Connect with us
Tuesday,30-June-2026

سیاست

لوک سبھا اسپیکر نے مرکزی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کو کیا منظور

Published

on

loksabha..

لوک سبھا میں کانگریس کے دواپوزیشن ممبران پارلیمنٹ گورو گوگوئی اور بی آر ایس کے نامہ ناگیشور راؤ کے عدم اعتماد کی تحریک کو منظور کرتے ہوئے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ بحث کی تاریخ کا اعلان بعد میں کریں گے۔ اس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اس دوران منی پور کی صورتحال پر بحث اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نعرے بازی اور احتجاج جاری رکھا۔

منی پور معاملہ پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے کہا کہ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو منظور کر لیا ہے۔ اب اسے اولین ترجیح دی جانی چاہئے کیونکہ عام طور پر روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ تحریک عدم اعتماد آجائے تو باقی سبھی کام ملتوی کردئے جاتے ہیں انہیں اٹھایا جانا چاہئے۔

اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ یہ سب (تحریک عدم اعتماد) غیر ضروری ہوتا اگر وزیر اعظم منی پور کے معاملے پر (پارلیمنٹ میں) بولنے پر راضی ہو جاتے۔

وہیں دوسری طرف راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے منی پور معاملے کو لے کر پارلیمنٹ میں تعطل پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ہم وزیر اعظم سے پارلیمنٹ میں آنے اور بولنے کی اپیل کررہے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سے ان کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ہم اس ملک کے عوام کے لئے پرعزم ہیں اور ہم اس کیلئے ہر قیمت چکائیں گے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں کے طرز عمل کے ریکارڈ تاریخ کے اوراق میں درج ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی میں غیر قانونی ڈانس بار پر کارروائی ہو, ٹورنیٹ کی بجائے دیگر بجلی کمپنی کو سپلائی کی ذمہ داری دینے کا مطالبہ : رئیس شیخ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں رئیس شیخ نے بھیونڈی دیہی میں غیر قانونی بار پر کارروائی کا مطالبہ کر تے ہوئے ریاستی وزیر اعلی دیویندرفڑنویس کی اس پر توجہ طلب کروائی اور کہا کہ بھیونڈی میں شب بھر بار جاری رہتے ہیں اور یہ علاقہ جرائم پیشہ کا اڈہ بن گیا ہے یہاں جرائم کی وارداتوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے جب اس معاملہ میں پولیس میں شکایت کی جاتی ہے تو پولیس کا یہ جواب ہوتے ہیں کہ یہ علاقہ مزدور طبقہ پر محیط ہے اس لئے کھانے کی ہوٹلیں شب چائے خانے رات میں جاری رہتے ہیں اگر ہوٹلیں یا کھانے کے مراکز رات بھر جاری رہتے ہیں تو اس کےلئے بھی اصول و ضوابط مرتب کئے جائیں جبکہ رات بھر ڈانس بار شروع ہونے کے سبب یہ علاقہ جرائم کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے اس لئے اس پر توجہ دی چاہئے ۔ جس پر وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے رئیس شیخ کو کارروائی کا یقین دلایا ہے۔

اس کے ساتھ ہی بھیونڈی میں بجلی کمپنیوں پر رئیس شیخ نے وزیر اعلی کی توجہ مرکوز کر تے ہوئے کہا کہ بھیونڈی میں پاورلوم صنعتیں آباد ہیں یہاں ٹورینٹ کی دادگیری سے عوام پریشان ہے کیونکہ بلوں کی شرح میں اضافہ سے وہ بلوں کی ادائیگی سے قاصر ہے بھیونڈی میں بجلی کی ذمہ داری دیگر کمپنیوں کو فراہم کی جائے اس میں ٹاٹا پاور اور اڈانی کو بھی بھیونڈی میں لایا جاسکتا ہے اس کے ساتھد ہی ٹورینٹ کمپنی کو ہٹا کر دیگر کمپنی کو بھی یہ ذمہ داری دی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی بھیونڈی کے عوام اور کاروباری کو بجلی کی بل میں رعایت اور سبسڈی کا بھی مطالبہ کیا ہے جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ اس پر مثبت اقدامات کئے جائیں گے ساتھ ہی بجلی بل سے متعلق بھی ضروری احکامات جاری کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی رئیس شیخ نے کہا کہ ٹورینٹ پاور کمپنی کا عجب رول ہے اگر کوئی بجلی چوری ہوتی ہے تو اس کی ادائیگی دوسروں سے کرواتی ہے بجلی کوئی اور استعمال کرے اور اس کی ادائیگی کوئی دوسرا یہ کہاں کا انصاف ہے جس پر وزیر اعلی نے ضروری توجہ دےنے کی یقین دلائی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیسٹ کمپنئ دیوالیہ، 5000 اسامیاں خالی، رکن اسمبلی امین پٹیل کا سنگین الزامات

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں، جنوبی ممبئی کے ایم ایل اے امین پٹیل نے ممبئی میں بجلی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر حکومت اور بیسٹ انتظامیہ پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پورے جنوبی ممبئی میں صرف 1,200 جمپر نصب ہیں، جو مانسون کے موسم میں کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔ کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاع ہے۔ امین پٹیل نے الزام لگایا کہ بیسٹ ممبئی والوں کو بہتر بجلی فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیسٹ کے جی ایم سے کئی ملاقاتوں کے باوجود کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا۔ایم ایل اے نے ایوان میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ بیسٹ میں تقریباً 5000 عہدے خالی ہیں، لیکن حکومت کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ ان عہدوں کو کب بھرا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت نظام کو بہتر نہ کیا گیا تو مانسون کے موسم میں بڑے حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔ “جب 5000 عہدے خالی ہیں اور پورا جنوبی ممبئی صرف 1200 جمپروں پر منحصر ہیں، تو ممبئی والوں کی حفاظت کی ذمہ داری کون لے گا؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

آدتیہ ٹھاکرے نے سچن اہیر کے جانے پر کہا کہ یہ آپریشن ٹائیگر نہیں بلکہ آپریشن فڑنویس ہے۔

Published

on

ٹی ایم سی کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو ہمارے ساتھ پہلے ہوا تھا۔ اگر ہمارے کیس میں پہلے انصاف ہو جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ یہ صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں ہے، بلکہ پورا آئین بنایا گیا ہے۔ بی جے پی آئین کی توہین کر رہی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عدالتی نظام اس کا احترام کرے گا۔ یہ آپریشن ٹائیگر نہیں، یہ آپریشن دیویندر فڈنویس ہے۔ ان کا پپو کاٹا جا رہا ہے۔ آر سی ایم کی باڈی لینگویج دیکھیں، اس کی طاقت پر غور کریں۔ یہ ان کی آخری مدت ہوسکتی ہے۔ اب انہیں مرکزی کابینہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔

جب بھی بغاوت ہوتی ہے تو بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کی پوزیشن کیا تھی۔ اگر آپ کو ایم ایل اے بنایا گیا، آپ کی بیٹی کو کمیٹی میں جگہ دی گئی، آپ کے بھائی کو بہترین کمیٹی دی گئی، تو اخلاقی بنیادوں پر آپ کو اپنی پارٹی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ اتنی بھی اخلاقیات کیسے نہیں ہوسکتی؟ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دل بدل دیتے ہیں۔ وہ کیا وجہ دیں گے؟ آئیے اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ ہم کیا کمی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں یہاں مدعو کیا جانا چاہیے۔ ہم توہم پرستی میں یقین رکھنے والے لوگ نہیں ہیں۔ ہم آئین پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔

2029 کا الیکشن بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بی جے پی نے ہمارے خلاف ہندوتوا کی سیاست کھیلی۔ بی جے پی نے فسادات بھڑکائے۔ بی جے پی نے رام مندر کے مسئلہ پر رتھ یاترا نکالی۔ دریں اثنا، بی جے پی اور اس کے ارکان ایودھیا میں زمین چوری کر رہے ہیں اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ آج اس بی جے پی سے کوئی امیدیں نہیں ہیں۔ ان کے وزیر اعلیٰ خود اجین میں ماسٹر پلان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں اور بدعنوانی کر رہے ہیں۔

ان تمام ایم ایل اے اور ایم پیز سے جو آج بی جے پی کے ساتھ بیٹھے ہیں، میں ان سے آئندہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اجین میں بدعنوانی کیسے ہوئی، ایودھیا میں کیا بدعنوانی ہوئی، اور گھوٹالہ کیوں ہوا؟ ہمارے ہندوؤں کے جذبات سے کیوں کھیلا گیا؟ آج میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو بی جے پی کے ساتھ جانا چاہتے ہیں کہ لوگ پوچھیں گے کہ آپ نے انہی بڑے لیڈروں کو ایم پی اور وزیر کیوں بنایا جن پر کرپشن کے الزامات تھے۔ کیا یہ وہی بی جے پی ہے جو کبھی کرپشن کے خلاف ہونے کا دعویٰ کرتی تھی؟

Continue Reading
Advertisement

رجحان