قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ترز پرپوری دنیا میں ان کی حمایت میں مظاہرہ کئے جارہے ہیں
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین کی خواتین نے گزشتہ 16 دسمبر سے سریتاوہار کالند کنج روڈ پر اپنا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ اس وقت یہ خاتون جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا جو اس وقت پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ مہاراشٹر کے مالیگاؤں، بہار میں گیا، پٹنہ، ارریہ، مدھوبنی اور دیگر علاقوں میں سمیت الہ آباد میں منصور علی پارک (روشن باغ) اور دہلی کے سلیم پور، ذاکر نگر ڈھلان پر خواتین مستقل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے کوٹہ شہر میں بڑی تعداد میں خواتین نے جلوس نکال کر اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ خواتین باغ خواتین کا مظاہرہ کا تذکرہ نہ صرف ہندوستان کے کونے کونے میں ہورہا ہے بلکہ پوری دنیا میں اور دنیا کی ہر یونیورسٹی میں اس کا ذکر ہورہا ہے اوران کی حمایت میں مظاہرہ کئے جانے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔
ایک مہینہ پورا ہونے والے شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں کیا پڑھی لکھی کیا ان پڑھ خواتین حصہ لے رہی ہیں۔ ایک 20 دن کے بچہ سے لیکر 90 سالہ خواتین بھی شریک ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ہم آئین کو بچانے کے لئے آئے ہیں۔ جوں جوں رات جوان ہوتی ہیں خواتین اور دیگر مظاہرین کی تعدد بڑھتی جاتی ہے۔ پوری دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک سے لوگ آرہے ہیں اور شاہین باغ خواتین کے جذبے کو سلام کرنے کے ساتھ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
شاہین باغ میں اتوار کو لاکھوں مرد وخواتین نے جمع ہوکر یہ دکھادیا کہ وہ لوگ کتنے متحد ہیں اور اسی کے ساتھ شاہین باغ مظاہرین اسکوائر پر پنڈتوں نے ہون، سکھوں نے کیرتن، بائبل اور قرآن کی تلاوت کرکے صلح کل کا پیغام دے رہے ہیں۔ شاہین باغ مظاہرین کی حمایت میں ہون بھی کیا گیا اور مسلم خواتین نے ٹیکے بھی لگائے۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ اس مظاہرہ میں صرف ایک فرقہ کے لوگ نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں۔
شاہین باغ خواتین مظاہرہ کی خاص بات ہے کہ یہ کسی منظم کے بغیر ہے، اس کے پیچھے کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ شاہین باغ اور دور دراز سے لوگ کھانے کا پیکٹ گاڑیوں میں بھر کر لاتے ہیں یا خود تفسیم کرتے ہیں یا رضا کار کے حوالہ کردیتے ہیں۔ کوئی پانی کی بوتلیں لیکر آتا ہے تو کوئی سموسہ لیکر آتا ہے تو کوئی کھانے کی کوئی اور چیز، دلچسپ کی بات یہاں کی یہ ہے کہ یہاں ’سیکولر‘ چائے ملتی ہے۔ جو مستقل بنتی رہتی ہے اور ہزاروں لوگ پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے تھرمس میں لوگ چائے بناکر لاتے ہیں اور مظاہرین میں تقسیم کرتے ہیں۔ کوئی انڈا تقسیم کرتا ہے، کوئی بسکٹ لیکر آتا ہے، بریانی کے 1800 پکیٹس تقسیم کرنے والے حسین احمد نے بتایا کہ میں اس کے ذریعہ مظاہرہ کرنے والی خواتین کو سلام کرتا ہوں اور اس کے ذریعہ ان کی حمایت کرنا مقصد ہے۔
یہاں مکمل طور پر گنگا جمنی تہذیب کا نظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے، ایک بینر پر اوم، اللہ، سکھ کا مذہبی نشان اور صلیب کا نشان ہے۔ کئی بینر اس طرح کے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’نو کیش نو اکاؤنٹ‘،۔ شاہین باغ میں دہلی یونیورسٹی سے سیجو اور ابھتسا چوہان، خوشبو چوہان بھی ہیں جو اپنی ٹیم کے ساتھ شاہین باغ خواتین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آئی ہیں۔ باجے بجاکر اس سیاہ قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔ بچے ہاتھوں میں کینڈل جلاکر اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مظاہرہ میں شامل گیارہ سالہ فیضان احمد، گیارہ سالہ عاصیہ ندیم، رقیہ ندیم، چھ سالہ عدنان نے کہا کہ ہم ملک اور آئین کو بچانے اور سی اے اے، این سی آراور این پی آر کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔ نویں کلاس کی جامعہ کی طالبہ نے بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا یہ قانون ہمیں منظور نہیں ہے۔ سماجی کارکن ملکہ نے بتایاکہ اس قانون سے غریب اور کمزور طبقہ کے سبھی مذاہب کے لوگ متاثر ہوں گے، اس کی مخالفت اس کی واپسی تک جاری رہے گی۔ مظفر پور کی رہنے والی خاتون نے اس مظاہرہ کے دوران کہا کہ ہم آزادی مانگنے آئے ہیں۔ایک خاتون مظاہرین نسیم بانو نے کہاکہ ہم سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے آئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ جب ملک ہی نہیں بچے گا، تو ہم لوگ کیسے بچیں گے۔ایک مظاہرین شمیم بانوں نے کہاکہ میں یہاں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے آئی ہوں۔
اس کے علاوہ بچوں کا چھوٹا چھوٹا گروپ ہے جو مختلف طرح کے انقلابی نعرے لگارہے ہیں۔ یہاں جتنی خواتین آتی ہوئی نظر آتی ہیں اتنی ہی خواتین جاتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی آس پاس کی دوکانیں گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں، جس کی وجہ سے دوکانداروں کوبھی نقصان اور پریشانی ہے۔ یہا ں ایک چھوٹا سا میڈیکل کیمپ بھی ہے جو مختلف ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر بیٹھتے ہیں اور چھوٹی موٹی بیماری کا علاج اور طبیعت خراب کرنے والوں کو دوائی دیتے ہیں۔
اس مظاہرہ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ تمام سیاسی اور سماجی کارکن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔گرچہ اس مظاہرے کو سیاست اور سیاسی پارٹیوں سے دور رکھا جارہا ہے لیکن کوئی نہ کوئی شخص اس کی حمایت کرنے کے آہی جاتا ہے۔ ان میں سیاست داں سماجی کارکن، فلمی ہستیاں، سابق نوکر شاہ، تعلیمی، معاشی، اور سماجی ہستی شامل ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ مودی حکومت ملک کی مشترکہ ورثے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہے لیکن ملک کے عوام ان کی اس منشا کو پورا ہونے نہیں دیں گے۔مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے شاہین باغ کی خواتین کو شاہین صفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ شاہین کبھی ناکام نہیں ہوتا اورکامیابی آپ کی قدم چومے گی اور آپ کی یہ لڑائی منزل کے بغیر ختم نہیں ہونی چاہئے۔
شاہین باغ سے جامعہ اسکوائر تک چلنے والے اس مظاہرہ میں شامل ہونے والی سماجی کارکن سیما اسلم نے کہاکہ ہم احتجاج میں اس لئے آئے ہیں ہمیں حراستی کیمپ میں نہیں جانا ہے۔ اس لئے خواتین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں کیوں کہ جب کوئی بھی بات پیش آتی ہے تو سب سے زیادہ خواتین ہی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اس وقت کرتے رہیں گے جب تک اس کو واپس نہیں لیا جاتا ہے۔
سیمانچل سے تعلق رکھنے والی خواتین مظاہرین نے کہاکہ آج اس کی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کیوں کہ غریب لوگ شہریت کا ثبوت کہاں سے پیش کریں گے جب کہ اس کے پاس کوئی گھر، مکان یا جائداد نہیں ہے اور خاص طور پر ؎خواتین جب شادی ہوکر سسرال چلی جاتی ہیں زیادہ تر ان کے نام سے کوئی جائداد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس پیسہ ہے ہم دستاویزات بنوالیں گے لیکن غریب خواتین کہاں سے دستاویزات لے کر آئیں گی۔
شاہین باغ میں خواتین مظاہرین کی حمایت کرتے سوراج ابھیان کے صدر یوگیندریادو نے کہا کہ میں یہاں ملک اور آئین کو بچانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے خواتین کے جذبے کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ خواتین آئین کی حفاظت کے لئے اس سخت سردی کے موسم میں آرام وآسائش کو چھوڑ کر دن رات کا دھرنا دے رہی ہیں۔
کل ہند مسلم یوتھ فورم کے سرپرست ٹی ایم ضیاء الحق نے مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ کا خواتین مظاہرہ پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ یہاں کی خواتین کسی طرح بھی اپنے حقوق اور ملک کے آئین کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور یہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کے بھی خلاف ہے۔پیپلزآف ہوپ کے چیرمین رضوان احمد نے خواتین کے مظاہرے کو ظلم و جبر اور آئین کے حق میں جنگ کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ بغیر کسی رہنمائی اور بغیر کسی انتظام کے 18 دن سے مظاہرہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب وہ اپنی طاقت دکھانے پر آجائے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
مشہور روحانی گرو سوامی اگنی ویش نے کہاکہ آج ساری انسانی برادری کا متحد ہوکر ظلم کرنے والوں کے خلاف لڑنااور مظلوموں کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانیت ہمارا سب سے بڑا مذہب ہے اور اسی کو لیکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے تناظر میں کہا کہ کچھ لوگ ہمیں باٹنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں متحد رہنا ہے۔ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین کے احتجاج دیکھ کر اور خود کو آپ لوگوں کے درمیان پاکر قابل فخر محسوس کر رہا ہوں اور یہاں 20 دن کی بچی سے لیکر 80 سال کی خاتون تک ہیں۔
اس مظاہرہ کے انتظام و انصرام سے وابستہ محمد رفیع اور صائمہ خاں نے بتایا کہ اس مظاہرہ کی خاص کی بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تنظیم کے ہے اور نہ ہی اس مظاہرہ میں اب تک کسی کو بلایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا کوئی منتظم ہے بس ہم لوگ یہاں کا تھوڑا بہت انتظام دیکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ مظاہرہ کسی فرقہ کے حق کیلئے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ہم آئین کی حفاظت کے لئے سرد ی کی سخت ترین راتوں میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک آئین سے چلتا ہے اور جب آئین ہی نہیں بچے گاتو ملک کیسے بچے گا۔ یہ پوری دہلی بلکہ پورے ملک کی خواتین کو پیغام دے رہی ہیں کہ ظلم اور ناانصافی اوراس کا لا قانون کے خلاف احتجاج اور دھرنا میں کسی سے بھی وہ پیچھے نہیں ہیں اور وہ صرف زندگی میں ہی مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں، بلکہ ملکی حالات، مظالم کے خلاف اور پولیس کی بربریت کے خلاف اپنے آنچل کو پرچم بنانا بخوبی جانتی ہیں۔
دن رات کے مظاہرے میں حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمان، فلمی ہستی ذیشان ایوب، مشہور سماجی کارکن، مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، کانگریس لیڈر سندیپ دکشت، بار کونسل کے ارکان، وکلاء، جے این یو کے پروفیسر، سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا، ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، گوہر رضا، پپو یادو، وغیرہ نے اب تک شرکت کرکے ہمارے کاز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگے بھی ملک کی اہم شخصیت کی شرکت کی توقع ہے۔
اس مظاہرہ میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 16 دسمبر سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہے مگر انتظامیہ کے کسی شخص نے اس کی سدھ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ شخص صرف سیال چیزوں پر ہے۔اس کے ایک خاتون مہر النسا بھی ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ بھوک ہڑتال کو اتنے دن ہوگئے لیکن نہ تو دہلی حکومت کا کوئی نمائندہ اور نہ ہی مرکزی حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے ملنے آیا ہے۔
سیاست
محبوبہ مفتی کے بیان سے ناراض بی جے پی، الطاف ٹھاکر نے کہا، ’’نیا ہندوستان ملک مخالف سوچ کو برداشت نہیں کرے گا‘‘۔

سری نگر : بی جے پی نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے “ذہنی نکسل” ریمارک پر سخت ردعمل جاری کیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بیان خود ثابت کرتا ہے کہ ان کا ذہن اور زبان نکسلیوں اور پاکستان کے حامیوں کی طرح ہے۔ درحقیقت، وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان میں ’’نکسلی ذہنیت‘‘ کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ وہ آرٹیکل 370 کی حمایت کرتی ہیں، اس لیے وہ ایک ’’ذہنی نکسل‘‘ بھی ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے آئی اے این ایس کو بتایا، “محبوبہ مفتی ایک نکسلائٹ ہیں۔ جس طرح وہ بار بار ملک کے خلاف بولتی ہیں، دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہیں، اور پاکستان کے بارے میں بات کرتی ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نکسلائی ذہنیت رکھتی ہیں۔” الطاف ٹھاکر نے کہا، “محبوبہ جی، یہ ذہن میں رکھیں: یہ ایک نیا ہندوستان ہے، یہ وہ پرانا ہندوستان نہیں ہے جب نکسلائٹ تھے، دہشت گردی تھی، اور پاکستان آکر ہمیں ڈراتا تھا، یہ وہ ہندوستان ہے جو اب پاکستان میں گھس کر حملہ کرتا ہے، جس نے نکسلیوں کو ختم کیا، جس نے دہشت گردوں کو ختم کیا، جس نے آرٹیکل 370 کو ختم کیا، وہ دیوار بن گیا”۔
انہوں نے کہا، “نکسلیوں اور نکسلیوں کی ذہنیت کو ختم کرنا ہمارے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ یہ ہندوستان ہے، ایک متحدہ ہندوستان… جس کی وزیر اعظم بات کرتے ہیں۔ کسی کو بھی اس ہندوستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے یا اس کے اتحاد اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔” بی جے پی کے ترجمان نے اے آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں ’’وندے ماترم‘‘ کے تنازع پر کانگریس پارٹی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ صرف ایک گانا نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی روح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وندے ماترم” وہی گانا ہے جس نے آزادی کے چاہنے والوں میں نیا جوش، جذبہ اور جوش پیدا کیا۔ عظیم لوگوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے یہ گیت گاتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ الطاف ٹھاکر نے الزام لگایا کہ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ ملک کی توہین کی ہے۔ چاہے راہل گاندھی ہوں، سونیا گاندھی ہوں یا کھرگے، انہوں نے جس طرح سے اس کی توہین کی ہے۔ ملک اس توہین کو نہیں بھولے گا اور کانگریس پارٹی کو نہیں بخشے گا۔
سیاست
آسام حکومت 1000 ترقی پسند کسانوں کو ہر ایک کو 1 لاکھ روپے کا انعام دے گی : سی ایم ہمنتا بسوا سرما

گوہاٹی : آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے پیر کو کہا کہ ریاستی حکومت اس سال 1000 ترقی پسند اور تعلیم یافتہ کسانوں کو ‘چیف منسٹرز ایگریکلچر ایکسیلنس ایوارڈ’ کے تحت ایک ایک لاکھ روپے کے انعام سے نوازے گی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ کاشتکاری کو ایک اچھے اور جدید کیریئر کے آپشن کے طور پر اختیار کریں۔
سرما نے کہا، “ہمیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کاشتکاری کی طرف راغب کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لیے ہم نے اس سال 1000 ترقی پسند اور تعلیم یافتہ کسانوں کو اعزاز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو زراعت سے متعلق مختلف سرکاری اسکیموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے گا۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے پانچ سالوں میں اس اقدام کے تحت 10,000 کسانوں کو اعزاز دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ پروگرام کاشتکاری کے جدید طریقوں کو فروغ دینے، زرعی تحقیق کو مضبوط بنانے اور پیداوار میں اضافے پر توجہ مرکوز کرے گا، تاکہ کسان زیادہ خود انحصار بن سکیں۔ چیف منسٹر ہمانتا بسوا سرما نے نوجوانوں سے متعلق مختلف پروگراموں کو ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کے لیے ایک وقف “یوتھ ویلفیئر ڈپارٹمنٹ” بنانے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
مجوزہ محکمہ نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی)، نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس)، روزگار کے تبادلے، اور تعلیم کے شعبے میں نوجوانوں سے متعلق اقدامات کو ایک چھتری کے نیچے اکٹھا کرے گا۔ توقع ہے کہ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ یعنی 17 ستمبر کے آس پاس لانچ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت 2 اکتوبر سے محکمہ کا آغاز کرے گی۔ 31 جنوری تک، حکومت “پروجیکٹ سدبھاونا 2” کا آغاز کرے گی، جس کا مقصد زیر التوا سرکاری فائلوں کی شناخت اور حل کرنا ہے۔ 300,000 سے زائد فائلیں مختلف محکموں، ڈائریکٹوریٹ اور ڈپٹی کمشنر دفاتر میں زیر التواء ہیں۔
ایک وقف شدہ پورٹل کے ذریعے، شہری زیر التوا مقدمات کے بارے میں معلومات جمع کر سکیں گے، جو اس کے بعد کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو بھیج دی جائے گی۔ جبکہ یہ عمل پہلے 2021 میں دستی طور پر کیا گیا تھا، موجودہ اقدام سے زیر التواء مقدمات کو بہتر طریقے سے ٹریک کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کے لیے ای فائلنگ سسٹم کا استعمال کیا جائے گا۔
سیاست
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نئی دہلی : آج کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کی میٹنگ میں، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان میں تعطل کو توڑنے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور تمام جماعتوں کے فلور لیڈروں سے جذباتی اپیل کی۔ برلا نے کہا کہ ایوان میں عوام کی آواز سنی جانی چاہیے۔ انہوں نے سب پر زور دیا کہ وہ اس کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔ تعطل کو توڑنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔ وقفہ سوالات کے دوران، ہر کسی کو اتنا ہی وقت دیا جائے گا جتنا وہ اہم بلوں پر بحث کے لیے درخواست کرتے ہیں۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ سب کو اس سمت میں سوچنا چاہئے تاکہ ارکان کی موثر شرکت ہو اور ملک ایوان کی بامعنی اور تعمیری بات چیت کو سن سکے۔ لوک سبھا اسپیکر نے تمام جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سب کے تعاون سے ایوان کی کارروائی ہموار، منظم اور باوقار طریقے سے چلائی جائے تاکہ مفاد عامہ سے متعلق اہم امور پر جامع اور بامقصد بحث ہو سکے۔ لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ عوام کے مسائل کو ایوان کی راہداریوں میں انتظار میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ مسائل اس ایوان میں اٹھائے جائیں، ان پر بحث کی جائے اور ان کا حل تلاش کیا جائے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
