جرم
مالیگاؤں کی سڑکوں, گلیوں پر خوںخوار کتوں کی دہشت
(خیال اثر)
مالیگاؤں شہر طویل عرصہ سے خوںخوار کتوں کی وجہ سے پریشان ہے. کتوں کے غول در غول کوچہ کوچہ قریہ قریہ اپنی دہشت پھیلاتے رہتے ہیں. کم عمر بچوں کے علاوہ بڑی عمر کے افراد بھی شب و روز ان کی دہشت سے نبرد آزما رہتے ہیں. ان کتوں میں بیماریاں پھیلانے والے خارش زدہ کتے بھی بکثرت موجود رہتے ہیں. ان دنوں شہر میں پھیلی ہوئی خارش کی وباء ان ہی خارش زدہ کتوں کی وجہ سے اپنے پیر پھیلا رہی ہے. کتوں کی بڑھتی ہوئی اس تعداد پر قدغن لگانے کی ہر کوشش عدالت عالیہ کوڑے دان میّ ڈال دیتی ہے. یہاں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان خوںخوار کتوں کی افزائش کا سب سے بڑا سبب مینکا گاندھی ہے کیونکہ اسی کے دور وزرات میں کتوں کی حمایت میں قانون بناتے ہوئے کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کی گئی تھی یعنی یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ شریمتی مینکا گاندھی کو انسانوں کے بچاؤ کی بنسبت کتوں سے زیادہ پیار تھا. مینکا گاندھی کے اس فیصلے اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کوئی بھی عام آدمی یا ذمہ دار کسی بھی طریقے سے کتوں کو جانی نقصان نہیں پہنچا سکتا.
آج مالیگاؤں میں خوںخوار خارش زدہ کتوں نے اس طرح اپنی دہشت پھیلا رکھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کتوں سے محفوظ رکھنے کےلیے شب و روز سرگرادں رہتے ہیں. ہمیں معلوم نہیں مینکا گاندھی اور سپریم کورٹ کو آخر کتوں سے اتنی محبت کیوں تھی. مینکا گاندھی اور کورٹ کے برعکس آج مالیگاؤں کے حالات انتہائی مخدوش اور دگر گوں ہوتے جارہے ہیں. مالیگاؤں میونسپل کمشنر اور دیگر عوامی نمائندگان جو تعمیر و ترقی اور عوامی حفظان صحت کے کھوکھلے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن معصوم بچوں اور خواتین کو ان خوںخوار کتوں کے آتنک سے بچانے میں سپریم کورٹ کا حوالہ دے کر اپنا دامن بچا لے جاتے ہیں. ہمیں یاد ہے آج سے تقریبا پندرہ سال پہلے شہر کے بڑا قبرستان میں ایک کم عمر بچے کو خوںخوار کتوں نے انتہائی بے دردی سے نوچ کھایا تھا. قبرستان تو ایک سنسنان مقام تھا اس کے برعکس آج کتوں کا وہی آتنک شہر کے ہر گلی کوچے میں نظر آرہا ہے. بڑا قبرستان میں ہوئے اس ہولناک واقعہ کے بعد عام شہریان نے پورے شہر میں کتوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دئیے تھے. آج ان خوںخوار کتوں کے بڑھتے ہوئے آتنک کے خلاف وہی نوبت آ سکتی ہے جس دن بھی شہری عوام کا پیمانہ صبر چھلک گیا اسی دن ان خوںخوار کتوں اور عوامی نمائندگان پر وہ عذاب نازل ہوگا کہ انھیں اپنا سر چھپانے کی جگہ دستیاب نہیں ہوگی.
موصولہ تازہ اطلاعات کے مطابق آج کارپوریشن حدود خصوصاً مضافاتی علاقے داتار نگر, مالدہ شیوار, تنظیم نگر, پاک پنجتجن چوک, رمضان پورہ, حاجی احمد پورہ, فاطمہ مسجد, نعمانی نگر سمیت دیگر علاقوں میں پاگل خوںخوار کتوں نے دو درجن سے زائد معصوم بچوں پر حملہ کرتے ہوئے انھیں بری طرح کاٹ کھایا. اتنی بڑی تعداد میں خوںخوار کتوں کے ذریعے ہوئے حملے کے باوجود میونسپل انتظامیہ خواب خرگوش میں مست ہے. عوامی نمائندگان اور شہری لیڈران ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے شہریان کو بے وقوف بنانے میں لگے ہیں. راشٹریہ جنتا کے صدر فاروق فردوسی کا کہنا ہے کہ سابقہ اور موجودہ ایم ایل ایلز اور میونسپل کمشنر سے لے کر تمام عوامی نمائندگان صرف اور صرف کمیشن خوری میں مصروف ہیں. انھیں شہر اور شہریان کی کوئی فکر نہیں یا پھر یہ لوگ عوامی غصے سے واقف نہیں ہیں.فاروق فردوسی نے مزید کہا کہ ماضی میں انھیں صاحبان اقتدار نے نمائش کے لئے ایک ڈاگ وین (کتا گاڑی) خرید کر دھوم دھام سے شہر کی سڑکوں پر گھمائی تھی. اس کے علاوہ کتوں کی بڑھتی ہوئی افزائش نسل پر روک لگانے کے لئے ڈمپنگ گراونڈ اور محمکہ گیرج کے وسیع قطعہ اراضی پر کتوں کی نس بندی کے لئے خطیر فنڈ مختص کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس طرح کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روک لگ جائے گی لیکن نس بندی کے لئے مختص کیا گیا خطیر فند کون سے اور کتنے کتوں کی نس بندی میں صرف ہوا آج تک اس کا خلاصہ نہیں ہو سکا ہے. یہ دیکھ کر شہر کا ہر ذی شعور فرد یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ آج شہر کی گلیوں, سڑکوں اور چوک چوراہوں پر خوںخوار کتوں کی حکومت ہے اور ان کے خلاف کوئی بھی میدان عمل میں آنے کو تیار نہیں. آخر شہر کے عوامی مقامات سے ان خوںخوار کتوں کا آتنک اور دہشت کب ختم ہوگی.
بین الاقوامی خبریں
فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔
واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔
جرم
ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
