Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

بی جے پی سے دلبرداشتہ شیو سینا کے قدم این سی پی کی طرف!

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان جاری تلخیوں کے درمیان سیاسی ماہرین اب اس بات پر غور کرنے کے لیے مجبور ہیں کہ کیا شیوسینا-این سی پی حکومت سازی کے لیے قدم آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس سوچ کو اس وقت مزید قوت ملی جب مہاراشٹر کے معروف لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ حسین دلوئی نے پارٹی قومی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر انھیں مشورہ دیا کہ شیوسینا کی حمایت کرنا بہتر قدم ہوگا۔حسین دلوئی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ سال 2007 میں ہوئے صدارتی انتخاب میں شیو سینا نے کانگریس امیدوار پرتبھا پاٹل کی حمایت کی تھی اور 2012 کے صدارتی انتخاب میں اس نے کانگریس امیدوار پرنب مکھرجی کی بھی حمایت کی تھی۔ علاوہ ازیں 1980 کے انتخاب میں بھی شیوسینا نے کانگریس کا تعاون کیا تھا، اس لیے آج بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے کانگریس کو چاہیے کہ وہ شیوسینا کی حمایت کرے۔حسین دلوئی کے علاوہ بھی مہاراشٹر میں بی جے پی مخالف پارٹیوں کے کئی لیڈران نے این سی پی۔شیوسینا۔کانگریس اتحاد بنانے کے لیے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ جمعہ کے روز مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈروں کے ساتھ سونیا گاندھی کی ہوئی میٹنگ کے بعد اس طرح کی خبریں باہر آئیں کہ کانگریس فی الحال ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر کام کرے گی اور بی جے پی و شیوسینا کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد ہی باضابطہ کوئی اعلان کرے گی۔سینئر لیڈروں کے سونیا گاندھی سے میٹنگ کے بعد سیاسی سرگرمیاں مہاراشٹر میں مزید تیز ہو گئیں اور پھر این سی پی ترجمان نواب ملک کا ایک بیان سامنے آیا جو بی جے پی کے لیے کافی فکر انگیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی اور شیو سینا اتحاد مہاراشٹر میں حکومت نہیں بناتی ہے تو این سی پی حکومت سازی کا دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پارٹی ان کے لیے اچھوت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ این سی پی کو اگر موقع ملے گا تو وہ شیو سینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہو جائے گی۔مہاراشٹر اس وقت سب سے زیادہ پاور فُل کوئی لیڈر نظر آ رہا ہے تو وہ ہیں شرد پوار۔ این سی پی سربراہ شرد پوار اس وقت اپنے تجربے کا پورا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو انھوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ عوام نے انھیں اپوزیشن میں بیٹھنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو وہ اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے، اور دوسری طرف سنجے راؤت کے ساتھ ملاقات کر کے سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے۔ سنجے راؤت اور شرد پوار کے درمیان ملاقات جمعہ کے روز ہوئی جس کے کئی معنی سیاسی ماہرین نکال رہے ہیں۔ حالانکہ شرد پوار نے اس ملاقات کے بعد بھی یہی کہا ہے کہ بی جے پی-شیوسینا کو حکومت بنانی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے شیوسینا کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مطالبہ کو صحیح ٹھہرا دیا۔ انھوں نے میڈیا سے کہا کہ ’’اگر بی جے پی کو حکومت سازی کرنی ہے تو چاہیے کہ وہ جھکے اور وزیر اعلیٰ عہدہ شیو سینا کے ساتھ بانٹے۔‘‘اس پورے معاملے میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور بی جے پی لیڈران بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کئی بار وہ شیوسینا سے کوئی تلخی نہ ہونے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن اس بات پر وہ رضامند نہیں ہیں کہ شیوسینا سے کوئی وزیر اعلیٰ بنے۔ یہی ایک بات ہے جس پر شیوسینا بضد ہے اور بی جے پی کا کھیل خراب ہو رہا ہے۔ جمعہ کے روز شیوسینا اس وقت مزیدناراض ہو گئی جب ایک بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نےشیوسینا کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر 7 نومبر تک اس نے بی جے پی کے ساتھ حکومت نہیں بنائی تو ریاست میں صدر راج نافذ ہو جائے گا۔ 2 نومبر کے’سامنا‘ میں شیوسینا نے اس بیان پر اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار بھی کیا اور بی جے پی کو پھٹکار بھی لگائی۔جس طرح کے بیانات مختلف سیاسی پارٹی لیڈران کے ذریعہ اس وقت سامنے آ رہے ہیں، وہ مہاراشٹر میں تذبذب کی حالت پوری طرح ظاہر کر رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شیوسینا اور بی جے پی اتحاد ٹوٹتا ہے تو این سی پی حکومت سازی کے لیے ضرور آگے آئے گی اور شیوسینا کو وزیر اعلیٰ عہدہ بھی مل جائے گا۔ لیکن 56 سیٹوں والی شیو سینا اور 54 سیٹوں والی این سی پی کے ملنے سے حکومت سازی ممکن نہیں، اور ایسے وقت میں قوی امکان ہے کہ 44 سیٹوں والی کانگریس باہر سے حمایت کر دے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اسمبلی الیکشن کے دوران کانگریس نے این سی پی کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔ ایسا کرنے سے کانگریس کے اوپر شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا داغ بھی نہیں لگے گا اور بی جے پی کی ریاست سے چھٹی بھی ہو جائے گی۔واضح رہے کہ 288 اسمبلی سیٹوں والی اس ریاست میں اسمبلی انتخاب کا نتیجہ گزشتہ 24 اکتوبر کو ہی برآمد ہو چکا ہے اور بی جے پی کو 105 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی اتحادی پارٹی شیوسینا کو 56 سیٹیں ملی ہیں، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اتحاد سے قبل بی جے پی نے 50-50 فارمولہ اختیار کرنے کی بات کہی تھی جس سے اب وہ پیچھے ہٹ رہی ہے۔ شیو سینا کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی تحریری طور پر یہ دے کہ شیو سینا سے 2.5 سال کا وزیر اعلیٰ بنے گا اور 2.5 سال کے لیے وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہوگا۔ لیکن بی جے پی کو یہ منظور نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں سیاسی گرمی ابھی عروج پر ہے۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com