Connect with us
Sunday,19-July-2026

سیاست

سوشانت اور کنگنا میں پورے ملک کو اُلجھادیا گیا، جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے

Published

on

ممبئی : ایسے کٹھن حالات میں جب پورا ملک کورونا کو شکست دینے میں ناکام ہیں. ملک کی معاشیت تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں. اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہی عوام خودکشی پر آمادہ ہوگئی ہیں. حکومت کے پی ایم کیئر سے عوام کو 3 مہینے تک500 -500 روپیہ کا لالی پاپ پکڑا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ تھما دیا گیا. اب حب کہ دوسرے اور مسائل ہیں جہاں میں, انہیں چھوڑ کر کنگنا اور سوشانت کو ہائی لائٹ کرکے عوام کا دھیان بھٹکا دیا گیا ہے اور حکومت وقت سارے مسائل سے چشم پوشی برت کر طوطا چشم بن گئی ہے. جس طرح کنگنا اور سوشانت پر سیاست کی جارہی ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ایک آزاد ملک کے لیڈران ہیں. عوام کو جب کی ضرورت ہیں. ایک ایسے وقت میں جب کورونا نامی طوفان نے ملک کو معاشی اور اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا ہے. اس کورونا کے بھوت نے ہمارے کتنے اپنوں کو چھینا ہے. جن کا نا آخری دیدار ہوسکا اور نا آخری رسومات ادا کی جاسکی. بتادیں کہ کنگنا راناوت کو Y زمرے کی سکیورٹی فراہم کئے جانے کے بعد ملک کے مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ ایک تو کنگنا نے خود وطن مخالف بیان دیتے ہوئے ملک کے 135 کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ ممبئی میں ایسا کیا ہوگیا کہ کنگنا نے اُسے مقبوضہ کشمیر سے تعبیر کردیا جہاں قتل و غارت گری عام بات ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور میڈیا نے اسے سر پر بیٹھایا ہوا ہے اور تو اور میڈیا اِس وقت ملک کے اہم مسائل کو چھوڑ کر سوشانت سنگھ راجپوت قتل اور کنگنا راناوت میں اُلجھا ہوا ہے جیسے کہ یہ کوئی قومی مسائل ہوں۔ آل انڈیا پیپلز کنسرن کے صدر مہیش جگتاپ نے کہاکہ اس کوویڈ۔19 کے خاتمہ اور ملک کی معیشت کو دوبارہ معمول پر لانے کو اہمیت اور اوّلیت دیئے جانے کی ضرورت ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ چور جب کوئی بیل چُرانے کے لئے آتے ہیں تو اُس کے گلے کی گھنٹی اُتار کر اپنے ساتھی کو تھما دیتے ہیں اور وہ ساتھی گھنٹی کو لے کر بھاگتا ہے اور بیل کا مالک سمجھتا ہے کہ بیل کے بھاگنے سے گھنٹی بج رہی ہے جبکہ دیگر چور بیل کو دوسرے راستے سے صاف اُڑالے جاتے ہیں اور بیل مالک گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگتا ہی رہ جاتا ہے۔ آج پورے ملک میں لوگ اِسی گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی صحت کی مشینری کو مانسون کے موسم میں مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے زیادہ خطرے والے علاقوں پر توجہ مرکوز کریں

Published

on

bmc..

ممبئی : مانسون کے موسم کے پیش نظر، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی صحت کی مشینری کو مستقل طور پر تیار رہنا چاہیے اور مریضوں کی دیکھ بھال کی فراہمی کے لیے انتہائی قابل ہونا چاہیے۔ پراجکتا ورمالاونگارے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری کیں کہ تمام ضروری احتیاطی اقدامات کو تمام اسپتالوں میں مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔ آج (18 جولائی 2026)پراجکتا ورما-لاونگرے نے جوگیشوری (مشرق) میں ہندو ہردائیسمرت بالاصاحب ٹھاکرے ٹراما کیئر میونسپل اسپتال کا دورہ کیا اور صحت سے متعلق مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔

انہوں نے زونل ڈپٹی کمشنرز اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ہر وارڈ کے لیے صحت سے متعلق ترجیحات کا تعین کرنے کے لیے محکمہ صحت کے افسران اور عملے کے ساتھ رابطہ کریں۔ انہوں نے انہیں ہدایت کی کہ وہ صحت کے معاملات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور شہریوں کی رائے اکٹھی کرنے کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کریں۔ مزید برآں، انہوں نے ہدایت کی کہ بی ایم سی کی مجموعی صحت کی پالیسی کے ساتھ منسلک نئے اقدامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے۔

مانسون سے متعلق بیماریوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی اقدامات :
انہوں نے تعمیراتی مقامات کا معائنہ کرنے اور مون سون کے موسم کی روشنی میں احتیاطی صحت کے اقدامات کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ احتیاطی تدابیر کو کچی آبادیوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ لاگو کیا جانا چاہیے۔ مانسون سے متعلقہ اور وبائی امراض جیسے ڈینگی، ملیریا، لیپٹوسپائروسس اور گیسٹرو میں مبتلا مریضوں کی شناخت کے ساتھ ساتھ ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے خصوصی مہمات اور ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ مسز ورما-لاونگرے نے ہدایت دی کہ اس مقصد کے لیے زیادہ خطرہ والے علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔

صحت کے اقدامات کی باقاعدہ نگرانی :
زون 4 میں تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ صحت کے افسران کو صحت سے متعلق اقدامات کے نفاذ کی باقاعدگی سے نگرانی کرنی چاہیے۔ ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس)، آوارہ کتوں پر قابو پانے کے اقدامات، صحت کی سہولیات میں ضروری معمولی مرمت اور مراکز صحت میں صفائی مہم کے حوالے سے باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ ذاتی طور پر کام کا معائنہ کرنے کے لیے فیلڈ وزٹ کریں اور فیصلہ سازی کے لیے ڈیٹا پر مبنی طریقہ اختیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ صحت سے متعلق خالی آسامیوں جیسا کہ اسسٹنٹ میڈیکل آفیسرز اور انسیکٹائڈ آفیسرز کو مقررہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے جلد از جلد پُر کیا جائے۔

صحت کی سہولیات کی مرمت کے لیے ترجیح :
اسپتال انفراسٹرکچر سیل (ایچ آئی سی) کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک پالیسی مرتب کرنی چاہیے کہ زون میں صحت کی سہولیات کی مرمت کے کام ترجیحی بنیادوں پر اور تیزی سے مکمل کیے جائیں۔ زون کو ایک اکائی کے طور پر ماننے اور ‘مشن موڈ’ میں مرمت کے کاموں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر نے ایس کے کی کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا۔ پاٹل ہسپتال، ایم ڈبلیو ڈیسائی ہسپتال، اور سدھارتھ ہسپتال، یہ سبھی زون 4 کے تحت آتے ہیں۔ ورمالاونگرے نے تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ذمہ داری اور خلوص سے کام کریں، مریضوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر مانسون کے موسم کے پس منظر میں۔ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز ہسپتالوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں لاونگارے نے زون 4 کے اسپتالوں سے متعلق مسائل اور زیر التوا معاملات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی سے اسپتالوں کا دورہ کریں اور مختلف مسائل کو بروقت حل کرنے کے لیے ضروری کارروائی کریں۔ اس موقع پر ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورمالاونگیرے نے جوگیشوری (مشرق) میں ہندو ہردائیسمرت بالاصاحب ٹھاکرے ٹراما کیئر میونسپل اسپتال میں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات اور آپریشنز کا معائنہ کیا۔

لائسنسنگ اور ریگولیٹری عمل کو زیادہ شہری پر مبنی بنائیں :
متعلقہ محکموں کے پاس ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ذریعہ جاری کردہ مختلف لائسنسوں کے بارے میں واضح نقطہ نظر ہونا چاہئے اور لائسنسنگ کے تمام ضوابط کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے اور شہریوں کو آسانی سے خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، موثر نفاذ اور شہری مرکوز نظاموں کو اپنانے پر زور دیا جانا چاہیے- جیسے کہ آن لائن درخواست کے عمل اور آن لائن لائسنس کا اجراء۔

شہری سہولت مراکز کو مضبوط بنانے پر توجہ :
سٹیزن فیسیلیٹیشن سینٹر (سی ایف سی) بی ایم سی کی صحت کی خدمات اور عوام کے درمیان ایک اہم لنک کے طور پر کام کرتا ہے۔ لہذا، ان مراکز کو صحت سے متعلق تمام رجسٹریشن کے عمل کو ہموار کرنے کے لیے مضبوط کیا جانا چاہیے۔ اقدامات میں صحت کی خدمات کے لیے ایک وقف ونڈو فراہم کرنا، ایپلیکیشن ٹریکنگ کو فعال کرنا، اور شہریوں کو آسانی سے نظر آنے والی جگہوں پر معیاری درخواست فارم کی نمائش شامل ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد صحت سے متعلق خدمات میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کرتے ہوئے خدمات کی فراہمی کو زیادہ سے زیادہ کرنا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

سابق پاکستانی سفارت کار عبدالباسط کا بھارت کی جانب سے 12 ایٹمی وار ہیڈز کی تعیناتی پر ایس آئی پی آر آئی کی رپورٹ پر ردعمل

Published

on

Pakistani-Dt-Abdul-Basit

اسلام آباد : ایس آئی پی آر آئی رپورٹ، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے 12 جوہری وار ہیڈز تعینات کیے ہیں، پاکستان میں بڑے پیمانے پر زیر بحث ہے۔ پاکستانی عسکری اور سفارتی ماہرین روزانہ مختلف بیانات جاری کر رہے ہیں۔ اس بحث میں سابق پاکستانی سفارتکار عبدالباسط بھی شامل ہو گئے ہیں۔ بھارت میں سابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ رپورٹ میں بھارت کی جانب سے 12 ایٹمی وار ہیڈز کی تعیناتی کا دعویٰ نہ تو قابل اعتماد ہے اور نہ ہی قابل تردید۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور بھارت کی جوہری تعیناتی کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ “ایس آئی پی آر آئی کے مطابق بھارت کے پاس پاکستان سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں، ان کے پاس تقریباً 190 وار ہیڈز ہیں، جب کہ ان کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 170 ہیں، اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس رپورٹ میں جو لکھا گیا ہے وہ درست ہے، کیونکہ بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کوئی ملک آپ کو یہ نہیں بتائے گا کہ ان کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں۔” لہٰذا جہاں یہ اندازے لگائے گئے ہیں، وہیں کچھ ذرائع ایسے بھی ہیں جن کی بنیاد پر یہ پوری رپورٹ تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ درست ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کے پاس ایس آئی پی آر آئی کی رپورٹ میں بیان کردہ اعداد و شمار سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں، کیونکہ یہ ایک انتہائی قابل احترام سویڈش تھنک ٹینک ہے اور اس کی رپورٹس کو انتہائی قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے نتائج اخذ کرتے ہیں اور وسیع تحقیق کے بعد ہی رپورٹ تیار کرتے ہیں۔ اب اسی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 12 ایٹمی ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے کیونکہ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ٹھیک ہے، آپ جوہری ہتھیار تیار کر رہے ہیں لیکن انہیں تعینات نہیں کر رہے ہیں یعنی آپ کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں لیکن آپ ان کے ساتھ وار ہیڈز نہیں لگا رہے ہیں۔ عبدالباسط نے مزید کہا کہ بھارت ان ہتھیاروں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ ایک طرح سے بھارت نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال کے خلاف کچھ ڈیٹرنس پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اسے کس نظر سے دیکھتا ہے۔ بھارت نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔ آپ ایسی باتوں کو مبہم چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کو مبہم رکھنا بہتر ہے۔ اب پاکستان کے پاس بھی انٹیلی جنس معلومات ہوں گی۔ پاکستان اس رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا، “یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایس آئی پی آر آئی رپورٹ پیش کر کے، پاکستان اپنی انٹیلی جنس اکٹھی کر رہا ہے اور بھارت کے ارادوں کا اندازہ لگا رہا ہے۔ اور اگر پاکستان کو ضرورت محسوس ہوئی تو ہم ظاہر ہے اس سمت میں آگے بڑھیں گے اور ان کا اعلان کیے بغیر انہیں تعینات بھی کر سکتے ہیں۔ ایس آئی پی آر آئی اپنی اگلی سالانہ رپورٹ میں ہمیں بتا سکتی ہے کہ پاکستان نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ ان کی تعیناتی کی نوعیت نہیں ہے، لیکن پاکستان نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ لیکن بھارت نے پہلا قدم اٹھایا ہے جو ہم نہیں چاہتے تھے کہ ایسا ہو کیونکہ یہ جنوبی ایشیا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی طرف ایک اور قدم ہوگا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی تمام زیر تعمیر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جانا چاہیے : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

M.-C.-Ashwini-Bhide

ممبئی سمندر میں خارج ہونے والے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ورلی، دھاراوی، باندرہ، گھاٹ کوپر، بھنڈوپ، ورسووا اور ملاڈ میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) تعمیر کر رہی ہے۔ زیر تعمیر ان ۷ منصوبوں کی کل پروسیسنگ کی گنجائش 2,464 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) ہے۔ کولابا میں 37 ایم ایل ڈی کی صلاحیت کے ساتھ ایک ایس ٹی پی تعمیر کیا گیا تھا اور اپریل 2020 میں آپریشنل ہو گیا تھا۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے ہدایت دی کہ تمام زیر تعمیر ایس ٹی پیز پر کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ فوری طور پر کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاڈ ایس ٹی پی میں تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور وہاں کی پیشرفت تسلی بخش ہے۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے آج صبح (18 جولائی 2026) ملاڈ ایس ٹی پی کے جاری تعمیراتی کام کا ذاتی طور پر معائنہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے پراجیکٹ کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات اور ہدایات جاری کیں ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس)ابھیجیت بنگر، مقامی کارپوریٹر قمر جہاں صدیقی، ڈپٹی کمشنر (زون-4) ڈاکٹر بھاگیہ شری کاپسے، ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائیکواڑ، ڈپٹی کمشنر (انجینئرنگ)ششانک بھورے، چیف انجینئر (ممبئی سیوریج ڈسپوزل پروجیکٹ) (انچارج) شری اشوک مینگڑے، اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔

شروع میں بھیڈے نے ملاڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے سول، مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرنگ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے پروجیکٹ کے مختلف اجزاء کی موجودہ صورتحال، کام کی پیشرفت، معیار کے معیار اور باقی کاموں کی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات جمع کیں۔ انہوں نے مشینری اور برقی نظام کی تنصیب، پروسیسنگ یونٹس کی کارکردگی اور حفاظتی اقدامات کا معائنہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہر مرحلے پر معیار کے معیارات پر سختی سے عمل کرتے ہوئے پراجیکٹ کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے ضروری منصوبہ بندی کو یقینی بنائیں۔ بھیڈے نے 2,501 ملین لیٹر یومیہ (ایم ایل ڈی) کی مشترکہ صلاحیت کے ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی موجودہ آپریشنل حالت کا بھی جائزہ لیا ۔جن میں ملاڈ (454 ایم ایل ڈی)، ورلی (500 ایم ایل ڈی)، بھنڈوپ (215 ایم ایل ڈی)، باندرہ (360 ایم ایل ڈی)، دھاراوی (418 ایم ایل ڈی)، گھاٹکووا (ایم ایل ڈی)، ایم ایل ڈی (ایم ایل ڈی) ایم ایل ڈی)، اور کولابا (37 ایم ایل ڈی)—ایک کمپیوٹر پریزنٹیشن کے ذریعے۔ انہوں نے تمام ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ وہ کام کو اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر انجام دیں۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے بتایا کہ ممبئی سیوریج ڈسپوزل پروجیکٹ ڈپارٹمنٹ نے جولائی 2022 سے 454 ایم ایل ڈی صلاحیت والے ملاڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (زمین کی بہتری کے کاموں سمیت) کے ڈیزائن، تعمیر، اور آپریشن اور دیکھ بھال کا کام شروع کیا ہے۔ ڈیزائن اور تعمیر کا مرحلہ چھ سال پر محیط ہے، اس کے بعد آپریشن اور دیکھ بھال کی مدت پندرہ سال ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر

) ٹیکنالوجی تجویز کی گئی ہے۔ اس سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں روزانہ 454 ملین لیٹر سیوریج کو سیکنڈری ٹریٹمنٹ کیا جائے گا۔ اس میں سے 227 ملین لیٹر بعد میں ترتیری علاج سے گزریں گے۔ فی الحال، ملاڈ میں سیوریج ٹریٹمنٹ کی موجودہ سہولت سیوریج کو کریک میں خارج کرنے سے پہلے صرف ابتدائی عمل—اسکریننگ اور ڈی گریٹنگ— سے مشروط کرتی ہے۔ مجوزہ کام کے دائرہ کار میں زمین کی بہتری، نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا ڈیزائن اور تعمیر، ‘کلاس اے’ کے معیار کے مطابق کیچڑ کی پروسیسنگ، اور علاج کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی بائیو گیس سے بجلی کی پیداوار شامل ہے۔ بھیڈے نے بتایا کہ مینگرووز کو ہٹانے کے لیے ضروری اجازتیں حاصل کر لی گئی ہیں۔ نئے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے فعال ہونے کے بعد سمندری پانی کے معیار اور سمندری زندگی میں بہتری آئے گی۔ مزید برآں، دہیسر، بوریولی، کاندیولی، ملاڈ، اور گورگاؤں علاقوں میں رہنے والی آبادی کو اس پروجیکٹ سے فائدہ ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان