جرم
شرجیل امام : میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں
جنوری کی پانچ تاریخ کو جے این یو میں نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ تشدد اور دہلی پولس کی شرمناک خاموشی سے ناراض ممبئی اور مہاراشٹر کے نوجوانوں اور طلبہ نے اسی رات گیٹ وے پر جمع ہونے کی اپیل کی وہ جے این یو کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ اسی احتجاج میں ایک لڑکی جس کا نام مہک پربھو تھا فری کشمیر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نظر آئی۔ یہ کسی کو نظر آئے یا نہیں آئے مگر بی جے پی کیلئے یہ موقعہ غنیمت تھا چنانچہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور تفتیش شروع ہوگئی مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کے پیچھے اس کا مقصد کشمیر میں عوام کو ہورہی دشواری پر احتجاج کرنا تھا جسے سب نے تسلیم کرلیا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ شرجیل امام پر ملک سے غداری کے مقدمہ کے بعد گرفتاری کا ہے۔ واضح ہو کہ اس نوجوان نے علی گڑھ میں احتجاج کے دوران یہ کہا تھا کہ احتجاج کو موثر بنانے کیلئے ہمیں پورے ملک میں چکہ جام جیسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی جس میں اس نے شمال مشرق کی ریاست کو باقی ہندوستان سے کاٹ دینے یعنی رابطہ ایک لمبے عرصہ تک منقطع کرنے کی بات کی تھی تاکہ حکومت مجبور ہو کر مسلمانوں کی بات سنے۔ اس تقریر میں جو کاٹ دینے کی بات تھی اس کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دی گئی اور اس کی یا اس کے والدین کی جانب سے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وجہ بالکل صاف ہے کہ فری کشمیر کا پوسٹر اٹھانے والی ہندو لڑکی تھی اس لئے وہ قابل معافی ہے یا قابل گرفت نہیں ہے مگر شرجیل امام ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہے اس لئے اس کی جانب سے کسی وضاحت کو تسلیم نہیں کرنے کا رجحان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پرکشمیر کے معاملہ میں جواہر لال نہرو کی حکومت میں ہی شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کوپیش کیا جاسکتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ شرجیل امام کی حمایت میں آزاد میدان میں نعرہ لگانے والوں پر ایف آئی آر ہوجاتی ہے اور اس میں شامل ایک طالبہ کی گرفتاری کیخلاف پولس کوشاں ہوجاتی ہے مگر وہ نظروں سے بچ کر ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کچھ دن قبل شرجیل امام کی حمایت میں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا جس میں شرجیل سے اظہار یکجہتی اور اس کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ اس میں ایک ٹوئٹر پر شرجیل کی ایک تصویر نظر آئی جس میں وہ ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے ہے جس پر ہاتھ سے انگریزی میں ایک تحریرہے جس کا اردوترجمہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘ہے۔ بہت مختصر جملہ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں جامع ہے۔ یہ آج کے ہر مسلم نوجوان کی آواز ہے۔ خواہ کسی سازش کے تحت اسے کچھ بھی سمجھ لیا جائے۔ شرجیل کا شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹ دینے کا مطلب مہک پربھو کے فری کشمیر سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ شرجیل امام ایک آمادہ زوال قوم کا نوجوان ہے جو قوم کے حالات سے رنجیدہ ہے۔ وہ جسقدر ہندوانتہا پسندوں سے نالاں ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نام نہاد سیکولر لبرل طبقہ سے بے اعتمادی کا اظہار کرتاہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے اسی تقریر میں یہ کہا کہ یہ لوگ اپنی مارکیٹنگ کریں گے اور چلے جائیں گے ۔ ہمیں اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہوگی۔ اجیت ساہی بھی نام نہاد سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں مسلمان، مسلمان بن کر ہی رہے گا یہی اس کی پہچان ہے‘۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کا زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اس ملک کی تہذیب و ثقافت میں اپنی پہچان ختم کرلیں۔ اسی لئے ششی تھرور کو موجودہ احتجاج میں مسلم شناخت اور اسلامی نعرے شدت پسندی یا مذہبی بنیاد پرستی نظر آتے ہیں۔
ہمیں شرجیل امام کے معاملہ میں سیکولر اور لبرل طبقہ سے شکایت ہے کہ اس نے شرجیل کو تنہا چھوڑ دیا۔ مگر ہم نے کون سا اس کا ساتھ دیا؟ ہم نے آخر کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا؟ اس کے پیچھے محض خوف کی نفسیات اور مجرم ضمیری کے سوا کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کی حمایت میں کچھ بولا تو ملک کے غدار ٹھہرائے جائیں گے اور مقدموں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر آپ کب تک خود کو مشکلات سے بچا پائیں گے؟ جب تک آپ پورے طور سے یہاں کی تہذیب و ثقافت میں شامل ہو کر اپنی شناخت ختم نہ کرلیں۔ شرجیل امام کا مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا وہ بیدار مسلم نوجوان ہے جو اپنی شناخت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہے کہ اس کی قوم بھی ایک غیور قوم کی طرح ہندوستان میں سر اٹھاکے رہے۔ شرجیل کے سامنے اس کے قوم کی شاندار روایتیں ہیں جسے قوم اور قوم کے جبہ و دستار سے سجی قیادت بھلا چکی ہے۔ شرجیل کے سامنے اسلام کی وہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات ہیں جو حقوق انسانی کی پوری ضمانت دیتا ہے۔ وہ اس اسلام کو مانتا ہے جس نے موجودہ دنیا کو حقوق انسانی اور انسانی قدریں کیا ہوتی ہیں اس سے روسناش کرایا جبکہ شرجیل امام پر تنقید کرنے والے افراد کا یہ نظریہ کمزور ہو چکاہے۔
ہمیں سازشوں کی باتیں اتنی بتائی گئی ہیں کہ ہم زمینی حقائق اور فطری جذبہ کو بھی دشمن کی سازش قرار دینے لگے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ شرجیل امام کا موجودہ تحریک کے دوران اس قسم کی تقریر کرنا دراصل ایک سازش ہے اور اسے دشمن نے ہمارے درمیان پلانٹ کیا ہے۔ یقین جانئے یہ صرف خوف کی انتہا ہے جس کا اظہار ہماری زبان سے اس انداز سے ہوتا ہے۔ شرجیل کا یہ جملہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘وضاحت کیلئے کافی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر کے سوا کیا کیا۔اس کے صبر کی انتہا تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس کی مسجد کو مندر کے حوالہ کرنے کے فیصلہ پر اشتعال میں نہیں آنا ہے ۔مگر جب اس کی شہریت کو ختم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تو وہ بے چین ہوگیا۔ دنیا میں کون ہے جو بے زمین ہونے کی کیفیت کا احساس کرکے بے چین نہیں ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبہ کیخلاف بھی مسلمانوں کو ہی میدان میں آنا پڑا اور پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر کی زینت اور صنف نازک کو بھی باہر آکر موسم کی سختی اور متعصب دنیا کی بدزبانی کو سہنا پڑا۔ اس سے ہمدردی اور بڑی بڑی باتیں تو بہت کی گئیں مگر میدان میں صرف مسلمانوں کو ہی نکلنا پڑا اور بیس سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ آج بھی حالات یہ ہے کہ میدان میں وہی نظر آرہا ہے۔ ٹھیک ہی کہا تھا شرجیل نے کہ مسلمانوں کو ان کی جنگ خود ہی لڑنی ہوگی۔شرجیل امام کے تعلق سے ابھی مزید کئی باتیں عرض کرنا باقی ہیں جو آئندہ کسی مضمون میں پیش کی جائے گی۔ یہاں سیکولر اور لبرل طبقہ کی ایک مثال دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ بہار کے سید شہاب الدین برسوں سے جیل میں ہیں تقریبا دو سال قبل انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تو پرشانت بھوشن جو کہ ایک سیکولر شخص مانے جاتے ہیں نے سپریم کورٹ میں مداخلت کرکے سید شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرواکر انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا۔ مگر یہی پرشانت بھوشن اس وقت خاموش رہے جب دہشت گردی کے بدترین الزام کے باوجود سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت مل جاتی ہےاور وہ رہا بھی ہوجاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ سیکولر یا روادار طبقہ کو ساتھ نہ لیا جائے یا ان کے ساتھ نہ جایا جائے۔ صرف اتنا کیا جائے کہ ان پر پوری طرح سےتکیہ نہ کیا جائے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے اور اسی تناظر میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور پالیسی بنائی جائے۔ ایک صدی قبل خلافت تحریک کو گاندھی جی کے کاندھوں پر ڈال کر جو نقصان ہم کو ہو چکا ہے اس کا اعادہ نہ ہو۔
جرم
جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔
ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔
بین الاقوامی خبریں
بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”
اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”
انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔
جرم
تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔
اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔
پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔
تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
