Connect with us
Monday,13-April-2026

جرم

شاہین باغ بند ہوگیا تو پورے ملک کے شاہین باغ کے ساتھ دھوکہ ہوگا: شاہین باغ مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین نے قانون واپس لئے بغیر روڈ کھولنے کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگر یہ شاہین باغ بند ہوگیا تو پورے ملک کے شاہین باغ کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔ یہ بات خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار کے سامنے کہی۔
مظاہرین نے کہاکہ جب ہم یہاں بیٹھی ہیں تو پریشانی ختم نہیں ہورہی ہے اور حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے تو دوسری جگہ مظاہرہ منتقل کرنے کے بعد تو حکومت اور بھی ہماری بات نہیں سنے گی۔ جب سخت ترین سرد راتوں میں ہم یہاں بیٹھی رہیں تو حکومت نے کوئی توجہ نہیں د ی اور اس کے برعکس ہمیں بدنام کیاگیا، ہمیں دہشت گرد کہا گیا، پانچ سو روپے لیکر بیٹھنے والی کہا گیا طرح طرح کی باتیں کرکے ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بدنام کرنے والوں میں امت شاہ سے لیکر دیگر وزراء شامل ہیں لیکن ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔
ایک دیگر خاتون نے کہاکہ وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ بٹن اتنا زور سے دباؤ کہ کرنٹ شاہین باغ کو لگے، ایک دوسرا وزیر کہتا ہے کہ ملک کے غداروں کو گولی مارو…..اور اسی طرح کے دل آزار اور خلاف قانون نعرے لگائے جاتے رہے لیکن کارروائی کسی کے خلاف نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ یہاں جمہوریت کس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ گولی چلانے والوں کوچھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اگر کوئی چلانے والا کوئی مسلمان ہوتا ہے تو پولیس کیا کرتی۔ انہوں نے کہاکہ گولی چلانے والوں اور برقعہ پہن کر آنے والی کو بغیر کوئی تکلیف پہنچائے ہم انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔
انہوں نے جامعہ میں پولیس کی بربریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایک طرف بیٹی پرھاؤ اور بیٹی بچاؤں کا نعرہ لگاتی ہے لیکن جب یہی بیٹی اپنے مطالبات کو لیکر سڑکوں پر اترتی ہے کہ انہیں پولیس سے پٹواتی ہے، ان کے حساس اعضاء پر حملے کرواتی ہے۔ ہمیں گولی مارنے کی بات کی جاتی ہے، کیا ہم ہندوستانی نہیں ہیں۔ آخر ملک میں کون ساقانون چل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دو ماہ سے مینٹل ٹارچر (ذہنی اذیت)کیا جارہا ہے۔ جس چینل کو دیکھتی ہوں وہی ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں، ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہتے ہیں، ملک کے ٹکڑے ٹکرے کرنے والے کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کو کہا کہ ہم سڑکوں پر آئیڈیا آف انڈیا کو بچانے آئے ہیں۔ خاتون مظاہرین نے کہاکہ راستہ بند ہونے سے ہونے والی تکلیف کا احساس ہے اور اس سے ہم لوگ بھی متاثر ہیں لیکن کل ملک کے غریب، پسماندہ، قبائلی، دلت سماج اور اقلیتوں کو پریشانی ہونے والی ہے یہ تکلیف اس کے سامنے کچھ نہیں ہے۔
دو ہندو خاتون جو مظاہرہ میں شروع سے حصہ لے رہی ہیں، کہا کہ ہم ہندو ہیں اور ہم اس سیاہ قانون کے خلاف ساتھ دینے آئی ہیں کیوں کہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہر کمزور طبقہ کا ہے اور ہمارے وجود کی لڑائی ہے اس لئے ہم ڈتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت اس قانون کو واپس لے لیتی ہے ہم آدھے گھنٹے کے اندر راستہ کھول دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت میں بیٹھے کچھ لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کیا یہ منی پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج یہاں شاہین باغ پورے ہندوستان کا تاج بن چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی علا مت ہے اور اس کے نتیجے میں آج ملک کے کونے کونے میں سیکڑوں شاہین باغ ہے۔ اگر ہم نے بغیر منزل کے اس شاہین کو ختم کیا یا یہاں سے اس دھرنا کو منتقل کیا تو اس کا منفی اثر دوسرے شاہین باغوں پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کا مظاہرہ خواہ بھی ہورہا ہو لیکن ہر جگہ شاہین باغ کے نام سے ہی مظاہرہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہاں اپنے حقوق کا دفاع، ملک کے آئین اور دستور کو بچانے کے لئے سڑکوں پر ہیں نہ کہ کوئی جشن منانے کے لئے کہ مظاہرہ کو کہیں منتقل کرلیں۔
سپریم کورٹ کے مذاکرات کار مقرر کئے جانے کے بعد آج سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اورسادھنا رام چندرن نے آج یہاں شاہین باغ مظاہرین نے درمیان ان کا موقف جاننے کے لئے یہاں آئے تھے اور انہوں نے کھل کر بات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کی بات سننے آئے ہیں اور آتے رہیں گے۔ یہ موقع ہمارے پاس اتوار یعنی 23فروری تک ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے مظاہرے کو سنجیدگی سے لیا ہے اسی لئے اس نے مذاکرات کار کے طور پر ہمیں بھیجا ہے۔ہم آپ سپریم کورٹ کو آپ کی تکلیف اور موقف سے آگاہ کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ کورٹ کے آپ کے حق کو پہچانا ہے اور مظاہرہ کرنا آپ کا جمہوری حق ہے یہ بات سپریم کورٹ نے بھی مانی ہے۔
محترمہ سادھنا رام چندر نے خواتین مظاہرین کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا ہے کہ آپ نے عدالت پر اعتماد کیا ہے۔ سنجے ہیگڑے نے خاتون مظاہرین کی بات سے متاثر ہوتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ جیسی خاتون اور لڑکیاں موجود ہیں اس وقت ملک کی جموریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔
قبل ازیں مسٹر ہیگڑے نے سب سے پہلے مظاہرین کو عدالت عظمی کا فیصلہ انگریزی میں پڑھ کر سنایا اس کے بعد محترمہ رام چندرن نے پھر سے ہندی میں فیصلہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔محترمہ رام چندرن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہاکہ احتجاجی مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اس سے دوسروں کے حقوق میں رخنہ نہ پڑے اور عوامی سہولیات پر تمام کا مساوی حق ہے۔ سڑک پر یہاں سے روزانہ گزرنے والوں کو بھی برابر کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ عدالت عظمی کی ہدایت کے حساب سے اہم سب مل کر حل نکالنا چاہتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ہم ایسا حل نکالیں گے کہ پوری دنیا میں مثال بن جائے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں جامعہ کوآرڈی نیشن کمیٹی نے پولیس بربریت کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے بتایا کہ یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
مہاراشٹر کے سلوڑ میں 13 فروری سے خواتین کا مظاہرہ شروع ہوا ہے۔ جس کو خطاب کرنے کے لئے مرکزی وزیر راؤ صاحب پاٹل موجود تھے۔ انہوں نے کہاتھاکہ حکومت جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ شاید یہ پہلا مظاہرہ ہے جس سے کسی مرکزی وزیر نے خطاب کیا ہے۔مہاراشٹر کے ناگپور میں چھ جگہوں پر مظاہرہ جاری ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی،آرام پارک خوریجی،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

جرم

ممبئی میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف بڑی کارروائی، آٹھ گاڑیوں میں لدے 451 سلنڈر برآمد

Published

on

ممبئی : ممبئی میں ضروری اشیاء کی بلیک مارکیٹنگ کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن میں، محکمہ خوراک اور شہری سپلائی نے ایل پی جی سلنڈروں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور نقل و حمل میں ملوث ایک ریاکٹ کا پردہ فاش کیا ہے، حکام نے ہفتہ کو بتایا۔ مجموعی طور پر 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ڈونگری کے واڑی بندر علاقے میں چھاپے کے دوران 40 لاکھ روپے سے زائد کا سامان ضبط کیا گیا اور آٹھ گاڑیوں کو روکا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی راشننگ کنٹرولر اور سول سپلائی ڈائریکٹر کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر خصوصی ہدایات جاری کی گئیں، جس پر عمل کرتے ہوئے محکمہ کے فلائنگ اسکواڈ نے منصوبہ بند آپریشن شروع کیا۔ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے ڈونگری میں واڑی بندر پل کے قریب غیر قانونی طور پر گیس سلنڈر لے جانے والی آٹھ گاڑیوں کو روکا۔ ان گاڑیوں کو چیک کرنے پر کل 451 ایل پی جی سلنڈر برآمد ہوئے۔ ضبط کیے گئے سلنڈروں اور گاڑیوں کی کل تخمینہ قیمت تقریباً 40.61 لاکھ روپے ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ سلنڈر درست دستاویزات کے بغیر منتقل کیے جا رہے تھے اور ان کا مقصد بلیک مارکیٹنگ یا غیر قانونی سپلائی کرنا تھا۔ ممبئی پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ دریں اثنا، جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں، وزارت پیٹرولیم نے واضح کیا کہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی ترسیل معمول کے مطابق ہے، اور ایل پی جی کی تقسیم کاروں میں کوئی کمی کی اطلاع نہیں ہے، حالانکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال ایل پی جی کی سپلائی کو متاثر کررہی ہے۔ آج تک، 4.05 لاکھ پی این جی کنکشنز ایکٹیویٹ ہو چکے ہیں، اور تقریباً 4.41 لاکھ مزید صارفین نے نئے کنکشن کے لیے اندراج کرایا ہے۔ صارفین کو متبادل ایندھن جیسے پی این جی اور الیکٹرک کک ٹاپس استعمال کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ موجودہ حالات میں توانائی کا تحفظ کریں۔

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی خریدنے میں گھبرائیں نہیں اور معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔ ایل پی جی صارفین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارم استعمال کریں اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ آن لائن ایل پی جی کی بکنگ تقریباً 98 فیصد تک بڑھ گئی ہے، اور ڈسٹری بیوٹر شپ کی سطح پر بدعنوانی کو روکنے کے لیے ڈیلیوری تصدیقی کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ڈیلیوری بھی تقریباً 92 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود، حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کی فراہمی کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں سخت کارروائی جاری ہے۔ جمعرات کو ملک بھر میں 3,800 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے گئے اور تقریباً 450 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ آج تک، تقریباً 1.2 لاکھ مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں، 57000 سے زیادہ سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں، 950 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، اور 229 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے حیرت انگیز معائنہ کو مضبوط بنایا، 2,100 سے زیادہ شوکاز نوٹس جاری کیے، 204 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا، اور 53 کو معطل کیا۔ 18,000 سے زیادہ پی این جی صارفین نے میرا پی این جیڈی.ایل این ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن سرنڈر کیے ہیں۔ ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کو نئے پی این جی کنکشن کی فراہمی میں سہولت فراہم کریں۔ تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان کے پاس خام تیل کے مناسب ذخائر ہیں۔ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کا مناسب ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گھریلو استعمال کو پورا کرنے کے لیے ریفائنریوں میں گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 10 کروڑ سے زائد کی منشیات ضبطی، 10 ملزمین گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل یونٹس نے شہر و مضافات کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کے بعد ۱۰ کروڑ سے زائد کی منشیات کی ضبطی کے ساتھ ۱۰ منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ بی پی ٹی و وڈالا، ممبئی میں ایم ڈی کے خلاف کارروائی کے دوران اے این سی یونٹ نے ۲۱۸ گرام وزنی ایم ڈی ضبط کی ہے۔ یہاں وڈالا میں ایم ڈی فروش کو بھی مشتبہ حالت میں حراست میں لیا ہے۔ ولے پارلے علاقہ میں ہائیڈوپانک گانجہ بھی پولس نے برآمد کیا ہے۔ ملزم کے قبضے سے ۷ کلو ۶۹۰ گرام گانجہ بھی برآمد کیا گیا ملزم کے خلاف ۷ لاکھ سے زائد کی منشیات ضبط کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف این ڈی پی ایس کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ وڈالا ٹی ٹی ممبئی علاقہ میں ناگپاڑہ میں آزاد میدان یونٹ نے چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے وڈالا سے گانجہ فروش کو گرفتار کیا, اس کے پاس سے ۲۰ کلو ۷۰۰ گرام گانجہ ملا ہے۔ ناگپاڑہ سے۱۱۷ گرام ایم ڈی کی ضبطی ہوئی ہے اور ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گوریگاؤں، دھاراوی، ممبئی، ویرادیسائی روڈ اندھیری، ممبئی اور ماہم ریلوے اسٹیشن سے کل ۲۸۱ کلو گرام وزنی ایم ڈی کی ضبطی کی گئی ہے اور ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ یہ تمام ملزمین یہاں منشیات فروشی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کاندیولی یونٹ نے اندھیری کے قریب ۱۸ گرام وزنی ایم ڈی برآمد کیا۔ ماہم میں ۱۰۴ گرام وزنی ایم ڈی کے ساتھ ایک منشیات فروش کو گرفتار کیا گیا۔ بھارت نگر باندرہ سے ۱۶۳ گرام وزنی منشیات ضبط کی گئی۔ ملاڈ مالونی سے بھی اے این سی نے منشیات ضبط کی ہے۔ کل ۱۰ منشیات فروشوں کو اے این سی نے گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے 10.14 کروڑ کی منشیات ضبط کی ہے۔ یہ ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں کارروائی, جوائنٹ پولس کمشنر کرائم لکمی گوتم کی ایما پر ڈئ سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

وزیر اعظم مودی کے دستخط والے جعلی خط کے ذریعے 4 لاکھ روپے تاوان مانگنے والے دو دھوکہ باز گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی پولیس کے انسداد بھتہ خوری سیل نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دستخط شدہ جعلی خط کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر 400,000 روپے تاوان کا مطالبہ کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمان کو ایسپلانیڈ کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں تین دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت ٹارگٹ میڈیا سے وابستہ توصیف حسین اسماعیل پٹیل (44) اور سدھی ناتھ دیناناتھ پانڈے عرف سنیل (43) کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں شاستری نگر، گورگاؤں (مغربی) کے رہنے والے ہیں۔ شکایت کے مطابق، متاثرہ خاتون “میگا شریا” کے نام سے ایک این جی او چلاتی ہے، جو 2020 سے پسماندہ بچوں، اولڈ ایج ہومز اور یتیم خانوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ شکایت کنندہ نے توصیف پٹیل اور اس کے ساتھی فرناز واڈیا سے 2022 میں ایک سماجی تقریب میں ملاقات کی۔ 18 مارچ کو، پٹیل نے مبینہ طور پر واٹس ایپ پر ایک صوتی نوٹ بھیجا، جس میں رقم کے بدلے وزیراعظم کے دفتر سے سالگرہ کی مبارکبادی خط بھیجنے کی پیشکش کی گئی۔ شکایت کنندہ نے ابتدائی طور پر اس دعوے کو جعلی قرار دیا تھا۔ تاہم، ملزم نے خط حقیقی ہونے کا دعویٰ کیا اور 4 لاکھ روپے کی پبلک ریلیشن فیس کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد، 28 مارچ کو، فرناز واڈیا نے شکایت کنندہ کو مخاطب کرتے ہوئے، وزیر اعظم کے دستخط شدہ ایک خط کی ڈیجیٹل کاپی بھیجی، جس میں ان کے سماجی کام کی تعریف کی گئی۔ شکایت کنندہ نے ابتدائی طور پر یہ خط سوشل میڈیا پر شیئر کیا لیکن ساتھیوں کی جانب سے اس کی صداقت پر شکوک پیدا ہونے کے بعد اسے حذف کر دیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر اپنے مطالبات کو تیز کیا اور فریب کاری کے پیغام کو ساکھ دینے کے لیے شکایت کنندہ کے نام سے ایک جعلی ای میل آئی ڈی بنائی۔ شکایت کنندہ نے ملزم کو ورلی کے ایک کیفے میں مدعو کیا۔ وہیں، ملزم نے وزیر اعظم کے دفتر میں رابطے ہونے کا دعویٰ کیا اور ایک “حقیقی” خط کے بدلے میں ₹ 4 لاکھ کا مطالبہ دہرایا۔ مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کے بعد شکایت کنندہ نے پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے، انسداد بھتہ خوری سیل نے ورلی سی فیس کے ایک ہوٹل میں جال بچھا دیا، جہاں ملزمین کو شکایت کنندہ سے رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پولیس نے ایک جعلی سالگرہ مبارکبادی کارڈ برآمد کیا جس پر مبینہ طور پر وزیر اعظم کے دستخط تھے، کھلونا نوٹوں کے بنڈل، 500 روپے کے دو اصلی نوٹ، اور جرم میں استعمال ہونے والے دو موبائل فون۔ ملزم کے خلاف این آئی اے اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ایک ایف آئی آر ورلی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی تھی اور بعد میں اسے تحقیقات کے لیے انسداد بھتہ خوری سیل کو منتقل کیا گیا تھا۔ شکایت کی بنیاد پر، پولیس نے تکنیکی تحقیقات کی اور ورلی کے علاقے میں جال بچھا دیا، جہاں ملزمان بھتہ کی رقم وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ پولیس کو دیگر ملزمان کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ وہ وزیر اعظم کے جعلی دستخط اور لیٹر ہیڈ کے ماخذ، جعلی دستاویزات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل آلات اور سابقہ ​​اسی طرح کے فراڈ کے بارے میں بھی تفتیش کر رہے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان