جرم
شرجیل امام : میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں
جنوری کی پانچ تاریخ کو جے این یو میں نقاب پوش بدمعاشوں کے ذریعہ تشدد اور دہلی پولس کی شرمناک خاموشی سے ناراض ممبئی اور مہاراشٹر کے نوجوانوں اور طلبہ نے اسی رات گیٹ وے پر جمع ہونے کی اپیل کی وہ جے این یو کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے تھے۔ اسی احتجاج میں ایک لڑکی جس کا نام مہک پربھو تھا فری کشمیر کا پوسٹر اٹھائے ہوئے نظر آئی۔ یہ کسی کو نظر آئے یا نہیں آئے مگر بی جے پی کیلئے یہ موقعہ غنیمت تھا چنانچہ سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس کی تصویر شیئر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ اس کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ہوئی اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور تفتیش شروع ہوگئی مگر اس سے پہلے ہی اس لڑکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس کے پیچھے اس کا مقصد کشمیر میں عوام کو ہورہی دشواری پر احتجاج کرنا تھا جسے سب نے تسلیم کرلیا۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ شرجیل امام پر ملک سے غداری کے مقدمہ کے بعد گرفتاری کا ہے۔ واضح ہو کہ اس نوجوان نے علی گڑھ میں احتجاج کے دوران یہ کہا تھا کہ احتجاج کو موثر بنانے کیلئے ہمیں پورے ملک میں چکہ جام جیسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی جس میں اس نے شمال مشرق کی ریاست کو باقی ہندوستان سے کاٹ دینے یعنی رابطہ ایک لمبے عرصہ تک منقطع کرنے کی بات کی تھی تاکہ حکومت مجبور ہو کر مسلمانوں کی بات سنے۔ اس تقریر میں جو کاٹ دینے کی بات تھی اس کو علیحدگی پسندی سے تعبیر دی گئی اور اس کی یا اس کے والدین کی جانب سے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ وجہ بالکل صاف ہے کہ فری کشمیر کا پوسٹر اٹھانے والی ہندو لڑکی تھی اس لئے وہ قابل معافی ہے یا قابل گرفت نہیں ہے مگر شرجیل امام ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان ہے اس لئے اس کی جانب سے کسی وضاحت کو تسلیم نہیں کرنے کا رجحان ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی ہے۔اس کے ثبوت کے طور پرکشمیر کے معاملہ میں جواہر لال نہرو کی حکومت میں ہی شیخ عبد اللہ کی گرفتاری کوپیش کیا جاسکتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ شرجیل امام کی حمایت میں آزاد میدان میں نعرہ لگانے والوں پر ایف آئی آر ہوجاتی ہے اور اس میں شامل ایک طالبہ کی گرفتاری کیخلاف پولس کوشاں ہوجاتی ہے مگر وہ نظروں سے بچ کر ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
کچھ دن قبل شرجیل امام کی حمایت میں کچھ نوجوانوں کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ چلایا گیا جس میں شرجیل سے اظہار یکجہتی اور اس کی رہائی کا مطالبہ شامل تھا۔ اس میں ایک ٹوئٹر پر شرجیل کی ایک تصویر نظر آئی جس میں وہ ایک پوسٹر اٹھائے ہوئے ہے جس پر ہاتھ سے انگریزی میں ایک تحریرہے جس کا اردوترجمہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘ہے۔ بہت مختصر جملہ لیکن ہندوستانی مسلمانوں کے تناظر میں جامع ہے۔ یہ آج کے ہر مسلم نوجوان کی آواز ہے۔ خواہ کسی سازش کے تحت اسے کچھ بھی سمجھ لیا جائے۔ شرجیل کا شمال مشرق کی ریاستوں کو بقیہ ہندوستان سے کاٹ دینے کا مطلب مہک پربھو کے فری کشمیر سے بالکل بھی مختلف نہیں ہے۔ مگر اس کو کیا کیجئے کہ شرجیل امام ایک آمادہ زوال قوم کا نوجوان ہے جو قوم کے حالات سے رنجیدہ ہے۔ وہ جسقدر ہندوانتہا پسندوں سے نالاں ہے اس سے کہیں زیادہ وہ نام نہاد سیکولر لبرل طبقہ سے بے اعتمادی کا اظہار کرتاہے۔ یہی سبب ہے کہ اس نے اسی تقریر میں یہ کہا کہ یہ لوگ اپنی مارکیٹنگ کریں گے اور چلے جائیں گے ۔ ہمیں اپنی لڑائی خود ہی لڑنی ہوگی۔ اجیت ساہی بھی نام نہاد سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کے خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس ملک میں مسلمان، مسلمان بن کر ہی رہے گا یہی اس کی پہچان ہے‘۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیکولر لبرل اور کمیونسٹوں کا زور اس بات پر ہے کہ مسلمان اس ملک کی تہذیب و ثقافت میں اپنی پہچان ختم کرلیں۔ اسی لئے ششی تھرور کو موجودہ احتجاج میں مسلم شناخت اور اسلامی نعرے شدت پسندی یا مذہبی بنیاد پرستی نظر آتے ہیں۔
ہمیں شرجیل امام کے معاملہ میں سیکولر اور لبرل طبقہ سے شکایت ہے کہ اس نے شرجیل کو تنہا چھوڑ دیا۔ مگر ہم نے کون سا اس کا ساتھ دیا؟ ہم نے آخر کیوں اس کا ساتھ نہیں دیا؟ اس کے پیچھے محض خوف کی نفسیات اور مجرم ضمیری کے سوا کیا ہے کہ اگر ہم نے اس کی حمایت میں کچھ بولا تو ملک کے غدار ٹھہرائے جائیں گے اور مقدموں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مگر سوال یہ بھی ہے کہ آخر آپ کب تک خود کو مشکلات سے بچا پائیں گے؟ جب تک آپ پورے طور سے یہاں کی تہذیب و ثقافت میں شامل ہو کر اپنی شناخت ختم نہ کرلیں۔ شرجیل امام کا مسئلہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کا وہ بیدار مسلم نوجوان ہے جو اپنی شناخت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا اور چاہتا ہے کہ اس کی قوم بھی ایک غیور قوم کی طرح ہندوستان میں سر اٹھاکے رہے۔ شرجیل کے سامنے اس کے قوم کی شاندار روایتیں ہیں جسے قوم اور قوم کے جبہ و دستار سے سجی قیادت بھلا چکی ہے۔ شرجیل کے سامنے اسلام کی وہ اعلیٰ و ارفع تعلیمات ہیں جو حقوق انسانی کی پوری ضمانت دیتا ہے۔ وہ اس اسلام کو مانتا ہے جس نے موجودہ دنیا کو حقوق انسانی اور انسانی قدریں کیا ہوتی ہیں اس سے روسناش کرایا جبکہ شرجیل امام پر تنقید کرنے والے افراد کا یہ نظریہ کمزور ہو چکاہے۔
ہمیں سازشوں کی باتیں اتنی بتائی گئی ہیں کہ ہم زمینی حقائق اور فطری جذبہ کو بھی دشمن کی سازش قرار دینے لگے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ شرجیل امام کا موجودہ تحریک کے دوران اس قسم کی تقریر کرنا دراصل ایک سازش ہے اور اسے دشمن نے ہمارے درمیان پلانٹ کیا ہے۔ یقین جانئے یہ صرف خوف کی انتہا ہے جس کا اظہار ہماری زبان سے اس انداز سے ہوتا ہے۔ شرجیل کا یہ جملہ ’’میرے وجود کا احترام کریں یا میری مزاحمت کی توقع کریں‘‘وضاحت کیلئے کافی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے ساتھ کیا نہیں ہوا اور اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر کے سوا کیا کیا۔اس کے صبر کی انتہا تو سپریم کورٹ کے ذریعہ اس کی مسجد کو مندر کے حوالہ کرنے کے فیصلہ پر اشتعال میں نہیں آنا ہے ۔مگر جب اس کی شہریت کو ختم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تو وہ بے چین ہوگیا۔ دنیا میں کون ہے جو بے زمین ہونے کی کیفیت کا احساس کرکے بے چین نہیں ہوگا۔ حکومت کے اس منصوبہ کیخلاف بھی مسلمانوں کو ہی میدان میں آنا پڑا اور پھر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس کے گھر کی زینت اور صنف نازک کو بھی باہر آکر موسم کی سختی اور متعصب دنیا کی بدزبانی کو سہنا پڑا۔ اس سے ہمدردی اور بڑی بڑی باتیں تو بہت کی گئیں مگر میدان میں صرف مسلمانوں کو ہی نکلنا پڑا اور بیس سے زیادہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا۔ آج بھی حالات یہ ہے کہ میدان میں وہی نظر آرہا ہے۔ ٹھیک ہی کہا تھا شرجیل نے کہ مسلمانوں کو ان کی جنگ خود ہی لڑنی ہوگی۔شرجیل امام کے تعلق سے ابھی مزید کئی باتیں عرض کرنا باقی ہیں جو آئندہ کسی مضمون میں پیش کی جائے گی۔ یہاں سیکولر اور لبرل طبقہ کی ایک مثال دے کر اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ بہار کے سید شہاب الدین برسوں سے جیل میں ہیں تقریبا دو سال قبل انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تو پرشانت بھوشن جو کہ ایک سیکولر شخص مانے جاتے ہیں نے سپریم کورٹ میں مداخلت کرکے سید شہاب الدین کی ضمانت منسوخ کرواکر انہیں دوبارہ جیل بھجوادیا۔ مگر یہی پرشانت بھوشن اس وقت خاموش رہے جب دہشت گردی کے بدترین الزام کے باوجود سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت مل جاتی ہےاور وہ رہا بھی ہوجاتی ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ سیکولر یا روادار طبقہ کو ساتھ نہ لیا جائے یا ان کے ساتھ نہ جایا جائے۔ صرف اتنا کیا جائے کہ ان پر پوری طرح سےتکیہ نہ کیا جائے، ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی ہے اور اسی تناظر میں لائحہ عمل ترتیب دیا جائے اور پالیسی بنائی جائے۔ ایک صدی قبل خلافت تحریک کو گاندھی جی کے کاندھوں پر ڈال کر جو نقصان ہم کو ہو چکا ہے اس کا اعادہ نہ ہو۔
جرم
ممبئی میں لائیو کنسرٹ کے دوران منشیات لینے والی دو طالبات کی موت، لڑکی آئی سی یو میں داخل

ممبئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ لائیو میوزک کنسرٹ کے دوران مبینہ طور پر منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے دو طالب علم ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ تیسرے کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ممبئی کے ایک ممتاز ایم بی اے کالج کے 24 سالہ طالب علم اور 28 سالہ طالب علم کی موت ہوئی ہے۔ آئی سی یو میں 25 سالہ طالب علم کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس کے مطابق 11 اپریل کو گورگاؤں کے نیسکو گراؤنڈز میں منعقدہ کنسرٹ میں طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کچھ طالب علموں نے کنسرٹ کے دوران منشیات کا استعمال کیا ہو سکتا ہے. تاہم یہ ممکنہ طور پر فرانزک رپورٹ کے بعد واضح ہو سکے گا۔ پیر کی رات تقریباً 12 بجے، طالب علموں کو سانس لینے میں دشواری کے باعث قریبی ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا۔ دو طالب علموں کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ ونرائی پولس اسٹیشن میں معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ کنسرٹ میں شریک طلباء کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے منشیات کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ پولیس سے ملی معلومات کے مطابق اس معاملے میں اب تک پانچ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں کالج کے دو طالب علم بھی شامل ہیں۔ ایونٹ آرگنائزر وہان عرف آکاش سمل (31)، نیسکو ایونٹ آرگنائزر اینڈ مینجمنٹ کے سنی ونود جین اور انٹرنل سیکورٹی کے بالاکرشنن بلرام کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تمام ملزمان کو تین دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ ونرائی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں منشیات کی زیادہ مقدار کا شبہ ہے۔ تاہم موت کی اصل وجہ میڈیکل اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ جاں بحق افراد کے خون کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ مجرمانہ قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
جرم
ممبئی میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف بڑی کارروائی، آٹھ گاڑیوں میں لدے 451 سلنڈر برآمد

ممبئی : ممبئی میں ضروری اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن میں، محکمہ خوراک اور شہری سپلائی نے ایل پی جی سلنڈروں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل میں ملوث ایک ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے، حکام نے ہفتہ کو بتایا۔ مجموعی طور پر 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ڈونگری کے واڑی بندر علاقے میں چھاپے کے دوران 40 لاکھ روپے سے زائد کا سامان ضبط کیا گیا اور آٹھ گاڑیوں کو روکا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی راشننگ کنٹرولر اور سول سپلائی ڈائریکٹر کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر خصوصی ہدایات جاری کی گئیں، جس پر عمل کرتے ہوئے محکمہ کے فلائنگ اسکواڈ نے منصوبہ بند آپریشن شروع کیا۔ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے ڈونگری میں واڑی بندر پل کے قریب غیر قانونی طور پر گیس سلنڈر لے جانے والی آٹھ گاڑیوں کو روکا۔ ان گاڑیوں کو چیک کرنے پر کل 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ضبط کیے گئے سلنڈروں اور گاڑیوں کی کل تخمینہ قیمت تقریباً 40.61 لاکھ روپے ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ سلنڈر درست دستاویزات کے بغیر منتقل کیے جا رہے تھے اور ان کا مقصد بلیک مارکیٹنگ یا غیر قانونی سپلائی کرنا تھا۔ ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دریں اثنا، جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں، وزارت پیٹرولیم نے واضح کیا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے، اور ایل پی جی کی تقسیم کاروں میں کوئی کمی کی اطلاع نہیں ہے، حالانکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کررہی ہے۔ آج تک، 4.05 لاکھ پی این جی کنکشنز ایکٹیویٹ ہو چکے ہیں، اور تقریباً 4.41 لاکھ مزید صارفین نے نئے کنکشن کے لیے اندراج کرایا ہے۔ صارفین کو متبادل ایندھن جیسے پی این جی اور الیکٹرک کک ٹاپس استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کا تحفظ کریں۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی خریدنے میں گھبرائیں نہیں اور معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارم استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ آن لائن ایل پی جی کی بکنگ تقریباً 98 فیصد تک بڑھ گئی ہے، اور ڈسٹری بیوٹر شپ کی سطح پر بدعنوانی کو روکنے کے لیے ڈیلیوری تصدیقی کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ڈیلیوری بھی تقریباً 92 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود، حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کی فراہمی کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں سخت کارروائی جاری ہے۔ جمعرات کو ملک بھر میں 3,800 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے گئے اور تقریباً 450 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ آج تک، تقریباً 1.2 لاکھ مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں، 57000 سے زیادہ سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں، 950 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، اور 229 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حیرت انگیز معائنہ کو مضبوط بنایا، 2,100 سے زیادہ شوکاز نوٹس جاری کیے، 204 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا، اور 53 کو معطل کیا۔ 18,000 سے زیادہ پی این جی صارفین نے میرا پی این جیڈی.ایل این ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کیے ہیں۔ ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کو نئے پی این جی کنکشن کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں۔ تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان کے پاس خام تیل کے مناسب ذخائر ہیں۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کا مناسب ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گھریلو استعمال کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریوں میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔
جرم
ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 10 کروڑ سے زائد کی منشیات ضبطی، 10 ملزمین گرفتار

ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل یونٹس نے شہر و مضافات کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کے بعد ۱۰ کروڑ سے زائد کی منشیات کی ضبطی کے ساتھ ۱۰ منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ بی پی ٹی و وڈالا، ممبئی میں ایم ڈی کے خلاف کارروائی کے دوران اے این سی یونٹ نے ۲۱۸ گرام وزنی ایم ڈی ضبط کی ہے۔ یہاں وڈالا میں ایم ڈی فروش کو بھی مشتبہ حالت میں حراست میں لیا ہے۔ ولے پارلے علاقہ میں ہائیڈوپانک گانجہ بھی پولس نے برآمد کیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے ۷ کلو ۶۹۰ گرام گانجہ بھی برآمد کیا گیا ملزم کے خلاف ۷ لاکھ سے زائد کی منشیات ضبط کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف این ڈی پی ایس کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ وڈالا ٹی ٹی ممبئی علاقہ میں ناگپاڑہ میں آزاد میدان یونٹ نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے وڈالا سے گانجہ فروش کو گرفتار کیا, اس کے پاس سے ۲۰ کلو ۷۰۰ گرام گانجہ ملا ہے۔ ناگپاڑہ سے۱۱۷ گرام ایم ڈی کی ضبطی ہوئی ہے اور ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گوریگاؤں، دھاراوی، ممبئی، ویرادیسائی روڈ اندھیری، ممبئی اور ماہم ریلوے اسٹیشن سے کل ۲۸۱ کلو گرام وزنی ایم ڈی کی ضبطی کی گئی ہے اور ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تمام ملزمین یہاں منشیات فروشی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کاندیولی یونٹ نے اندھیری کے قریب ۱۸ گرام وزنی ایم ڈی برآمد کیا۔ ماہم میں ۱۰۴ گرام وزنی ایم ڈی کے ساتھ ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا گیا۔ بھارت نگر باندرہ سے ۱۶۳ گرام وزنی منشیات ضبط کی گئی۔ ملاڈ مالونی سے بھی اے این سی نے منشیات ضبط کی ہے۔ کل ۱۰ منشیات فروشوں کو اے این سی نے گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے 10.14 کروڑ کی منشیات ضبط کی ہے۔ یہ ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں کارروائی, جوائنٹ پولس کمشنر کرائم لکمی گوتم کی ایما پر ڈئ سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
