Connect with us
Wednesday,04-November-2026

سیاست

سید علی گیلانی کا حریت کانفرنس سے علاحدگی کا اعلان

Published

on

بزرگ علاحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے پیر کے روز اچانک حریت کانفرنس فورم سے مکمل علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔
موصوف لیڈر حریت فورم سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ایک مختصر آڈیو پیغام میں کہتے ہیں: ‘حریت کانفرنس کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں، اس فیصلہ سے فورم کی تمام اکائیوں کو ایک تفصیلی مکتوب کے ذریعہ مطلع کیا گیا ہے’۔
اس سلسلے میں شعبہ نشر و شاعت کی طرف سے سید علی گیلانی کے ذاتی لیٹر ہیڈ پر بھی ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے۔
اس پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے: ‘چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس جناب سید علی گیلانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے فورم سے مکمل علاحدگی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے کے حوالے سے حریت ممبران کے نام ایک تفصیلی خط روانہ کرتے ہوئے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے مکمل علاحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں’۔
بتادیں کہ اکانوے سالہ سید علی گیلانی گذشتہ زائد از ایک دہائی سے اپنی رہائش گاہ واقع حیدر پورہ سری نگر میں مسلسل خانہ نظر بند ہیں۔ وہ کافی عرصے سے علیل بھی ہیں۔
سید علی گیلانی کا حریت کانفرنس سے علاحدگی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں بیشتر علاحدگی پسند لیڈر تھانہ یا خانہ نظربند ہیں۔
کشمیر میں سرگرم علاحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے بیانات جاری کرنے کا عمل پانچ اگست 2019 سے تقریباً معطل ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ان تنظیموں کے لیڈران کی تھانہ یا خانہ نظربندی ہے۔
گیلانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس جموں وکشمیر کے اراکین کے نام ایک تفصیلی مکتوب روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے حریت فورم سے علاحدگی اختیار کرنے کے اسباب کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔
مکتوب میں گیلانی کہتے ہیں کہ پچھلے کافی عرصہ سے بالعموم اور گذشتہ دو برسوں سے بالخصوص کل جماعتی حریت کانفرنس پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے حوالے سے بہت ساری شکایات موصول ہورہی تھیں۔
موصوف لیڈر مکتوب میں کہتے ہیں: ‘فورم میں شفافیت اور احتساب کے اس عمل سے بچنے کے لئے آپ (اراکین) کے نمائندوں نے کنوینئر سے عدم تعاون کا سلسلہ شروع کر کے ایک پروپیگنڈا مہم کا باضابطہ آغاز کیا جس میں میرے بیانات اور قوم کے نام پیغامات کو شکوک وشبہات کی بھول بھلیوں میں گم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔’
انہوں نے لکھا ہے: ‘حتیٰ کہ میرے آخری سفر کے حوالے سے میری وصیت پر تحقیقاتی کمیشن بٹھا کر اُن کے عزائم کھل کر سامنے آگئے یہی نہیں بلکہ انہوں نے ایک تمام تر اخلاقی، آئینی اور تنظیمی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر خود ساختہ شوریٰ منعقد کر کے اس غیر آئینی فیصلے کی تصدیق کی’۔
گیلانی لکھتے ہیں کہ اس فورم (کل جماعتی حریت کانفرنس پاکستان زیر قبضہ کشمیر) کی کارکردگی اور بے ضابطگیوں کو اکثر ‘تحریک کے وسیع تر مفاد’ کے لبادے میں نظر انداز کیا گیا لیکن آج جب تمام حدود وقیود کو پامال کر کے نظم شکنی ہی نہیں بلکہ قیادت سے کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا ہے۔
دریں اثنا موصوف معمر حریت لیڈر کے حریت کانفرنس سے علیحدگی کے غیر متوقع اعلان نے ہر خاص و عام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور وادی کے سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سال 2003 میں بعض آزادی پسند تنظیموں نے متحدہ کل جماعتی حریت کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کر کے حریت کانفرنس (گ) کی بیناد ڈالی جس کی سربراہی سید علی گیلانی کو سونپی گئی۔
بعد میں گیلانی نے 7 اگست 2004 کو جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد تحریک حریت جموں و کشمیر کو منصہ شہود پر لایا اور وہ اس کے بھی چیئرمین مقرر ہوئے تھے۔
تاہم گیلانی نے 19 مارچ 2018 کو اپنی جگہ اپنے دست راست محمد اشرف صحرائی کو تحریک حریت جموں وکشمیر کا عبوری چیئرمین مقرر کیا اور وہ اس عہدے پر بدستور فائز ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

سیاست

امریکہ میں عبدال السید کی کامیابی پر اسد الدین اویسی کا بیان! کہا، ’’اب اتر پردیش میں بھی ایک عبدال لیڈر بنے گا‘‘

Published

on

حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید کی جیت کی دعوت دیتے ہوئے، اتر پردیش میں مسلم سیاسی شناخت بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ ایک عبد اب ریاست میں لیڈر بن جائے گا۔ “ایک ‘عبد’ مشی گن میں جیت گیا ہے؛ اب، اتر پردیش کے ‘عبد’ کو اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کرنا چاہیے،” اویسی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ وہ ریاستہائے متحدہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دے رہے تھے جہاں عبد السید نے مشی گن سینیٹ کی دوڑ جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’سنگھیوں‘ نے ’عبد‘ نام کا مذاق اڑانے کی کئی کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ‘عبد اللہ’ کے سوا کسی کی بندگی میں نہیں جھکتا، اب ہم دوسروں کے لیے قالین بچھانے والے نہیں رہیں گے۔ اویسی نے یہاں اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بھی اس مسئلہ پر بات کی۔ “بی جے پی کہتی تھی ‘عبد پنکچر بناتا ہے’۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عبدل اب لیڈر بنے گا۔ نہ قالین بچھائے گا، نہ آر ایس ایس سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکے گا۔ عبدل اپنا کام کرے گا اور لیڈر بنے گا۔” اویسی نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کمپاؤنڈ کے اندر واقع صدیوں پرانی قدیمی مسجد کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت کامن سینٹرل سیکریٹریٹ (سی سی ایس) کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہٹایا جانا چاہیے۔ حاصل کیا

“یہ مسجد ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کرشی بھون سے پہلے بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رجسٹرڈ وقف ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر کرن رجیجو کو ان لوگوں کو بتانا چاہئے کہ حکومت مالک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے قومی راجدھانی بننے اور ہندوستان کا آئین بننے سے پہلے بھی مسجد موجود تھی۔ ’’اگر آپ یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سرکاری جائیداد ہے تو وقف ٹربیونل میں جائیں اور وہاں بحث کریں۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وقف رجسٹرڈ ہے، وہاں گزٹ ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کرشی بھون کی ملکیت ہے۔ یہ کرشی بھون کی جائیداد نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے مرکز کی اس دلیل پر تنقید کی کہ مسجد “جائز اور سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی”۔

’’کیا یہ آپ کا سیکولرازم ہے کہ آپ ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو منہدم کرنا چاہتے ہیں جسے قانونی تحفظ حاصل ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اویسی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے بھومی پوجا کے ساتھ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بظاہر، سیکولرازم کسی عوامی منصوبے کے لیے ایک عقیدے کی رسومات کے استعمال سے ناراض نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مسجد سے الرجک ہے جو 1912 سے پہلے، کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے تک وہاں کھڑی تھی۔‘‘ حیدرآباد کے ضلع الیکشن آفیسر آر وی کے بارے میں جب اویسی سے ردعمل طلب کیا گیا تو اویسی نے پوچھا، ’’امیت شاہ اب کیا کہیں گے؟‘‘ کرنان کا بیان کہ حیدرآباد کی انتخابی فہرستوں میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے بیانات کو یاد کیا کہ حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کی وجہ سے غریبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران تمام اہل ووٹروں کی مدد کی، ان کے مذہب سے قطع نظر۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

Published

on

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔

گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان