Connect with us
Tuesday,17-March-2026

سیاست

بی جے پی سے دلبرداشتہ شیو سینا کے قدم این سی پی کی طرف!

Published

on

مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان جاری تلخیوں کے درمیان سیاسی ماہرین اب اس بات پر غور کرنے کے لیے مجبور ہیں کہ کیا شیوسینا-این سی پی حکومت سازی کے لیے قدم آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس سوچ کو اس وقت مزید قوت ملی جب مہاراشٹر کے معروف لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ حسین دلوئی نے پارٹی قومی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر انھیں مشورہ دیا کہ شیوسینا کی حمایت کرنا بہتر قدم ہوگا۔حسین دلوئی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ سال 2007 میں ہوئے صدارتی انتخاب میں شیو سینا نے کانگریس امیدوار پرتبھا پاٹل کی حمایت کی تھی اور 2012 کے صدارتی انتخاب میں اس نے کانگریس امیدوار پرنب مکھرجی کی بھی حمایت کی تھی۔ علاوہ ازیں 1980 کے انتخاب میں بھی شیوسینا نے کانگریس کا تعاون کیا تھا، اس لیے آج بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے کانگریس کو چاہیے کہ وہ شیوسینا کی حمایت کرے۔حسین دلوئی کے علاوہ بھی مہاراشٹر میں بی جے پی مخالف پارٹیوں کے کئی لیڈران نے این سی پی۔شیوسینا۔کانگریس اتحاد بنانے کے لیے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ جمعہ کے روز مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈروں کے ساتھ سونیا گاندھی کی ہوئی میٹنگ کے بعد اس طرح کی خبریں باہر آئیں کہ کانگریس فی الحال ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر کام کرے گی اور بی جے پی و شیوسینا کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد ہی باضابطہ کوئی اعلان کرے گی۔سینئر لیڈروں کے سونیا گاندھی سے میٹنگ کے بعد سیاسی سرگرمیاں مہاراشٹر میں مزید تیز ہو گئیں اور پھر این سی پی ترجمان نواب ملک کا ایک بیان سامنے آیا جو بی جے پی کے لیے کافی فکر انگیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر بی جے پی اور شیو سینا اتحاد مہاراشٹر میں حکومت نہیں بناتی ہے تو این سی پی حکومت سازی کا دوسرا راستہ تلاش کرے گی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پارٹی ان کے لیے اچھوت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ این سی پی کو اگر موقع ملے گا تو وہ شیو سینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہو جائے گی۔مہاراشٹر اس وقت سب سے زیادہ پاور فُل کوئی لیڈر نظر آ رہا ہے تو وہ ہیں شرد پوار۔ این سی پی سربراہ شرد پوار اس وقت اپنے تجربے کا پورا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک طرف تو انھوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ عوام نے انھیں اپوزیشن میں بیٹھنے کا مینڈیٹ دیا ہے تو وہ اپوزیشن میں بیٹھنا پسند کریں گے، اور دوسری طرف سنجے راؤت کے ساتھ ملاقات کر کے سیاست میں گرمی پیدا کر دی ہے۔ سنجے راؤت اور شرد پوار کے درمیان ملاقات جمعہ کے روز ہوئی جس کے کئی معنی سیاسی ماہرین نکال رہے ہیں۔ حالانکہ شرد پوار نے اس ملاقات کے بعد بھی یہی کہا ہے کہ بی جے پی-شیوسینا کو حکومت بنانی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے شیوسینا کے ذریعہ وزیر اعلیٰ عہدہ کے مطالبہ کو صحیح ٹھہرا دیا۔ انھوں نے میڈیا سے کہا کہ ’’اگر بی جے پی کو حکومت سازی کرنی ہے تو چاہیے کہ وہ جھکے اور وزیر اعلیٰ عہدہ شیو سینا کے ساتھ بانٹے۔‘‘اس پورے معاملے میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور بی جے پی لیڈران بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ حالانکہ کئی بار وہ شیوسینا سے کوئی تلخی نہ ہونے کی بات کہہ چکے ہیں لیکن اس بات پر وہ رضامند نہیں ہیں کہ شیوسینا سے کوئی وزیر اعلیٰ بنے۔ یہی ایک بات ہے جس پر شیوسینا بضد ہے اور بی جے پی کا کھیل خراب ہو رہا ہے۔ جمعہ کے روز شیوسینا اس وقت مزیدناراض ہو گئی جب ایک بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نےشیوسینا کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر 7 نومبر تک اس نے بی جے پی کے ساتھ حکومت نہیں بنائی تو ریاست میں صدر راج نافذ ہو جائے گا۔ 2 نومبر کے’سامنا‘ میں شیوسینا نے اس بیان پر اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار بھی کیا اور بی جے پی کو پھٹکار بھی لگائی۔جس طرح کے بیانات مختلف سیاسی پارٹی لیڈران کے ذریعہ اس وقت سامنے آ رہے ہیں، وہ مہاراشٹر میں تذبذب کی حالت پوری طرح ظاہر کر رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شیوسینا اور بی جے پی اتحاد ٹوٹتا ہے تو این سی پی حکومت سازی کے لیے ضرور آگے آئے گی اور شیوسینا کو وزیر اعلیٰ عہدہ بھی مل جائے گا۔ لیکن 56 سیٹوں والی شیو سینا اور 54 سیٹوں والی این سی پی کے ملنے سے حکومت سازی ممکن نہیں، اور ایسے وقت میں قوی امکان ہے کہ 44 سیٹوں والی کانگریس باہر سے حمایت کر دے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اسمبلی الیکشن کے دوران کانگریس نے این سی پی کے ساتھ اتحاد قائم کیا تھا۔ ایسا کرنے سے کانگریس کے اوپر شیوسینا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا داغ بھی نہیں لگے گا اور بی جے پی کی ریاست سے چھٹی بھی ہو جائے گی۔واضح رہے کہ 288 اسمبلی سیٹوں والی اس ریاست میں اسمبلی انتخاب کا نتیجہ گزشتہ 24 اکتوبر کو ہی برآمد ہو چکا ہے اور بی جے پی کو 105 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس کی اتحادی پارٹی شیوسینا کو 56 سیٹیں ملی ہیں، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اتحاد سے قبل بی جے پی نے 50-50 فارمولہ اختیار کرنے کی بات کہی تھی جس سے اب وہ پیچھے ہٹ رہی ہے۔ شیو سینا کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی تحریری طور پر یہ دے کہ شیو سینا سے 2.5 سال کا وزیر اعلیٰ بنے گا اور 2.5 سال کے لیے وزیر اعلیٰ بی جے پی کا ہوگا۔ لیکن بی جے پی کو یہ منظور نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں سیاسی گرمی ابھی عروج پر ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا میں غیرقانونی ہاکروں اور ہوٹلوں پر کارروائی ہو گی، ہاکروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا بی ایم سی کا انتباہ، موثر کارروائی کےلیے پولس مستعد

Published

on

ممبئی : کرلا علاقہ میں ایک مرتبہ پھر غیرقانونی ہاکروں کے خلاف کارروائی پر ہندوسکل سماج نے سخت کارروائی کامطالبہ کر تے ہو ئے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے بعد بی ایم سی اب ایسے ہاکروں کےخلاف کیس درج کرے گی جو بارہا راستہ اور فٹ پاتھ پر قبضہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں یا پھر کارروائی میں مداخلت کی ہے ہاکروں پر کارروائی مزید موثر بنانے کےلیے پولس اور بی ایم سی ایل وار ڈ مشترکہ کارروائی کرے ہاکروں کے سبب اہلیان کرلا کو کافی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کے بعد ایل وار ڈ میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈی ایم سی سرشاگر نے یہ واضح کیاہے کہ کرلا کو ہاکرس سے پاک کرنے کے ساتھ غیر قانونی قبضہ جات پر کارروائی ہوگی۔
اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے کہا کہ ایل وار ڈ کرلا کی حدود میں جو کارروائی جنوری میں جاری تھی اس میں مزید پیش رفت کرنے کے ساتھ موثر انداز میں کارروائی کےلیے اب ایف آئی آر کا اندراج ہوگا بی ایم سی کی شکایت پر پولس اب اس معاملہ میں کیس درج کرے گی اس میٹنگ میں کرلا سنئیر پولس انسپکٹروکاس مہمکر نے کاروائی میں ہر طرح سے تعاون کا یقین دلایا ہے اس سے قبل سکل ہندو سماج نے پھیری والوں اور ہاکروں کو فرقہ وارانہ اور مذہبی رنگ دینے کی بھی کوشش کی اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں غیرقانونی افطار پارٹی اور سڑک پر بلا اجازت افطار پارٹی پر بھی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اتناہی نہیں مارکیٹ میں عارضی نماز کی کے شیڈ کو بھی ہٹانے کا مطالبہ ہے اس پر بی ایم سی افسران نے ضروری کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
کرلا میں غیرقانونی فٹ پاتھ پر قبضہ کو لے کر بی ایم سی اب حرکت میں آگئی ہے اس لئے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر دھناجی ہیرلیکر نے یہ واضح کیا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھ پر جن ہوٹلوں نے قبضہ کیا ہے اس پر بھی کارروائی کی جائے گی یہ کارروائی ٹریفک پولس اور پولس عملہ کے ساتھ مل کر انجام دی جائے گی بی ایم سی کی یقین دہانی کے بعد سرکل ہندو سماج نے اپنا مورچہ ختم کر دیا۔ بی جے پی لیڈر روپیش پوار نے کہا ہے کہ کرلا سہارا ہوٹل سے لے کر ایل بی ایس مارگ تک ہوٹلوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کر رکھا ہے یہاں ٹریفک مسئلہ ہے اسی مقام پر پانچ اسپتال ہے اگر کوئی مریض انتہائی تشویشناک حالت میں رہا تو اس کو اسپتال تک پہنچانا مشکل ہوتا ہے اس میں کئی مریض کی جان بھی فوت ہو گئی ہے اس لئے ان ہوٹلوں پر بھی کارروائی ضروری ہے جو فٹ پاتھ پر کاروبار کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کرلا کے شہری فٹ پاتھ کےلیے پریشان ہے اور بی ایم سی اگر اس پر کارروائی میں تساہلی کرتی ہے تو اس متعلق احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی بی ایم سی کو ہندسکل نے انتباہ دیا ہے کہ اگر غیر قانونی کاروبار اور پھیری والوں پر کارروائی نہیں کی گئی تو احتجاج میں مزید شدت ہوگی۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ایل پی جی بحران : ریاستی حکومت نے گیس کی سپلائی کے لیے پولیس پروٹیکشن تعینات کی, بلیک مارکیٹنگ متحرک, 18 گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی اور آس پاس کے علاقوں میں ایل پی جی کی جاری قلت کے درمیان، مہاراشٹر کے فوڈ اور سول سپلائیز کے وزیر چھگن بھجبل نے پیر کو قانون ساز کونسل کو مطلع کیا کہ ریاست نے بڑھتی ہوئی بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے مائع پیٹرولیم گیس کی نقل و حمل اور تقسیم کے لیے پولیس تحفظ کا اختیار دیا ہے۔ بھجبل نے کہا کہ یہ اقدام ایل پی جی سلنڈروں کی غیر قانونی فروخت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے جواب میں کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے منسلک سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ہے۔ اب تک، ریاست کے انفورسمنٹ ونگ نے 2,100 سے زیادہ معائنہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 23 مقدمات کا اندراج اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ضلع کلکٹروں اور علاقائی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے ویجیلنس اسکواڈ تشکیل دیں۔ وزیر نے یقین ظاہر کیا کہ پولیس کی تعیناتی سپلائی چین میں مداخلت کو روکے گی اور ریاست بھر میں کھانا پکانے والی گیس کی آسانی سے تقسیم کو یقینی بنائے گی۔ کمی کے باوجود، بھجبل نے برقرار رکھا کہ تیل کمپنیوں کے پاس کافی ذخیرہ ہے اور ریفائنریوں میں پیداوار 9,000 میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11,000 میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے گھبرانے کی بھی اپیل کی، اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ مرکزی حکومت ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ ہنگامی اقدامات کے ایک حصے کے طور پر، ریاستی حکومت متبادل ایندھن کے طور پر مٹی کے تیل کی فراہمی پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس تجویز کو اس مہینے کے شروع میں بمبئی ہائی کورٹ، خاص طور پر اس کی ناگپور بنچ کو پہنچایا گیا تھا۔ دریں اثنا، ایل پی جی بحران نے مہمان نوازی کے شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہوٹل اور ریستوراں کی ایسوسی ایشن (اے ایچ اے آر) کے نمائندوں نے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس سے ودھان بھون میں ملاقات کی، فوری مداخلت کی درخواست کی اے ایچ اے آر کے صدر وجے کے شیٹی کے مطابق، بہت سے ریستورانوں نے ایل پی جی اور پائپڈ قدرتی گیس کی سپلائی دونوں میں رکاوٹ کی وجہ سے یا تو کام کا سائز کم کر دیا ہے یا مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ چھوٹے ادارے، خاص طور پر، بڑھتے ہوئے اخراجات اور سپلائی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان آپریشنز کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور مرکزی وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس کے ساتھ اٹھائے گی۔ اس دوران، ایل پی جی کی سپلائی میں ضروری خدمات جیسے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، شمشان گھاٹوں، ​​اولڈ ایج ہومز اور یتیم خانوں کو ترجیح دی گئی ہے، قلت، جو اب اپنے نویں دن تک پھیلی ہوئی ہے، ممبئی اور قریبی اضلاع میں روزمرہ کی زندگی اور کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل خلل ڈال رہی ہے، یہاں تک کہ حکام سپلائی کو مستحکم کرنے اور بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Continue Reading

بالی ووڈ

بی ایم سی نے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں بیداری کو فروغ دینے کے لیے ‘ممبئی کلین لیگ’ کا کیا آغاز, اداکار اکشے کمار کو سرکاری سفیر نامزد۔

Published

on

ممبئی: برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے منگل کو ‘ممبئی کلین لیگ’ کا آغاز کیا، جس کے لیے بالی ووڈ اداکار پدم شری اکشے کمار کو برانڈ ایمبیسیڈر نامزد کیا گیا ہے۔ صفائی کے مقابلے کا مقصد شہری شرکت کو بڑھانا اور سوچھ بھارت مشن میں ممبئی کی درجہ بندی کو بہتر بنانا ہے۔ اس مقابلے میں ایوارڈ کے متعدد زمرے ہوں گے، جن میں صاف ستھرے وارڈ، رہائشی کمپلیکس، کچی آبادیوں، تجارتی اداروں، اور عوامی سہولیات جیسے ہسپتال، اسکول، بیت الخلا، سڑکیں، باغات اور بازار شامل ہیں۔ انعامی رقم 1.5 لاکھ روپے سے لے کر 25 لاکھ روپے تک ہوگی، جس میں سب سے زیادہ صاف ستھرا وارڈ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کا مقصد وسیع البنیاد شرکت کو ترغیب دینا ہے۔ بی ایم سی کمشنر بھوشن گگرانی نے کہا کہ مقابلہ ہر وارڈ میں منعقد کیا جائے گا اور اس میں حصہ لینے کے لیے مقامی عہدیداروں، این جی اوز، رہائشی سوسائٹیوں وغیرہ سے رابطہ کیا جائے گا۔ ممبئی بی جے پی کے صدر جنہوں نے گزشتہ ماہ لیگ کا اعلان کیا تھا، منگل کو کہا کہ یہ ممبئی بی جے پی کی مہم ‘آواز ممبئی کرناچا، سنکلپ بھجپچا’ کے لیے ایک کارنامہ ہے، جس میں شہریوں کے مشورے لیے گئے جن کی وہ عوامی نمائندوں سے بی ایم سی انتخابات سے قبل توقع کرتے ہیں۔ “یہ تجویز ممبئی بی جے پی کی مہم ‘آواز ممبئی کرانچا، سنکلپ بھجپچا’ سے سامنے آئی ہے، جس میں ممبئی بھر کے شہریوں کی جانب سے 2.65 لاکھ سے زیادہ تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ قابل ذکر تعاون کرنے والوں میں اداکار اکشے کمار بھی شامل ہیں، جنہوں نے مقامی محلوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر صفائی کے مقابلے منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ شہر کی ترقی اور معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے ممبئی والوں کی جانب سے تعمیری تجاویز، ستم نے کہا۔ “اداکار اکشے کمار کے ساتھ میری بات چیت کے دوران، انہوں نے پڑوس کی سطح پر صفائی کے مقابلے منعقد کرنے کا مشورہ دیا۔ ہمیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مقابلہ، جس کا عنوان ہے ‘ممبئی کلین لیگ’ – ایک نام جو خود اکشے کمار نے تیار کیا ہے – انہیں برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر کام کرتے ہوئے دیکھیں گے،” ایم ایل اے نے مزید کہا۔ اکشے کمار جو منگل کی صبح لانچ کے لیے بی ایم سی ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے، نے کہا، “ممبئی چھوٹا شہر ہے لیکن توانائی سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں 1.5 کروڑ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں سب خوشی سے اور حفظان صحت کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں۔ میں نے مشورہ دیا تھا کہ ہم کھیلوں کا دن، تعلیم کا دن ہے جہاں سب اکٹھے ہوں اور حصہ لیں، ہم کلینین لیگ اور ممبئی کے لوگوں کا مالیاتی حصہ بن سکتے ہیں۔ گورننس پر بڑا اثر پڑے گا۔” اس اقدام سے شہریوں کے درمیان شہری ذمہ داری کو فروغ دیتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مقابلہ پیدا ہونے کی امید ہے۔ صفائی مہم کا مقصد شہری نظم و نسق میں شہریوں کی شرکت کو بڑھانا ہے اور اس سے سوچھ بھارت مشن میں میٹرو پولس کی درجہ بندی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان