قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ترز پرپوری دنیا میں ان کی حمایت میں مظاہرہ کئے جارہے ہیں
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین کی خواتین نے گزشتہ 16 دسمبر سے سریتاوہار کالند کنج روڈ پر اپنا مظاہرہ شروع کیا تھا۔ اس وقت یہ خاتون جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ پر پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف مورچہ سنبھالا تھا جو اس وقت پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ مہاراشٹر کے مالیگاؤں، بہار میں گیا، پٹنہ، ارریہ، مدھوبنی اور دیگر علاقوں میں سمیت الہ آباد میں منصور علی پارک (روشن باغ) اور دہلی کے سلیم پور، ذاکر نگر ڈھلان پر خواتین مستقل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے کوٹہ شہر میں بڑی تعداد میں خواتین نے جلوس نکال کر اس قانون کی مخالفت کی ہے۔ خواتین باغ خواتین کا مظاہرہ کا تذکرہ نہ صرف ہندوستان کے کونے کونے میں ہورہا ہے بلکہ پوری دنیا میں اور دنیا کی ہر یونیورسٹی میں اس کا ذکر ہورہا ہے اوران کی حمایت میں مظاہرہ کئے جانے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔
ایک مہینہ پورا ہونے والے شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں کیا پڑھی لکھی کیا ان پڑھ خواتین حصہ لے رہی ہیں۔ ایک 20 دن کے بچہ سے لیکر 90 سالہ خواتین بھی شریک ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ہم آئین کو بچانے کے لئے آئے ہیں۔ جوں جوں رات جوان ہوتی ہیں خواتین اور دیگر مظاہرین کی تعدد بڑھتی جاتی ہے۔ پوری دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک سے لوگ آرہے ہیں اور شاہین باغ خواتین کے جذبے کو سلام کرنے کے ساتھ ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
شاہین باغ میں اتوار کو لاکھوں مرد وخواتین نے جمع ہوکر یہ دکھادیا کہ وہ لوگ کتنے متحد ہیں اور اسی کے ساتھ شاہین باغ مظاہرین اسکوائر پر پنڈتوں نے ہون، سکھوں نے کیرتن، بائبل اور قرآن کی تلاوت کرکے صلح کل کا پیغام دے رہے ہیں۔ شاہین باغ مظاہرین کی حمایت میں ہون بھی کیا گیا اور مسلم خواتین نے ٹیکے بھی لگائے۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ اس مظاہرہ میں صرف ایک فرقہ کے لوگ نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں۔
شاہین باغ خواتین مظاہرہ کی خاص بات ہے کہ یہ کسی منظم کے بغیر ہے، اس کے پیچھے کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ شاہین باغ اور دور دراز سے لوگ کھانے کا پیکٹ گاڑیوں میں بھر کر لاتے ہیں یا خود تفسیم کرتے ہیں یا رضا کار کے حوالہ کردیتے ہیں۔ کوئی پانی کی بوتلیں لیکر آتا ہے تو کوئی سموسہ لیکر آتا ہے تو کوئی کھانے کی کوئی اور چیز، دلچسپ کی بات یہاں کی یہ ہے کہ یہاں ’سیکولر‘ چائے ملتی ہے۔ جو مستقل بنتی رہتی ہے اور ہزاروں لوگ پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے تھرمس میں لوگ چائے بناکر لاتے ہیں اور مظاہرین میں تقسیم کرتے ہیں۔ کوئی انڈا تقسیم کرتا ہے، کوئی بسکٹ لیکر آتا ہے، بریانی کے 1800 پکیٹس تقسیم کرنے والے حسین احمد نے بتایا کہ میں اس کے ذریعہ مظاہرہ کرنے والی خواتین کو سلام کرتا ہوں اور اس کے ذریعہ ان کی حمایت کرنا مقصد ہے۔
یہاں مکمل طور پر گنگا جمنی تہذیب کا نظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے، ایک بینر پر اوم، اللہ، سکھ کا مذہبی نشان اور صلیب کا نشان ہے۔ کئی بینر اس طرح کے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’نو کیش نو اکاؤنٹ‘،۔ شاہین باغ میں دہلی یونیورسٹی سے سیجو اور ابھتسا چوہان، خوشبو چوہان بھی ہیں جو اپنی ٹیم کے ساتھ شاہین باغ خواتین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آئی ہیں۔ باجے بجاکر اس سیاہ قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔ بچے ہاتھوں میں کینڈل جلاکر اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مظاہرہ میں شامل گیارہ سالہ فیضان احمد، گیارہ سالہ عاصیہ ندیم، رقیہ ندیم، چھ سالہ عدنان نے کہا کہ ہم ملک اور آئین کو بچانے اور سی اے اے، این سی آراور این پی آر کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔ نویں کلاس کی جامعہ کی طالبہ نے بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر بنایا گیا یہ قانون ہمیں منظور نہیں ہے۔ سماجی کارکن ملکہ نے بتایاکہ اس قانون سے غریب اور کمزور طبقہ کے سبھی مذاہب کے لوگ متاثر ہوں گے، اس کی مخالفت اس کی واپسی تک جاری رہے گی۔ مظفر پور کی رہنے والی خاتون نے اس مظاہرہ کے دوران کہا کہ ہم آزادی مانگنے آئے ہیں۔ایک خاتون مظاہرین نسیم بانو نے کہاکہ ہم سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے آئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ جب ملک ہی نہیں بچے گا، تو ہم لوگ کیسے بچیں گے۔ایک مظاہرین شمیم بانوں نے کہاکہ میں یہاں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرنے آئی ہوں۔
اس کے علاوہ بچوں کا چھوٹا چھوٹا گروپ ہے جو مختلف طرح کے انقلابی نعرے لگارہے ہیں۔ یہاں جتنی خواتین آتی ہوئی نظر آتی ہیں اتنی ہی خواتین جاتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں۔ یہاں کی آس پاس کی دوکانیں گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں، جس کی وجہ سے دوکانداروں کوبھی نقصان اور پریشانی ہے۔ یہا ں ایک چھوٹا سا میڈیکل کیمپ بھی ہے جو مختلف ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر بیٹھتے ہیں اور چھوٹی موٹی بیماری کا علاج اور طبیعت خراب کرنے والوں کو دوائی دیتے ہیں۔
اس مظاہرہ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ تمام سیاسی اور سماجی کارکن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔گرچہ اس مظاہرے کو سیاست اور سیاسی پارٹیوں سے دور رکھا جارہا ہے لیکن کوئی نہ کوئی شخص اس کی حمایت کرنے کے آہی جاتا ہے۔ ان میں سیاست داں سماجی کارکن، فلمی ہستیاں، سابق نوکر شاہ، تعلیمی، معاشی، اور سماجی ہستی شامل ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ مودی حکومت ملک کی مشترکہ ورثے اور گنگا جمنی تہذیب کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگی ہے لیکن ملک کے عوام ان کی اس منشا کو پورا ہونے نہیں دیں گے۔مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے شاہین باغ کی خواتین کو شاہین صفت قرار دیتے ہوئے کہاکہ شاہین کبھی ناکام نہیں ہوتا اورکامیابی آپ کی قدم چومے گی اور آپ کی یہ لڑائی منزل کے بغیر ختم نہیں ہونی چاہئے۔
شاہین باغ سے جامعہ اسکوائر تک چلنے والے اس مظاہرہ میں شامل ہونے والی سماجی کارکن سیما اسلم نے کہاکہ ہم احتجاج میں اس لئے آئے ہیں ہمیں حراستی کیمپ میں نہیں جانا ہے۔ اس لئے خواتین اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں کیوں کہ جب کوئی بھی بات پیش آتی ہے تو سب سے زیادہ خواتین ہی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج اس وقت کرتے رہیں گے جب تک اس کو واپس نہیں لیا جاتا ہے۔
سیمانچل سے تعلق رکھنے والی خواتین مظاہرین نے کہاکہ آج اس کی مخالفت اس لئے کر رہے ہیں کیوں کہ غریب لوگ شہریت کا ثبوت کہاں سے پیش کریں گے جب کہ اس کے پاس کوئی گھر، مکان یا جائداد نہیں ہے اور خاص طور پر ؎خواتین جب شادی ہوکر سسرال چلی جاتی ہیں زیادہ تر ان کے نام سے کوئی جائداد نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس پیسہ ہے ہم دستاویزات بنوالیں گے لیکن غریب خواتین کہاں سے دستاویزات لے کر آئیں گی۔
شاہین باغ میں خواتین مظاہرین کی حمایت کرتے سوراج ابھیان کے صدر یوگیندریادو نے کہا کہ میں یہاں ملک اور آئین کو بچانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے خواتین کے جذبے کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ خواتین آئین کی حفاظت کے لئے اس سخت سردی کے موسم میں آرام وآسائش کو چھوڑ کر دن رات کا دھرنا دے رہی ہیں۔
کل ہند مسلم یوتھ فورم کے سرپرست ٹی ایم ضیاء الحق نے مظاہرہ میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ کا خواتین مظاہرہ پوری دنیا کو پیغام دیا ہے کہ یہاں کی خواتین کسی طرح بھی اپنے حقوق اور ملک کے آئین کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور یہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی نہیں ہے بلکہ ہندوؤں کے بھی خلاف ہے۔پیپلزآف ہوپ کے چیرمین رضوان احمد نے خواتین کے مظاہرے کو ظلم و جبر اور آئین کے حق میں جنگ کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ بغیر کسی رہنمائی اور بغیر کسی انتظام کے 18 دن سے مظاہرہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب وہ اپنی طاقت دکھانے پر آجائے تو کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
مشہور روحانی گرو سوامی اگنی ویش نے کہاکہ آج ساری انسانی برادری کا متحد ہوکر ظلم کرنے والوں کے خلاف لڑنااور مظلوموں کا ساتھ دینا ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانیت ہمارا سب سے بڑا مذہب ہے اور اسی کو لیکر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے تناظر میں کہا کہ کچھ لوگ ہمیں باٹنے کی کوشش کریں گے لیکن ہمیں متحد رہنا ہے۔ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین کے احتجاج دیکھ کر اور خود کو آپ لوگوں کے درمیان پاکر قابل فخر محسوس کر رہا ہوں اور یہاں 20 دن کی بچی سے لیکر 80 سال کی خاتون تک ہیں۔
اس مظاہرہ کے انتظام و انصرام سے وابستہ محمد رفیع اور صائمہ خاں نے بتایا کہ اس مظاہرہ کی خاص کی بات یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تنظیم کے ہے اور نہ ہی اس مظاہرہ میں اب تک کسی کو بلایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اس کا کوئی منتظم ہے بس ہم لوگ یہاں کا تھوڑا بہت انتظام دیکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ مظاہرہ کسی فرقہ کے حق کیلئے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ ہم آئین کی حفاظت کے لئے سرد ی کی سخت ترین راتوں میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک آئین سے چلتا ہے اور جب آئین ہی نہیں بچے گاتو ملک کیسے بچے گا۔ یہ پوری دہلی بلکہ پورے ملک کی خواتین کو پیغام دے رہی ہیں کہ ظلم اور ناانصافی اوراس کا لا قانون کے خلاف احتجاج اور دھرنا میں کسی سے بھی وہ پیچھے نہیں ہیں اور وہ صرف زندگی میں ہی مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں، بلکہ ملکی حالات، مظالم کے خلاف اور پولیس کی بربریت کے خلاف اپنے آنچل کو پرچم بنانا بخوبی جانتی ہیں۔
دن رات کے مظاہرے میں حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمان، فلمی ہستی ذیشان ایوب، مشہور سماجی کارکن، مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، کانگریس لیڈر سندیپ دکشت، بار کونسل کے ارکان، وکلاء، جے این یو کے پروفیسر، سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا، ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، گوہر رضا، پپو یادو، وغیرہ نے اب تک شرکت کرکے ہمارے کاز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگے بھی ملک کی اہم شخصیت کی شرکت کی توقع ہے۔
اس مظاہرہ میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو 16 دسمبر سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہے مگر انتظامیہ کے کسی شخص نے اس کی سدھ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ یہ شخص صرف سیال چیزوں پر ہے۔اس کے ایک خاتون مہر النسا بھی ہیں جو گزشتہ دو ہفتوں سے بھوک ہڑتال ہیں۔ ان کی شکایت ہے کہ بھوک ہڑتال کو اتنے دن ہوگئے لیکن نہ تو دہلی حکومت کا کوئی نمائندہ اور نہ ہی مرکزی حکومت کا کوئی نمائندہ ان سے ملنے آیا ہے۔
سیاست
عمارت گرنے کے بعد دہلی کے سیما پوری میں انہدامی مہم چلائی گئی۔

نئی دہلی : شمالی دہلی کے سیما پوری میں ایک چار منزلہ عمارت کے منہدم ہونے کے دو دن بعد، جس میں دو بچوں سمیت کم از کم پانچ افراد کی موت ہو گئی تھی، جمعہ کو علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ انہدام کی مہم میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے حکم پر چلائی، ان تعمیرات کے خلاف جو حکومتی رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی تھیں، ان کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ علاقہ۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے، ڈی سی پی، ضلع شاہدرہ، راجیندر پرساد مینا نے کہا: “قریبی عمارت کو پہلے ہی خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ جب عمارت گر گئی، تو اس کا ایک حصہ پڑوسی عمارت سے ٹکرایا اور گرا، جس سے اس کی بالکونی اور دیواروں کو نقصان پہنچا۔ ایم سی ڈی نے آج مالک کو نوٹس جاری کیا اور اسے مکمل گرانے کے لیے دو گھنٹے کا وقت دیا… ہم نے پولیس کو حفاظتی آپریشن فراہم کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کے واقعے کے سلسلے میں ایک مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور منہدم ہونے والی عمارت کے مالک کی تلاش جاری ہے۔ “مالک فی الحال مفرور ہے،” پولیس افسر نے بتایا۔ دریں اثنا، بدھ کو ہونے والے اس سانحے میں جان کی بازی ہارنے والوں کی شناخت 12 سالہ لڑکی، 21 سالہ گلفصہ کے طور پر ہوئی ہے، جس کی عمر تقریباً ایک سال اور ایک ماہ کے قریب تھی۔ حکام نے بتایا کہ نصرت عرف گوریا اور ہاجرہ بی بی کے نام سے دو دیگر افراد ہیں۔ گرنے سے زخمی ہونے والے آٹھ افراد کو بچا لیا گیا اور انہیں علاج کے لیے طاہر پور کے راجیو گاندھی سپر اسپیشلٹی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ جمعرات کو.
سیما پوری میں عمارت گرنے کا واقعہ دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اسی طرح کے ایک واقعے کے ایک ماہ بعد پیش آیا تھا جس میں پانچ طالب علموں سمیت سات افراد کی موت ہوئی تھی۔ ستیہ نکیتن کی عمارت میں ادائیگی کرنے والے مہمانوں کی رہائش تھی اور زیادہ تر دہلی یونیورسٹی میں طلباء کا داخلہ ہوتا تھا۔ اس سانحے کے بعد، ایم سی ڈی نے پھر غیر مجاز اور غیر محفوظ ڈھانچے کی نشاندہی کرنے کی مہم کے ایک حصے کے طور پر، قومی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں “خستہ حال” عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کیا۔
سیاست
کرناٹک کے کانگریس رکن اسمبلی روی کا بیان : اسٹنگ آپریشن کے ثبوت ایک ہفتے کے اندر جاری کروں گا۔

منڈیا (کرناٹک) : کانگریس ایم ایل اے گنیگا روی، چیف منسٹر ڈی کے کے سخت پیروکار ہیں۔ شیوکمار نے جمعہ کو دعویٰ کیا کہ وہ کرناٹک میں اسٹنگ آپریشن تنازعہ کے پیچھے مبینہ سازش کا پردہ فاش کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر ثبوت جاری کریں گے، ایک پین ڈرائیو دکھائیں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ ان کے پاس اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزات، سی سی ٹی وی فوٹیج، آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ہیں۔ وزیر اور کرناٹک کے ایک بی جے پی لیڈر نے وزراء کو پھنس کر ریاستی حکومت کو شرمندہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر ثبوت جاری کریں گے اور ایک ہفتہ کے اندر تفتیشی افسر کو دستاویزات پیش کریں گے۔ انہوں نے اس مواد کو میڈیا تک پہنچانے کا بھی وعدہ کیا۔
روی نے دعویٰ کیا کہ “یہ ہٹ اینڈ رن کا معاملہ نہیں ہوگا۔ میرے پاس اس میں ملوث ایجنسی، آپریشن کے پیچھے لوگ، ادا کی گئی رقم، ان سے ملاقات کرنے والے وزراء اور مختلف لیڈروں کے ذاتی معاونوں کی شناخت کے ثبوت موجود ہیں۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کی ایجنسی کے لیے بنگلورو کے ایک ہوٹل میں قیام کے انتظامات کیے گئے تھے۔ کانگریس حکومت کے لیے شرمندگی تاہم، انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزراء کسی غلط کام میں ملوث نہیں تھے اور وہ مبینہ جال میں نہیں پڑے تھے۔ شیوکمار نے کابینہ کے ساتھیوں کو اسٹنگ آپریشن کے امکان کے درمیان احتیاط برتنے کا کہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ نے وزراء کو خبردار کیا ہے کیونکہ مبینہ سازش کے بارے میں ثبوت دستیاب ہیں۔ ایم ایل اے نے کہا کہ وہ سات دن کے اندر تفتیشی افسر کے سامنے مواد پیش کریں گے اور بعد میں میڈیا کے سامنے ثبوت جاری کریں گے، بشمول سی سی ٹی وی اور آڈیو ریکارڈنگ فوٹیج۔
روی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں کیونکہ وہ شیوکمار کی قیادت میں وزیر اعلیٰ کے طور پر ترقی کی رفتار کو قبول کرنے سے قاصر ہیں۔ روی نے اپنے بیان کے وقت ان افراد کی شناخت کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا جن پر اس نے الزام لگایا تھا یا مطلوبہ ثبوت جاری نہیں کیے تھے۔ روی نے یہ بھی الزام لگایا کہ اپوزیشن لیڈر غلط معلومات پھیلا رہے ہیں کیونکہ وہ شیوکمار کی قیادت۔ یاد رہے کہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے۔ شیوکمار نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ ان کے وزیر اعلی بننے کے بعد اسٹنگ آپریشن کے ذریعے انہیں پھنسانے کی کوشش کی گئی اور کہا کہ ان کے پاس اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے تصاویر اور دستاویزات موجود ہیں۔ دہلی میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم شیوکمار نے کہا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ مبینہ اسٹنگ آپریشن کے پیچھے کون ہے، چیف منسٹر بننے کے بعد چند لوگوں نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ میرے پاس تصاویر ہیں، میں جانتا ہوں کہ ان اسٹنگ آپریشنز کا باپ کون ہے۔
(جنرل (عام
اوڈیشہ : سب انسپکٹر بھرتی امتحان-2024 کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے سلسلے میں اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں واقع دس مقامات پر تلاشی مہم کی شروع

بھونیشور : انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، بھونیشور زون نے جمعہ کو اوڈیشہ میں سب انسپکٹر بھرتی امتحان-2024 کا سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے سلسلے میں اوڈیشہ اور مغربی بنگال میں واقع دس مقامات پر تلاشی مہم شروع کی۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ مبینہ طور پر ملوث مرکزی ملزم اور اس کے ملٹی ایس آئی شنکر سے منسلک احاطے میں تلاشی لی جا رہی تھی۔ بھرتی گھوٹالہ۔“ یہ کیس اڑیسہ پولیس کی طرف سے اکتوبر 2025 میں درج کی گئی ایف آئی آر سے نکلتا ہے جب 30.09.2025 کو اڑیسہ پولیس نے 114 امیدواروں کو لے جانے والی تین بسوں کو اچھاپورم (آندھرا پردیش اور اوڈیشہ کا سرحدی شہر) کے سرحدی علاقے کے قریب روکا اور ایس آئی سی کے امتحان کے امتحان کے شیڈول کے سوال نامہ کو لیک کرنے کے لیے۔ 6 اکتوبر 2025، نقد کے بدلے میں 15 سے 30 لاکھ روپے فی امیدوار کے درمیان،” ای ڈی ذرائع نے بتایا۔
اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کی سفارش پر، کیس، جس کی اوڈیشہ پولیس کرائم برانچ کی طرف سے تحقیقات کی جا رہی تھی، بعد میں سی بی آئی کو منتقل کر دیا گیا۔ ای ڈی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سوالیہ پرچہ مبینہ طور پر ان اداروں سے وابستہ افراد نے لیک کیا تھا جن کو امتحان کے انعقاد کا کام سونپا گیا تھا۔ رقم اور ان کے اصل سرٹیفکیٹ ضمانت کے طور پر لیے گئے۔
ای ڈی کے ذرائع نے بتایا، “تلاشیوں کے دوران، ایجنسیوں اور اس سے وابستہ افراد کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے۔ میسرز سلکان ٹیک لیب پرائیویٹ لمیٹڈ اور میسرز پنچ سافٹ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ اور ان کے ڈائریکٹرز سمیت دیگر افراد کو تلاشی کے دوران چھپایا جا رہا ہے۔” یہ بات قابل غور ہے کہ مبینہ ماسٹر مائنڈ، او ایس ایس آئی شنکرو پولس امتحان کے پیچھے ملوث ہے۔ پرسٹی، کو نومبر 2025 میں اتراکھنڈ سے کرائم برانچ کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔ پنچ سوفٹ ٹیکنالوجیز کے ایک ڈائریکٹر شنکر پرسٹی کو ہفتے کے روز اتراکھنڈ میں نیپال کی سرحد کے قریب سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
