Connect with us
Tuesday,25-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ حق و انصاف اور صداقت کے تقاضوں پر مبنی ہوگا: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

Published

on

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت بابری مسجدمقدمہ کا فیصلہ حق و انصاف کے مطابق ہوگا۔
یہاں دارالعلوم ندوۃالعلماء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مختلف امور پر غور و خوض کرنے کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے”سپریم کورٹ میں زیر سماعت بابری مسجد مقدمہ میں سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کی قیادت میں جو دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں ان کی بنیاد پر پوری توقع کی جاتی ہے کہ فیصلہ بابری مسجد کے ہی حق میں ہوگا، جو حق و صداقت کے تقاضوں پر مبنی ہوگا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مقدمہ پر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اور لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ملک کی عدالت عظمیٰ دستور ہند، ملکی قوانین اور حقائق و شواہد کو پیش نظر رکھے گی۔“
اجلاس کی صدارت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کی۔میٹنگ میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی‘ نائب صدر فخرالدین اشرف کچھوچھوی‘ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی‘ مولانا محمود مدنی‘ ظفر یاب جیلانی‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین موجود تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”بابری مسجد کے سلسلہ میں مسلمانان ہند کا موقف وہی ہے جس کا بورڈ کی طرف سے باربار اظہار کیا گیا ہے کہ جو جگہ مسجد کے لئے وقف کردی جائے وہ ہمیشہ مسجد باقی رہتی ہے۔ اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے نہ مسلمان اس سے دست بردار ہوسکتے ہیں اور نہ اسے منتقل کرسکتے ہیں۔“ بیان میں کہا گیا ہے ”مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی۔ بابری مسجد کے بارے میں بعض حلقوں سے مصالحت کی بات باربار آتی رہی ہے اور بورڈ نے پورے خلوص کے ساتھ مصالحت کی ایسی کاروائیوں میں شرکت بھی کی، تاکہ انصاف پر مبنی کوئی حل نکل آئے، جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ لیکن باربار کی کوششوں کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس مسئلہ میں بظاہر مصالحت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لئے واضح کیا جاتا ہے کہ اب جب کہ مقدمہ اپنے آخری مرحلہ میں ہے، مصالحت کا کوئی موقع باقی نہیں رہ گیا ہے۔“
یکساں سول کوڈ کو ملک کے لئے ناموزوں قرار دیتے ہوئے ایک دیگر قرار داد میں بورڈ نے کہا کہ ”ہندوستان ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں رہنے والے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے کی دستوری آزادی ہے۔ یونیفام سول کوڈ اس ملک کے لئے ہرگز موزوں نہیں ہے۔“
بورڈ نے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی حکومت کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ”یونیفام سول کوڈ لانے کی عدلیہ یا مقننہ کے ذریعہ جو بھی کوشش کی جائے گی، بورڈ اس کی پرزور مخالفت کرے گا۔“ بورڈ نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے ملک کی دیگر اقلیتیں اور قبائل بھی متأثر ہوں گے۔ بورڈ نے اس طرح کے کسی بھی قدم اٹھانے سے حکومت کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
ایک دیگر قرار داد میں بورڈ نے کہا کہ تین طلاق سے متعلق جو قانون پارلیمنٹ سے پاس کیا گیا ہے وہ قانون شریعت میں مداخلت ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ اور دستور ہند کے بھی مغائر ہے، نیز اس سے عورتوں اور بچوں کا مفاد بھی متأثر ہوگا۔ لہٰذا بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو عدلیہ میں چیلنج کرے گا اور عنقریب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرے گا۔“

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی کے ڈِنگاڈ میں دو گروپوں کے درمیان تصادم، غیر سبزی خور کھانا کھانے کے معاملے پر تنازع، 6 افراد زخمی

Published

on

Mumbai Police.2

بھیونڈی : بھیونڈی کے ڈِنگاڈ علاقے میں نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان مبینہ طور پر غیر سبزی خور کھانا لانے کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی اور مارپیٹ ہوئی۔ واقعے میں چھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ معلومات کے مطابق ڈِنگاڈ پہاڑی کے علاقے میں کسی بات کو لے کر نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان بحث شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ تنازع غیر سبزی خور کھانا کھانے یا وہاں لانے پر اعتراض کے بعد بڑھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں جانب سے مارپیٹ شروع ہوگئی۔

واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کے لیے بھیونڈی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم اسپتال میں بھی دونوں گروپوں کے افراد ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے، جس کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی تعیناتی کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واقعے کے اصل اسباب، ملوث افراد اور مارپیٹ کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو تشدد کی شکل دینے کے بجائے قانون کا راستہ اختیار کریں اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی، 24 اگست: جشنِ عید میلادالنبی کے پُرمسرت و بابرکت موقع پر رضا اکیڈمی ممبئی کی جانب سے ڈونگری میں واقع چلڈرن ہوم میں بچوں کے درمیان لنگرِ رسول تقسیم کیا گیا۔

Published

on

اس موقع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے صدر اور عظیم مذہبی رہنما حضرت سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی المعروف سید معین میاں صاحب قبلہ اور رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے خصوصی طور پر چلڈرن ہوم پہنچ کر بچوں میں لنگرِ رسول تقسیم کیا۔

اس موقع پر حضرت سید معین میاں صاحب نے کہا کہ جشنِ عید میلادالنبی صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ رحمتِ عالم کی تعلیمات کو عام کرنے اور انسانیت کی خدمت کا بھی موقع ہے۔ حضور اکرم نے یتیموں، مسکینوں، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور شفقت کا درس دیا۔ اسی تعلیماتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے بچوں میں لنگرِ رسول کی تقسیم ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ کی سیرتِ طیبہ ہمیں محبت، اخوت، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ میلادالنبی کی خوشیوں کو معاشرے کے محروم اور ضرورت مند افراد تک پہنچائیں اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ رضا اکیڈمی کی جانب سے جشنِ میلادالنبی کے موقع پر مختلف فلاحی اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لنگرِ رسول کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکارِ دو عالم کی بارگاہ میں عقیدت کا بہترین اظہار یہ ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت کریں اور ضرورت مندوں کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کی کوشش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رضا اکیڈمی آئندہ بھی خدمتِ خلق، دینی بیداری اور فلاحی سرگرمیوں کو جاری رکھے گی۔ ڈونگری چلڈرن ہوم میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان میں لنگرِ رسول تقسیم کرنے سے جہاں بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہیں اس موقع پر موجود افراد نے بھی اس اقدام کو سراہا۔اس موقع پر چلڈرن ہوم کے ذمہ داران، رضا اکیڈمی کے کارکنان اور دیگر معززین موجود تھے۔ بچوں میں لنگرِ رسول کی تقسیم کے بعد ملک و ملت اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت، امن و سلامتی اور خوشحالی کی دعا بھی کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی کارروائی 3 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی ہیروئن ضبط، ملزم گرفتار

Published

on

ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی انسدادِ منشیات مخالف ٹیم کے پی آئی کھولم اور ان کی ٹیم۲۲ اگست کو رات کے وقت اپنے حدود میں منشیات استعمال کرنے، خریدنے اور فروخت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کے لیے گشت کر رہی تھی۔ ۲۳ کو رات تقریباً 12:10 بجے ہیمنت کرکرے گارڈن کے گیٹ کے سامنے، سہکاری بھنڈار کے قریب، پونم نگر، جوگیشوری (مشرق)، ممبئی میں پولیس کو ایک شخص مشتبہ حالت میں گھومتا ہوا نظر آیا۔ پی آئی کھولم کو اس شخص کی حرکات مشتبہ معلوم ہونے پر پولیس ٹیم نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کو دیکھتے ہی مذکورہ شخص وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرنے لگا، تاہم پولیس ٹیم کی مدد سے اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے پہلے ٹال مٹول والے جوابات دیے۔ بعد ازاں اعتماد میں لے کر مزید تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی تو اس کے قبضے سے گہرے رنگ کا پاؤڈر، جسے ہیروئن (ہیروئن) بتایا گیا، برآمد ہوا۔

پولیس نے این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کے تمام قانونی تقاضوں کی پابندی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کی تلاشی لی۔ اس کے قبضے سے 302 گرام وزنی ہیروئن برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 3,50,00,000 (3 کروڑ 50 لاکھ روپے) ہے۔ اس معاملے میں ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن، ممبئی میں موصولہ شکایت کی بنیاد پر کیس نمبر 943/2026 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8 کے ساتھ 21 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ مذکورہ منشیات ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کے علاقے میں سپلائی کی جا رہی تھی۔ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

اس طرح ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن کی انسدادِ منشیات ٹیم کے افسر پی آئی کھولم اور ان کی ٹیم نے منشیات فروخت کرنے والے ملزم توصیف لیاقت قاضی ۲۹ سالہ کو بروقت گرفتار کرکے اس کے قبضے سے 302 گرام ہیروئن، مالیت 3.50 کروڑ ضبط کرنے کی قابلِ ذکر کارروائی انجام دی۔ یہ کامیاب کارروائی اعلیٰ پولیس افسران کی رہنمائی میں انجام دی گئی، جن میں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولیس کمشنر ڈاکٹر منوج کمار شرما، ایڈیشنل پولیس کمشنر ڈاکٹر ابھی نو دیشمکھ، ڈپٹی پولیس کمشنر دتا نلاوڈے اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر یوگیش شندے شامل ہیں۔ کارروائی کی براہِ راست نگرانی سینئر پولیس انسپکٹر گھنشیام نائر اور پولیس انسپکٹر (جرائم) سنیل کرانڈے نے کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان