Connect with us
Wednesday,29-April-2026

جرم

سورت کی 3 سالہ بچی کی عصمت ریزی اور قتل معاملہ میں پھانسی کی سزا پرسپریم کورٹ کی روک

Published

on

supreamcourt

(وفا ناہید)
نئی دہلی۔ گجرات کے سورت شہر میں 14اکتوبر 2018 کی شام اسی بلڈنگ کے ساکن 20 سالہ اٹل یادو نے عصمت دری کرنے کے بعد قتل کردیا تھا. سپریم کورٹ نے سورت میں ہوئے اس 3 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل میں قصوروار پائے گئے انل یادو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی مگر سپریم کورٹ نے پھانسی کی اس سزا کے لئے جاری ڈیتھ وارنٹ پر آج چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے سورت کی پوسکو عدالت کے ذریعہ جاری ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔ سماعت کے دوران قصوروار کی جانب سے پیش سینئر وکیل اپراجیتا سنگھ نے بینچ کو بتایا کہ گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ موت کی سزا کی تصدیق کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے 60 دنوں کا وقت تھا لیکن اس سے پہلے ہی ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس بوبڑے نے کہا کہ پہلے ہی سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ ڈیتھ وارنٹ تب تک جاری نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ قصوروار سارے قانونی عمل پورے نہ کر لے۔ دراصل پھانسی کی سزا والے معاملے میں ہائی کورٹ سے سزا کی تصدیق ہونےکے بعد اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرنے کے لئے قصوروار کو 60 دن کا وقت ملتا ہے، لیکن اس کیس میں گجرات ہائی کورٹ کے ذریعہ پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کے حکم پر 27 دسمبر کے محض تین دن کے اندر ہی ٹرائل کورٹ نے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیا تھا۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے آج ڈیتھ وارنٹ پر روک لگا دی۔ قصوروار انل یادو نے اکتوبر 2018 میں سورت میں تین سال کی بچی کی عصمت دری کی تھی اور پھر بعد میں اسے قتل کردیا تھا۔ اگست 2019 میں سورت کے لمبایت علاقے میں تین سال کی بچی سے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے کو اسپیشل پوسکو کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی۔ اس معاملے میں تقریباً 9 مہینے تک سماعت جاری رہی تھی جس کے بعد قصوروار کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ بچی کے گھر والوں نے عصمت دری کے بعد قتل کرنے والے انل یادو کو موت کی سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے پہلے 27دسمبر 2019 کو گجرات ہائی کورٹ نے پھانسی کی سزا کی تصدیق کردی تھی۔ واضح رہے کہ 3 سالہ بچی اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھی تبھی اسی بلڈنگ میں رہنے والے 20 سالہ انل یادو نے بہلا پھسلا کر بچی کو اٹھا لے گیا اور اپنے کمرے میں لے جاکر اس پھول سی معصوم بچی کی عصمت دری کی اور اس کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔ پھر لاش کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کر ایک ڈرم میں چھپا دیا۔ پکڑے جانے کے ڈر سے وہ 15 اکتوبر کو اپنے کمرے میں تالا لگا کر فرار ہو گیا۔ پولیس نے جانچ شروع کی۔ پتہ چلا کہ انل بہار میں ہے۔ پولیس وہاں گئی اور اس کی آبائی رہائش گاہ سے اسے گرفتار کیا۔ خصوصی تفتیشی ٹیم نے صرف ایک مہینے میں اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ سماعت پوری ہونے کے بعد کورٹ نے اسے مجرم قرار دیا تھا اور پھر موت کی سزا سنائی تھی۔ جس پر سپریم کورٹ نے آج روک لگادی.

جرم

اندھیری میں سنسنی خیز واردات… رشتہ کا تقدس پامال، بہن کے قتل میں بھائی بھابھی گرفتار, لاوارث لاش کی شناخت

Published

on

ممبئی : ممبئی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں خونی رشتہ ہی ایک بہن کی جان لے لی۔ ممبئی پولس نے اپنی کی بھابھی کو موت کے گھاٹ اتارنے والے بھائی بھابھی کو گرفتارکرنے کا دعوی کیا ہے ممبئی اندھیری مرول کے گٹر سے پولس نے ایک نامعلوم لاوارث برآمد کی تھی جو پوری طرح سے مسخ ہو چکی تھی اس کی شناخت کےلیے پولس نے محنت کی اور پھر زیورات اور گمشدہ رپورٹ کی بنیاد پر متوفی کی شناخت کر لی پولس کو اندھیری مرول ناکہ کی گٹر کے ڈھکن نکالنے کے بعد لاش برآمد ہوئی۲۲ اپریل کو لاش کی برآمد گی کے بعد پولس نے کیس درج کر لیا اور پھر متوفی کی شناخت بیلنس سیکورہ ۸۰ سالہ کے طور پر ہوئی ۱۰ جنوری کو ۲۰۲۶ میں مقتولہ کی گمشدہ کی شکایت سہار پولس اسٹیشن میں درج کی گئی یہ شکایت اس کے بھائی جوزف تھامس کوئلہ نے درج کروائی تھی۔ مقتولہ اپنی بھائی بھابھی کے ساتھ مقیم تھی اور قتل سے ایک روز اس کا ۹ جنوری کو بھائی جوزف اور بھابھی ماریا کے زور دار تنازع اور جھگڑا ہوا تھا پولس نے پڑوسیوں سے باز پرس کی تو معلوم ہوا کہ اکثر بھائی بھابھی اور مقتولہ کا جھگڑا اور تنازع ہوا کرتا تھا اس دوران پولا نے جوزف ، ماریا اور اس کا فرزند کولٹن کو زیر حراست لیا۔ تفتیش میں ملزمین نے اعتراف کیا کہ وہ روز روز کی حجت اور تنازع سے تنگ اور عاجز آچکے تھے جس کے بعد ماریا نے قتل کی سازش رچی اور پھر مقتولہ کو قتل کر کے اس کی لاش مین ہول میں ڈال دیا اندھیری پولس نے جوزف تھامس کویلو ۶۵ سالہ ، ماریا جوزف ۶۳ سالہ مرول پائپ لائن کے ساکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اندھیری پولس نے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے کی سربراہی تفتیش کے بعد اس سنسنی خیز قتل کا خلاصہ کرتے ہوئے ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : انگڑیا کا دس لاکھ کاندیولی میں پارکنگ سے چوری کرنے والے دو شاطر چور کی گرفتاری مزید کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی انگڑیا کا دس لاکھ روپے چوری کرنے کے معاملہ میں پولس نے ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کاندیولی علاقہ میں شکایت کنندہ نکھل اروند شاہ ۴۴ سالہ ملاڈ کا رہائشی انگڑیا سے ۱۰ لاکھ روپے لے کر بلڈنگ میں اسکوٹر پارک کر کے گیا تھا, اسی دوران دو افراد کے اسکوٹی کی ڈگی میں موجود نقدی رقم لے کر فرار ہو گئے. معاملہ میں پولس نے معاملہ درج کر لیا اور چوروں کی تلاش کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی گئی اور کاندیولی کے ۱۲۴ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور پولس ٹیم کو ملزمین کو سراغ گجرات ملا. یہاں پہنچ کر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے چوری کے ۱۰ لاکھ میں سے ۷ لاکھ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے. ملزمین نے اعتراف جرم کر لیا ہے. اس کے ساتھ ملزمین نے تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اس چوری میں دو مزید افراد نے مدد کی تھی, ان دونوں کی بھی پولس تلاش کرُرہی ہے. ممبئی پولس نے اس معاملہ میں ملزمین کو گرفتار کر کے کیس کو حل کر لیا ہے. پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ایڈیشنل کمشنر ششی کمار مینا اور ڈی سی پی سندیپ جادھو نے کیس حل کیا

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے عشائیہ کے موقع پر ہونے والی شوٹنگ سے ’پریشان‘ نہیں تھا، ایجنسیوں کی فوری کارروائی کی تعریف کی۔

Published

on

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کے واقعے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ پریشان نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ کافی نروس تھیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “میں پریشان نہیں تھا۔ میں زندگی کو سمجھتا ہوں۔ ہم ایک پاگل دنیا میں رہتے ہیں۔” اس نے اپنا ردعمل اس وقت بیان کیا جب سیکیورٹی گارڈز اسے باہر لے گئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پہلے صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی اور پھر سیکرٹ سروس کی ہدایات پر عمل کیا۔ “میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ گارڈز نے کہا، ‘براہ کرم نیچے اتریں، فرش پر آ جائیں۔’ چنانچہ میں خاتون اول بھی نیچے اتر گئی۔” خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “وہ جو کچھ ہوا اس سے وہ بہت پریشان لگ رہی تھیں۔ ایسی صورتحال میں کون پریشان نہیں ہوگا؟ انہوں نے صورتحال کو بہت اچھی طرح سے سنبھالا، وہ جانتی تھیں کہ کیا ہو رہا ہے۔” دریں اثنا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری کارروائی پر ایجنسیوں کی تعریف کی۔ اس نے بتایا کہ ملزم کو کتنی جلدی پکڑا گیا۔ انہوں نے کہا، “وہ (حملہ آور) بہت چالاک تھا، لیکن انہوں نے (سیکیورٹی اہلکاروں) نے جلدی سے اسے قابو کر لیا۔” صدر نے نوجوان ملزم کی سیکورٹی کی خلاف ورزی پر بھی تبصرہ کیا۔ اس نے کہا، “یہ لوگ بیوقوف نہیں ہیں، اور یہ چیزیں جلدی سمجھ لیتے ہیں۔ حملہ آور بھی کافی اناڑی تھا، اسی لیے پکڑا گیا۔” واقعے کے باوجود، ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایونٹ جاری رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کا دوبارہ انعقاد جلد ہوگا۔ ایک 31 سالہ مشتبہ شخص نے وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے میں فائرنگ کی۔ وہ حفاظتی حصار توڑ کر ہوٹل میں داخل ہوا۔ عشائیہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر اور سینئر حکام سمیت 2500 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کے فوری بعد ملزم کو گرفتار کر لیا۔ تحقیقاتی ایجنسیاں فی الحال 31 سالہ ملزم سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان