Connect with us
Saturday,08-August-2026
تازہ خبریں

جرم

مدھیہ پردیش کی مسجد کے حملہ آوروں پر سخت کاروائی کا مطالبہ مالیگاؤں کی کل جماعتی تنظیم سمیت متعدد سماجی و ملی تنظیموں نے اس حملے کی مذمت کی

Published

on

madheya-paredesh

مالیگاؤں (خیال اثر)

بابری مسجد جیسی تاریخی عمارت کو بے دردی سے شہید کردینے کے بعد متھرا اور کاشی کی دیگر مساجد کے علاوہ ہندوستان بھر میں پھیلی ہوئی مساجد کو نیست و نابود کرنے کے لئے بھگوائی دہشت گرد قانون کے رکھوالوں کی پشت پناہی میں ڈٹ کر آ گئے ہیں حالانکہ بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ داران ایل کے اڈوانی, ونئے کٹیار, توگڑیا اور سادھوی رتھمبرا وغیرہ تو اپنی عمر کے آخری پڑاؤ پر پہنچ کر دہشت گردی کا بھگوا چولہ پھینک دیا ہے لیکن ان زعفرانی شیطانوں کے چیلے کوچہ کوچہ قریہ قریہ گھوم کر پر امن فضاؤں کو زہر آلود کرنے کی کوشش میں شب و روز مصروف ہیں. حال ہی میں ریاست مدھیہ پردیش کے چاند کھیڑی نامی قصبہ میں ان دہشت گردوں نے وہ شیطانی تانڈو رچایا کہ ایک بار پھر انسانیت شرمسار ہوگئی. ان درندہ صفت بھگوائی شیطانوں کی مذمت میں جماعت اسلامی ہند کے مقامی سابق امیر و کل جماعتی تنظیم کے رکن مولانا فیروز اعظمی نے کہا ہے کہ مرکز میں جب سے جن سنگھی نظریات کی حامل بھاجپا اقتدار پر قابض ہوئی ہے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف یہ ابلیسی درندے روزانہ کہیں نہ کہیں ہنگامہ مچائے رکھتے ہیں. یہ نام و نہاد ہندو آتنگ وادی کھلے عام قانون و عدلیہ کا مذاق اڑاتے ہوئے ہندوستانی آئین کو اپنے قدموں تلے روندتے جارہے ہیں. راشٹریہ مسلم مورچہ اور کل جماعتی تنظیم مالیگاؤں کے اہم رکن سیٹھ اکبر اشرفی نے حکومت وقت کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ خاطی افرد کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرکے انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے کیونکہ آج اقلیتیں خود کو ہندوستان میں غیر محفوظ تصور کررہی ہیں اور اگر ایسا ہی رہا تو اس طلسم کو توڑنے کے لئے اقلیتیں مجتمع ہو کر بالکل اسی طرح ارباب اقتدار کے گرد اپنا گھیرہ تنگ کردے گی جیسے آج کسانوں نے راجدھانی دہلی کو اپنے گھیرے میں لے کر آمد و رفت کے سارے ذرائع مسدود کردیئے ہیں. یکے بعد دیگرے ہونے والے ایسے سانحات دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں. اقلیتی فلاح و بہبود فاؤنڈیشن کے ضلعی صدر جنید سہارا نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “آواز دو انصاف کہاں ہیں “کیونکہ موجودہ بھاجپائی حکومت نے حق و انصاف کو کسی ایسی کال کوٹھری میں مقید کردیا ہے جہاں سے انصاف کی کوئی بھی رمق باہر نکلتی نظر نہیں آتی ہے. مدھیہ پردیش کے چاند کھیڑی کی ایک مسجد پر ہندو دہشت گردوں کا منظم حملہ اور پھر منظم طریقے سے مسلم بستیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی املاک کی لوٹ مار یہ ثابت کرتی ہے کہ جس طرح مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نے سرعام قانون و عدلیہ کو پھانسی پر لٹکایا ہے انھیں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مدھیہ پردیش کی شیوراج حکومت نے بھی جن سنگھی نظریات کی شاہراؤں پر اپنے قدم آگے بڑھا دئیے ہیں. یہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے مدھیہ پردیش بھی بہت جلد اتر پردیش جیسی دہشت گردانہ کاروائیوں کا مرکز بن جائے گا.سجادہ نشین صوفی نور العین صابری نے انتہائی سخت لہجہ میں کہا کہ ہندوستان کے سیکولر ذہنیت کے افراد کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں جس سے ہمارے دیش کی گنگا جمنی تہذیب زندہ و پائندہ رہے ورنہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کمزور اقلیتیں آواز دو انصاف کہاں ہے, آواز دو انصاف کہاں ہے کی صدائیں بلند کرتے ہوئے کچھ اس طرح میدان میں آ جائیں کہ گوڈسے اور ساورکر کی اولادوں کو کہیں بھی منہ چھپانے کی جگہ بھی دستیاب نہ ہو.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان