Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

حکومت کورونا کی ہر صورتحال سے لڑنے کے لیے تیار، دہلی میں نہیں ہوگا لاک ڈاؤن : کیجریوال

Published

on

kejriwal

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی کے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ نہیں کریں گے، اور ان کی حکومت کورونا وائرس کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔

مسٹر کیجریوال نے وزیر صحت ستیندر جین کے ساتھ منگل کے روز لوک نارائن جئے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال کا دورہ کیا تاکہ کورونا وائرس سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دہلی کے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ دہلی میں لاک ڈاؤن نہیں لگائیں گے۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت کورونا کی ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہم 37 ہزار بیڈ کے ساتھ 10 سے 11 ہزار آئی سی یو بیڈ تیار کر سکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس لہر میں بہت کم کورونا مریض اسپتالوں میں آ رہے ہیں، لیکن پھر بھی انفیکشن سے بچیں اور اپنا خیال رکھیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایل این جے پی میں 136 کورونا مریض داخل ہیں۔ ان میں سے صرف 6 افراد کورونا کے علاج کے لیے آئے تھے جبکہ 130 افراد دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے آئے تھے اور وہ بھی جانچ میں کورونا سے متاثر پائے گئے۔جب کہ اپریل میں آئی لہر میں زیادہ تر لوگ خود ہی کورونا کے علاج کے لیے آرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پابندیاں بہت مجبوری میں لگانی پڑتی ہیں۔ لیکن میں یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ جتنی جلدی ممکن ہو، ہم پابندیاں ہٹائیں گے اور کم سے کم پابندیاں لگانے کی کوشش کریں گے۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ میں نے آج ایل این جے پی اسپتال کا دورہ کیا تاکہ کورونا سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ میرے خیال میں ایل این جے پی ہسپتال ملک کا نمبر ایک ہسپتال ہے۔ اب تک یہاں سب سے زیادہ کورونا مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔ اب تک 22 ہزار کورونا مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ دہلی کا شاید یہ واحد ہسپتال ہے جس نے کسی حاملہ خاتون کا علاج کرنے سے انکار نہیں کیا۔ اب تک یہاں 700 کے قریب ڈیلیوری کامیابی سے ہو چکی ہے۔ ایل این جے پی ہسپتال میں گائناکالوجی کا بھی مکمل انتظام ہے، اور کورونا سے متاثرہ ’گائنی مدر‘ کا مکمل علاج بھی یہاں ہے اور ’نیو نیٹل‘ کے لیے بھی مکمل انتظام کیا گیا ہے۔ فی الحال پوری دہلی سے ڈیلیوری کیس صرف ایل این جے پی میں بھیجے جا رہے ہیں۔ دہلی کے باہر سے بھی ڈیلیوری کے کئی کیسز آرہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ لہر پچھلی لہر کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ اپریل میں آنے والی لہر بہت خطرناک تھی۔ اس وقت ایل این جے پی میں کورونا کے 136 مریض داخل ہیں۔ جہاں 136 میں سے 130 مریض ایسے ہیں، جن میں اچانک کورونا نکلا۔ وہ کسی اور بیماری کے علاج کے لیے آئے تھے لیکن جانچ کے دوران اتفاق سے ان میں کورونا پایا گیا۔ جب اپریل میں کورونا کی لہر آئی تھی تو اس لہر میں لوگ خود کورونا کے علاج کے لیے آ رہے تھے۔ لوگوں کو آکسیجن کم ہو رہی تھی، اور ان کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ اس بار ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان