قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ترز پرپوری دنیا میں ان کی حمایت میں مظاہرہ کئے جارہے ہیں
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین کی خواتین نے گزشتہ 16 دسمبر سے سریتاوہار کالند کنج روڈ پر اپنا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ اس وقت یہ خاتون جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا جو اس وقت پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ مہاراشٹر کے مالیگاؤں، بہار میں گیا، پٹنہ، ارریہ، مدھوبنی اور دیگر علاقوں میں سمیت الہ آباد میں منصور علی پارک (روشن باغ) اور دہلی کے سلیم پور، ذاکر نگر ڈھلان پر خواتین مستقل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے کوٹہ شہر میں بڑی تعداد میں خواتین نے جلوس نکال کر اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ خواتین باغ خواتین کا مظاہرہ کا تذکرہ نہ صرف ہندوستان کے کونے کونے میں ہورہا ہے بلکہ پوری دنیا میں اور دنیا کی ہر یونیورسٹی میں اس کا ذکر ہورہا ہے اوران کی حمایت میں مظاہرہ کئے جانے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔
ایک مہینہ پورا ہونے والے شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں کیا پڑھی لکھی کیا ان پڑھ خواتین حصہ لے رہی ہیں۔ ایک 20 دن کے بچہ سے لیکر 90 سالہ خواتین بھی شریک ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ہم آئین کو بچانے کے لئے آئے ہیں۔ جوں جوں رات جوان ہوتی ہیں خواتین اور دیگر مظاہرین کی تعدد بڑھتی جاتی ہے۔ پوری دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک سے لوگ آرہے ہیں اور شاہین باغ خواتین کے جذبے کو سلام کرنے کے ساتھ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
شاہین باغ میں اتوار کو لاکھوں مرد وخواتین نے جمع ہوکر یہ دکھادیا کہ وہ لوگ کتنے متحد ہیں اور اسی کے ساتھ شاہین باغ مظاہرین اسکوائر پر پنڈتوں نے ہون، سکھوں نے کیرتن، بائبل اور قرآن کی تلاوت کرکے صلح کل کا پیغام دے رہے ہیں۔ شاہین باغ مظاہرین کی حمایت میں ہون بھی کیا گیا اور مسلم خواتین نے ٹیکے بھی لگائے۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ اس مظاہرہ میں صرف ایک فرقہ کے لوگ نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں۔
شاہین باغ خواتین مظاہرہ کی خاص بات ہے کہ یہ کسی منظم کے بغیر ہے، اس کے پیچھے کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ شاہین باغ اور دور دراز سے لوگ کھانے کا پیکٹ گاڑیوں میں بھر کر لاتے ہیں یا خود تفسیم کرتے ہیں یا رضا کار کے حوالہ کردیتے ہیں۔ کوئی پانی کی بوتلیں لیکر آتا ہے تو کوئی سموسہ لیکر آتا ہے تو کوئی کھانے کی کوئی اور چیز، دلچسپ کی بات یہاں کی یہ ہے کہ یہاں ’سیکولر‘ چائے ملتی ہے۔ جو مستقل بنتی رہتی ہے اور ہزاروں لوگ پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے تھرمس میں لوگ چائے بناکر لاتے ہیں اور مظاہرین میں تقسیم کرتے ہیں۔ کوئی انڈا تقسیم کرتا ہے، کوئی بسکٹ لیکر آتا ہے، بریانی کے 1800 پکیٹس تقسیم کرنے والے حسین احمد نے بتایا کہ میں اس کے ذریعہ مظاہرہ کرنے والی خواتین کو سلام کرتا ہوں اور اس کے ذریعہ ان کی حمایت کرنا مقصد ہے۔
یہاں مکمل طور پر گنگا جمنی تہذیب کا نظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے، ایک بینر پر اوم، اللہ، سکھ کا مذہبی نشان اور صلیب کا نشان ہے۔ کئی بینر اس طرح کے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’نو کیش نو اکاؤنٹ‘،۔ شاہین باغ میں دہلی یونیورسٹی سے سیجو اور ابھتسا چوہان، خوشبو چوہان بھی ہیں جو اپنی ٹیم کے ساتھ شاہین باغ خواتین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آئی ہیں۔ باجے بجاکر اس سیاہ قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔ بچے ہاتھوں میں کینڈل جلاکر اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مظاہرہ میں شامل گیارہ سالہ فیضان احمد، گیارہ سالہ عاصیہ ندیم، رقیہ ندیم، چھ سالہ عدنان نے کہا کہ ہم ملک اور آئین کو بچانے اور سی اے اے، این سی آراور این پی آر کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔ نویں کلاس کی جامعہ کی طالبہ نے بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا یہ قانون ہمیں منظور نہیں ہے۔ سماجی کارکن ملکہ نے بتایاکہ اس قانون سے غریب اور کمزور طبقہ کے سبھی مذاہب کے لوگ متاثر ہوں گے، اس کی مخالفت اس کی واپسی تک جاری رہے گی۔ مظفر پور کی رہنے والی خاتون نے اس مظاہرہ کے دوران کہا کہ ہم آزادی مانگنے آئے ہیں۔ایک خاتون مظاہرین نسیم بانو نے کہاکہ ہم سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے آئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ جب ملک ہی نہیں بچے گا، تو ہم لوگ کیسے بچیں گے۔ایک مظاہرین شمیم بانوں نے کہاکہ میں یہاں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے آئی ہوں۔
اس کے علاوہ بچوں کا چھوٹا چھوٹا گروپ ہے جو مختلف طرح کے انقلابی نعرے لگارہے ہیں۔ یہاں جتنی خواتین آتی ہوئی نظر آتی ہیں اتنی ہی خواتین جاتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی آس پاس کی دوکانیں گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں، جس کی وجہ سے دوکانداروں کوبھی نقصان اور پریشانی ہے۔ یہا ں ایک چھوٹا سا میڈیکل کیمپ بھی ہے جو مختلف ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر بیٹھتے ہیں اور چھوٹی موٹی بیماری کا علاج اور طبیعت خراب کرنے والوں کو دوائی دیتے ہیں۔
اس مظاہرہ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ تمام سیاسی اور سماجی کارکن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔گرچہ اس مظاہرے کو سیاست اور سیاسی پارٹیوں سے دور رکھا جارہا ہے لیکن کوئی نہ کوئی شخص اس کی حمایت کرنے کے آہی جاتا ہے۔ ان میں سیاست داں سماجی کارکن، فلمی ہستیاں، سابق نوکر شاہ، تعلیمی، معاشی، اور سماجی ہستی شامل ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ مودی حکومت ملک کی مشترکہ ورثے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہے لیکن ملک کے عوام ان کی اس منشا کو پورا ہونے نہیں دیں گے۔مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے شاہین باغ کی خواتین کو شاہین صفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ شاہین کبھی ناکام نہیں ہوتا اورکامیابی آپ کی قدم چومے گی اور آپ کی یہ لڑائی منزل کے بغیر ختم نہیں ہونی چاہئے۔
شاہین باغ سے جامعہ اسکوائر تک چلنے والے اس مظاہرہ میں شامل ہونے والی سماجی کارکن سیما اسلم نے کہاکہ ہم احتجاج میں اس لئے آئے ہیں ہمیں حراستی کیمپ میں نہیں جانا ہے۔ اس لئے خواتین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں کیوں کہ جب کوئی بھی بات پیش آتی ہے تو سب سے زیادہ خواتین ہی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اس وقت کرتے رہیں گے جب تک اس کو واپس نہیں لیا جاتا ہے۔
سیمانچل سے تعلق رکھنے والی خواتین مظاہرین نے کہاکہ آج اس کی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کیوں کہ غریب لوگ شہریت کا ثبوت کہاں سے پیش کریں گے جب کہ اس کے پاس کوئی گھر، مکان یا جائداد نہیں ہے اور خاص طور پر ؎خواتین جب شادی ہوکر سسرال چلی جاتی ہیں زیادہ تر ان کے نام سے کوئی جائداد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس پیسہ ہے ہم دستاویزات بنوالیں گے لیکن غریب خواتین کہاں سے دستاویزات لے کر آئیں گی۔
شاہین باغ میں خواتین مظاہرین کی حمایت کرتے سوراج ابھیان کے صدر یوگیندریادو نے کہا کہ میں یہاں ملک اور آئین کو بچانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے خواتین کے جذبے کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ خواتین آئین کی حفاظت کے لئے اس سخت سردی کے موسم میں آرام وآسائش کو چھوڑ کر دن رات کا دھرنا دے رہی ہیں۔
کل ہند مسلم یوتھ فورم کے سرپرست ٹی ایم ضیاء الحق نے مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ کا خواتین مظاہرہ پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ یہاں کی خواتین کسی طرح بھی اپنے حقوق اور ملک کے آئین کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور یہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کے بھی خلاف ہے۔پیپلزآف ہوپ کے چیرمین رضوان احمد نے خواتین کے مظاہرے کو ظلم و جبر اور آئین کے حق میں جنگ کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ بغیر کسی رہنمائی اور بغیر کسی انتظام کے 18 دن سے مظاہرہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب وہ اپنی طاقت دکھانے پر آجائے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
مشہور روحانی گرو سوامی اگنی ویش نے کہاکہ آج ساری انسانی برادری کا متحد ہوکر ظلم کرنے والوں کے خلاف لڑنااور مظلوموں کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانیت ہمارا سب سے بڑا مذہب ہے اور اسی کو لیکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے تناظر میں کہا کہ کچھ لوگ ہمیں باٹنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں متحد رہنا ہے۔ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین کے احتجاج دیکھ کر اور خود کو آپ لوگوں کے درمیان پاکر قابل فخر محسوس کر رہا ہوں اور یہاں 20 دن کی بچی سے لیکر 80 سال کی خاتون تک ہیں۔
اس مظاہرہ کے انتظام و انصرام سے وابستہ محمد رفیع اور صائمہ خاں نے بتایا کہ اس مظاہرہ کی خاص کی بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تنظیم کے ہے اور نہ ہی اس مظاہرہ میں اب تک کسی کو بلایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا کوئی منتظم ہے بس ہم لوگ یہاں کا تھوڑا بہت انتظام دیکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ مظاہرہ کسی فرقہ کے حق کیلئے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ہم آئین کی حفاظت کے لئے سرد ی کی سخت ترین راتوں میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک آئین سے چلتا ہے اور جب آئین ہی نہیں بچے گاتو ملک کیسے بچے گا۔ یہ پوری دہلی بلکہ پورے ملک کی خواتین کو پیغام دے رہی ہیں کہ ظلم اور ناانصافی اوراس کا لا قانون کے خلاف احتجاج اور دھرنا میں کسی سے بھی وہ پیچھے نہیں ہیں اور وہ صرف زندگی میں ہی مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں، بلکہ ملکی حالات، مظالم کے خلاف اور پولیس کی بربریت کے خلاف اپنے آنچل کو پرچم بنانا بخوبی جانتی ہیں۔
دن رات کے مظاہرے میں حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمان، فلمی ہستی ذیشان ایوب، مشہور سماجی کارکن، مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، کانگریس لیڈر سندیپ دکشت، بار کونسل کے ارکان، وکلاء، جے این یو کے پروفیسر، سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا، ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، گوہر رضا، پپو یادو، وغیرہ نے اب تک شرکت کرکے ہمارے کاز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگے بھی ملک کی اہم شخصیت کی شرکت کی توقع ہے۔
اس مظاہرہ میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 16 دسمبر سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہے مگر انتظامیہ کے کسی شخص نے اس کی سدھ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ شخص صرف سیال چیزوں پر ہے۔اس کے ایک خاتون مہر النسا بھی ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ بھوک ہڑتال کو اتنے دن ہوگئے لیکن نہ تو دہلی حکومت کا کوئی نمائندہ اور نہ ہی مرکزی حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے ملنے آیا ہے۔
سیاست
کانگریس سربراہ سونیا گاندھی نے غزہ میں قتل عام پر ایک بار پھر مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 20 ہزار بچے مارے گئے ہیں۔

نئی دہلی : کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے ہفتہ کے روز غزہ کے مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کی “مسلسل خاموشی” پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو فلسطینیوں کی حمایت میں واضح اور آواز والا موقف اختیار کرنا چاہئے اور عالمی رائے عامہ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں رونما ہونے والے واقعات کا جواب دینا چاہئے۔ سونیا گاندھی نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں دعویٰ کیا کہ غزہ میں بچوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہاں انسانی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں بچے موت اور تباہی کا نشانہ بن چکے ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری نے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اسرائیلی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ جون 2026 میں، اسی کمیشن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کے اقدامات کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے وجود کو ختم کرنا ہے، اور اس مقصد کے لیے ان کے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کمیشن کی سربراہی اب ممتاز ہندوستانی قانون دان جسٹس ایس مرلی دھر (ریٹائرڈ) کر رہے ہیں۔ سونیا گاندھی کے مطابق 94 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو پڑھنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے ہونے والی تباہی اور نسل کشی کے عزائم کا ایک ہولناک بیان فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کم از کم 20,000 بچے ہلاک اور 44,000 زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر زندگی بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ بچوں کو نشانہ بنانا کوئی حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی ہے۔
سونیا گاندھی نے لکھا کہ ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں 27 فیصد بچے تھے اور بہت سے لوگوں کے سر اور گردن پر گولیوں کے زخم تھے۔ غزہ کے 97 فیصد سکول تباہ ہو چکے ہیں۔ صحت کا بنیادی ڈھانچہ بشمول بچوں کے ہسپتال بھی تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اسقاط حمل اور بچے کی پیدائش کی پیچیدگیوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ کئی مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، کئی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیا ہے، اور بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کے اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے جارہے ہیں، لیکن ہندوستان اس معاملے پر خاموش ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے جسٹس (ریٹائرڈ) ایس مرلی دھر کی سربراہی میں کمیشن کی رپورٹ کا جواب نہیں دیا ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخی خارجہ پالیسی استعمار مخالف یکجہتی، قومی خودمختاری اور بین الاقوامی امن کے اصولوں پر مبنی ہے، لیکن ملک اس وقت ان اقدار سے دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ غزہ کے ایک بچے ہند رجب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ وہاں کے انسانی المیے اور بچوں پر پڑنے والے اثرات کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی عوام کو فلسطینی بچوں کی حالت زار کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کی خاموشی اور بے عملی نہ صرف اخلاقی طور پر قابل مذمت ہے بلکہ قومی مفاد کے نقطہ نظر سے بھی ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے اسٹریٹجک دائرہ اثر کے قریب پہنچ رہا ہے جب دنیا کا ایک بڑا حصہ اس سے دور ہو رہا ہے۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ ہندوستان نے فلسطین، ایران اور وسیع تر مغربی ایشیا میں اپنے تاریخی دوستوں سے خود کو دور کر لیا ہے اور عالمی رائے عامہ سے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔ سونیا گاندھی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو فلسطینی عوام کی حمایت میں بولنا چاہیے اور غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی مسلسل خاموشی کو اخلاقی یا منطقی بنیادوں پر کسی بھی طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
قومی خبریں
یکم جولائی 2026 سے پاسپورٹ بنوانا مہنگا، حکومت ہند نے نئی فیس کا اعلان کر دیا

نئی دہلی، 26 جون : حکومت ہند نے پاسپورٹ درخواستوں کی فیس میں ترمیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت نئی فیس کا نفاذ یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ نظرِ ثانی شدہ فیس کا اطلاق نئے پاسپورٹ، تجدید (رینیول)، تتکال (تتکال) سروس، اور گمشدہ یا خراب شدہ پاسپورٹ کے متبادل اجرا سمیت مختلف خدمات پر ہوگا۔ نئی شرحوں کے مطابق، بالغ شہریوں کے لیے 36 صفحات والے عام پاسپورٹ کی درخواست فیس 2,500 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ تتکال سروس کے تحت یہی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے 5,000 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ 60 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئی فیس کی فہرست میں کم عمر درخواست گزاروں، گمشدہ یا خراب شدہ پاسپورٹ کے دوبارہ اجرا، پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی) اور دیگر متعلقہ خدمات کی فیس میں بھی تبدیلی شامل ہے۔ حکام کے مطابق بالغ افراد کے پاسپورٹ کی مدتِ کار حسبِ معمول 10 سال رہے گی، جبکہ کم عمر افراد کے پاسپورٹ کی میعاد موجودہ قواعد و ضوابط کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ نئی فیس کا اطلاق یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد جمع کرائی جانے والی تمام درخواستوں پر ہوگا۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے سے قبل تازہ ترین فیس اور متعلقہ قواعد کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ کسی قسم کی دشواری سے بچا جا سکے۔
سیاست
آندھرا پردیش : پون کلیان اور وزیر داخلہ انیتھا نے پیراواڈا فارما سٹی میں لگنے والی آگ کا معائنہ کیا، کارکنوں کی موت پر غم کا اظہار کیا۔

اناکا پلی، آندھرا پردیش: اناکاپلی ضلع کے پیراواڈا فارما سٹی میں واقع دکشنا انرجی کیمیکل فیکٹری میں منگل کی صبح لگنے والی زبردست آگ نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ المناک حادثے میں دو مزدور جاں بحق اور دو شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد ریاستی حکومت نے فوری طور پر راحت اور بچاؤ کے کاموں کی نگرانی شروع کردی۔ آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ حادثے کی اطلاع ملنے پر، انہوں نے اناکا پلی کے ضلع کلکٹر سے فون پر بات کی اور صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔ عہدیداروں نے انہیں بتایا کہ منگل کی صبح تقریباً 6 بجے پیش آنے والے اس واقعہ میں دو افراد ہلاک اور دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔
پون کلیان نے حکام سے آگ پر قابو پانے کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا اور ان سے کہا کہ وہ صنعتی یونٹوں میں حادثات کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے وشاکھاپٹنم کے آس پاس کے تمام صنعتی علاقوں کا فوری طور پر حفاظتی آڈٹ کرنے کی واضح ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے زخمی کارکنوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے گہرے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ریاستی وزیر داخلہ ونگل پوڈی انیتھا نے بھی حادثے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اس نے اناکا پلی کے ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) سے فون پر بات کی اور واقعہ اور راحت اور بچاؤ کے کاموں کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیر داخلہ نے حکام کو راحت اور بچاؤ کاموں میں تیزی لانے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ اس المناک حادثے سے متاثرہ تمام خاندانوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد اور تعاون حاصل ہوگا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
