(جنرل (عام
’بزمِ صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن‘ کا قیام دیرینہ خواب کی تکمیل۔ شاہدہ حسن
عالمی خواتین انجمن’بزمِ صدف انٹرنیشنل لٹریری فورم آف ویمن‘ کے قیام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی صدر محترمہ شاہدہ حسن نے بزمِ صدف انٹرنیشنل کے دیرینہ اس خواب کی تکمیل گذشتہ دنوں ہوئی ہے جب اس کا باضابطہ قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ بات انہوں نے خواتین انجمن کی تاسیسی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں اختصار کے ساتھ بزمِ خواتین کو زیادہ موثر اور سرگرم بنانے کے لیے بعض کارآمد مشورے پیش کیے۔
تنظیمِ خواتین کی جنرل سکریٹری ڈاکٹر افشاں بانو نے آغاز میں اس تنظیم کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی عالمی حیثیت کے پیش نظر کسی بین الاقوامی خواتین ادبی انجمن کی واقعتا ضرورت تھی۔ دنیا میں ادبی رویوں کی تبدیلی اور عالمی سطح پر زبان و ادب کے نئے مسائل کے پیش نظر یہ لازم ہے کہ ایسے ادارے وجود میں آئیں۔انھوں نے دنیا بھر کی خواتین فن کاروں کے اُن مسائل کا ذکر کیا جن کے سبب ان کی تحریروں کی توسیع و اشاعت میں بہت طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
بزمِ صدف کے چیرمین شہاب الدین احمد نے ’بزمِ صدف:ایک مشن‘موضوع کے پیش نظر خواتین کی اس انجمن کے اہداف طے کرنے کے لیے مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کتابوں کی طباعت و اشاعت اور اپنی تخلیقات کی عالمی تشہیر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بزمِ صدف کی اشاعتی سرگرمیوں سے آپ تمام لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
بزمِ صدف کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے تنظیمِ خواتین کی ضرورت کے موضوع پر اپنا کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے اردو کی ادبی تاریخ میں خواتین کی گوناگو ں خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس تنظیم کے مستقبل شناس ہونے اور مختلف انداز کے کاموں کو انجام دینے کے لیے آگے آنے کی ذمہ داری اٹھانے کی گزارش کی۔
پروگرام کا افتتاح بزمِ صدف کے سرپرستِ اعلی محمد صبیح بخاری نے کیااور مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے پروفیسر ارتضیٰ کریم(دہلی)، باصر سلطان کاظمی(برطانیہ) اور ضامن جعفری (کینیڈا) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر افشاں بانو نے کامیابی کے ساتھ کی۔ اس پندرہ ممالک کی خواتین جن میں شاعر، نقاد،افسانہ نگار، محقق اور ادب کی مختلف اصناف میں خدمات انجام دینے والی اہلِ قلم اس میں شامل تھیں۔
دوبئی میں مقیم بزمِ خواتین کی پروگرام کوآرڈینیٹر محترمہ عائشہ شیخ آشی کی نظامت میں خواتین کا یہ عالمی مشاعرہ شروع ہوا۔
محترمہ تہمینہ راو
دل ٹوٹا ایسے، کرچیاں ہاتھوں میں رہ گئیں
گھر اس کے بعد مجھ سے سنبھالا نہیں گیا
رفعت جہاں
دل کوئی آیا لے کے رفعتِ جاں
کوئی بیٹھا رہا غبار لیے
ڈاکٹر ثروت زہرا
ثواب کی دعاؤں نے گناہ کردیا مجھے
بڑی ادا سے وقت نے تباہ کردیا مجھے
ڈاکٹر وفا یزدان منش
ایک ہی لمحے میں مجھ کو سوچ نے بھٹکا دیا
یعنی میری زندگی کا ایک ہی لمحہ غلط تھا
امرینہ قیصر
یہ فیصلے بھی بہت کٹھن ہیں تمھی بتاؤ کہ کیا کروں میں
تمھاری عادت ہے کڑھتے رہنا تو میری عادت ہے مسکرانا
تمھیں خوشی تو کبھی نہ ہوگی،جفا کروں یا وفا کروں میں
فریدہ نثار انصاری
سجا کر آنکھ میں آنسو، گلِ ایثار لائی ہوں
میں اب برقِ تپاں سے مانگ کر رفتار لائی ہوں
عنبرین صلاح الدین
اس کا موڈ بھی ایک پہاڑی رستہ ہے
اگلے موڑ پہ جانے کیسا منظر ہو
سمیعہ ناز ملک
خدا نے میری بینائی کو کچھ ایسا ہنر بخشا
میں آنکھیں بند کر کے بھی نظارہ دیکھ سکتی ہوں
ڈاکٹر افشاں بانو
ایسا کوئی کہاں جسے تم سا بتائیں ہم
دل میں بسا کے جس کو غزل گنگنائیں ہم
ڈاکٹر عشرت معین سیما
فصیل رنجش کی آسماں تک کھڑی ہوئی ہے
سو اس کے سینے میں خشتِ گریہ گڑی ہوئی ہے
تسنیم حسن
جو نام لکھ کے درختوں پہ بھول جاتے ہیں
وہاں پہ شاخوں کے سائے اداس ہوتے ہیں
ہ جہاں جعفری حجاب
گئے پردیس تھے تم دھن کمانے
حویلی اپنی کُٹیا کو بنانے
مگر اب خود سنہری قید میں ہو
کہ تم نے کھو دیے اپنے ٹھکانے
حمیرا رحمان
ادھار مانگی ہے کچھ سال زندگی ہم نے
زمیں پہ رہتے ہوئے آسماں کا حصہ ہیں
شاہدہ حسن
میں ٹوٹتے اور بکھرتے رشتوں کو جوڑنے میں مگن ہوں لیکن
ہے یہ بھی سچ کہ مجھی کو مجھ سے ملانے والا کوئی نہیں ہے
اس پروگرام میں اردو ادب و تنقید کی معتبر آواز پروفیسر مظفر حنفی کوخراج عقیدت پیش کیا گیا۔
محترمہ شاہدہ حسن نے مظفر حنفی کو یاد کرتے ہوئے اپنی غزل کا ایک شعر انھیں نذر کیا:
دیے لگاتار بجھ رہے ہیں تو بڑھ گیا ہے بہت اندھیرا
چراغ سے اب چراغ شاید جلانے والا کوئی نہیں ہے
اس کے علاوہ کلکتہ سے محترمہ شبانہ آفرین جاوید، موریشس سے ڈاکٹر نازیہ بیگم جافو، بنگلہ دیش سے محترمہ حفصہ اختر اور لکھنؤ سے محترمہ غزال ضیغم نے اختصار کے ساتھ اپنے خیالات اور ادارے کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گوونڈی بی ایم سی ‘ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر انگلش اسکول نمبر 01’ میں جونیئر کے جی سے گریڈ 4 کے لیے داخلے مطلوب

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، باجی پربھو دیش پانڈے مارگ، شیواجی نگر مارکیٹ کے قریب، ممبئی (04 ڈبلیو)، گوونڈی 04، ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، میں نئی تعمیر شدہ عمارت میں ‘ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر انگلش اسکول نمبر 01’ کے نام سے ایک انگلش میڈیم اسکول شروع کیا ہے۔
یہ اسکول مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے نصاب کی پیروی کرتا ہے اور جونیئر کے جی سے گریڈ 4 تک کلاسز کا انعقاد کرے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت گوونڈی اور آس پاس کے علاقوں میں غیر مجاز اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کو ترجیحی داخلہ دیا جائے گا۔ سیٹوں کی تعداد محدود ہونے کی وجہ سے بی ایم سی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ زیادہ سے زیادہ والدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کریں۔
خواہشمند والدین داخلہ کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں
پتہ : پہلی منزل، ممبئی پبلک اسکول، شیواجی نگر اسکول کمپلیکس نمبر 4، باجی پربھو دیشپانڈے مارگ، شیواجی نگر مارکیٹ کے قریب، گوونڈی (مغربی)، ممبئی – 400 043۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ‘ایف-ساؤتھ’ اور ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈوں کی طرف سے کی گئی کارروائی، دادر اور سانتا کروز علاقوں میں 15 دکانیں ہٹا دی گئیں

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ راہگیر پہلے مہم کے ایک حصے کے طور پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فٹ پاتھوں سے رکاوٹیں ہٹانا اور پیدل چلنے والوں کے لیے چلنے کے قابل بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت، دادر کے علاقے (‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کی طرف سے) اور سانتاکروز کے علاقے (‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ کی طرف سے) میں فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والی 15 غیر مجاز دکانوں اور 15 غیر مجاز ہاکروں کو آج (13 اگست 2026) ہٹا دیا گیا۔ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق میونسپل کمشنر اشونی بھیڈےکی رہنمائی میں۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) کی قیادت پراجکتا ورمالاونگیرے، ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کے لیے ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کو نافذ کر رہی ہے، اس طرح رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف-ساؤتھ وارڈ) کی قیادت میں ‘ایف-ساؤتھ’ وارڈ کے ذریعہ دادر (مشرقی) علاقے میں کارروائی کی گئی اس مہم کے دوران، دادر (مشرق) میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے والے 04 غیر مجاز دکانوں، 12 عارضی ترپالوں کے شیڈ، 06 غیر مجاز پلیٹ فارم (کٹے*) اور 15 ہاکروں کو ہٹا دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر (زون-3) وشواس موٹے کی رہنمائی اور اسسٹنٹ کمشنر (ایچ-ایسٹ) کی قیادت میں۔ مردولا اینڈے، ‘ایچ-ایسٹ’ وارڈ نے آج سانتا کروز (ایسٹ) کے علاقے میں تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی۔ اس کارروائی میں ٹی پی ایس-3 علاقے میں سڑک 6، 7 اور 11 کے ساتھ واقع چھ غیر مجاز دکانوں کے ساتھ ساتھ نانا صاحب دھرمادھیکاری مارگ کے ساتھ فٹ پاتھ پر واقع پانچ غیر مجاز دکانوں کو مسمار کرنا شامل ہے۔ اس آپریشن میں ایک فوڈ وین بھی شامل تھی۔ اس ڈرائیو نے تقریباً 500 میٹر فٹ پاتھ کی جگہ صاف کر دی ہے، جس سے پیدل چلنے والوں کے لیے پیدل چلنا آسان ہو گیا ہے۔
دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن پیدل چلنے والوں کے لیے صاف اور قابل رسائی فٹ پاتھوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ نتیجتاً، انتظامیہ نے فٹ پاتھوں میں رکاوٹ بننے والی غیر مجاز تعمیرات یا ان پر کوئی مواد رکھنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ایسی خلاف ورزیاں دیکھنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ہوٹل بل کی ادائیگی پر تنازع قتل سے سنسنی، پولس کی بڑی کارروائی ۲۴ گھنٹے میں قتل کا معمہ حل، دو گرفتار ملزمین کا اعتراف جرم

ممبئی میں ایک ہوٹل میں بل کی ادائیگی کے تنازع کے بعد ایک نوجوان کے قتل کا سنسنی خیزواقعہ پیش آیا جس کے بعد یہاں کشیدگی پھیل گئی, جبکہ پولس نے ۲۴ گھنٹے کے اندر ہی ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ گوریگاؤں پولس اسٹیشن کی حدود میں ۱۱ اگست کو رات میں سلمان ہوٹل کے قریب ایک شخص کو شدید طور سے زدوکوب کیا گیا۔ عزیز محمد عتیق خان ۳۰ سالہ کو اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قراردیا۔ پولس نے اس قتل کی انکوائری شروع کر دی۔ پولس میں مقتول کے بھائی کے بتایا کہ عزیز خان نے سلمان ہوٹل کے مالک دانش خان کو دو افراد کو ہوٹل کے بل کی ادائیگی کرنے کو کہا اس دوران مقتول سے اس دونوں نے حجت کی اور کہاُ کہ اس سے تیرا کیا تعلق ہے تو ہم کو نہیں جانتا۔ تیرے کو دیکھ لیں گے۔۔۔ پھر ان دونوں نے متاثرہ پر حملہ کر دیا عزیز خان کے سر پر لکڑی کا باکس مار دیا جس سے وہ شدید طور سے زخمی ہو گیا اور ڈاکٹروں نے اسے علاج کے دوران مردہ قرار دیا۔ پولس نے قتل کا معاملہ درج کر کے ملزمین کی تلاش شروع کردیا ملزمین کی گرفتاری کے لئے ۶ ٹیمیں تشکیل دی گئی اس کے بعد پولس کو خفیہ اطلاع ملی اور پولس نے ملزمین کو گرفتار کرلیا اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ ملزمین کی شناخت اجئے منی اپادھیائے ۳۹ سالہ اور وکاس دیوراج پاسوان ۳۲ آفس بوائے کے طور پر ہوئی ہے۔ ۲۴ گھنٹے کےاندر ہی پولس نے اس قتل کے معمہ کو حل کر کے ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
