Connect with us
Wednesday,22-July-2026

جرم

شاہین باغ بند ہوگیا تو پورے ملک کے شاہین باغ کے ساتھ دھوکہ ہوگا: شاہین باغ مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے قانون واپس لئے بغیر روڈ کھولنے کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر یہ شاہین باغ بند ہوگیا تو پورے ملک کے شاہین باغ کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ یہ بات خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار کے سامنے کہی۔
مظاہرین نے کہاکہ جب ہم یہاں بیٹھی ہیں تو پریشانی ختم نہیں ہورہی ہے اور حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے تو دوسری جگہ مظاہرہ منتقل کرنے کے بعد تو حکومت اور بھی ہماری بات نہیں سنے گی۔ جب سخت ترین سرد راتوں میں ہم یہاں بیٹھی رہیں تو حکومت نے کوئی توجہ نہیں د ی اور اس کے برعکس ہمیں بدنام کیاگیا، ہمیں دہشت گرد کہا گیا، پانچ سو روپے لیکر بیٹھنے والی کہا گیا طرح طرح کی باتیں کرکے ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بدنام کرنے والوں میں امت شاہ سے لیکر دیگر وزراء شامل ہیں لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔
ایک دیگر خاتون نے کہاکہ وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ بٹن اتنا زور سے دباؤ کہ کرنٹ شاہین باغ کو لگے، ایک دوسرا وزیر کہتا ہے کہ ملک کے غداروں کو گولی مارو…..اور اسی طرح کے دل آزار اور خلاف قانون نعرے لگائے جاتے رہے لیکن کارروائی کسی کے خلاف نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ یہاں جمہوریت کس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ گولی چلانے والوں کوچھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اگر کوئی چلانے والا کوئی مسلمان ہوتا ہے تو پولیس کیا کرتی۔ انہوں نے کہاکہ گولی چلانے والوں اور برقعہ پہن کر آنے والی کو بغیر کوئی تکلیف پہنچائے ہم انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔
انہوں نے جامعہ میں پولیس کی بربریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک طرف بیٹی پرھاؤ اور بیٹی بچاؤں کا نعرہ لگاتی ہے لیکن جب یہی بیٹی اپنے مطالبات کو لیکر سڑکوں پر اترتی ہے کہ انہیں پولیس سے پٹواتی ہے، ان کے حساس اعضاء پر حملے کرواتی ہے۔ ہمیں گولی مارنے کی بات کی جاتی ہے، کیا ہم ہندوستانی نہیں ہیں۔ آخر ملک میں کون ساقانون چل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دو ماہ سے مینٹل ٹارچر (ذہنی اذیت)کیا جارہا ہے۔ جس چینل کو دیکھتی ہوں وہی ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں، ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہتے ہیں، ملک کے ٹکڑے ٹکرے کرنے والے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کو کہا کہ ہم سڑکوں پر آئیڈیا آف انڈیا کو بچانے آئے ہیں۔ خاتون مظاہرین نے کہاکہ راستہ بند ہونے سے ہونے والی تکلیف کا احساس ہے اور اس سے ہم لوگ بھی متاثر ہیں لیکن کل ملک کے غریب، پسماندہ، قبائلی، دلت سماج اور اقلیتوں کو پریشانی ہونے والی ہے یہ تکلیف اس کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
دو ہندو خاتون جو مظاہرہ میں شروع سے حصہ لے رہی ہیں، کہا کہ ہم ہندو ہیں اور ہم اس سیاہ قانون کے خلاف ساتھ دینے آئی ہیں کیوں کہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہر کمزور طبقہ کا ہے اور ہمارے وجود کی لڑائی ہے اس لئے ہم ڈتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس قانون کو واپس لے لیتی ہے ہم آدھے گھنٹے کے اندر راستہ کھول دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میں بیٹھے کچھ لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کیا یہ منی پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج یہاں شاہین باغ پورے ہندوستان کا تاج بن چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی علا مت ہے اور اس کے نتیجے میں آج ملک کے کونے کونے میں سیکڑوں شاہین باغ ہے۔ اگر ہم نے بغیر منزل کے اس شاہین کو ختم کیا یا یہاں سے اس دھرنا کو منتقل کیا تو اس کا منفی اثر دوسرے شاہین باغوں پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کا مظاہرہ خواہ بھی ہورہا ہو لیکن ہر جگہ شاہین باغ کے نام سے ہی مظاہرہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہاں اپنے حقوق کا دفاع، ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کے لئے سڑکوں پر ہیں نہ کہ کوئی جشن منانے کے لئے کہ مظاہرہ کو کہیں منتقل کرلیں۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار مقرر کئے جانے کے بعد آج سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اورسادھنا رام چندرن نے آج یہاں شاہین باغ مظاہرین نے درمیان ان کا موقف جاننے کے لئے یہاں آئے تھے اور انہوں نے کھل کر بات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کی بات سننے آئے ہیں اور آتے رہیں گے۔ یہ موقع ہمارے پاس اتوار یعنی 23فروری تک ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے مظاہرے کو سنجیدگی سے لیا ہے اسی لئے اس نے مذاکرات کار کے طور پر ہمیں بھیجا ہے۔ہم آپ سپریم کورٹ کو آپ کی تکلیف اور موقف سے آگاہ کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کورٹ کے آپ کے حق کو پہچانا ہے اور مظاہرہ کرنا آپ کا جمہوری حق ہے یہ بات سپریم کورٹ نے بھی مانی ہے۔
محترمہ سادھنا رام چندر نے خواتین مظاہرین کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا ہے کہ آپ نے عدالت پر اعتماد کیا ہے۔ سنجے ہیگڑے نے خاتون مظاہرین کی بات سے متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ جیسی خاتون اور لڑکیاں موجود ہیں اس وقت ملک کی جموریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
قبل ازیں مسٹر ہیگڑے نے سب سے پہلے مظاہرین کو عدالت عظمی کا فیصلہ انگریزی میں پڑھ کر سنایا اس کے بعد محترمہ رام چندرن نے پھر سے ہندی میں فیصلہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔محترمہ رام چندرن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہاکہ احتجاجی مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اس سے دوسروں کے حقوق میں رخنہ نہ پڑے اور عوامی سہولیات پر تمام کا مساوی حق ہے۔ سڑک پر یہاں سے روزانہ گزرنے والوں کو بھی برابر کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمی کی ہدایت کے حساب سے اہم سب مل کر حل نکالنا چاہتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ہم ایسا حل نکالیں گے کہ پوری دنیا میں مثال بن جائے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے پولیس بربریت کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔مہاراشٹر کے ناگپور میں چھ جگہوں پر مظاہرہ جاری ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

Published

on

Dhaka

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”

اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ ​​قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”

انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔

Continue Reading

جرم

تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

Published

on

Mumbra-Arrest

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔

اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔

پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔

تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

بزنس

سی بی آئی نے گھر خریداروں کو دھوکہ دینے کے معاملے میں بلڈر کمپنی اور بینک کے افسران کے خلاف 16 ویں چارج شیٹ داخل کی۔

Published

on

Houses

نئی دہلی : گھریلو خریداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت میں، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے میسرز ساہا انفراٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹرز، اور ایچ ڈی ایف سی بینک لمیٹڈ اور آئی سی آئی سی آئی بینک لمیٹڈ کے افسران کے خلاف اپنی 16ویں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ان پر نوئیڈا میں ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ سے متعلق دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ چارج شیٹ نئی دہلی کی راؤس ایونیو ڈسٹرکٹ کورٹ میں سی بی آئی کیسز کے خصوصی جج کے سامنے داخل کی گئی۔

سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم بلڈر کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز نے بینک حکام اور دیگر نجی افراد کے ساتھ مل کر گھر خریداروں اور سرمایہ کاروں کو جھوٹے وعدے اور گمراہ کن دعوے کر کے دھوکہ دینے کی سازش کی۔ الزام ہے کہ ملزمان نے غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کیا۔ ایجنسی کے مطابق تحقیقات کے دوران پائے جانے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) اور بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی۔ ان الزامات میں مجرمانہ سازش، سرکاری عہدے کا غلط استعمال، دھوکہ دہی اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی شامل ہے۔ سی بی آئی اس وقت ملک بھر میں مختلف بلڈر کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے نامعلوم عہدیداروں کے خلاف سپریم کورٹ کی ہدایت پر درج 33 دیگر مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان مقدمات میں گھر خریداروں کو دھوکہ دینے اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔

اب تک ایجنسی نے کئی رئیل اسٹیٹ فرموں کے خلاف 15 چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ ان میں رودرا بلڈ ویل کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، ڈریم پروکون پرائیویٹ لمیٹڈ، جے پی انفراٹیک لمیٹڈ، اے وی جے ڈویلپرز (انڈیا) پرائیویٹ لمیٹڈ، سی ایچ ڈی ڈویلپرز پرائیویٹ لمیٹڈ، سیکوئل بلڈکون پرائیویٹ لمیٹڈ، لاجکس سٹی ڈویلپرز پرائیویٹ سٹی لمیٹڈ پرائیویٹ لوجی لمیٹڈ انفراٹیک لمیٹڈ بلڈٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، نائنیکس ڈویلپرز لمیٹڈ، ڈیسنٹ بلڈ ویل پرائیویٹ لمیٹڈ، رودرا بلڈ ویل پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، اتھاکا اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، اور ایل جی سی ایل اربن ہومز (انڈیا) ایل ایل پی کے ساتھ ساتھ ان کے ڈائریکٹرز اور بعض بینکوں اور مالیاتی اداروں کے حکام۔ سی بی آئی نے اقتصادی جرائم، بدعنوانی اور عوامی دھوکہ دہی سے متعلق معاملات میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر ایسے معاملات جو عام شہریوں اور گھر خریداروں کے مفادات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان