جرم
شرجیل امام : میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں

جنوری کی پانچ تاریخ کو جے این یو میں نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ تشدد اور دہلی پولس کی شرمناک خاموشی سے ناراض ممبئی اور مہاراشٹر کے نوجوانوں اور طلبہ نے اسی رات گیٹ وے پر جمع ہونے کی اپیل کی وہ جے این یو کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ اسی احتجاج میں ایک لڑکی جس کا نام مہک پربھو تھا فری کشمیر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نظر آئی۔ یہ کسی کو نظر آئے یا نہیں آئے مگر بی جے پی کیلئے یہ موقعہ غنیمت تھا چنانچہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور تفتیش شروع ہوگئی مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کے پیچھے اس کا مقصد کشمیر میں عوام کو ہورہی دشواری پر احتجاج کرنا تھا جسے سب نے تسلیم کرلیا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ شرجیل امام پر ملک سے غداری کے مقدمہ کے بعد گرفتاری کا ہے۔ واضح ہو کہ اس نوجوان نے علی گڑھ میں احتجاج کے دوران یہ کہا تھا کہ احتجاج کو موثر بنانے کیلئے ہمیں پورے ملک میں چکہ جام جیسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی جس میں اس نے شمال مشرق کی ریاست کو باقی ہندوستان سے کاٹ دینے یعنی رابطہ ایک لمبے عرصہ تک منقطع کرنے کی بات کی تھی تاکہ حکومت مجبور ہو کر مسلمانوں کی بات سنے۔ اس تقریر میں جو کاٹ دینے کی بات تھی اس کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دی گئی اور اس کی یا اس کے والدین کی جانب سے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وجہ بالکل صاف ہے کہ فری کشمیر کا پوسٹر اٹھانے والی ہندو لڑکی تھی اس لئے وہ قابل معافی ہے یا قابل گرفت نہیں ہے مگر شرجیل امام ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہے اس لئے اس کی جانب سے کسی وضاحت کو تسلیم نہیں کرنے کا رجحان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پرکشمیر کے معاملہ میں جواہر لال نہرو کی حکومت میں ہی شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کوپیش کیا جاسکتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ شرجیل امام کی حمایت میں آزاد میدان میں نعرہ لگانے والوں پر ایف آئی آر ہوجاتی ہے اور اس میں شامل ایک طالبہ کی گرفتاری کیخلاف پولس کوشاں ہوجاتی ہے مگر وہ نظروں سے بچ کر ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کچھ دن قبل شرجیل امام کی حمایت میں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا جس میں شرجیل سے اظہار یکجہتی اور اس کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ اس میں ایک ٹوئٹر پر شرجیل کی ایک تصویر نظر آئی جس میں وہ ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے ہے جس پر ہاتھ سے انگریزی میں ایک تحریرہے جس کا اردوترجمہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘ہے۔ بہت مختصر جملہ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں جامع ہے۔ یہ آج کے ہر مسلم نوجوان کی آواز ہے۔ خواہ کسی سازش کے تحت اسے کچھ بھی سمجھ لیا جائے۔ شرجیل کا شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹ دینے کا مطلب مہک پربھو کے فری کشمیر سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ شرجیل امام ایک آمادہ زوال قوم کا نوجوان ہے جو قوم کے حالات سے رنجیدہ ہے۔ وہ جسقدر ہندوانتہا پسندوں سے نالاں ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نام نہاد سیکولر لبرل طبقہ سے بے اعتمادی کا اظہار کرتاہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے اسی تقریر میں یہ کہا کہ یہ لوگ اپنی مارکیٹنگ کریں گے اور چلے جائیں گے ۔ ہمیں اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہوگی۔ اجیت ساہی بھی نام نہاد سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں مسلمان، مسلمان بن کر ہی رہے گا یہی اس کی پہچان ہے‘۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کا زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اس ملک کی تہذیب و ثقافت میں اپنی پہچان ختم کرلیں۔ اسی لئے ششی تھرور کو موجودہ احتجاج میں مسلم شناخت اور اسلامی نعرے شدت پسندی یا مذہبی بنیاد پرستی نظر آتے ہیں۔
ہمیں شرجیل امام کے معاملہ میں سیکولر اور لبرل طبقہ سے شکایت ہے کہ اس نے شرجیل کو تنہا چھوڑ دیا۔ مگر ہم نے کون سا اس کا ساتھ دیا؟ ہم نے آخر کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا؟ اس کے پیچھے محض خوف کی نفسیات اور مجرم ضمیری کے سوا کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کی حمایت میں کچھ بولا تو ملک کے غدار ٹھہرائے جائیں گے اور مقدموں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر آپ کب تک خود کو مشکلات سے بچا پائیں گے؟ جب تک آپ پورے طور سے یہاں کی تہذیب و ثقافت میں شامل ہو کر اپنی شناخت ختم نہ کرلیں۔ شرجیل امام کا مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا وہ بیدار مسلم نوجوان ہے جو اپنی شناخت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہے کہ اس کی قوم بھی ایک غیور قوم کی طرح ہندوستان میں سر اٹھاکے رہے۔ شرجیل کے سامنے اس کے قوم کی شاندار روایتیں ہیں جسے قوم اور قوم کے جبہ و دستار سے سجی قیادت بھلا چکی ہے۔ شرجیل کے سامنے اسلام کی وہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات ہیں جو حقوق انسانی کی پوری ضمانت دیتا ہے۔ وہ اس اسلام کو مانتا ہے جس نے موجودہ دنیا کو حقوق انسانی اور انسانی قدریں کیا ہوتی ہیں اس سے روسناش کرایا جبکہ شرجیل امام پر تنقید کرنے والے افراد کا یہ نظریہ کمزور ہو چکاہے۔
ہمیں سازشوں کی باتیں اتنی بتائی گئی ہیں کہ ہم زمینی حقائق اور فطری جذبہ کو بھی دشمن کی سازش قرار دینے لگے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ شرجیل امام کا موجودہ تحریک کے دوران اس قسم کی تقریر کرنا دراصل ایک سازش ہے اور اسے دشمن نے ہمارے درمیان پلانٹ کیا ہے۔ یقین جانئے یہ صرف خوف کی انتہا ہے جس کا اظہار ہماری زبان سے اس انداز سے ہوتا ہے۔ شرجیل کا یہ جملہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘وضاحت کیلئے کافی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر کے سوا کیا کیا۔اس کے صبر کی انتہا تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس کی مسجد کو مندر کے حوالہ کرنے کے فیصلہ پر اشتعال میں نہیں آنا ہے ۔مگر جب اس کی شہریت کو ختم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تو وہ بے چین ہوگیا۔ دنیا میں کون ہے جو بے زمین ہونے کی کیفیت کا احساس کرکے بے چین نہیں ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبہ کیخلاف بھی مسلمانوں کو ہی میدان میں آنا پڑا اور پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر کی زینت اور صنف نازک کو بھی باہر آکر موسم کی سختی اور متعصب دنیا کی بدزبانی کو سہنا پڑا۔ اس سے ہمدردی اور بڑی بڑی باتیں تو بہت کی گئیں مگر میدان میں صرف مسلمانوں کو ہی نکلنا پڑا اور بیس سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ آج بھی حالات یہ ہے کہ میدان میں وہی نظر آرہا ہے۔ ٹھیک ہی کہا تھا شرجیل نے کہ مسلمانوں کو ان کی جنگ خود ہی لڑنی ہوگی۔شرجیل امام کے تعلق سے ابھی مزید کئی باتیں عرض کرنا باقی ہیں جو آئندہ کسی مضمون میں پیش کی جائے گی۔ یہاں سیکولر اور لبرل طبقہ کی ایک مثال دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ بہار کے سید شہاب الدین برسوں سے جیل میں ہیں تقریبا دو سال قبل انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تو پرشانت بھوشن جو کہ ایک سیکولر شخص مانے جاتے ہیں نے سپریم کورٹ میں مداخلت کرکے سید شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرواکر انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا۔ مگر یہی پرشانت بھوشن اس وقت خاموش رہے جب دہشت گردی کے بدترین الزام کے باوجود سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت مل جاتی ہےاور وہ رہا بھی ہوجاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ سیکولر یا روادار طبقہ کو ساتھ نہ لیا جائے یا ان کے ساتھ نہ جایا جائے۔ صرف اتنا کیا جائے کہ ان پر پوری طرح سےتکیہ نہ کیا جائے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے اور اسی تناظر میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور پالیسی بنائی جائے۔ ایک صدی قبل خلافت تحریک کو گاندھی جی کے کاندھوں پر ڈال کر جو نقصان ہم کو ہو چکا ہے اس کا اعادہ نہ ہو۔
بین الاقوامی خبریں
اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔
دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”
اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔
جرم
پونے : لڑکی میوری ڈانگڈے نے اپنے دولہے ساگر جے سنگھ کدم پر حملہ کیا، شادی سے پہلے دولہے کو مارنے کا دیا ٹھیکہ

پونے : اہلیہ نگر کی ایک لڑکی کی شادی 12 مارچ کو طے ہے۔ دونوں کی ملاقات ہوئی۔ لڑکے کے گھر والوں نے اسے روک دیا۔ پھر دونوں کی منگنی ہوگئی اور پری ویڈنگ شوٹ بھی خوبصورت جگہوں پر ہوا۔ اب شادی کی تیاریاں زوروں پر ہونے لگیں۔ اس دوران دولہا پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا گیا۔ اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ معاملہ پولیس تک پہنچا اور جو انکشاف ہوا سب کو چونکا دیا۔ ہونے والے دولہے پر اس کی ہونے والی دلہن نے حملہ کیا۔ اس نے نوجوان کو مارنے کے لیے حملے کا حکم دیا تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گیا۔ اس سازش میں لڑکی کا 40 سالہ بوائے فرینڈ بھی شامل تھا۔
پولیس نے بتایا کہ دلہن کا نام میوری ڈانگڈے (20) ہے۔ اس کی شادی ساگر جے سنگھ کدم کے ساتھ طے ہوئی تھی۔ وہ بنیر میں ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں باورچی کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 فروری کو ساگر نے لڑکی کو کھمگاؤں گاؤں کے قریب اس کے رشتہ دار کے گھر چھوڑ دیا۔ ساگر پر اسی راستے سے حملہ کیا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے ساگر کو بری طرح مارا۔ اسے شدید چوٹیں آئیں اور اسے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ساگر کدم نے یکم مارچ کو یاوت پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں اس نے کہا کہ حملہ آوروں میں سے ایک نے دوسرے لوگوں سے اس کی ٹانگیں توڑنے کو کہا تاکہ وہ شادی میں شرکت نہ کرسکے۔ ساگر نے یہ بھی کہا کہ انہیں 21 اور 22 فروری کو ایک نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہوئیں۔
پولیس نے ابتدائی طور پر تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ 118 (جان بوجھ کر شدید چوٹ پہنچانا)، 351 (مجرمانہ دھمکی) اور 352 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔ یاوتمال پولیس کی ایک ٹیم نے 28 مارچ کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی جانچ کی مدد سے حملہ آوروں میں سے ایک کا سراغ لگایا۔ یاوت پولیس کے اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہیش مانے نے بتایا کہ گرفتار نوجوان (19 سال) لڑکی کا کزن ہے۔ اس نے ساری سازش بتائی اور چار اور لوگوں کے نام بتائے۔ جس میں لڑکی کا عاشق (40 سال) بھی شامل ہے، جو اہلیہ نگر کے شری گونڈہ میں ایک گیراج کا مالک ہے۔ اسے دو دن کے اندر حراست میں لے لیا گیا۔ خاتون (23 سال) ابھی تک مفرور ہے۔
مانے نے کہا کہ لڑکی اور قدم نے 21 فروری کو ساسواڑ کے قریب شادی سے پہلے کا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ لڑکی نے قدم سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بتائے کہ وہ شادی کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن کدم نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اور اس کے عاشق نے قدم کو ختم کرنے کی سازش رچی۔ اہلکار نے بتایا کہ قدم کی منگیتر نے 27 فروری کو ان سے رابطہ کیا اور پونے میں فلم دیکھنے کے لیے اس کے ساتھ جانے کو کہا۔ نوجوان نے موٹر سائیکل پر یاوت کے قریب کھامگاؤں میں اپنے رشتہ دار کے گھر اٹھایا اور پونے میں فلم دیکھی۔ اس نے اسے شام 7.30 بجے کے قریب کھامگاؤں میں واپس چھوڑ دیا۔
جب قدم پونے واپس آ رہے تھے تو ایک کار میں سوار چار آدمیوں نے اسے زبردستی روکا۔ انہوں نے اسے لاٹھیوں سے مارا اور پھر دھمکی دی کہ اگر اس نے عورت سے شادی کی تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ خاتون اور اس کے عاشق نے ضلع اہلیانگر کے تین مردوں کو نوکری پر رکھا تھا۔ خاتون کا کزن بھی ساتھ تھا۔ خاتون اور اس کے عاشق نے اسے 1.25 لاکھ روپے ایڈوانس دیے تھے۔
جرم
بابا صدیق قتل کیس : این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا

ممبئی : مرحوم این سی پی لیڈر بابا صدیق کی اہلیہ شہزین نے خصوصی مکوکا عدالت سے رجوع کیا ہے، اور التجا کی ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اس کا خاندان ملزم کے فعل کا حتمی شکار ہے۔ چونکہ عدالت نے ابھی مقدمے کی سماعت شروع کرنا ہے، بابا کی اہلیہ شہزین نے جمعہ کو اپنے وکیل تروین کمار کرنانی کے ذریعے ایک درخواست جمع کرائی ہے، جس میں اسے مقدمے کی سماعت کے لیے استغاثہ میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس نے استدعا کی کہ ملزمان نے مقتول کا پہلے سے منصوبہ بند اور سوچے سمجھے طریقے سے سرد خون، بہیمانہ قتل کیا ہے۔ شہزین نے اپنی درخواست میں کہا، “اسے ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اور یہ کہ مداخلت کرنے والے کے لیے سچے اور درست حقائق کو ریکارڈ پر رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ اس عدالت کو معاملے میں آزادانہ اور منصفانہ نتیجے پر پہنچنے میں مدد ملے،” شہزین نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ کئی اہم پہلو ہیں جن کے لیے مناسب وزن کی ضرورت ہے۔
درخواست میں متاثرہ کے سننے کے حق پر زور دیا گیا ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے متعدد درخواستوں میں رکھا ہے۔ “یہ خیال کیا گیا ہے کہ متاثرہ فرد جرم کا حقیقی طور پر شکار ہوا ہے۔ جرم کی روک تھام اور سزا دینے کے لئے فوجداری انصاف کی فراہمی کے اخلاق کو شکار کی طرف سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ متاثرین کے سننے اور مجرمانہ کارروائی میں حصہ لینے کے حقوق کے حوالے سے فقہ مثبت طور پر تیار ہونا شروع ہوئی ہے”۔66 سالہ صدیق کو 12 اکتوبر 2014 کو باندرہ میں ان کے بیٹے ذیشان صدیق کے دفتر کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔ بشنوئی کے گینگ کے مبینہ طور پر تین حملہ آوروں نے اس کار پر فائرنگ کی جہاں بابا دفتر سے نکلنے کے لیے بیٹھا تھا۔ جیسے ہی وہ کار میں آیا، ملزم نے اس پر گولی چلا دی، جس سے اس کے گارڈز کو رد عمل کا اظہار کرنے کی کوئی جگہ نہیں ملی۔ تاہم حملہ آور فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔
پولیس اب تک قتل کے الزام میں 26 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔ ممبئی پولیس نے دسمبر میں این سی پی لیڈر کے قتل میں ملوث 26 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی تھی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ قتل کا حکم بشنوئی نے دیا تھا، جو اس گروہ کا سربراہ ہے۔اپنی چارج شیٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات سے پتہ چلا کہ گینگ کے ارکان بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے خلاف نفرت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، صدیق اداکار کے بہت قریب تھا، اور اس کے علاوہ، گینگ دہشت گردی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا. صدیق کے قتل کی سازش کے پیچھے یہی بنیادی محرکات تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا