Connect with us
Monday,27-April-2026
تازہ خبریں

سیاست

شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں بلکہ راستہ دکھایا ہے:انجینئر محمد سلیم

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہاکہ شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں ہے بلکہ ملک کو راستہ دکھایا ہے جس پر لوگوں کو چلنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم کچھ لوگ بند راستے کا ہوا کھڑا کرکے شاہین باغ مظاہرہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے شاہین باغ مظاہرین نے کسی کا راستہ روکا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو راستہ دکھایا ہے اور آج پورا اس راستہ پر چل رہا ہے اور شاہین باغ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کا آئین سیکولر ازم پر مبنی ہے جس میں سب کو یکساں اختیار دیتا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی ہے اس لئے ہمارے ملک کی خواتین سڑکوں پر نکل کر مخالفت کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاتون مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی آپ جیت چکی ہیں اور حاکم نے اپنی ہار مان لی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مظاہرے پر طرح طرح کے الزام لگاکر آپ کے مظاہرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے دکھادیا کہ کس طرح پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ پر حملے کئے گئے لیکن آپ نے اس کا جواب اخلاق سے دیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا۔جس کی پوری دنیا میں تعریف ہورہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں طلبہ پر حملہ کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران شہیدہونے والوں کی قربانی ضائع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کی یہ قربانی ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں شروع سے شامل اور انتظام میں ہاتھ بٹانے والی نصرت آراء نے بتایا کہ چننئی سے خواتین اور مردوں کا ایک گروپ شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک بس میں بھر کر آیا ہے جس میں پچاس کے آس پاس لوگ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قانون ملک اور سماج کو باٹنے والا ہے اور اس لئے ہم لوگ یہاں شاہین باغ خواتین کی حمایت کے لئے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم چننئی سے اس لئے آئے ہیں تاکہ یہ بتاسکیں گے ہم لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکر چلنے آئے ہیں۔
شاہین باغ مظاہرہ میں پنجاب سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی ایک گروپ موجودہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سکھ کس بیدار ہیں اس کا اندازہ ان کی ذہنی اور جسمانی شمولیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ صرف دھرنے میں شریک نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہاں کے انتظام و انصرا م میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کا جتھ لنگر کے ساتھ آتا ہے۔ اس وقت ایک سکھ ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا مستقل لنگر چلا رہے ہیں۔ سکھوں کا احساس ہے کہ حکومت اس قانون کے سلسلے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔طلبہ کے پڑھنے کے مظاہرین نے لائبریری بھی بنائی ہے۔ آج مظاہرین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہولی فیملی اسپتال کے پاس ہی روک لیا۔ دونوں فریق میں گفت و شنید جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔اترپردیش میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف احتجاج اب دوبارہ منظم ہورہا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : انگڑیا کا دس لاکھ کاندیولی میں پارکنگ سے چوری کرنے والے دو شاطر چور کی گرفتاری مزید کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی انگڑیا کا دس لاکھ روپے چوری کرنے کے معاملہ میں پولس نے ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کاندیولی علاقہ میں شکایت کنندہ نکھل اروند شاہ ۴۴ سالہ ملاڈ کا رہائشی انگڑیا سے ۱۰ لاکھ روپے لے کر بلڈنگ میں اسکوٹر پارک کر کے گیا تھا اسی دوران دو افراد کے اسکوٹی کی ڈگی میں موجود نقدی رقم لے کر فرار ہو گئے معاملہ میں پولس نے معاملہ درج کر لیا اور چوروں کی تلاش کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کی گئی اور کاندیولی کے ۱۲۴ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور پولس ٹیم کو ملزمین کو سراغ گجرات ملا یہاں پہنچ کر دونوں ملزمین کو گرفتار کر لیا اور ان کے قبضے سے چوری کے ۱۰ لاکھ میں سے ۷ لاکھ روپے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ملزمین نے اعتراف جرم کر لیا ہے اس کے ساتھ ملزمین نے تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں اس چوری میں دو مزید افراد نے مدد کی تھی ان دونوں کی بھی پولس تلاش کرُرہی ہے ممبئی پولس نے اس معاملہ میں ملزمین کو گرفتار کر کے کیس کو حل کر لیا ہے پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ایڈیشنل کمشنر ششی کمار مینا اور ڈی سی پی سندیپ جادھو نے کیس حل کیا

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں مشتبہ غذائی زہرخورانی سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق

Published

on

ممبئی، 27 اپریل: (قمر انصاری) ممبئی میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد مشتبہ غذائی زہرخورانی کے باعث جاں بحق ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متوفیان میں 40 سالہ شوہر، 35 سالہ بیوی اور ان کی دو بیٹیاں (16 سال اور 13 سال) شامل ہیں۔ موصولہ معلومات کے مطابق 25 اپریل کی رات تقریباً 10:30 بجے اس خاندان نے اپنے پانچ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا تھا۔ اس طرح کل 9 افراد اس کھانے میں شریک تھے۔ بعد ازاں دیگر رشتہ دار اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور انہیں کسی قسم کی طبی شکایت نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق رات تقریباً 1:00 سے 1:30 بجے کے درمیان ان چاروں افراد نے گھر پر تربوز بھی کھایا۔ اگلی صبح 26 اپریل کو تقریباً 5:30 سے 6:00 بجے کے درمیان چاروں افراد کو قے اور اسہال کی شدید شکایت شروع ہو گئی۔

ابتدائی طور پر انہیں مقامی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے سر جے. جے. ہسپتال منتقل کیا گیا۔ علاج کے دوران سب سے چھوٹی بیٹی صبح تقریباً 10:15 بجے انتقال کر گئی، جبکہ دیگر تین افراد بھی اسی دن جانبر نہ ہو سکے۔ خاندان کے سربراہ کا انتقال رات تقریباً 10:30 بجے ہوا۔

تمام افراد کا بعد از مرگ معائنہ (پوسٹ مارٹم) مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ حتمی رائے بافتی تجزیہ (ہسٹوپیتھالوجی) کی رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جائے گی۔

اس معاملے میں جے جے مارگ پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زہرخورانی کی اصل وجہ کیا تھی—رات کا کھانا، تربوز یا کوئی اور شے۔ اس واقعے کے بعد مقامی افراد میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جبکہ حکام نے خوراک کی صفائی اور احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

بزنس

مضبوط عالمی اشارے پر اسٹاک مارکیٹ سبز رنگ میں کھلا، فارما اور رئیلٹی سیکٹر میں خریداری

Published

on

ممبئی: مضبوط عالمی اشارے کی وجہ سے پیر کے تجارتی سیشن میں ہندوستانی اسٹاک مارکیٹیں بلندی پر کھل گئیں۔ صبح 9:19 بجے، سینسیکس 363 پوائنٹس، یا 0.47 فیصد، 77،027 پر تھا، اور نفٹی 106 پوائنٹس، یا 0.45 فیصد، 24،004 پر تھا۔ فارماسیوٹیکل اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں نے ابتدائی تجارت میں مارکیٹ ریلی کی قیادت کی۔ انڈیکس میں نفٹی ریئلٹی اور نفٹی فارما سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے تھے۔ دریں اثنا، نفٹی ہیلتھ کیئر، نفٹی میٹل، نفٹی آئی ٹی، نفٹی انڈیا ڈیفنس، اور نفٹی کموڈٹیز سمیت تقریباً تمام دیگر اشاریے سبز رنگ میں تھے۔ بڑے کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی زبردست اضافہ دیکھا گیا۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 794 پوائنٹس یا 1.34 فیصد بڑھ کر 60,169 پر تھا، اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 240 پوائنٹس یا 1.37 فیصد بڑھ کر 17,807 پر تھا۔ سینسیکس پیک میں، سن فارما، اڈانی پورٹس، ٹاٹا اسٹیل، انفوسس، کوٹک مہندرا بینک، ایم اینڈ ایم، ایل اینڈ ٹی، ٹیک مہندرا، این ٹی پی سی، آئی ٹی سی، ایشین پینٹس، ایٹرنل، ماروتی سوزوکی، ٹائٹن، ایس بی آئی، ٹرینٹ، پاور گرڈ، بجاج فنسرو، بھارتی، ایئر بی بی، انٹر جی بی ای، انٹر جی بی وی آئیرز شامل تھے۔ ایکسس بینک، بی ای ایل، اور بجاج فائنانس خسارے میں رہے۔ بیشتر ایشیائی مارکیٹیں اونچی سطح پر کھلیں۔ ٹوکیو، شنگھائی، ہانگ کانگ، بنکاک، سیول اور جکارتہ سبز رنگ میں تھے۔ جمعہ کو امریکی بازار ملے جلے بند ہوئے، ڈاؤ میں 0.16 فیصد اور نیس ڈیک میں 1.63 فیصد اضافہ ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ریلی کی ایک وجہ ایران کے ساتھ بھارت کے ساتھ امریکہ کے لیے نئی امن تجویز ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جنگ کو ختم کرنا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کی منسوخی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئیز) مسلسل فروخت کنندہ رہے ہیں۔ جمعہ کو، انہوں نے 8,827.87 کروڑ روپے کی ایکوئٹی فروخت کی۔ دریں اثنا، گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئیز) نے ایکوئٹی میں ₹ 4,700.71 کروڑ کی سرمایہ کاری کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان