Connect with us
Saturday,06-June-2026
تازہ خبریں

جرم

مالیگاؤں کی سڑکوں, گلیوں پر خوںخوار کتوں کی دہشت

Published

on

(خیال اثر)
مالیگاؤں شہر طویل عرصہ سے خوںخوار کتوں کی وجہ سے پریشان ہے. کتوں کے غول در غول کوچہ کوچہ قریہ قریہ اپنی دہشت پھیلاتے رہتے ہیں. کم عمر بچوں کے علاوہ بڑی عمر کے افراد بھی شب و روز ان کی دہشت سے نبرد آزما رہتے ہیں. ان کتوں میں بیماریاں پھیلانے والے خارش زدہ کتے بھی بکثرت موجود رہتے ہیں. ان دنوں شہر میں پھیلی ہوئی خارش کی وباء ان ہی خارش زدہ کتوں کی وجہ سے اپنے پیر پھیلا رہی ہے. کتوں کی بڑھتی ہوئی اس تعداد پر قدغن لگانے کی ہر کوشش عدالت عالیہ کوڑے دان میّ ڈال دیتی ہے. یہاں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان خوںخوار کتوں کی افزائش کا سب سے بڑا سبب مینکا گاندھی ہے کیونکہ اسی کے دور وزرات میں کتوں کی حمایت میں قانون بناتے ہوئے کتوں کو مارنے پر پابندی عائد کی گئی تھی یعنی یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ شریمتی مینکا گاندھی کو انسانوں کے بچاؤ کی بنسبت کتوں سے زیادہ پیار تھا. مینکا گاندھی کے اس فیصلے اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کوئی بھی عام آدمی یا ذمہ دار کسی بھی طریقے سے کتوں کو جانی نقصان نہیں پہنچا سکتا.


آج مالیگاؤں میں خوںخوار خارش زدہ کتوں نے اس طرح اپنی دہشت پھیلا رکھی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو کتوں سے محفوظ رکھنے کےلیے شب و روز سرگرادں رہتے ہیں. ہمیں معلوم نہیں مینکا گاندھی اور سپریم کورٹ کو آخر کتوں سے اتنی محبت کیوں تھی. مینکا گاندھی اور کورٹ کے برعکس آج مالیگاؤں کے حالات انتہائی مخدوش اور دگر گوں ہوتے جارہے ہیں. مالیگاؤں میونسپل کمشنر اور دیگر عوامی نمائندگان جو تعمیر و ترقی اور عوامی حفظان صحت کے کھوکھلے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن معصوم بچوں اور خواتین کو ان خوںخوار کتوں کے آتنک سے بچانے میں سپریم کورٹ کا حوالہ دے کر اپنا دامن بچا لے جاتے ہیں. ہمیں یاد ہے آج سے تقریبا پندرہ سال پہلے شہر کے بڑا قبرستان میں ایک کم عمر بچے کو خوںخوار کتوں نے انتہائی بے دردی سے نوچ کھایا تھا. قبرستان تو ایک سنسنان مقام تھا اس کے برعکس آج کتوں کا وہی آتنک شہر کے ہر گلی کوچے میں نظر آرہا ہے. بڑا قبرستان میں ہوئے اس ہولناک واقعہ کے بعد عام شہریان نے پورے شہر میں کتوں کی لاشوں کے ڈھیر لگا دئیے تھے. آج ان خوںخوار کتوں کے بڑھتے ہوئے آتنک کے خلاف وہی نوبت آ سکتی ہے جس دن بھی شہری عوام کا پیمانہ صبر چھلک گیا اسی دن ان خوںخوار کتوں اور عوامی نمائندگان پر وہ عذاب نازل ہوگا کہ انھیں اپنا سر چھپانے کی جگہ دستیاب نہیں ہوگی.
موصولہ تازہ اطلاعات کے مطابق آج کارپوریشن حدود خصوصاً مضافاتی علاقے داتار نگر, مالدہ شیوار, تنظیم نگر, پاک پنجتجن چوک, رمضان پورہ, حاجی احمد پورہ, فاطمہ مسجد, نعمانی نگر سمیت دیگر علاقوں میں پاگل خوںخوار کتوں نے دو درجن سے زائد معصوم بچوں پر حملہ کرتے ہوئے انھیں بری طرح کاٹ کھایا. اتنی بڑی تعداد میں خوںخوار کتوں کے ذریعے ہوئے حملے کے باوجود میونسپل انتظامیہ خواب خرگوش میں مست ہے. عوامی نمائندگان اور شہری لیڈران ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہوئے شہریان کو بے وقوف بنانے میں لگے ہیں. راشٹریہ جنتا کے صدر فاروق فردوسی کا کہنا ہے کہ سابقہ اور موجودہ ایم ایل ایلز اور میونسپل کمشنر سے لے کر تمام عوامی نمائندگان صرف اور صرف کمیشن خوری میں مصروف ہیں. انھیں شہر اور شہریان کی کوئی فکر نہیں یا پھر یہ لوگ عوامی غصے سے واقف نہیں ہیں.فاروق فردوسی نے مزید کہا کہ ماضی میں انھیں صاحبان اقتدار نے نمائش کے لئے ایک ڈاگ وین (کتا گاڑی) خرید کر دھوم دھام سے شہر کی سڑکوں پر گھمائی تھی. اس کے علاوہ کتوں کی بڑھتی ہوئی افزائش نسل پر روک لگانے کے لئے ڈمپنگ گراونڈ اور محمکہ گیرج کے وسیع قطعہ اراضی پر کتوں کی نس بندی کے لئے خطیر فنڈ مختص کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس طرح کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر روک لگ جائے گی لیکن نس بندی کے لئے مختص کیا گیا خطیر فند کون سے اور کتنے کتوں کی نس بندی میں صرف ہوا آج تک اس کا خلاصہ نہیں ہو سکا ہے. یہ دیکھ کر شہر کا ہر ذی شعور فرد یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ آج شہر کی گلیوں, سڑکوں اور چوک چوراہوں پر خوںخوار کتوں کی حکومت ہے اور ان کے خلاف کوئی بھی میدان عمل میں آنے کو تیار نہیں. آخر شہر کے عوامی مقامات سے ان خوںخوار کتوں کا آتنک اور دہشت کب ختم ہوگی.

جرم

ای ڈی نے محمد سلیم ڈولا کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے حصے کے طور پر مہاراشٹر اور گجرات میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔

Published

on

ممبئی : ایک بڑی کارروائی میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کو مہاراشٹر اور گجرات میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ ای ڈی کے حکام نے بتایا کہ یہ چھاپے منشیات کے اسمگلر محمد سلیم ڈولا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر مارے گئے تھے، جسے حال ہی میں ترکی سے ہندوستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ای ڈی حکام نے بتایا کہ مرکزی ایجنسی کی جانب سے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد ممبئی اور سورت اور گجرات کے انکلیشور (ضلع بھروچ) میں تقریباً 20 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ڈولا عرف سلیم اسماعیل ڈولا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر مطلوب دہشت گرد داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی ہے اور انسداد منشیات ایجنسیوں نے اس کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ کا بین الاقوامی ریکیٹ چلانے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

ڈولا (59) کو اپریل میں ترکی سے ہندوستان واپس لایا گیا تھا اور دہلی ہوائی اڈے پر اترتے ہی اسے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی کے عہدیداروں نے بتایا کہ چھاپے کیمیکل سپلائی کرنے والوں، کیمیکل کے کاروبار میں ملوث درمیانی افراد، مصنوعی منشیات میفیڈرون (ایم ڈی) کی تیاری اور تقسیم میں ملوث اسمگلروں، ہوالا آپریٹرز اور منظم منشیات کے سنڈیکیٹس سے حاصل کی گئی رقم سے حاصل کی گئی بے نامی جائیدادوں کے مالکان پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا کیس ڈولا اور دیگر کے خلاف ممبئی میں منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ اور سائیکو ٹراپک مادوں سے متعلق جرائم کے لیے درج کئی ایف آئی آرز سے منسلک ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان