سیاست
شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں بلکہ راستہ دکھایا ہے:انجینئر محمد سلیم
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہاکہ شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں ہے بلکہ ملک کو راستہ دکھایا ہے جس پر لوگوں کو چلنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم کچھ لوگ بند راستے کا ہوا کھڑا کرکے شاہین باغ مظاہرہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے شاہین باغ مظاہرین نے کسی کا راستہ روکا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو راستہ دکھایا ہے اور آج پورا اس راستہ پر چل رہا ہے اور شاہین باغ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کا آئین سیکولر ازم پر مبنی ہے جس میں سب کو یکساں اختیار دیتا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی ہے اس لئے ہمارے ملک کی خواتین سڑکوں پر نکل کر مخالفت کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاتون مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی آپ جیت چکی ہیں اور حاکم نے اپنی ہار مان لی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مظاہرے پر طرح طرح کے الزام لگاکر آپ کے مظاہرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے دکھادیا کہ کس طرح پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ پر حملے کئے گئے لیکن آپ نے اس کا جواب اخلاق سے دیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا۔جس کی پوری دنیا میں تعریف ہورہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں طلبہ پر حملہ کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران شہیدہونے والوں کی قربانی ضائع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کی یہ قربانی ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں شروع سے شامل اور انتظام میں ہاتھ بٹانے والی نصرت آراء نے بتایا کہ چننئی سے خواتین اور مردوں کا ایک گروپ شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک بس میں بھر کر آیا ہے جس میں پچاس کے آس پاس لوگ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قانون ملک اور سماج کو باٹنے والا ہے اور اس لئے ہم لوگ یہاں شاہین باغ خواتین کی حمایت کے لئے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم چننئی سے اس لئے آئے ہیں تاکہ یہ بتاسکیں گے ہم لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکر چلنے آئے ہیں۔
شاہین باغ مظاہرہ میں پنجاب سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی ایک گروپ موجودہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سکھ کس بیدار ہیں اس کا اندازہ ان کی ذہنی اور جسمانی شمولیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ صرف دھرنے میں شریک نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہاں کے انتظام و انصرا م میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کا جتھ لنگر کے ساتھ آتا ہے۔ اس وقت ایک سکھ ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا مستقل لنگر چلا رہے ہیں۔ سکھوں کا احساس ہے کہ حکومت اس قانون کے سلسلے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔طلبہ کے پڑھنے کے مظاہرین نے لائبریری بھی بنائی ہے۔ آج مظاہرین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہولی فیملی اسپتال کے پاس ہی روک لیا۔ دونوں فریق میں گفت و شنید جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔اترپردیش میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف احتجاج اب دوبارہ منظم ہورہا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
جرم
سی آئی ڈی نے ابھیشیک بنرجی سے انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔

کولکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی منگل کو کولکتہ کے بھوانی بھون میں مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی ڈی) کے سامنے پیش ہوئے جس میں ان کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دینے اور اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
یہ رپورٹ لکھے جانے کے وقت، کیس کی تفتیش کرنے والے سی آئی ڈی کے اہلکار تقریباً دو گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔
ابھیشیک بنرجی کو منگل کی دوپہر تک جنوبی کولکتہ کے بھوانی بھون میں سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں پیش ہونا تھا۔ تاہم، وہ مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے بھوانی بھون پہنچے، داخلی دروازے پر مہمانوں کے رجسٹر پر دستخط کیے، اور پوچھ گچھ کے لیے اندر چلے گئے۔
یہ لگاتار تیسرا دن ہے کہ کسی معاملے کے سلسلے میں تفتیشی ایجنسی نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ پیر کے روز، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے مغربی بنگال میں کروڑوں روپے کے “اسکول-نوکری-کیش” گھوٹالے کے سلسلے میں 11 گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی۔
اس سے پہلے اتوار کو سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے بنرجی سے سی آئی ڈی کی تفتیش کے سلسلے میں ساڑھے آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں سووندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کرنے والی قرارداد پر ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں سے متعلق ہے۔ جمع کرائے گئے دستاویزات میں تضاد کی وجہ سے سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
اس کے بعد، سی آئی ڈی منگل کو ایک ایسے معاملے میں ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کر رہی ہے جس میں ان پر حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دھمکی دینے کا الزام ہے۔
اس معاملے میں، بنرجی کے خلاف گزشتہ ماہ بیدھا نگر سٹی پولس کے تحت بدھ نگر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سائبر کرائم تھانے کے اہلکار ابتدائی طور پر تفتیش کر رہے تھے لیکن بعد میں 11 جون کو تفتیش سی آئی ڈی کو منتقل کر دی گئی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔
مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔
‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
