Connect with us
Thursday,05-November-2026
تازہ خبریں

سیاست

شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں بلکہ راستہ دکھایا ہے:انجینئر محمد سلیم

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہاکہ شاہین باغ نے راستہ روکا نہیں ہے بلکہ ملک کو راستہ دکھایا ہے جس پر لوگوں کو چلنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم کچھ لوگ بند راستے کا ہوا کھڑا کرکے شاہین باغ مظاہرہ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے شاہین باغ مظاہرین نے کسی کا راستہ روکا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو راستہ دکھایا ہے اور آج پورا اس راستہ پر چل رہا ہے اور شاہین باغ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک کا آئین سیکولر ازم پر مبنی ہے جس میں سب کو یکساں اختیار دیتا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق کی اجازت نہیں دیتا اور یہ قانون مذہبی تفریق پر مبنی ہے اس لئے ہمارے ملک کی خواتین سڑکوں پر نکل کر مخالفت کر رہی ہیں۔
انہوں نے خاتون مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی آپ جیت چکی ہیں اور حاکم نے اپنی ہار مان لی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ثابت قدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے مظاہرے پر طرح طرح کے الزام لگاکر آپ کے مظاہرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آپ نے دکھادیا کہ کس طرح پرامن طریقے سے مظاہرہ کرکے دنیا کی توجہ مبذول کرائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آپ پر حملے کئے گئے لیکن آپ نے اس کا جواب اخلاق سے دیا، نفرت کا جواب محبت سے دیا۔جس کی پوری دنیا میں تعریف ہورہی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جے این یو میں طلبہ پر حملہ کیا گیا لیکن ان لوگوں نے اس کا جواب پرامن طریقے سے دیا۔انہوں نے کہاکہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران شہیدہونے والوں کی قربانی ضائع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آپ کی یہ قربانی ہندوستانی جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں شروع سے شامل اور انتظام میں ہاتھ بٹانے والی نصرت آراء نے بتایا کہ چننئی سے خواتین اور مردوں کا ایک گروپ شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایک بس میں بھر کر آیا ہے جس میں پچاس کے آس پاس لوگ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ قانون ملک اور سماج کو باٹنے والا ہے اور اس لئے ہم لوگ یہاں شاہین باغ خواتین کی حمایت کے لئے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ ہم چننئی سے اس لئے آئے ہیں تاکہ یہ بتاسکیں گے ہم لوگ اس قانون کے خلاف ہیں اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکر چلنے آئے ہیں۔
شاہین باغ مظاہرہ میں پنجاب سے سکھوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی ایک گروپ موجودہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف سکھ کس بیدار ہیں اس کا اندازہ ان کی ذہنی اور جسمانی شمولیت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ صرف دھرنے میں شریک نہیں ہورہے ہیں بلکہ وہاں کے انتظام و انصرا م میں حصہ لے رہے ہیں اور ان کا جتھ لنگر کے ساتھ آتا ہے۔ اس وقت ایک سکھ ایڈووکیٹ ڈی ایس بندرا مستقل لنگر چلا رہے ہیں۔ سکھوں کا احساس ہے کہ حکومت اس قانون کے سلسلے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ چار دنوں کے دوران دو بار فائرنگ کا واقعہ کے باوجود پوری شدت سے احتجاج جاری ہے۔ پولیس رکاوٹیں کھڑی کرکے تلاشی کے ساتھ آنے جانے والوں پر نظر رکھ رہی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔طلبہ کے پڑھنے کے مظاہرین نے لائبریری بھی بنائی ہے۔ آج مظاہرین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں ہولی فیملی اسپتال کے پاس ہی روک لیا۔ دونوں فریق میں گفت و شنید جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ گزشتہ رات خوریجی خواتین مظاہرہ سے متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری میں خواتین کے احتجاج جاری ہے اور وہاں خواتین نے ایک نیا شاہین باغ بناکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔اسی طرح راجستھان کے کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کا جذبہ قابل دید ہے اوراندور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خواتین سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ یہاں پر بھی اہم لوگوں کا آنا جانا جاری ہے اور مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی خواتین پر پولیس نے حملہ کردیا تھا اور مولانا طاہر مدنی سمیت 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔اترپردیش میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف احتجاج اب دوبارہ منظم ہورہا ہے۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

(جنرل (عام

سمندری ممالیہ جانوروں کے ساحل پر پھنسنے کے سب سے زیادہ 161 واقعات گوا میں درج، سی ایم ایف آر آئی کی رپورٹ

Published

on

کوچی : گوا میں 2024-25 کے دوران 113 کیسوں کے ساتھ، ہندوستانی ساحل کے ساتھ سب سے زیادہ تعداد میں سمندری ممالیہ پائے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ آئی سی اے آر-سنٹرل میرین فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ایم ایف آر آئی) کے ایک مطالعہ کے مطابق، کیرالہ 13 کیسوں کے ساتھ اس کے بعد، مہاراشٹرا 11 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اب ایک ڈیجیٹل نقشہ تیار کیا ہے تاکہ ایسے واقعات کو ٹریک کیا جا سکے اور سمندری ستنداریوں کی حفاظت میں مدد ملے۔ نقشہ جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے اور 32 سمندری ستنداریوں کی انواع کا احاطہ کرنے والے تقریباً 1,300 مقام کے ریکارڈ کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس مطالعہ کی قیادت سی ایم ایف آر آئی کے سینئر سائنسدان رتیش کمار رویندرن نے کی۔ یہ انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہونے والے ماہی پروری اور ریموٹ سینسنگ کے ایک بین الاقوامی سمپوزیم میں پیش کیا گیا۔

ہمپ بیک ڈولفنز پھنسے ہوئے سمندری ستنداریوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں، جن کی تعداد 82 ہے۔ انڈو پیسیفک فین لیس پورپوز 44 کیسز کے ساتھ آگے آیا۔ ڈیٹا سی ایم ایف آر آئی کے سمندری ممالیہ اسٹریڈنگ نیٹ ورک کے ذریعے جمع کیا گیا تھا۔ یہ نیٹ ورک ہندوستانی ساحل کے ساتھ واقع انسٹی ٹیوٹ کے علاقائی مراکز میں عملے کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ریکارڈز کو تربیت یافتہ رضاکاروں اور اوپن ایکسیس ڈیٹا بیس سے تصدیق شدہ معلومات سے بھی تعاون حاصل تھا۔ ایسا ہی ایک ذریعہ میرین میمل ریسرچ اینڈ کنزرویشن نیٹ ورک آف انڈیا تھا۔ نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تفصیلات فراہم کرتا ہے کہ جانور کہاں پائے گئے، ان کی نسلیں، واقعات اور موت کی ممکنہ وجوہات۔ یہ صارفین کو اس بات کا مطالعہ کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے کہ اسٹرنڈنگ کب اور کہاں ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ نقشے سے ان علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملے گی جہاں اس طرح کے واقعات زیادہ عام ہیں۔ اس سے محققین اور سرکاری ایجنسیوں کو سمندری ستنداریوں کے لیے ممکنہ خطرات کا مطالعہ کرنے اور تحفظ کے بہتر اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

رتیش کمار رویندرن نے کہا کہ یہ معلومات محققین، پالیسی سازوں اور تحفظ فراہم کرنے والی ایجنسیوں کو اہم شعبوں کی نشاندہی کرنے اور پھنسے ہوئے واقعات پر ان کے ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے ایسے معاملات کی اطلاع دینے کے لیے بہتر کوآرڈینیشن اور مضبوط نیٹ ورکس کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس تحقیق میں انواع کی شناخت کے لیے فیلڈ چیک، ڈی این اے ٹیسٹ اور یہ سمجھنے کے لیے مقامات کی نقشہ سازی کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی کہ سمندری ممالیہ کیوں پھنسے ہوئے ہیں۔ تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا اہتمام ٹریور پلاٹ سائنس فاؤنڈیشن، کوچین یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کیمیکل اوشیانوگرافی، سی ایم ایف آر آئی اور میرین بائیولوجیکل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ مرکزی ارتھ سائنسز کی وزارت کے سکریٹری سری نواس کمار تملا جمعہ کو اختتامی سیشن کا افتتاح کریں گے۔

Continue Reading

سیاست

یوپی کے وزیر اعلیٰ کا الزام : کانگریس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے

Published

on

yogi

غازی آباد : اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کو الزام لگایا کہ کانگریس انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) سمیت مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف اپنے احتجاج کے ذریعے “انتشار پھیلا کر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے” کی کوشش کر رہی ہے۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں ‘جمہوریت بچاؤ، انارکی کو ہٹاؤ’ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، یوپی کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا: “کانگریس اور اس کے اتحادیوں بشمول دہلی کے احتجاج کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ صرف ایک وجہ ہے: پی ایم مودی کی قیادت میں، ایک ‘نیو انڈیا’ نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے، اس نے اپنے آگے بڑھنے کے شاندار سفر کو آگے بڑھایا ہے۔ تاہم، کانگریس اور اس کے اتحادی صرف رکاوٹیں پیدا کرنے اور رکاوٹ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔”

سی ایم آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا، “کانگریس اپنے مفادات کی وجہ سے دنیا کی قدیم اور سب سے بڑی جمہوریت کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے اور یہ پہلی بار نہیں ہے۔ آئینی اداروں پر سوال اٹھانا اور انہیں جوابدہ ٹھہرانا پارٹی کی فطرت بن گئی ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا کرکے کانگریس ہندوستان کے آزادی پسندوں کی ’’توہین‘‘ کا گناہ کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ پارٹی اپنے دور حکومت میں بھارت کو بار بار خطرے میں ڈال رہی ہے۔ “جب بھی کانگریس کو موقع ملا، اس نے قوم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا موقع کبھی نہیں چھوڑا… مختلف ذرائع سے لاکھوں کروڑوں کے گھوٹالے کرنے اور ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ کرنے کے بعد… جب کانگریس نے عام لوگوں کا بھروسہ مکمل طور پر کھو دیا تھا، قوم نے اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر اعتماد کیا،” انہوں نے دعویٰ کیا۔ وزیر اعظم مودی کے ‘وکشت بھارت 2047’ کے وژن پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا، “ہندوستان جانتا ہے کہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی رکاوٹوں کو کیسے مضبوطی سے توڑنا ہے۔ تاہم، کانگریس اور اس کے اتحادی شراکت دار اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔”

“جب وہ الیکشن جیتتے ہیں، تو وہ اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ لیتے ہیں، لیکن جب وہ ہارتے ہیں، وہ ای وی ایم کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں،” انہوں نے دعویٰ کیا، اپوزیشن کو ایک اسکول کے بچے سے تشبیہ دیتے ہوئے جو امتحان میں کم نمبر حاصل کرنے کا بہانہ بناتا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ملک میں اہم پیشرفت کر رہی ہیں، سی ایم آدتیہ ناتھ نے کہا، “آج ملک بھر میں تقریباً 12 سیمی کنڈکٹر یونٹس قائم ہو رہے ہیں۔ پی ایم مودی نے دکھایا ہے کہ ملک کی ترقی پر سوال اٹھانے والوں کی ترقی کیسے کی جاتی ہے۔” مزید برآں، یوپی کے وزیر اعلیٰ نے کانگریس اور سماج وادی پارٹی پر بھگوان رام کے بھکتوں کے خلاف “عدالت میں اور سڑکوں پر” لڑنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم نعرے لگاتے تھے کہ گولی لگنے اور لاٹھیوں سے مارے جانے کے باوجود ہم ایودھیا میں اسی جگہ رام مندر بنائیں گے، وہ وعدہ آج پورا ہو گیا ہے۔ سی ایم آدتیہ ناتھ نے بھی ‘اگنیویرز’ کے لیے اپنی ابتدائی چار سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد دو سال کی سروس کی مدت کا دوسرا آپشن فراہم کرنے کے مرکز کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا: “ہم نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا، “ہم آپ کے شکر گزار ہیں، پی ایم مودی۔ آپ نے ہندوستان کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کے لیے جو عزت اور احترام کا جذبہ پیدا کیا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے۔” مزید، چیف منسٹر نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ اپنے دور حکومت میں ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کا مناسب جواب نہیں دے رہی ہے۔ “پہلے، جب دشمنوں نے ہمارے فوجیوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں کیں، تو کانگریس کبھی بھی مناسب جواب نہ دے کر محض یہ کہتی تھی، ‘ہم اسے دیکھ رہے ہیں’۔ پی ایم مودی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی دشمن ہمیں للکارنے کی جرات کرتا ہے تو ہم ان کی طرف سیدھی آنکھ سے دیکھیں گے اور جواب دیں گے،” انہوں نے کہا۔ “اگر کوئی دہشت گرد پاکستان میں چھپا ہوا ہے، تو ہم ان کو بے اثر کرنے کے لیے پاکستان میں داخل ہوں گے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ دشمن سے مناسب طریقے سے نمٹا جائے،” انہوں نے مزید کہا کہ یہ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے عزم اور قیادت کی وجہ سے ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور نکسل ازم کا خاتمہ ہوا ہے۔

Continue Reading

سیاست

چاوڑی بازار عمارت حادثہ : دو ایم سی ڈی انجینئروں کو معطل، ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج، دہلی کی وزیر اعلیٰ کا بیان

Published

on

نئی دہلی : دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جمعرات کو دہلی کے چاوڑی بازار علاقے میں عمارت گرنے کے مقام پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا اور کہا کہ میونسپل کارپوریشن نے اس سانحہ کے بعد اپنے جونیئر انجینئر (جے ای) اور اسسٹنٹ انجینئر (اے ای) کو معطل کر دیا ہے جس میں اب تک دو لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سی ایم گپتا نے کہا کہ اب تک دو لوگوں کو مردہ نکالا جا چکا ہے، جبکہ ایک شخص کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جس عمارت میں ایک گراؤنڈ فلور اور دو اضافی منزلیں تھیں، زیر تعمیر تھی۔ گرنے کی اصل وجہ مزید تحقیقات کے بعد واضح ہو سکے گی۔”

انہوں نے مزید کہا, “میونسپل کارپوریشن نے اپنے جونیئر انجینئر (جے ای) اور اسسٹنٹ انجینئر (اے ای) کو معطل کر دیا ہے، اور تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔” وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے کسی بھی قسم کے تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی پروٹوکول پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ “لوگ جس طرح سے گھروں کی تعمیر کے دوران اپنی حفاظت اور حفاظت کو نظر انداز کر رہے ہیں، یہ ان کی اپنی زندگیوں کے لیے خطرناک ہے۔” دہلی کے وزیر اعلیٰ نے تعمیراتی کام کی نگرانی کرنے والے عہدیداروں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا, “اگر اہلکار لاپرواہی کرتے پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔” مزید، انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹر نے تعمیرات کے انچارج ہونے کے باوجود مزدوروں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا۔ سی ایم گپتا نے مزید کہا کہ اسی لیے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

بی جے پی دہلی کے صدر ہرش ملہوترا، جو بھی جائے وقوعہ پر پہنچے تھے، نے میڈیا کو بتایا، “اس طرح کے واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب تعمیرات قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی جاتی ہیں اور حفاظت کے مناسب انتظامات نہیں کیے جاتے ہیں۔ ذمہ دار اہلکاروں کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے۔” اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ ایم سی ڈی کے اے ای اور جے ای کو معطل کر دیا گیا ہے، اور ٹھیکیدار کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، انہوں نے کہا, “ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔” اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تعمیر غیر قانونی تھی، ملہوترا نے کہا, “اگر اضافی منزلیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی جائیں تو عمارت گرنے کی پابند ہے۔” میئر پرویش واہی نے مزید کہا, “اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اور تحقیقات جاری ہیں۔ میونسپل کمشنر کے تحت ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو تین دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔” مزید، دہلی کے وزیر آشیش سود نے کہا کہ یہ “بدقسمتی” کی بات ہے کہ اس جگہ کی ترقی کے لیے اصول و ضوابط وضع نہیں کیے گئے، جو ایک ہیریٹیج علاقہ ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، “شاہجہان آباد ڈویلپمنٹ بورڈ کے نام سے ایک بورڈ قائم کیا گیا تھا، لیکن اس نے انفرادی سڑکوں پر سرخ پتھر لگانے کے علاوہ کیا کارروائی کی؟ ہماری حکومت نے بورڈ کو فعال کر دیا ہے اور تاریخی عمارتوں اور علاقے کے لیے نئے قوانین اور ضوابط وضع کرنے کے لیے کام کر رہی ہے،” انہوں نے میڈیا کو بتایا۔ قبل ازیں، جائے وقوعہ سے بچائے گئے ایک کارکن نے بتایا کہ اس حصے کے نیچے لکڑی کا سہارا جہاں پہلے ہی ایک سلیب ڈالی گئی تھی، پھٹنے لگی تھی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا, “یہ سلیب ڈالنے کا کام تھا، ہمیں کنکریٹ ڈال کر وہاں سے جانا تھا، ہمیں کیسے معلوم تھا کہ یہ گر جائے گا؟… اس حصے کے نیچے ایک یا دو لکڑی کے سہارے رکھے گئے تھے جہاں سلیب پہلے سے ڈالی گئی تھی۔ لکڑی کے سہارے چٹخنے لگے، گویا کہ میں ہر ایک کو یہ سپورٹ دینے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ گرنا اور سلیب گر سکتا ہے۔” عمارت اس وقت منہدم ہو گئی جب مزدور جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تلاش اور ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان