ہے اور اس کی واپسی اب ناممکن ہے۔
مختار عباس نقوی نے یہ باتیں یو این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہیں۔
انہوں نے کہا: ‘آج کا جموں و کشمیر ایک خوشحال ماحول میں آگے بڑھ رہا ہے۔ کچھ لوگ ہیں جو پھر سے تباہ کن ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ان کو الگ تھلگ کیا جانا چاہیے۔ لوگوں کو ترقی کی راہ پر چلتے ہوئے ایک خوشحال زندگی گزر بسر کرنی چاہیے’۔
نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مستقبل قریب میں ہمیں ترقی اور لوگوں کو با اختیار بنانے کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔
انہوں نے کہا: ‘دفعہ 370 کی وجہ سے یہاں ترقی اور لوگوں کو با اختیار بنانے سے متعلق اسکیمیں لاگو نہیں تھیں۔ اب وہ اسکیمیں لاگو ہو چکی ہیں۔ ان کا اثر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر میں ترقی اور لوگوں کو با اختیار بنانے کے میدان میں ہمیں بہت جلد انقلابی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی’۔
ان کا اس پر مزید کہنا تھا: ‘بہت سے کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوں نے مرکزی حکومت سے رجوع کر کے جموں و کشمیر میں اپنے یونٹ کھولنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس سے نہ صرف یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا بلکہ ترقی کی رفتار بھی تیزی پکڑے گی’۔
نقوی نے کہا کہ ‘عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ’ نے اپنے آپ کو الگ تھلگ ہوتا دیکھ کر ہی انتخابی میدان میں کودنے کا فیصلہ لیا ہے۔
ان کے بقول: ‘ان کا خاندانی غرور اور پاندانی سرور چکنا چور ہو چکا ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ ہم تب ہی انتخابی عمل میں شرکت کریں گے جب دفعہ 370 واپس آئے گی۔ دفعہ 370 کو پارلیمنٹ نے ختم کیا ہے۔ اس کی واپسی ناممکن ہے۔ یہاں کے لوگ ترقی کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ جب گپکار الائنس والوں کو پتہ چلا کہ ہم تو الگ تھلگ ہو رہے ہیں تو انہوں نے اپنا مشورہ بدل کر انتخابی میدان میں کودنے کا فیصلہ لیا’۔
مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ڈسٹرک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات میں ایک مخصوص اتحاد کے امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے سے روکنے کی شکایتیں بے بنیاد ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘جب امیدوار لوگوں کا موڈ اپنے خلاف دیکھتے ہیں تو وہ شور مچاتے ہیں کہ ہمارے امیدواروں کو مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے اور بعد میں کہیں گے کہ یہی وجہ رہی کہ ہمارے امیدوار ہار گئے۔ ان ہی لوگوں کے بیان تھے کہ بی جے پی کو کشمیر میں امیدوار بھی نہیں ملیں گے۔ لیکن زمینی سطح پر نظر ڈالیں تو بی جے پی کے امیدوار ہر جگہ سے کھڑا ہوئے ہیں’۔
یہ پوچھے جانے پر کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں بی جے پی کتنی نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے تو نقوی کا جواب تھا: ‘بی جے پی کتنی سیٹیں جیتتی ہے یا گپکار الائنس کتنی سیٹیں جیتتی ہے یہ اہم نہیں ہے۔ سب سے ہم لوگوں کی شرکت ہے۔ بار بار کہا جا رہا تھا کہ سیاسی عمل شروع ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے بڑا سیاسی عمل کیا ہوسکتا ہے کہ جو انتخابات 70 سال میں نہیں ہوئے وہ ہو رہے ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘لوگ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ الیکشن جیت ہار کا الیکشن نہیں بلکہ جمہوری اقدار کو پھر سے قائم کرنے کا الیکشن ہے’۔

جرم

ممبئی مصالحہ کی دکان میں چوری ملازم یوپی سے گرفتار نقدی برآمد

Published

on

Arrest

ممبئی : کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان سے ۱۳ لاکھ ۸۶ ہزار۲۰۰ روپیہ کی چوری کرنے والے ایک ملازم چور کو پولس نے یوپی ایودھیا اترپردیش سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کالا چوکی علاقہ میں مصالحہ کی دکان پر ۸ دنوں کا جمع شدہ پیسہ غلہ میں رکھا ہوا تھا اور دوسرے روز شکایت کنندہ دکان مالک نے غلہ میں پیسہ تلاش کیا تو اسے یہ برآمد نہیں ہوا, اس کے بعد اس نے پولس اسٹیشن میں رپورٹ درج کروائی اور پولس نے انکوائری کی تو معلوم ہوا کہ دکان پر کام کرنے والا ملازم صبح سے غیر حاضر ہے, جس پر پولس کو شبہ ہوا اور پولیس نے یوپی کے ایودھیا سے اجئے کمار شیام سندر کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے نقدی ۱۰ لاکھ سے زائد برآمد کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی راگسودھا نے حل کر لیا اور پولس نے ملزم کو یوپی سے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دوٹانکی مولانا شوکت علی مارگ پر فرنیچر فروشوں کے خلاف ‘ای’ وارڈ کی بے دخلی کی کارروائی

Published

on

2-Tank-Road

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ وارڈ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ‘ای’ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مولانا شوکت علی مارگ پر پرانے فرنیچر فروشوں اور دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر (زون 1) چندا جادھو کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنرآنند کنکل کی قیادت میں کی گئی۔ ای ڈپارٹمنٹ میں مولانا شوکت علی مارگ پر تجاوزات بالخصوص مرلی دیورا آئی اسپتال سے جے جے اسپتال سگنل تک کے علاقے میں راہگیروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا تھا۔ راہگیروں کو فٹ پاتھ کے بجائے سڑک پر گزرنے پر مجبور ہونا پڑتا تھا جس کی وجہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔ اس صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن کے ‘ای’ ڈویژن کی کنزرویشن اینڈ انکروچمنٹ ایلیمینیشن ٹیموں نے ممبئی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایک مہم شروع کی۔ اس بے دخلی کی کارروائی کے دوران فرنیچر فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سخت کارروائی کی گئی۔ فٹ پاتھوں پر پڑے پرانے فرنیچر کو جے سی بی کی مدد سے موقع پر ہی تباہ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی ٹوٹے ہوئے فرنیچر کے فضلے کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔ فٹ پاتھ پر تمام تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ علاوہ ازیں علاقے میں غیر مجاز ہاکروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ جس کے باعث سڑک کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

اس مہم میں 1 جے سی بی، 4 مزدور، 3 افسران اور 2 انجینئروں نے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ناگ پاڑہ پولیس اسٹیشن کے 9 اہلکاروں کو سیکورٹی کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ دریں اثنا، ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ‘ای’ ڈویژن اس موقع پر ایک بار پھر واضح کر رہا ہے کہ غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز ہاکروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی جاری رہے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محافظ کو نشانہ نہ بنائیں… سمیر وانکھیڈے کے کیس میں بامبے ہائیکورٹ کا اہم تبصرہ

Published

on

ممبئی: این سی بی کے زونل ڈایکٹرسمیر وانکھیڈے رشوت ستانی کیس میں بامبے ہائیکورٹ نے سماعت کرتے ہوئے کئی اہم تبصرے کئے ہیں اور ایجنسی سے سوال کئے ہیں جس میں پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ ملزم کے بیان پر انکوائری کرسکتے ہیں ؟ این سی بی نے اس سے قبل سمیر وانکھیڈے کی انکوائری سے متعلق بند لفالفے میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وانکھیڈے پر انکوائری نواب ملک یا کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ انکوائری نامعلوم شکایت اور خط پر کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی شکایت کنندہ کرن سجنانی بھی سمیر وانکھیڈے کے طریقہ کار پر انکوائری کا مطالبہ کیا تھا جبکہ سمیر وانکھیڈے نے ہی کرن سجنانی کو ڈرگس کیس گرفتار کیا تھا اور اس کے ساتھ اس کے شریک کار سمیر خان کو بھی گرفتار کیا تھا سمیر خان نواب ملک کا داماد ہے سمیر خان کاایک کار حادثہ میں انتقال ہو چکا ہے۔ عدالت سمیر وانکھیڈے سے متعلق تبصرہ کیا گیا ہے کہ سماج میں بہتر کام کرنے والے افسر و محافظ کو نشانہ بنایا جائے یہ تبصرہ عدالت نے سمیر وانکھیڈے پر ملزم کی جانب سے شکایت پر انکوائری پر کیا ہے اس کے ساتھ ہی جس ملزم کی شکایت پر انکوائری کی جارہی ہے اس پر ڈرگس فروشی کا الزام ہے اس کےخلاف الزام ہے کہ وہ اور اس کا پارٹنر ممبئی میں واڈہ پاؤ کی طرح ڈرگس منشیات فروشی کا منصوبہ تیار کر چکے تھے سمیر وانکھیڈے نے ڈرگس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کورڈیلیا کروز کیس میں آرین خان کو گرفتار کیا تھا اس سے ۲۵ کروڑ روپے رشوت طلبی کا بھی ان پر الزام ہے اس میں سی بی آئی نے کیس درج کیا ہے اسی معاملے میں ایک پرائیوٹ عرضی گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں جرم کے زمرے میں آتا ہے اگر وانکھیڈے نے رشوت وصول کی ہے تو پھر شاہ رخ خان کو بھی اس معاملہ میں ملزم بنایا جائے کیونکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اس معاملہ میں ہائیکورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے وانکھیڈے کو راحت پہنچائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان