جرم
شرجیل امام : میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں
جنوری کی پانچ تاریخ کو جے این یو میں نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ تشدد اور دہلی پولس کی شرمناک خاموشی سے ناراض ممبئی اور مہاراشٹر کے نوجوانوں اور طلبہ نے اسی رات گیٹ وے پر جمع ہونے کی اپیل کی وہ جے این یو کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ اسی احتجاج میں ایک لڑکی جس کا نام مہک پربھو تھا فری کشمیر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نظر آئی۔ یہ کسی کو نظر آئے یا نہیں آئے مگر بی جے پی کیلئے یہ موقعہ غنیمت تھا چنانچہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور تفتیش شروع ہوگئی مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کے پیچھے اس کا مقصد کشمیر میں عوام کو ہورہی دشواری پر احتجاج کرنا تھا جسے سب نے تسلیم کرلیا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ شرجیل امام پر ملک سے غداری کے مقدمہ کے بعد گرفتاری کا ہے۔ واضح ہو کہ اس نوجوان نے علی گڑھ میں احتجاج کے دوران یہ کہا تھا کہ احتجاج کو موثر بنانے کیلئے ہمیں پورے ملک میں چکہ جام جیسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی جس میں اس نے شمال مشرق کی ریاست کو باقی ہندوستان سے کاٹ دینے یعنی رابطہ ایک لمبے عرصہ تک منقطع کرنے کی بات کی تھی تاکہ حکومت مجبور ہو کر مسلمانوں کی بات سنے۔ اس تقریر میں جو کاٹ دینے کی بات تھی اس کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دی گئی اور اس کی یا اس کے والدین کی جانب سے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وجہ بالکل صاف ہے کہ فری کشمیر کا پوسٹر اٹھانے والی ہندو لڑکی تھی اس لئے وہ قابل معافی ہے یا قابل گرفت نہیں ہے مگر شرجیل امام ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہے اس لئے اس کی جانب سے کسی وضاحت کو تسلیم نہیں کرنے کا رجحان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پرکشمیر کے معاملہ میں جواہر لال نہرو کی حکومت میں ہی شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کوپیش کیا جاسکتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ شرجیل امام کی حمایت میں آزاد میدان میں نعرہ لگانے والوں پر ایف آئی آر ہوجاتی ہے اور اس میں شامل ایک طالبہ کی گرفتاری کیخلاف پولس کوشاں ہوجاتی ہے مگر وہ نظروں سے بچ کر ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کچھ دن قبل شرجیل امام کی حمایت میں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا جس میں شرجیل سے اظہار یکجہتی اور اس کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ اس میں ایک ٹوئٹر پر شرجیل کی ایک تصویر نظر آئی جس میں وہ ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے ہے جس پر ہاتھ سے انگریزی میں ایک تحریرہے جس کا اردوترجمہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘ہے۔ بہت مختصر جملہ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں جامع ہے۔ یہ آج کے ہر مسلم نوجوان کی آواز ہے۔ خواہ کسی سازش کے تحت اسے کچھ بھی سمجھ لیا جائے۔ شرجیل کا شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹ دینے کا مطلب مہک پربھو کے فری کشمیر سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ شرجیل امام ایک آمادہ زوال قوم کا نوجوان ہے جو قوم کے حالات سے رنجیدہ ہے۔ وہ جسقدر ہندوانتہا پسندوں سے نالاں ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نام نہاد سیکولر لبرل طبقہ سے بے اعتمادی کا اظہار کرتاہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے اسی تقریر میں یہ کہا کہ یہ لوگ اپنی مارکیٹنگ کریں گے اور چلے جائیں گے ۔ ہمیں اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہوگی۔ اجیت ساہی بھی نام نہاد سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں مسلمان، مسلمان بن کر ہی رہے گا یہی اس کی پہچان ہے‘۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کا زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اس ملک کی تہذیب و ثقافت میں اپنی پہچان ختم کرلیں۔ اسی لئے ششی تھرور کو موجودہ احتجاج میں مسلم شناخت اور اسلامی نعرے شدت پسندی یا مذہبی بنیاد پرستی نظر آتے ہیں۔
ہمیں شرجیل امام کے معاملہ میں سیکولر اور لبرل طبقہ سے شکایت ہے کہ اس نے شرجیل کو تنہا چھوڑ دیا۔ مگر ہم نے کون سا اس کا ساتھ دیا؟ ہم نے آخر کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا؟ اس کے پیچھے محض خوف کی نفسیات اور مجرم ضمیری کے سوا کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کی حمایت میں کچھ بولا تو ملک کے غدار ٹھہرائے جائیں گے اور مقدموں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر آپ کب تک خود کو مشکلات سے بچا پائیں گے؟ جب تک آپ پورے طور سے یہاں کی تہذیب و ثقافت میں شامل ہو کر اپنی شناخت ختم نہ کرلیں۔ شرجیل امام کا مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا وہ بیدار مسلم نوجوان ہے جو اپنی شناخت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہے کہ اس کی قوم بھی ایک غیور قوم کی طرح ہندوستان میں سر اٹھاکے رہے۔ شرجیل کے سامنے اس کے قوم کی شاندار روایتیں ہیں جسے قوم اور قوم کے جبہ و دستار سے سجی قیادت بھلا چکی ہے۔ شرجیل کے سامنے اسلام کی وہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات ہیں جو حقوق انسانی کی پوری ضمانت دیتا ہے۔ وہ اس اسلام کو مانتا ہے جس نے موجودہ دنیا کو حقوق انسانی اور انسانی قدریں کیا ہوتی ہیں اس سے روسناش کرایا جبکہ شرجیل امام پر تنقید کرنے والے افراد کا یہ نظریہ کمزور ہو چکاہے۔
ہمیں سازشوں کی باتیں اتنی بتائی گئی ہیں کہ ہم زمینی حقائق اور فطری جذبہ کو بھی دشمن کی سازش قرار دینے لگے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ شرجیل امام کا موجودہ تحریک کے دوران اس قسم کی تقریر کرنا دراصل ایک سازش ہے اور اسے دشمن نے ہمارے درمیان پلانٹ کیا ہے۔ یقین جانئے یہ صرف خوف کی انتہا ہے جس کا اظہار ہماری زبان سے اس انداز سے ہوتا ہے۔ شرجیل کا یہ جملہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘وضاحت کیلئے کافی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر کے سوا کیا کیا۔اس کے صبر کی انتہا تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس کی مسجد کو مندر کے حوالہ کرنے کے فیصلہ پر اشتعال میں نہیں آنا ہے ۔مگر جب اس کی شہریت کو ختم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تو وہ بے چین ہوگیا۔ دنیا میں کون ہے جو بے زمین ہونے کی کیفیت کا احساس کرکے بے چین نہیں ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبہ کیخلاف بھی مسلمانوں کو ہی میدان میں آنا پڑا اور پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر کی زینت اور صنف نازک کو بھی باہر آکر موسم کی سختی اور متعصب دنیا کی بدزبانی کو سہنا پڑا۔ اس سے ہمدردی اور بڑی بڑی باتیں تو بہت کی گئیں مگر میدان میں صرف مسلمانوں کو ہی نکلنا پڑا اور بیس سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ آج بھی حالات یہ ہے کہ میدان میں وہی نظر آرہا ہے۔ ٹھیک ہی کہا تھا شرجیل نے کہ مسلمانوں کو ان کی جنگ خود ہی لڑنی ہوگی۔شرجیل امام کے تعلق سے ابھی مزید کئی باتیں عرض کرنا باقی ہیں جو آئندہ کسی مضمون میں پیش کی جائے گی۔ یہاں سیکولر اور لبرل طبقہ کی ایک مثال دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ بہار کے سید شہاب الدین برسوں سے جیل میں ہیں تقریبا دو سال قبل انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تو پرشانت بھوشن جو کہ ایک سیکولر شخص مانے جاتے ہیں نے سپریم کورٹ میں مداخلت کرکے سید شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرواکر انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا۔ مگر یہی پرشانت بھوشن اس وقت خاموش رہے جب دہشت گردی کے بدترین الزام کے باوجود سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت مل جاتی ہےاور وہ رہا بھی ہوجاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ سیکولر یا روادار طبقہ کو ساتھ نہ لیا جائے یا ان کے ساتھ نہ جایا جائے۔ صرف اتنا کیا جائے کہ ان پر پوری طرح سےتکیہ نہ کیا جائے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے اور اسی تناظر میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور پالیسی بنائی جائے۔ ایک صدی قبل خلافت تحریک کو گاندھی جی کے کاندھوں پر ڈال کر جو نقصان ہم کو ہو چکا ہے اس کا اعادہ نہ ہو۔
جرم
دہلی پولیس نے بینک اکاؤنٹ کی نقالی کرنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا، دو ملزمان گرفتار اور ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے اثاثے ضبط

نئی دہلی : دہلی پولیس کے سنٹرل ڈسٹرکٹ نے بینک کھاتہ داروں کی نقالی کرنے میں ملوث ایک سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے اور دو ملزمین کو 22.56 لاکھ روپے کے بینک حکام کو دھوکہ دہی والے ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (آر ٹی جی ایس) ہدایات کے ذریعے گرفتار کیا ہے، حکام نے جمعرات کو بتایا۔ تقریباً 2.50 کروڑ روپے کے اثاثے بشمول سونے کے زیورات، سونے کے 101 سکے، نقدی اور ایک ایس یو وی، موجودہ اور منسلک معاملات میں ضبط کیے گئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں سے ایک اشتہاری مجرم بھی پایا گیا جو جعلی کرنسی کے کیس میں سات سال سے زیادہ عرصے سے مفرور تھا۔ یہ معاملہ بینک آف انڈیا کے برانچ منیجر راجیندر پلیس، نئی دہلی کی طرف سے دائر کی گئی شکایت سے شروع ہوا ہے۔ 5 اگست کو، دیپک ملہوترا کی نقالی کرنے والے ایک شخص نے، برانچ میں اکاؤنٹس رکھنے والی متعدد کارپوریٹ اداروں سے منسلک ایک ڈائریکٹر، بینک حکام سے رابطہ کیا۔
پولیس کے مطابق، کال کرنے والے نے ابتدائی طور پر حکام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ رسید (ایف ڈی آر) بنانے پر بات کی۔ بعد میں اس نے ان سے رابطہ کیا، یہ دعویٰ کیا کہ کمپنی کو ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کی چیک بک ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ای میل کے ذریعے لین دین پر کارروائی کی جائے۔ ملزم نے کمپنی کے رجسٹرڈ ایڈریس سے ملتے جلتے ای میل آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے جعلی ادائیگی کی درخواست بھیجی۔ ای میل، جس میں کمپنی کا جعلی لیٹر ہیڈ تھا، بینک کو 22,56,922 روپے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
جب بینک حکام نے لازمی معاوضے کی دستاویزات طلب کیں، تو کال کرنے والے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا کہ اسی طرح کے لین دین پر پہلے عمل کیا گیا تھا اور ادائیگی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں بینک نے دھوکہ دہی والے آر ٹی جی ایس ٹرانسفر پر کارروائی کی۔ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت وسطی ضلع کے سائبر پولیس اسٹیشن میں ای ایف آئی آر درج کی گئی۔ تفتیش کے دوران، پولیس نے دھوکہ دہی کی رقم کو مغربی بنگال میں بندھن بینک کے ساتھ رکھے ہوئے ایک خچر بینک اکاؤنٹ سے ٹریس کیا۔ ٹیلی کام ریکارڈز، ڈیجیٹل شواہد اور مواصلاتی تفصیلات کے تکنیکی تجزیہ نے تفتیش کاروں کو مشتبہ افراد کی شناخت میں مدد کی۔ سب انسپکٹر کملیش کمار کی قیادت میں ایک پولیس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کیا، جن کی شناخت غازی آباد، اتر پردیش کے لونی کے رہنے والے 36 سالہ ونے کمار یادو اور نوئیڈا کے رہنے والے 65 سالہ انیل کمار سہگل کے طور پر ہوئی ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزمان نے کارپوریٹ بینک ٹرانزیکشنز کو نشانہ بنانے کے لیے جعلی کمپنی کے لیٹر ہیڈز، دھوکہ دہی والی ای میل آئی ڈی، سوشل انجینئرنگ اور خچر اکاؤنٹس کا استعمال کیا۔ بعد میں اس رقم کو مغربی بنگال کے ایک جیولر سے خریدا گیا سونا سمیت دیگر اثاثوں میں موڑ دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ دونوں ملزمین غازی آباد، سہارنپور، ایودھیا اور فرید آباد سمیت کئی مقامات پر مالی فراڈ کے مقدمات میں سابقہ مجرمانہ ملوث تھے۔ وہ مبینہ طور پر جیل میں رہتے ہوئے واقف ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ چیک سے متعلق فراڈ سے منسلک رہے تھے جس میں نام نہاد جادوئی قلم شامل تھے۔ گرفتاریوں نے پولیس کو گروگرام، پلوال اور دہلی میں درج کیے گئے اسی طرح کے چھ کیسوں پر کام کرنے میں بھی مدد کی ہے، جس میں 16.65 لاکھ روپے سے لے کر 2.98 کروڑ روپے تک کی دھوکہ دہی کی رقم کے ساتھ ساتھ 88 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کی کوشش بھی شامل ہے۔
جرم
بنگال میں زمین چوری کیس : ابھیشیک بنرجی کے معاون کو اب گرفتار ظاہر کیا گیا

کولکاتہ : ترنمول کانگریس کے لوک سبھا ممبر ابھیشیک بنرجی کے ایگزیکٹیو اسسٹنٹ سمیت رائے کو بدھ کے روز ڈائمنڈ ڈسٹرکٹ پولیس نے مٹی چوری کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ رائے اس سال 10 ستمبر کو مغربی بنگال کے مغربی مدنا پور ضلع کے سالبونی میں کروڑوں روپے کے غیر قانونی زمین پر قبضے کے معاملے میں مغربی بنگال پولیس کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے اہلکاروں کے ذریعہ گرفتار کیے جانے کے بعد پہلے ہی عدالتی تحویل میں ہے۔ ڈائمنڈ ہاربر پولیس نے اسے ایک نئے کیس میں گرفتار ظاہر کرنے کے بعد، سیاسی مبصرین محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی باس دونوں پر اضافی دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ رائے کو ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے اسی پولس ضلع کے تحت کالیتلا-آشوتی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف درج ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار دکھایا گیا تھا، جہاں اس پر 400 کروڑ روپے کی مٹی کی چوری میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
“رائے کو بدھ کے روز کولکتہ کی ایک نچلی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جس میں اسے تحویل میں لینے کی درخواست کی گئی تھی۔ وہ پہلے سے ہی سالبونی اراضی بدعنوانی کے معاملے میں عدالتی تحویل میں ہے۔ اس کی تفتیش جاری ہے۔ اس لیے ڈائمنڈ ہاربر پولیس ڈسٹرکٹ نے اسے قواعد کے مطابق مٹی کی چوری کے معاملے میں گرفتار ظاہر کیا ہے اور اس کی تحویل کی درخواست کی ہے،” ایک ضلعی پولیس افسر نے بتایا۔ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں پولیس نے سب سے پہلے ترنمول کانگریس کے سابق رکن اسمبلی سوجے ہزارا کو گرفتار کیا تھا۔ ہزارہ سے تفتیش کے دوران اس کیس کے سلسلے میں رائے کا نام سامنے آیا، جس کے بعد سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے اسے متعدد بار پوچھ گچھ کے بعد 10 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں سی آئی ڈی کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں جانچ ایجنسی نے اس بات کی تفصیلات دی تھیں کہ سالبونی غیر قانونی زمین پر قبضہ کیس میں رقم رائے کے دفتر تک کیسے پہنچی۔ اس تفتیش کے درمیان، اسے ڈائمنڈ ہاربر ڈسٹرکٹ پولیس نے ایک اور کیس میں گرفتار ظاہر کیا تھا۔
جرم
جموں و کشمیر پولیس نے جموں میں ریلوے میں ملازمت دلانے کے نام پر 4 کروڑ 10 لاکھ روپے کے فراڈ کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا

جموں : جموں و کشمیر پولیس ضلع نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے 4.10 کروڑ روپے کے ریلوے نوکری کے فراڈ کیس میں مرکزی ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریلویز میں نوکریوں اور ٹینڈر کا وعدہ کرکے اور شمالی ریلوے کو پینے کے پانی کی بوتلوں کی فراہمی کے لیے کیے گئے دھوکہ دہی کے مرکزی ملزم کو منگل کو جموں میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے کہا، “اب جرم میں ملوث دیگر مشتبہ افراد کی شناخت، سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔” دھوکہ دہی کے سلسلے میں جموں کے چنی ہمت پولیس اسٹیشن میں حال ہی میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران مرکزی ملزم کی شناخت اور گرفتار کیا گیا ہے، جو اس وقت عدالتی تحویل میں ہے۔ تحقیقات میں ملوث پورے نیٹ ورک کی شناخت، مالی لین دین کا پتہ لگانے اور فراڈ سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کو قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔”
جاری تفتیش کے پیش نظر، رازداری کو برقرار رکھنے اور تفتیش کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ملوث افراد کی شناخت مخفی رکھی جا رہی ہے۔ ملزمان نے ریلوے بورڈ کی بھرتی کے عمل کے ذریعے نوکریوں کا جھوٹا وعدہ کرکے اور ناردرن ریلوے کو پینے کے پانی کی بوتلوں کے لیے جعلی سپلائی ٹینڈرز کا بندوبست کرکے متاثرین سے تقریباً 4.10 کروڑ روپے کا دھوکہ دیا۔ اسی طرح کی ایک اور دھوکہ دہی میں جموں کی کرائم برانچ نے جولائی میں بارہمولہ سے عبدالرزاق تانترے کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ملزم نے شکایت کنندہ سے محکمہ ریلوے میں نوکری کا وعدہ کرکے رقم (نقدی اور بینک ٹرانسفر کے ذریعے) جمع کی، جعلی دستاویزات جیسے رول نمبر سلپ اور جعلی صداقت کی رسید فراہم کی۔ اس معاملے کی کرائم برانچ جموں کی طرف سے سرگرم تفتیش ہے۔
بڈگام ضلع میں 2025 میں ایک اور گھوٹالے میں، کرائم برانچ کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) نے ایف آئی آر نمبر 08/2025 میں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، بیرواہ، بڈگام کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی۔ ملزمین جن میں عبدالحمید شیخ (بیرواہ)، عادل شاہ (سرینگر/زیوان) اور مفتی غلام حسن کمار (سوپور/بیرواہ) شامل ہیں، نے ریلوے کی ملازمتوں کے لیے جعلی تقرری لیٹر جاری کیے تھے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ شکایت کنندگان میں سے ایک (مفتی غلام حسن کمار) بھی دوسرے متاثرین سے جعلی نوکری کے آرڈر کے ذریعے رقم بٹورنے میں سرگرم تھا۔ 8 فروری 2025 کو، سی بی آئی نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی اور کونکن ریلوے کے چیف انجینئر سومیت کھجوریا کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کیا۔ چیف انجینئر جموں و کشمیر میں اسٹریٹجک یو ایس بی آر ایل پروجیکٹ سے وابستہ تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
