Connect with us
Wednesday,04-November-2026

سیاست

شیوسینا کا آر ایس ایس چیف کو خط،حکومت سازی میں چ؟

Published

on

shiv sena

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے تقریباً دو ہفتہ بعد بھی حکومت سازی کو لے کر کشمکش کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پیر کے روز بی جے پی صدر اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی، لیکن حکومت تشکیل کو لے کر کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا۔ اس درمیان شیو سینا نے اس پورے معاملے کو نیا موڑ دے دیا ہے۔شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے مشیر کشور تیواری نے اس سلسلے میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی ہے۔ بے حد اہم تصور کیے جانے والے اس خط میں تیواری نے آر ایس ایس سربراہ سے گزارش کی ہے کہ وہ حکومت تشکیل کے معاملے میں مرکزی وزیر نتن گڈکری سے ثالثی کرائیں تاکہ بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان جاری تنازعہ کا عام اتفاق سے حل نکل سکے۔کشور تیواری نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی اس معاملے میں شیو سینا کے ساتھ بات چیت کے لیے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو مقرر کرے۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گڈکری نہ صرف ’گٹھ بندھن دھرم‘ کی عزت رکھیں گے، بلکہ صرف دو گھنٹے میں معاملہ کا حل نکال دیں گے۔‘‘کشوری تیواری نے ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ ایک بار رخنہ ختم ہو گیا تو شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو پہلے 30 مہینوں کے لیے وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف دلایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بی جے پی جسے چاہے اگلے 30 مہینے کے لیے اپنا وزیر اعلیٰ بنا سکتی ہے۔ کشور تیواری نے کہا کہ ’’بی جے پی اور شیو سینا میں موجودہ ماحول دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس انڈیویجوئلسٹ یعنی انفرادیت پسند ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ دوسری طرف سیاسی طور پر تجربہ کار نتن گڈکری کو اگر مہاراشٹر بھیجا جاتا ہے تو وہ دونوں پارٹیوں کے مشترکہ ایجنڈا ہندوتوا اور ترقی دونوں پر کام کریں گے۔‘‘آر ایس ایس نے تیواری کے خط کا کیا جواب دیا ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ لیکن آر ایس ایس نے اپنے ترجمان ’ترون بھارت‘ میں شائع ایک اداریہ کے ذریعہ شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت کو جواب دیا گیا ہے۔ اداریہ میں انھیں جھوٹا اور جوکر کہتے ہوئے شیخ چلی تک کہہ دیا گیا ہے۔غور طلب ہے کہ تیواری کا خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس بی جے پی صدر امت شاہ سے اور این سی پی سربراہ شرد پوار کانگریس صدر سونیا گاندھی سے مل کر مہاراشٹر کے معاملے پر غور و خوض کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شیو سینا لیڈر سنجے راؤت گورنر بی ایس کوشیاری سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور انھوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ سیاسی ماحول پر بات کرنے گئے تھے، لیکن زیادہ کچھ بتانے سے انھوں نے پرہیز کیا۔دراصل بی جے پی کے لیے معاملہ صرف مہاراشٹر بھر کا نہیں ہے، بات اس سے آگے بھی جاتی ہے۔ بی جے پی سیاسی طور پر دوسری سب سے اہم ریاست میں غیر بی جے پی وزیر اعلیٰ نہیں رکھنا چاہتی، خصوصاً ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ ایودھیا معاملے پر فیصلہ سنانے والا ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہے کہ شیوسینا رام مندر ایشو سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھا سکتی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر بی جے پی مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ عہدہ چھوڑتی ہے تو اس سے جھارکھنڈ کےآئندہ اسمبلی انتخابات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ جھارکھنڈ میں اسی ماہ 30 تاریخ سے انتخاب ہیں۔ وہیں کچھ دیگر ریاستوں میں بھی آئندہ سال انتخابات ہونے ہیں، جن میں دہلی اور بہار بھی شامل ہیں۔دوسری طرف کانگریس اور این سی پی مہاراشٹر کے معاملے میں کافی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالات پر گہری نظر رکھتے ہوئے دونوں پارٹیاں آنے والے وقت میں اپنے پتے کھولیں گی۔ حالانکہ کانگریس کے کچھ خیموں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ کانگریس کو حکومت کے لیے شیو سینا کی نہ ہی حمایت لینی چاہیے اور نہ ہی اسے حمایت دینی چاہیے۔ ایسی آوازوں میں کانگریس لیڈر سنجے نروپم کی آواز سب سے زیادہ تیز ہے۔ اُدھر این سی پی میں بھی ویٹ اینڈ واچ کی پالیسی اختیار کیے جانے کی صلاح دی جا رہی ہے۔

سیاست

امریکہ میں عبدال السید کی کامیابی پر اسد الدین اویسی کا بیان! کہا، ’’اب اتر پردیش میں بھی ایک عبدال لیڈر بنے گا‘‘

Published

on

حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید کی جیت کی دعوت دیتے ہوئے، اتر پردیش میں مسلم سیاسی شناخت بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ ایک عبد اب ریاست میں لیڈر بن جائے گا۔ “ایک ‘عبد’ مشی گن میں جیت گیا ہے؛ اب، اتر پردیش کے ‘عبد’ کو اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کرنا چاہیے،” اویسی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ وہ ریاستہائے متحدہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دے رہے تھے جہاں عبد السید نے مشی گن سینیٹ کی دوڑ جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’سنگھیوں‘ نے ’عبد‘ نام کا مذاق اڑانے کی کئی کوششیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ‘عبد اللہ’ کے سوا کسی کی بندگی میں نہیں جھکتا، اب ہم دوسروں کے لیے قالین بچھانے والے نہیں رہیں گے۔ اویسی نے یہاں اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بھی اس مسئلہ پر بات کی۔ “بی جے پی کہتی تھی ‘عبد پنکچر بناتا ہے’۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عبدل اب لیڈر بنے گا۔ نہ قالین بچھائے گا، نہ آر ایس ایس سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکے گا۔ عبدل اپنا کام کرے گا اور لیڈر بنے گا۔” اویسی نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کمپاؤنڈ کے اندر واقع صدیوں پرانی قدیمی مسجد کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت کامن سینٹرل سیکریٹریٹ (سی سی ایس) کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہٹایا جانا چاہیے۔ حاصل کیا

“یہ مسجد ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کرشی بھون سے پہلے بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رجسٹرڈ وقف ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر کرن رجیجو کو ان لوگوں کو بتانا چاہئے کہ حکومت مالک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے قومی راجدھانی بننے اور ہندوستان کا آئین بننے سے پہلے بھی مسجد موجود تھی۔ ’’اگر آپ یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سرکاری جائیداد ہے تو وقف ٹربیونل میں جائیں اور وہاں بحث کریں۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وقف رجسٹرڈ ہے، وہاں گزٹ ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کرشی بھون کی ملکیت ہے۔ یہ کرشی بھون کی جائیداد نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے مرکز کی اس دلیل پر تنقید کی کہ مسجد “جائز اور سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی”۔

’’کیا یہ آپ کا سیکولرازم ہے کہ آپ ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو منہدم کرنا چاہتے ہیں جسے قانونی تحفظ حاصل ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اویسی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے بھومی پوجا کے ساتھ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بظاہر، سیکولرازم کسی عوامی منصوبے کے لیے ایک عقیدے کی رسومات کے استعمال سے ناراض نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مسجد سے الرجک ہے جو 1912 سے پہلے، کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے تک وہاں کھڑی تھی۔‘‘ حیدرآباد کے ضلع الیکشن آفیسر آر وی کے بارے میں جب اویسی سے ردعمل طلب کیا گیا تو اویسی نے پوچھا، ’’امیت شاہ اب کیا کہیں گے؟‘‘ کرنان کا بیان کہ حیدرآباد کی انتخابی فہرستوں میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے بیانات کو یاد کیا کہ حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کی وجہ سے غریبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران تمام اہل ووٹروں کی مدد کی، ان کے مذہب سے قطع نظر۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

Published

on

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔

گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان