Connect with us
Monday,04-May-2026

جرم

سورت کی 3 سالہ بچی کی عصمت ریزی اور قتل معاملہ میں پھانسی کی سزا پرسپریم کورٹ کی روک

Published

on

supreamcourt

(وفا ناہید)
نئی دہلی۔ گجرات کے سورت شہر میں 14اکتوبر 2018 کی شام اسی بلڈنگ کے ساکن 20 سالہ اٹل یادو نے عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا. سپریم کورٹ نے سورت میں ہوئے اس 3 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل میں قصوروار پائے گئے انل یادو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی مگر سپریم کورٹ نے پھانسی کی اس سزا کے لئے جاری ڈیتھ وارنٹ پر آج چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے سورت کی پوسکو عدالت کے ذریعہ جاری ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔ سماعت کے دوران قصوروار کی جانب سے پیش سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ نے بینچ کو بتایا کہ گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ موت کی سزا کی تصدیق کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے 60 دنوں کا وقت تھا لیکن اس سے پہلے ہی ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس بوبڑے نے کہا کہ پہلے ہی سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ڈیتھ وارنٹ تب تک جاری نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ قصوروار سارے قانونی عمل پورے نہ کر لے۔ دراصل پھانسی کی سزا والے معاملے میں ہائی کورٹ سے سزا کی تصدیق ہونےکے بعد اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کے لئے قصوروار کو 60 دن کا وقت ملتا ہے، لیکن اس کیس میں گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کے حکم پر 27 دسمبر کے محض تین دن کے اندر ہی ٹرائل کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا تھا۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے آج ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔ قصوروار انل یادو نے اکتوبر 2018 میں سورت میں تین سال کی بچی کی عصمت دری کی تھی اور پھر بعد میں اسے قتل کردیا تھا۔ اگست 2019 میں سورت کے لمبایت علاقے میں تین سال کی بچی سے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے کو اسپیشل پوسکو کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں تقریباً 9 مہینے تک سماعت جاری رہی تھی جس کے بعد قصوروار کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ بچی کے گھر والوں نے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے انل یادو کو موت کی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے 27دسمبر 2019 کو گجرات ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا کی تصدیق کردی تھی۔ واضح رہے کہ 3 سالہ بچی اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھی تبھی اسی بلڈنگ میں رہنے والے 20 سالہ انل یادو نے بہلا پھسلا کر بچی کو اٹھا لے گیا اور اپنے کمرے میں لے جاکر اس پھول سی معصوم بچی کی عصمت دری کی اور اس کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔ پھر لاش کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کر ایک ڈرم میں چھپا دیا۔ پکڑے جانے کے ڈر سے وہ 15 اکتوبر کو اپنے کمرے میں تالا لگا کر فرار ہو گیا۔ پولیس نے جانچ شروع کی۔ پتہ چلا کہ انل بہار میں ہے۔ پولیس وہاں گئی اور اس کی آبائی رہائش گاہ سے اسے گرفتار کیا۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے صرف ایک مہینے میں اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ سماعت پوری ہونے کے بعد کورٹ نے اسے مجرم قرار دیا تھا اور پھر موت کی سزا سنائی تھی۔ جس پر سپریم کورٹ نے آج روک لگادی.

جرم

10 لاکھ کا تعلیمی گھوٹالہ : ممبئی پولیس نے کاندیوالی کنسلٹنسی ڈوپس فیملی کے طور پر ایک کو کیا گرفتار۔

Published

on

ممبئی: ایک چونکا دینے والے واقعے میں، باندرہ ایسٹ میں ایک 78 سالہ خاتون کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، اور کھیرواڑی پولیس نے ملزم کو تھانے سے گرفتار کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اس معاملے کو حل کر لیا۔ متاثرہ، جس کی شناخت دھاراوی کی ساکن سوبھاگیما کتھیمیونار کے طور پر ہوئی ہے، 27 اپریل کو باندرہ ایسٹ میں ایک آر این اے عمارت کے قریب فٹ پاتھ پر بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی۔ اسے فوری طور پر سیون اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے داخلے سے قبل ہی اسے مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی طور پر، کیس کو حادثاتی موت کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کا گلا گھونٹ کر اور کسی کند چیز سے حملہ کیا گیا تھا، جس سے پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کا اشارہ کیا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور جائے وقوعہ کے قریب نظر آنے والے ایک مشتبہ شخص کا سراغ لگایا۔ ملزم، جس کی شناخت بھانوداس وٹھل کامبلے (44) کے طور پر ہوئی ہے، کو بعد میں تھانے سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 26 اپریل کی رات پیش آیا۔ ملزم ایک تقریب کے لیے باندرہ آیا تھا اور سڑک کے کنارے پیشاب کر رہا تھا کہ بزرگ خاتون نے اعتراض کیا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ مشتعل ہو کر اس نے ایک اینٹ اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری۔ جب وہ چلاتی رہی تو اس نے اس کا گلا گھونٹ دیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ ملزم بعد میں جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی انٹیلی جنس ان پٹس کے ذریعے اس کا سراغ لگایا گیا۔ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی: نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں اے سی پی گرفتار، ورلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج

Published

on

Arrest

ممبئی کے ورلی علاقے کے ایک پبلک پارک میں ایک اے سی پی سطح کے افسر کو مبینہ طور پر فحش اشارے کرنے اور 9 سالہ لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ورلی پولیس نے ملزمین کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات کر رہی ہے۔ ورلی پولیس اسٹیشن سے ملی اطلاع کے مطابق متاثرہ لڑکی کل ورلی کے سنگھ گارڈن میں کھیلنے گئی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم افسر متاثرہ کے پاس گیا اور گھر واپس آنے پر اس کی طرف نازیبا پیش قدمی کی اور اسے اپنے پرائیویٹ پارٹس کو چھونے کو کہا۔ لڑکی اس واقعہ سے گھبرا گئی اور گھر واپس آکر اپنی ماں کو بتایا کہ کیا ہوا ہے۔ لڑکی کی ماں جو کہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے، نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت ملنے پر ورلی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی جانچ شروع کردی۔ ابتدائی پوچھ گچھ اور دستیاب حقائق کی بنیاد پر ملزم پولیس افسر کی شناخت کر کے اسے گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب ایک اور نابالغ لڑکے نے بھی الزام لگایا کہ ملزم نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس کے خلاف ایسی ہی حرکت کی تھی۔ پولیس نے اس دعوے کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے الگ سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ورلی پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 74 اور 79 کے ساتھ ساتھ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ الزامات انتہائی سنگین ہیں، اس لیے فوری طور پر گرفتاری عمل میں لائی گئی، اور تفتیش مکمل قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم پولیس کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ سنگھ گارڈن کے علاقے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ ملزم افسر اصل میں ناگپور کا رہنے والا ہے اور اسے نومبر 2025 میں ممبئی میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں تعینات کیا گیا تھا۔ وہ پولیس کمیونیکیشن اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے منسلک تھا اور ورلی پولیس کیمپ میں اکیلا رہتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر : دو الگ الگ حادثات میں ایک پولیس کانسٹیبل سمیت چار افراد کی موت ہو گئی۔

Published

on

ممبئی/جلگاؤں : مہاراشٹر میں بدھ کو دو الگ الگ حادثات میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ ان واقعات میں چھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پہلا واقعہ مہاراشٹر کے جلگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک کار میں سفر کرنے والے تین افراد کی موت ہو گئی جن میں ایک نوبیاہتا دلہن بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ جلگاؤں کے دھرنگاؤں تعلقہ کے ورد خورد گاؤں کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ گجرات سے شادی کی بارات لے کر آکولہ جانے والی کروزر کا ٹائر پھٹ گیا جس کے باعث کروزر ہائی وے پر کھڑے گیس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہن شادی سے واپس آرہی تھی۔ اس واقعہ سے بڑے پیمانے پر کہرام مچ گیا۔ مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو گاڑی سے نکالا گیا۔ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے جن میں ایک کمسن بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم دلہن سمیت تین افراد پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مرنے والوں کی شناخت دلہن، پوجا روی واگھلکر، دتو بھاگوت اور جگدیش واگھلکر کے طور پر ہوئی ہے۔ دوسرا واقعہ ممبئی میں پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ مانکھرد علاقے میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) کے فلائی اوور کی تعمیر کے دوران کرین کا ایک حصہ پولیس کانسٹیبل سنتوش چوان پر گرا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سنتوش چوان نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ گھر جا رہے تھے۔ ممبئی پولیس کے مطابق ڈرلنگ مشین ناہموار زمین پر تھی، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کرین اس پر گری۔ ٹھیکیدار کے خلاف ممبئی کے مانکھرد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان