Connect with us
Sunday,21-June-2026

قومی خبریں

بابری مسجد قضیہ سے بظاہر زیادہ گنجلک ہے فیس ادائیگی کا معاملہ

Published

on

بابری مسجد رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں مسجد کے اہم فریق جمعیت علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کے نام پر اس کیس میں ایڈوکیٹ آن ریکاڑ اعجاز مقبول کے ذریعہ مبینہ فیس لینے کے معاملے میں جمعیت کے موقف میں کافی تردد ہے جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ کردیاہے۔
سپریم کورٹ کے معروف وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کےذریعہ بابری مسجد کا کیس مفت میں لڑنے کی بات سرزدعام ہے۔لیکن سپریم کورٹ کے وکیل اور بابری مسجد معاملے میں کبھی جمعیت کے وکیل رہے ارشاد حنیف نے الزام لگایا ہے کہ اعجاز مقبول نے راجیودھون کے نام پر جمعیت سے خطیر رقم لی ہے۔ ڈاکٹر دھون کے فیس کے نام پر جمعیت سے رقم جاری کی گئی لیکن وہ راجیو تک نہیں پہنچی۔ملحوظ رہے کہ بابری معاملے میں اعجاز مقبول ایڈوکیٹ آن ریکارڈ تھے اور وہی راجیو دھون کi معاونت کررہے تھے۔اور جمعیت نےانہیں کی توسط سے ڈاکٹر دھون کو اس کیس سے وابستہ کیا تھا۔
مسٹر حنیف نے اس ضمن میں حلفیہ بیان دینے کی صراحت کے ساتھ دعوی کیا کہ انہوں ڈاکٹر دھون سے جمعیت سے ان کی فیس جاری ہونے کا ذکر کیا تھا تو ڈاکٹر دھون نےکافی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے برجستہ کہا تھا کہ ‘یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟’۔مسٹر حنیف کے بقول انہوں نے ڈاکٹر دھون کی آفس میں ہی اس ضمن میں راجیودھون اور جمعیت علماء کے صدر ارشدمدنی سے کال کانفرنسنگ کرائی تھی جس کے بعد ڈاکٹر دھون نے انہیں جمعیت سے ان کی فیس ادائیگی کی رسیدیں ان تک پہنچانے کو کہا تھا۔
وہ کہتے ہیں لیکن بعد میں جب ہم رسدیں لانے جمعیت پہنچے تو انہوں نے اس ضمن میں ڈاکٹر دھون سے بات کرلینے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں درکنار کردیا۔
یواین آئی سے ٹیلوفونک گفتگو میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے اس معاملے میں عدم دلچسپی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ یہ پیشہ وارانہ مخاصمت کا پیش خیمہ ہے۔اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ڈاکٹر دھون نے بالکل مفت میں شروع تا آخر تک کیس لڑا ہے۔ڈاکٹردھون کی فیس کے نام پر جمعیت سے خطیر رقم لینے کےالزام کے پاداش میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں اس لائق بھی نہیں سمجھتے کہ ان باتوں پر دھیان دیں۔
اس ضمن میں ہم نے جمعت علماء کے کئی ذمہ داران سے رابطہ کر کے ڈاکٹر دھون کو جمعیت کی جانب سے فیس کی ادائیگی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی واضح موقف اختیار کرنے،معاملے کی تصدیق یا تردید کے بجائے’اب ہم اس معاملے میں دوبارہ نہیں پڑنا چاہتے’جو ہوگیا ہوگیا اب اس پر کیا بات کرنا’کہہ بات کو ڈال دیا۔اس ضمن میں مولانا ارشد مدنی نے نمائندے کے سوال کا براہ راست جواب دینے کے بجائے پورے معاملے میں جمعیت کے ممبئی یونٹ سے رابطہ کرنے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام عدالتی کاروائیاں ممبئی یونٹ ہی دیکھتی ہے۔
جمعت علماء کے سکریٹری مولاناگلزاراحمد اعظمی و جمعیت علماء ہند کے میڈیا سکریٹری مولانا فضل الرحمان سے بھی ہم نے رابطہ کیا لیکن دونوں نے کچھ بھی کہنے سے صاف منع کردیا ۔مولانا فضل الرحمان نے ضرورت پڑنے پر جمعیت کی جانب سے میڈیا کے لئے اس ضمن میں پریس نوٹ جاری کرنے اور مولانا گلزار نےبات کو طول نہ دینے کا حوالہ دیا۔مولانااسجد مدنی بھی معاملے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کرتے ہوئے صدر جمعیت سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

مغربی بنگال: ٹی ایم سی لیڈر جہانگیر خان کی اہلیہ گرفتار، بھارت نیپال سرحد کے قریب سے گرفتار

Published

on

کولکتہ، مغربی بنگال پولیس نے ہفتہ کو ایک بڑی کامیابی حاصل کی جب انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنما جہانگیر خان کی اہلیہ ریجینا بی بی کو گرفتار کرلیا، جو تین دن سے مفرور تھی۔ رجینہ بی بی پر فالتہ تھانے پر حملے کی کوشش کی مرکزی سازش کا الزام ہے۔

پولیس پہلے ہی جہانگیر خان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ریجینا بی بی کی گرفتاری کے بعد، ان کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی)، 2023، اسلحہ ایکٹ، 1959، اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ، 1884 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس اسے جنوبی 24 پرگنہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کرے گی۔

ریاستی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ریاستی پولیس اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے اہلکاروں نے ٹی ایم سی کارکنوں کے ذریعہ فالٹا پولیس اسٹیشن پر حملے اور جہانگیر خان کو بچانے کی کوشش کے سلسلے میں ریجینا بی بی کو ہندوستان-نیپال سرحد کے قریب ایک ٹھکانے سے گرفتار کیا۔ رجینہ بی بی کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس معاملے میں کل 26 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فالٹا تھانے پر حملے کی منصوبہ بندی پیر کو ایک خفیہ مقام پر ہونے والی میٹنگ میں کی گئی۔ الزام ہے کہ یہ میٹنگ رجینہ بی بی نے بلائی تھی۔

ایک ضلعی پولیس افسر نے کہا، “میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حامی فالٹا تھانے سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مخصوص جگہ پر جمع ہوں گے۔ پھر وہ پولیس اسٹیشن پر اچانک اور منظم حملہ کریں گے اور جہانگیر خان کو چھڑانے کی کوشش کریں گے۔”

جمعہ کے روز، مغربی بنگال کے وزیر اعلی سویندو ادھیکاری نے کہا کہ انہوں نے انتظامیہ کو پولیس اسٹیشن حملے میں ملوث افراد کی جائیدادوں کی شناخت، ضبط اور نیلامی کرنے اور نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف منسٹر ادھیکاری نے جمعہ کو کہا تھا، “حملہ آوروں کے خلاف تعزیرات ہند 2023 کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے، جس میں ملک دشمن سرگرمیوں سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ ہم نہ صرف حملہ آوروں کو سخت سزا دیے جانے کو یقینی بنائیں گے، بلکہ ان کی جائیدادوں کو ضبط کریں گے اور نقصانات کا معاوضہ بھی وصول کریں گے۔”

Continue Reading

تعلیم

این ای ای ٹیایڈمٹ کارڈ تنازعہ پر راہل گاندھی کا جواب، “اس طرح کے نظام کو امتحانات منعقد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے”

Published

on

نئی دہلی : این ای ای ٹی یو جی کے دوبارہ امتحان کے سلسلے میں ناگپور سے ایک سنگین انتظامی کوتاہی سامنے آئی ہے، جس نے امتحانی نظام اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے کام کاج پر سوالات اٹھائے ہیں۔ این ای ای ٹی یو جی کے دوبارہ امتحان کے لیے جاری کردہ ایڈمٹ کارڈ، جو کہ 21 جون کو ملک بھر میں ایک ہی شفٹ میں منعقد ہوگا، میں ناگپور کے طالب علم کا امتحانی مرکز ابوظہبی (متحدہ عرب امارات) کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

طالب علم کا نام عبداللہ محمد طالب بتایا جاتا ہے۔ جب اس نے اپنا ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کیا تو وہ اور اس کا خاندان ہندوستان کے بجائے بیرون ملک واقع امتحانی مرکز کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اہل خانہ کے مطابق، اس کے پاس نہ تو پاسپورٹ ہے اور نہ ہی امتحان دینے کے لیے بیرون ملک جانے کا کوئی ذریعہ یا وسائل۔ جس سے خاندان میں بے چینی اور تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے امتحانی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم، جو گزشتہ ایک ماہ سے امتحان کی تیاری کر رہا تھا، اسے آخری لمحات میں معلوم ہوا کہ اس کا امتحانی مرکز بیرون ملک ہے۔ اس سے وہ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہو گیا۔

راہل گاندھی نے لکھا، “پاسپورٹ کے بغیر، اپنے خاندان کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے پیسے نہیں، اور وقت نہیں بچا، وہ ساری رات روتا رہا اور امتحان دینے سے انکار کر دیا، کیا اس تناؤ کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی طالب علم کو کل امتحانی مرکز نہ پہنچنے کی شکایت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ این ٹی اے دراصل ملک کے بچوں اور ان کے والدین کے صبر کا امتحان لے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام ہے جو ان کے بچوں کو بیرون ملک بھیجنے کے بجائے ایک ایسا نظام فراہم کر رہا ہے جو ان کے بچوں کو باہر بھیجے اور ان کے والدین کو امتحان دینے سے انکار کر دیا جائے۔” امتحان لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔”

انہوں نے مزید لکھا، “میں نے کوٹا میں یہ کہا: یہ اب تعلیمی نظام نہیں رہا۔ یہ پوری نسل کے پیسے، وقت اور ذہنی سکون پر نالی بن گیا ہے۔ ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ جوا کھیلنا بند کریں۔ وہ ایک حساس، ذمہ دار اور جوابدہ تعلیمی نظام کے مستحق ہیں، اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کے پاس یہ ہو۔”

دریں اثنا، پنجاب کانگریس کے ایم پی امریندر سنگھ راجہ وارنگ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ردعمل کا اظہار کیا، انہوں نے لکھا، “اطلاع ہے کہ ناگپور کے ایک طالب علم کو ابوظہبی میں این ای ای ٹی کے دوبارہ امتحان کا مرکز الاٹ کیا گیا ہے، اور این ٹی اے اسے تکنیکی خرابی قرار دے رہا ہے۔ یہ طالب علم کے لیے کوئی خرابی نہیں ہے۔ یہ برسوں کی محنت، تناؤ اور پیشہ ورانہ توازن کی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ امتحانی نظام، ایسا نظام نہیں جو ہر تنازع کے بعد احتساب کو ‘تکنیکی خرابی’ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد این ٹی اے نے تکنیکی خرابی کو تسلیم کیا۔ ایجنسی نے کہا کہ یہ خرابی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے ہوئی اور جلد ہی اسے ٹھیک کر دیا جائے گا۔ این ٹی اے نے طالب علم کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ ایک نظرثانی شدہ ایڈمٹ کارڈ جلد ہی جاری کیا جائے گا جس میں درست امتحانی مرکز کی نشاندہی کی جائے گی۔ ایجنسی نے اہل خانہ کو ایک ای میل بھی بھیجا جس میں کہا گیا کہ آج شام تک غلطی کو درست کر لیا جائے گا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایل این جی ٹینکر ‘دیشا’ گجرات پہنچا، تین ماہ بعد ہرمز سے روانہ ہوا۔

Published

on

نئی دہلی: امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور جہاز رانی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔ دریں اثنا، ایل این جی ٹینکر ‘دیشا’ آبنائے ہرمز سے کامیابی سے گزر کر گجرات کے دہیج بندرگاہ پر پہنچ گیا۔ تین ماہ سے زیادہ انتظار کے بعد، اس نے 62,370 میٹرک ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا کارگو پہنچایا۔

جہاز سے باخبر رہنے کے اعداد و شمار کے مطابق، جہاز خلیجی علاقے میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان پھنس گیا تھا۔ امریکہ ایران معاہدے کے بعد، یہ جمعہ کی صبح تقریباً 7:32 بجے دہیج ٹرمینل پر پہنچا۔

ایل این جی کارگو قطر کے راس لفان ایل این جی ٹرمینل پر لدا ہوا تھا۔ یہ ٹینکر 62,370 میٹرک ٹن ایل این جی لے جا رہا ہے، جو کہ عالمی توانائی کی مارکیٹ میں حساس وقت کے دوران ہندوستان کی توانائی کی سپلائی چین کے لیے ایک اہم ترسیل ہے۔

جہاز، دیشا، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا (ایس سی آئی) کی قیادت میں ایک کنسورشیم کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ کو چارٹر کیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز کا کامیاب ٹرانزٹ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا بھر میں اہم شپنگ لین کی حفاظت کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹینکر اپنا سفر مکمل کرنے سے قبل تین ماہ سے زائد عرصے سے خلیجی علاقے میں موجود تھا۔ آبنائے ہرمز سے اس کا محفوظ راستہ، تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کے سب سے اہم سمندری چوکیوں میں سے ایک ہے، ہندوستان کی توانائی کی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

بھروچ میں دہیج ایل این جی ٹرمینل ہندوستان کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس کی درآمد کا مرکز ہے اور ملک کے قدرتی گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

توقع ہے کہ دیشا کی آمد سے ایل این جی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا اور صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے مستحکم توانائی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

مغربی ایشیا میں حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان ایل این جی کیرئیر کی محفوظ آمد سے ہندوستان کے توانائی کے شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کو راحت ملی ہے۔ آبنائے ہرمز توانائی کی عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ بنی ہوئی ہے، اور اس علاقے میں کسی قسم کی رکاوٹ تیل اور گیس کی عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس سفر کی کامیاب تکمیل ہندوستان میں توانائی کی بلاتعطل درآمدات کے لیے محفوظ سمندری راستوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان